پاکستان بھر میں عنقریب نمائش کے لیے تیار
seen from Belgium
seen from Türkiye

seen from United Kingdom
seen from Russia

seen from United States

seen from Germany
seen from Brazil

seen from United Kingdom
seen from Russia
seen from Canada

seen from United States

seen from Germany

seen from Türkiye
seen from China
seen from Sweden
seen from Türkiye

seen from United States
seen from Malaysia

seen from United Kingdom
seen from Malaysia
پاکستان بھر میں عنقریب نمائش کے لیے تیار
اپوزیشن بمقابلہ اپوزیشن
اُمید ایسا رشتہ ہے جو حال کو مستقبل سے جوڑ دیتا ہے اور وقت کو حالات سے بے خبر حوصلہ دیتا ہے۔ یہ اُمید ہی ہے جو ان دیکھے خوابوں کو راہ اور تعبیر کا سامان فراہم کرتی ہے۔ میرے لیے آج کل سب سے بڑا سوال ہی یہ ہے کہ کیا عوام نا اُمید ہو رہے ہیں؟ نظام کب مرتے ہیں جب عوام کو معاشی، سیاسی اور عدالتی انصاف پر یقین ختم ہو جاتا ہے۔ بظاہر سب ٹھیک ہوتا ہے، لوگ ہر طرح سے شریک ہوتے ہیں لیکن بے یقینی کے ساتھ، متحرک ہوتے ہیں مگر بغیر تحریک کے۔ ہائبرڈ نظام شہریوں کو ایک روبوٹ بنا دیتا ہے جو چلتے پھرتے ہیں مگر سوچ سمجھ سے عاری۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں ایک تحریک کے تمام جزئیات بدرجہ اَتم موجود ہیں لیکن کیا حزب اختلاف کی تحریک اپنے اثرات مرتب کر پا رہی ہے۔ بیس ستمبر کو حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس کے بعد سے اب تک اپوزیشن کس حد تک اپنا بیانیہ عوام تک پہنچا پائی ہے؟ اور کیا یہ بیانیہ عوام میں پذیرائی حاصل کر پایا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو سیاست کے طالبعلم کے طور پر پوچھے جاتے ہیں۔
یوں سمجھیے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی نے پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کو وہ تمام لوازمات فراہم کر دیے جو ایک کامیاب عوامی تحریک کا موجب بن سکتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بجائے حکومت کو دفاعی صورت حال سے دوچار کرنے کے خود مدافعانہ حیثیت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ میڈیا اور عوامی محاذ پر غیر روایتی جنگ کا روایتی انداز سے دفاع ہے۔ تحریک انصاف کی خراب معاشی کارکردگی، اسٹیل مل، پی آئی اے، ریلویز جیسے بڑے اداروں کی زمین بوسی، چینی، ادویات، گندم، پٹرول اور ایل این جی جیسے بڑے اسکینڈلز، روٹی، اشیائے خورد و نوش میں افراط زر اور روز بروز بڑھتی مہنگائی جیسی تیار ڈشوں کے باوجود اپوزیشن حکومتی دیگوں کا چڑھاوا بن رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے ترجمان یا تو عدم دستیاب ہیں یا بیانیہ کے بوجھ تلے دبے دکھائی دیتے ہیں۔ شام سات سے رات گیارہ بجے ٹی وی چینلوں پر حکومت کو رگڑا لگانے کی بجائے کسی حکومتی ترجمان کی چھوٹی سی اڑنگی پر لڑکھڑا کر گر پڑتے ہیں۔
