Qabil Ajmeri(قابل اجمیری)
وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
Not today Justin
Alisa U Zemlji Chuda
art blog(derogatory)
KIROKAZE
Xuebing Du
"I'm Dorothy Gale from Kansas"
One Nice Bug Per Day
dirt enthusiast
Cosmic Funnies
todays bird
No title available
taylor price

Janaina Medeiros
will byers stan first human second

★
Monterey Bay Aquarium
hello vonnie
macklin celebrini has autism

pixel skylines
cherry valley forever
seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from United Kingdom
seen from Spain
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from Bangladesh
seen from United States

seen from Malaysia

seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from Malaysia
seen from United Kingdom

seen from Netherlands

seen from India
seen from United States
seen from United States
@muhammad-ubaidullah-khan
Qabil Ajmeri(قابل اجمیری)
وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
Riyaz Khairabadi(ریاض خیرآبادی)
آپ بیتی
بیل کی سر گزشت
بیل بن کر کس مصیبت میں پھنسے ہم بے زبان
سرگزشت اپنی بیاں کس سے کریں ہم جان ہار
دودھ میں ماں کے ہوئے ہر قوم کے بھائی شریک
بھائی بن کر بھی نہ یہ سمجھے کہ ہم ہیں شیرخوار
ہاں بندھے رہتے تھے تھن کے پاس ماں کے پاؤں سے
منہ کے بدلے ہاں کھلی رہتی تھی چشمِ انتظار
دُور تھا منہ سے ہمارے تھن بھی، ظرفِ شیر بھی
ظرف سے باہر نہ جانے پاتی لیکن کوئی دھار
ساتھ ماں کے جب پہلے منہ پر چڑھی جالی ضرور
اب ترس آتا ہے کس کو، لاکھ ہوں ہم بے مراد
آنکھ پر سب کی چڑھے جب کچھ نکالے ہاتھ پاؤں
سینگ بھی آنے پائے ہو گئے نظروں میں خار
نوجوانی رنگ بھی لائی تو کس آفت کا رنگ
کیا کہیں اپنی خزاں ہم کیا کہیں اپنی بہار
ایک آفت جوتنے کو ہل میں ہم جوتے گئے
ہر طرف ہل چل گئے کیا ہو گئے وہ سبزہ زار
کھینچنا وہ ہل جو چلتے ہوں زمیں کو پھاڑ کر
گو زمیں پتھر سے بھی ہو سخت، ایسے نوکدار
آگیا بھاری جوا گاڑی کا گردن پر بھی
ہم نے گو میدان جیتے پھر بھی سمجھے اپنی ہار
چھکڑے کیسے کیسے ہم نے کھینچے، دلدل کے پھنسے
بوجھ ہم نے یوں اٹھایا جس طرح عصیاں کا بار
کھانے پینے کا نہ کوئی وقت تھا آرام کا
ٹھوکریں کھا کھا کے گرنا اور چلنا بار بار
خون سوکھے دیکھ کر کھانے کو ایسی خشک گھاس
جس کو پی کر، خون پانی ہو وہ آبِ ناگوار
اپنی چربی سے جو نکلا ہو، کھلی اس تیل کی
وہ بھی قسمت سے مہینے میں کبھی دو چار بار
آندھی آئے، پانی برسے ہم کو چلنا رات دن
ساتھ دے تو اس طرح دے گردشِ لیل و نہار
ہائے وہ سوجھے ہوئے بھولے ہوئے کاندھے کا زخم
بوجھ بھاری، سخت منزل، اونچی نیچی رہ گزار
رفتہ رفتہ دے دیا طاقت نے بھی بلکل جواب
بیٹھ کر اٹھنا ہؤا مشکل ہمیں انجامِ کار
باندھ کر سچ ہے کھلائے کون بوڑھے بیل کو
کون پالے ہم کو اس حالت میں اے پروردگار
وقت نازک، عمر آخر، جان دو بھر، حال غیر
سر پر اب قصاب پہنچے لے کے چھریاں آبدار
بات کہتے کر دیئے ہر عضو کے ٹکڑے جدا
قیمہ قیمہ کر دیا بے دردوں نے سب جسم نزار
ریشے ریشے پر ہمارے دانت تھا ہر ایک کا
آدمی کیا، چیل کوّے ٹوٹے ہم پر بے شمار
کھال باقی رہ گئی تھی اس کے نقارے منڈھے
شامتِ اعمال سے پڑی ہے اب اس پر بھی مار
Riyaz Khairabadi(ریاض خیرآبادی)
مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا
Mirza Ghalib(مرزا غالب)
پتھر پہ بنی ہے تیرے گھوڑے کی جو تصویر
اڑ جائے فلک پر جو کبھی کوڑے کو دیکھے
علمِ بدیع
صنایع لفظی
صنعتِ مبالغہ: اس صنعت کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کی صفت کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے
غلو: وہ مبالغہ ہے جو عقلاً و عادتاً دونوں طرح محال ہو
یہ بات عقلاً اور عادتاً دونوں طرح ناممکن ہے کہ پتھر پر بنی گھوڑے کی تصویر کوڑے کو دیکھ کر اُڑنے لگے۔