بظاہر جیتے ہوئے مناظروں کو حکومتی ترجمان یوں چیلنج کرتے ہیں کہ اپوزیشن منھ چھپا کر نکل لیتی ہے۔ یا تو اپوزیشن جماعتوں کے ترجمانوں میں ایک صفحے پر ہونے کے باوجود رابطے کا فقدان ہے یا وہ اس ’بدتہذیب ڈبے‘ اور ہتھیلی میں موجود ڈبیا سے آلے کے سامنے بظاہر بے بس دکھائی دیتی ہے۔ مانا کہ حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے جس کا اظہار وزیراعظم بارہا کر چکے ہیں، عدالتیں بھی کوئی زیادہ مسئلہ نہیں جیسا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور میں دیکھنے میں آتا رہا۔ تاہم عوامی تحریک کے چند لوازمات پر اپوزیشن کو ضرور غور کرنا ہو گا۔ اپوزیشن جماعتوں کا بیانیہ سازی کے لیے کیا لائحہ عمل ہے اور جلسوں کے علاوہ اپوزیشن عوام کی ذہن سازی میں کیا کردار ادا کر رہی ہے۔ حال ہی میں ایک تحقیق نظر سے گزری جس میں عوام کو متوجہ کرنے کے لیے لفاظی نہیں ’انگیجمینٹس‘ پر زور دیا گیا یعنی بڑے گروپس کے بجائے چھوٹے اور موثر گروپس کے ذریعے کس طرح رائے سازی کی جاتی ہے جو تحریکوں کا اہم خاصہ ہوتا ہے۔
کیا اپوزیشن نے کسانوں، مزدور یونینوں، طالب علموں اور سیاسی ورکروں کی مستقل شمولیت کا کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا ہے؟ جلسے جلوس، ریلیاں کسی حد تک عوامی جذبات کی عکاس ہوتی ہیں تاہم تحریکوں کو آگے بڑھانے کے لیے بیانیے کا موثر انداز سے پرچار بھی ضروری ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ لے کر سڑکوں پر آئی ہیں۔ بلوچستان سے گلگت بلتستان اور کراچی سے خیبر تک سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے مگر کیا پھر بھی اپوزیشن لانگ مارچ تک مطلوبہ عوامی حمائت حاصل کر پائے گی؟ دوسری جانب بڑی کامیابی سے خود اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے استعفوں کے معاملے کا رخ پیپلز پارٹی اور سندھ اسمبلی سے استعفوں کی جانب موڑ دیا ہے حالانکہ دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی استعفے نہ دے کر لفاظی نہیں انگیجمینٹ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پیپلز پارٹی پر ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کا بڑھتا دباؤ سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف کی یک طرفہ جیت کی صورت نکل سکتا ہے اور پارلیمان میں اپوزیشن جماعتیں اپنی حیثیت کھو سکتی ہیں۔ لہٰذا اپوزیشن کو پیپلز پارٹی کی بات کو سمجھنا چاہیے۔ یہ تو طے ہے کہ کپتان کی حکومت کی میڈیا اسٹریٹجی کامیاب ہے۔ اپوزیشن کا مقابلہ غیر روایتی حریف سے ہے جو حکومت میں رہ کر بھی جارحانہ سٹروک کھیل رہی ہے جبکہ اپوزیشن مدافعانہ۔ اب سب نگاہیں اپوزیشن کے لانگ مارچ کی جانب ہیں، اپوزیشن مایوس عوام کی امیدوں کا محور نہ بن سکی تو سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔
عاصمہ شیرازی
بشکریہ بی بی سی اردو
آئی پی پیز میں ہزاروں ارب کی کرپشن
انڈیپینڈنٹ پاور پروجیکٹس (IPPs) کی پہلی پالیسی کا اعلان 1994ء میں بینظیر دور حکومت میں کیا گیا۔ اُن دنوں میں KESC کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پرائیویٹ سیکٹر کی نمائندگی کررہا تھا جبکہ وفاقی سیکریٹری سلمان فاروقی اور ورلڈ بینک کے پاور کنسلٹنٹ شاہد حسن ہمارے ساتھ اِس پالیسی پر کام کر رہے تھے۔ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 17 آئی پی پیز نے 51.80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی تھی جو اب تک 415 ارب روپے منافع اور 310 ارب روپے کا ڈیوڈنٹ حاصل کر چکے ہیں۔ 2002ء میں اصل پاور پالیسی کو تبدیل کر کے آئی پی پیز کو مزید اضافی مراعات دی گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ مراعات حاصل کرنے والوں میں حکومت میں شامل وزیر اور مشیر کے علاوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی کی کمپنی مبینہ طورپر پیش پیش تھی۔
پالیسی کے تحت ٹیرف کے نرخ روپے کے بجائے ڈالر میں کرنے سے آئی پی پیز کا طے شدہ منافع 17 فیصد کے بجائے 27 فیصد تک پہنچ گیا جس میں روپے کی ڈی ویلوایڈیشن بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ بجلی نہ لینے کی صورت میں بھی آئی پی پیز کو 60 فیصد کیپسٹی سرچارج کی ادائیگی اور فیول کی مد میں اربوں روپے اضافی دیے گئے جن سے اِن کمپنیوں کا منافع 50 سے 70 فیصد تک پہنچ گیا اور سرکولر ڈیٹ بڑھتے بڑھتے 1400 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ آئی پی پیز کی اضافی ادائیگیوں کی وجہ سے نیپرا کو بجلی کے نرخ بار بار بڑھانے پڑے اور اس طرح ہماری صنعت کو دی جانے والی بجلی خطے میں سب سے مہنگی ہو گئی جس کی وجہ سے ہماری پیداواری لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ہم عالمی منڈیوں میں غیر مقابلاتی ہوتے گئے اور گزشتہ 5 سالوں میں پاکستان کی ایکسپورٹس غیر مقابلاتی ہونے کی وجہ سے بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہیں۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے سابق چیئرمین محمد علی کی سربراہی میں 7 اگست 2019ء کو ایک کمیٹی بنائی جس نے اپنی رپورٹ میں آئی پی پیز کی 2002ء کی پاور پالیسی کے تحت بے ضابطگیوں اور 50 سے 70 فیصد سالانہ غیر معمولی منافع کمانے کا انکشاف کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت نے اِن آئی پی پیز کو 900 ارب روپے کیپسٹی سرچارج کی ادائیگی کی جبکہ بجلی کے نرخ روپے کے بجائے ڈالر میں ادا کرنے سے حکومت کو 4700 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ آئی پی پیز لگاتے وقت پروجیکٹس کی مالیت میں اوور انوائسنگ کا انکشاف بھی ہوا ہے جس سے آئی پی پیز مالکان نے اپنی سرمایہ کاری کو دگنا ظاہر کر کے ایکویٹی پر دگنا منافع حاصل کیا۔ حال ہی میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بجلی کی سب کمیٹی نے بتایا کہ آئی پی پیز کو گزشتہ 6 سالوں میں 955 ارب روپے کی اضافی پیمنٹ دی گئی جس سے سرکولر ڈیٹ میں اضافہ ہوا۔
اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز کو دیئے گئے اضافی تقریباً 2000 ارب روپے وصول کئے جائیں ایف بی آر کے مطابق آئی پی پیز کو اُن کے منافع پر طویل مدت کیلئے انکم ٹیکس پر چھوٹ حاصل ہے جس سے گزشتہ 4 سالوں میں ایف بی آر کو 200 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان طاقتور آئی پی پیز کے مالکان کا ملک اور بیرون ملک اثر و رسوخ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اب رپورٹ کو دبانے کیلئے حکومت پر بیرونی دبائو بڑھنا شروع ہو گیا ہے جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے وزیراعظم عمران خان کو دوست ممالک قطر اور چین کے سی پیک کے منصوبوں پر اٹھائے گئے اعتراضات پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے اور توانائی کے معاہدوں پر مذاکرات کرنے میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد وزیراعظم نے اِس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانے اور معاملے کا عوام اور میڈیا کے بجائے ریاستی سطح پر جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے صدر عارف علوی نے آئی پی پیز کے خلاف انکوائری رپورٹ کے انکشافات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو آئی پی پیز نے ملک کا ’’گینگ ریپ‘‘ کیا ہے۔ میرے نزدیک جائز منافع کمانا ہر سرمایہ کار کا حق ہے اور میں اس بات کا بھی حامی ہوں کہ بزنس میں طے کئے گئے معاہدوں پر پابند رہنا کاروباری اخلاقیات کا حصہ ہے لیکن اگر کہیں یہ ثابت ہو جائے کہ ایک پارٹنر نے جھوٹ اور بددیانتی سے غیر معمولی منافع کمانے کیلئے حکومت سے کئے گئے معاہدوں میں اپنے مفاد کیلئے تبدیلیاں کرائیں اور اپنی ایکویٹی کو اوور انوائسنگ کے ذریعے بڑھا چڑھا کر دگنا منافع حاصل کیا تو یہ حکومت کا حق بنتا ہے کہ وہ ان معاہدوں پر نظرثانی کرے اور کرپشن ثابت ہونے کی صورت میں یہ معاہدے منسوخ بھی کئے جاسکتے ہیں۔
قابل حیرت امر یہ ہے کرپشن کے خاتمے اور شفاف نظام کےدعوے کئے جارہے ہیں جبکہ حکومت میں شامل بعض شخصیات جن کو حکومت کا اہم ستون تصور کیا جاتا ہے کے اسکینڈل بھی سامنے آرہے ہیں۔ ابھی آٹا چینی اسکینڈل کی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی تھی کہ پاور اسکینڈل سامنے آچکا ہے۔ آئی پی پیز میں اربوں روپے کی کرپشن ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے جس سے ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ قومی سلامتی کے پیش نظر حکومت کو اس سنگین مسئلے پر بغیر سمجھوتا کئے اہم فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ بجلی کے نرخوں میں کمی لاکر ہم اپنی صنعت کو مقابلاتی بنا سکیں۔
ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ
بشکریہ روزنامہ جنگ
کیا عمران خان، اردوان کی پیروی کر سکتے ہیں؟
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس، نے پاکستان کے چار روزہ دَورے میں دو باتیں بڑی اہم کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ’’دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیاں مثالی اور غیر معمولی ہیں‘‘ اور دوسری یہ کہ ’’پاکستان کا دہشتگردی کے عفریت سے نجات حاصل کر کے سیاحت کی طرف سفر کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسلام آباد جو چند سال قبل کسی قلعے کی مانند لگتا تھا، آج اِسے اقوامِ متحدہ کے اسٹاف کے لیے فیملی اسٹیشن قرار دے دیا گیا ہے ۔‘‘ پاکستان کے حق میں جناب انتونیو گوتریس کے ان الفاظ کی بازگشت ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے۔ یقیناً اس کے مثبت نتائج بھی نکلیں گے۔ پُر امن پاکستان عالمی سیاحوں کے لیے حقیقی جنت ہے۔ ایک غیر ملکی جریدے (سی این ٹریولر) نے پاکستان کو 2020 کا بہترین عالمی سیاحتی مقام قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کی بھی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ عالمی سیاحوں کی توجہ پاکستان کی طرف موڑی جا سکے ۔ ہر عالمی فورم پر عمران خان صاحب پاکستانی سیاحت کی تبلیغ کرتے سنائی دیتے ہیں ۔