Muhammad Iqbal(محمد اقبال)
گئی دورِ سلف کی باغیانی
گرگ نے دورِ عدل میں اس کے سیکھ لی راہ و رسم چوپانی
مفہوم: اس شعر میں علامہ اقبال نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت (دورِ عدل) کی ایک تاریخی اور مثالی کیفیت کا ذکر کیا ہے۔ ان کا مفہوم یہ ہے کہ اس دور کی عدل و انصاف کی حکمرانی اتنی مکمل اور پرامن تھی کہ بھیڑیا (گرگ) نے بھی بکریوں کو نقصان پہنچانا چھوڑ دیا، اور چرواہے کی طرح چرواہے (چوپانی) والے فرائض اور رکھوالی سیکھ لی۔ یعنی ظلم و درندگی ختم ہو کر امن اور بھائی چارے میں بدل گئی۔
علمِ بدیع
صنایع لفظی
صنعتِ مبالغہ: اس صنعت کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کی صفت کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جائے
مبالغہ اغراق: وہ مبالغہ ہے جو عقلا تو ممکن ہوگا مگر عادتاً محال ہو۔
عقلاً یہ بات ممکن ہے کہ بھیڑئے کو بھیڑوں کی نگرانی کے لئے سدھایا جائے مگر واقعتاً ایسا کبھی ہوا نہیں کہ بھیڑیا چوبانی کے فرائض انجام دے رہا ہو۔
Ps. The dog is a domesticated descendant of wolves. It was selectively bred during the Late Pleistocene by hunter-gatherers. So it might not be so far-fetched.
Mohammad Ibrahim Zauq(محمد ابراہیم ذوق)
ستم کو ہم کرم سمجھے جفا کو ہم وفا سمجھے اور اس پر بھی نہ سمجھے وہ تو اس بت کو خدا سمجھے
علمِ بدیع
صنائع معنوی
صنعتِ تضاد: اس کو تطبیق، مطابقت طباق اور تکافو بھی کہتے ہیں۔ یہ وہ صنعت ہے جس سے شعر میں دو یا دو سے زاید الفاظ ایسے لائے جائیں جو معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ جیسے آنا،جانا، کھانا، پینا، اُٹھنا، بیٹھنا، شب و روز وغیرہ۔
تضاد سلبی: اسے کہتے ہیں کہ متضاد الفاظ کے ساتھ حرف نفی ہو۔
جیسے ستم اور کرم میں تضاد ایجابی ہے اور نہ سمجھے اور سمجھے میں تضاد سلبی ہے۔
Sirajuddin Zafar (سراج الدین ظفر)
تشبیہ دے کے قامت جاناں کو سرو سے اونچا ہر ایک سرو کا قد ہم نے کر دیا
Khwaja Mir Dard(خواجہ میر درد)
بلا ہے نشۂ دنیا کہ تا قیامت آہ
سب اہل قبر اسی کا خمار رکھتے ہیں
Qamar Jalalvi(قمر جلالوی)
پیری سے خم کمر میں نہیں ہے مرے قمر
میں جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی
علمِ بدیع
صنایع معنوی
صنعت حسنِ تعلیل: تعلیل وجہ بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ ادبی اصطلاح میں حسنِ تعلیل سے مقصود کسی بات کی کوئی ایسی وجہ بیان کرنا ہے جو در حقیقت اس کی وجہ نہ ہو، نیز اس نئی وجہ میں کوئی شاعرانہ خوبی بھی ہو۔
(شاعر قمر جللالوی کہتے ہیں کہ میری کمر اس لیے خمیدہ ہے کہ گمشدہ شباب کو جھک کر ڈھونڈ رہا ہوں) کمر کے جھکاؤ کا باعث بڑھاپا ہے۔ مگر شاعر نے اس کی وجہ گم گشتہ جوانی کی تلاش بتایا ہے، جو اصل وجہ نہیں ہے۔ گو اس وجہ میں شاعرانہ شوخی بدرجہ اتم (بہت زیادہ) موجود ہے۔
Mohammad Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
اسی باعث تو دایہ طفل کو افیون دیتی ہے
کہ تا ہو جائے لذت آشنا تلخئی دوراں سے
علمِ بدیع
صنائع معنوی
صنعت حسنِ تعلیل: تعلیل وجہ بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ ادبی اصطلاح میں حسنِ تعلیل سے مقصود کسی بات کی کوئی ایسی وجہ بیان کرنا ہے جو در حقیقت اس کی وجہ نہ ہو، نیز اس نئی وجہ میں کوئی نہ کوئی شاعرانہ خوبی بھی ہو۔
(دایہ بچے کو افیون دیتی ہے تاکہ وہ زمانے کی تلخیوں سے لذت آشنا ہو جائے)
بچے کو افیون اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ سو جائے اور اُسے سکون ملے مگر یہاں وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ بچہ زمانے کی تلخیوں اور سنگینیوں سے قبل ازوقت آشنا ہو جائے، کیونکہ افیون بھی کڑوی ہوتی ہے اور آلامِ زمانہ بھی تلخ و سنگین۔
Altaf Hussain Hali(الطاف حسین حالی)
آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
علمِ بدیع
صنائع لفظی
صنعت تلمیح: وہ صنعت ہے جس کے ذریعے کلام میں کسی مشہور واقعے کا ذکر کیا جائے یا اشارہ کیا جائے۔
علمِ بدیع
صنائع لفظی
تجنیسِ مطرف: وہ صنعت ہے جس میں الفاظ کا پہلا اور آخری حرف ایک جیسا نہ ہو جیسے
ہو گئی پرسوں کی برسوں، تم نہ آئے، کیا سبب؟
آپ نے اچھا کیا، وعدہ وفا اچھے تو ہو!
پرسوں اور برسوں ۔ اچھا اور اچھے میں تجنیسِ مطرف ہے۔ دونوں لفظوں میں پہلے اور آخر میں اختلاف ہے۔
علمِ بدیع
صنائع لفظی
تجنیس زائد: وہ صنعت ہے جس میں ایک لفظ میں دوسرے لفظ سے ایک حرف زیادہ ہو۔ حرف کی یہ کمی بیشی کبھی شروع میں ہوتی ہے کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں جیسے:۔
یوں نہ باتیں چبا چبا کے کرو
مہرباں بات ہے نبات نہیں
نبات میں بات سے ایک حرف زائد ہے اور یہ زیادتی شروع میں ہے۔
Ehsan Danish(احسان دانش)
روٹھے ہوئے جاتے ہو ہم سے جو تم اب لڑ کے
ہم بھی نہ ملیں گے پھر سنتے ہو عیاں لڑکے
تجنیس مرکب
مصرع اوّل میں [لڑ کے] مرکب ہے اور مصرع ثانی میں مفرد
Muhammad Iqbal(محمد اقبال)
سرگزشت آدم
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے بھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نے
لگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میں پیا شعور کا جب جام آتشیں میں نے
رہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کو دکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نے
ملا مزاج تغیر پسند کچھ ایسا کیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نے
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے
کبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچا چھپایا نور ازل زیر آستیں میں نے
کبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا کیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نے
کبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوں دیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نے
سنایا ہند میں آ کر سرود ربانی پسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نے
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی بسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نے
بنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالم خلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نے
لہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کو جہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نے
سمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کی اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے
ڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں سکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نے
کشش کا راز ہویدا کیا زمانے پر لگا کے آئینہ عقل دوربیں میں نے
کیا اسیر شعاعوں کو برق مضطر کو بنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نے
مگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کی کیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نے
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر تو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے
Asghar Gondvi(اصغر گونڈوی)
الٰہی کیا کیا تو نے کہ عالم میں تلاطم ہے غضب کی ایک مشت خاک زیر آسماں رکھ دی
Mohammad Ibrahim Zauq(محمد ابراہیم ذوق)
محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا لا ساقیا پیالہ کہ توبہ کا قل ہوا
مظروف بولنا اور ظرف مراد لینا
(بزم میں صراحی و شراب کا شور برپا ہے۔ اے ساقی ! شراب لا کر توبہ کا کام تمام ہو گیا ہے)
شراب (مظروف) کہہ کر جام و مینا (ظرف) مراد ہے۔ نیز قل کا لفظ جزو اور کل کے تعلق کا آئینہ دار ہے۔