وزیر اعظم کے دوست اور سیاحت کے لیے اہم صوبے (خیبرپختوخوا) کے سنیئر صوبائی وزیر بھی کہہ چکے ہیں : ’’حکومت کی اولین ترجیحات میں سیکیورٹی ، ویزے کے مسائل حل کرنا اور سیاحت کے لیے بنیادی انفرااسٹرکچر کا قیام ہیں۔ سیاحوں کو ملک میں آمد پر ویزے کی سہولت دی جا رہی ہے۔ غیر ملکی شہریوں کو صرف حساس سرحدی علاقوں میں جانے کے لیے این او سی درکار ہوتے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں 14 نئے سیاحتی مقامات کے قیام کی منظوری دی ہے۔ چار نئے سیاحتی زونز بھی بنائے جا رہے ہیں۔‘‘ ہمارے دشمن بھی مگر تاک میں ہیں کہ پاکستان کو عالمی سیاحوں کی نگاہوں کا مرکز نہ بننے دیا جائے ۔ پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں جب برطانوی شہزادہ ولیم اور اُن کی اہلیہ ، کیٹ میڈلٹن ، پانچ روز کے لیے پاکستان کی سیاحت پر آئے اور اُن کا جس شاندار انداز میں سواگت کیا گیا، اس نے بھی دُنیا بھر میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرنے میں خاصی معاونت کی ۔
اس برطانوی شاہی جوڑی نے اسلام آباد ، لاہور اور چترال میں گز ارے ایام سے جس اسلوب میں لطف اُٹھایا ، اس کا پیغام بھی دُنیا بھر میں پہنچا ۔ شہزادہ ولیم اور کیٹ میڈلٹن کا یہ دَورہ اس لیے بھی ہمارے لیے اہم ترین تھا کہ ٹھیک 13 سال بعد کسی برطانوی شاہی جوڑے نے پاکستان میں قدم رکھا تھا ۔ اس سے پہلے شہزادہ چارلس اور اُن کی اہلیہ ، کمیلا پارکر، نے 2006 میں پاکستان کا دَورہ کیا تھا۔ شہزادہ ولیم اور کیٹ میڈلٹن نے اپنے انٹرویوز میں بھی کھلے دل سے تسلیم کیا کہ پاکستان پُر امن ملک ہے اور یہ کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات تو عالمی سیاحوں کے لیے بانہیں کھولے ہُوئے ہیں ۔ اب فروری 2020 کے وسط میں جس والہانہ اندازمیں برطانوی شہزادی بیٹرس ، اسپین کے سابق وزیر اعظم جوز ماریا آزنر اور اٹلی کے سابق وزیر اعظم میٹیو رینزی پاکستان کی سیر کو آئے ہیں تو یہ دراصل برطانوی شہزداہ ولیم اور اُن کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن کے دَورئہ پاکستان کے حق میں دیے گئے پیغامات کا نتیجہ ہے۔
اچھا ہُوا کہ ان تینوں معزز عالمی سیاحوں کا استقبال وزیر اعظم کے مشیرِ خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز، سید ذوالفقار بخاری ، نے کیا ۔ جناب وزیر اعظم نے اُن کے ساتھ چائے بھی پی ۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں عالمی شہرت کے حامل سیاح درحقیقت پاکستان میں اسکائی ٹرپ (Ski Trip) پر آئے تھے ۔ معروف امریکی گلوکار مائیکل جیکسن کے بھتیجے، جعفر جیکسن، نے بھی پاکستان کی مہمان نوازی کی خوب تعریف کی ہے ۔ بھارت اگر 2019 میں صرف ’’تاج محل‘‘ دیکھنے والے غیر ملکی 70 لاکھ سیاحوں سے 200 کروڑ روپے کما سکتا ہے تو پاکستان ایسا کارنامہ کیوں انجام نہیں دے سکتا؟ خدا کا شکر ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں سے دربارکرتار پور صاحب کو ایک بے نظیر شکل دی گئی ہے ۔ اس کا شہرہ دُنیا میں سنائی دے رہا ہے۔ عالمی سکھ کمیونٹی پاکستان کی ستائش کر رہی ہے ۔
گزشتہ روز یو این سیکریٹری جنرل ، انتونیو گوتریس، بھی وہاں گئے اور پاکستان کی تعریف کی۔ اِسی پیمانے پر اگر صدیوں پرانے کٹاس راج کے مندروں کی طرف بھی توجہ دی جائے تو دُنیا بھر کے ہندو سیاحوں کو ہم اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ دربار کرتار پور صاحب اور کٹاس راج کے منادر کے بارے میں سلیم بیگ صاحب (جب وہ ’’ڈیمپ‘‘ کے ڈی جی تھے) کی بنائی گئی بے مثل ویڈیوز کو اگر دُنیا بھر میں بروئے کار پاکستانی سفارتخانوں کے توسط سے متعارف کروایا جائے تو یہ اقدام بھی عالمی سیاحوں کو پاکستان کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ بلوچستان کے پہاڑوں اور سندھ کے صحرائی علاقوں میں موجود سیکڑوں سالہ پرانے مندروں کی اگر از سرِ نَو تزئین کی جائے اور وہاں پہنچنے کے لیے اچھی ٹرانسپورٹ و رہائش کے لیے مناسب ہوٹلوں کا بندوبست ہو جائے تو وطنِ عزیز میں لاکھوں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھ سکتا ہے۔ یہ مہمات مگر انجام دے کون؟
سیاحت کے میدان میں ہمارے کئی مسلمان برادر ملک جس طرح اربوں ڈالر کما رہے ہیں، ہم ان سے بھی سبق لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر : ترکی!! پچھلے دنوں عظیم ترک صدر طیب اردوان نے پاکستان کا دو روزہ دَورہ کیا تو وزیر اعظم عمران خان نے اُنکی موجودگی میں خطاب کرتے ہُوئے کہا تھا: ’’ہم ترقی کے لیے ترکی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‘‘ بہت کچھ تو چھوڑئیے ، اگر ہم ترکی سے سیاحت کے میدان ہی میں سبق سیکھ لیں تو بڑی بات ہو گی۔ 9 فروری2020 کو ترک نیوز ایجنسی ’’اناطولیہ‘‘ نے یہ حیرت انگیز خبر دی کہ پچھلے سال (2019میں) 5 کروڑ عالمی سیاح ترکی آئے تھے اور ترکی نے ان سے 35 ارب ڈالر کمائے ۔ معروف ترک اخبار ’’حریت‘‘ کا کہنا ہے کہ جناب طیب اردوان کی حکومت کا ٹارگٹ یہ ہے کہ 2020 میں ترکی میں 5 کروڑ 70 لاکھ عالمی سیاحوں کو سہولت دی جائے گی ۔ کیا جناب عمران خان اس میدان میں طیب اردوان کے نقشِ قدم پر چل سکتے ہیں؟؟
تنویر قیصر شاہد
بشکریہ ایکسپریس نیوز
Remembering Naeem ul Haque
Naeem ul Haque (11 July 1949 - 15 February 2020) was a Pakistani politician who was the Special Assistant to the Prime Minister of Pakistan Imran Khan on Political Affairs. He was also co-founder of the Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) and served as its Central Information Secretary and President of PTI Sindh. He died on 15 February 2020 after battling the disease for 2 years. Naeemul Haque was suffering from blood cancer for a long time. During his chemotherapy, he limited his political activities but remained active on Twitter. During the last days of his life, he was admitted to Aga Khan University Hospital (AKUH).
On 15 February 2020, Haque was rushed to Aga Khan University Hospital. He was kept in the intensive care unit (ICU) where he died at the age of 70.[6] He received condolences from across the political spectrum. Prime Minister Imran Khan in his Tweet said he was "devastated" on the death of his "oldest friend". In his Tweet, Federal Minister for Science and Technology Chaudhry paid tribute to the late PTI leader despite their differences in the past. He said "Naeemul Haque fought like a lion against cancer" and termed the deceased politician "a friend, elder and a colleague"
Courtesy : Wikipedia
پارٹنر...نعیم الحق، جس نے خوشی اور غم کو بھی وفا سے جوڑ رکھا تھا
زندگی کی کشتی، موت کے پانیوں میں ہچکولے کھاتی ہے، زندگی اسی گرداب میں گزر جاتی ہے، بھنور کی نذر ہو جاتی ہے۔ نعیم الحق بھی اسی کشتی کا سوار تھا، وہ جدوجہد میں ساتھ رہا، اقتدار آیا تو بیماری آ گئی، بیماری سے بہت لڑا مگر ہار گیا۔ یہی ہوتا ہے بالآخر زندگی ہار جاتی ہے، موت جیت جاتی ہے۔ نعیم الحق گیارہ جولائی 1949 کو کراچی میں پیدا ہوا، اس نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب پڑھا اور پھر ایس ایم لا کالج سے قانون کی ڈگری لی۔ نعیم الحق نے پسند سے یونیورسٹی کی کلاس فیلو سے شادی کی۔ نعیم الحق کی اہلیہ کو بھی کینسر لڑ گیا تھا، آج کینسر خود اسے کھا گیا ہے۔ کسی فلمی ہیرو کے سے انداز لئے نعیم الحق جب بھی ملتا تو برملا کہتا ’’....پارٹنر....‘‘ اس نے خوشی اور غم کو بھی وفا سے جوڑ رکھا تھا، وہ زندگی میں زیادہ خوش اس دن ہوا جب اس کی کلاس فیلو نے شادی کا اقرار کیا اور سب سے زیادہ دکھی اس دن ہوا جب اہلیہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئی۔ نعیم الحق دونوں بچوں کو پڑھاتا لکھاتا رہا۔
بس یہی اس کی زندگی تھی۔ 1980 میں نعیم الحق بطور مرچنٹ بینکر لندن منتقل ہو گئے۔ 1982 میں عمران خان نے اس کے پاس اکائونٹ کھولا، اس کے بعد سے وہ عمران خان کے پیسے کے معاملات دیکھنے لگا۔ 1984 میں نعیم الحق تحریک استقلال کا ہو گیا، اس نے 1988 میں اورنگی ٹائون سے تحریک استقلال کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔ 1996 میں جب عمران خان نے تحریک انصاف بنائی تو نعیم الحق پہلے دس افراد میں شامل تھا۔ وہ پہلے دن سے تحریک انصاف کے ساتھ تھا اور اپنے آخری دن تک تحریک انصاف کے ساتھ رہا۔ یہی اس کی وفا کا قصہ ہے۔ تحریک انصاف میں بنیادی رکنیت سے آغاز کرنے والے نعیم الحق پارٹی میں مختلف عہدوں پر رہے، پہلے وہ سندھ کے عہدیدار تھے پھر انہیں عمران خان نے مرکز میں بلا لیا۔
نعیم الحق آخری دم تک عمران خان کے وفادار رہے۔ شاید وہ تحریک انصاف میں واحد شخصیت تھے جنہیں ملک بھر سے کارکنوں کا علم تھا، وہ کارکنوں سے ان کی زبان میں گفتگو کرتے تھے، نعیم الحق کے نزدیک رہنمائوں سے زیادہ کارکنوں کی اہمیت تھی۔ میں نے انہیں کارکنوں کی خاطر لڑتے دیکھا۔ نعیم الحق کو ملک کے مختلف شہروں سے بھی شناسائی تھی۔ شاید اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے والد پچاس کی دہائی میں کبھی ایس پی سرگودھا تو کبھی ایس پی لاہور ہوا کرتے تھے۔ اس لئے نعیم الحق کے بچپن کے ایام پنجاب کے کئی شہروں میں بسر ہوئے۔ 2011 کے بعد تحریک انصاف بڑی پارٹی بننا شروع ہوئی تو پارٹی عہدیداروں کی مصروفیات بڑھ گئیں ورنہ اس سے پہلے تو اکیلا سیف اللہ نیازی ہماری ملاقاتیں کروایا کرتا تھا۔
گزرے ہوئے چند برسوں میں نعیم الحق چیف آف اسٹاف تھے، یہ چیف آف اسٹاف برائے چیئرمین تحریک انصاف۔ وہ صبح سے شام تک بلکہ رات گئے تک پارٹی امور چلاتے۔ اس کے بعد خان صاحب کی رہائش گاہ سے نکلتے اور بنی گالہ ہی میں کرائے کے ایک گھر میں آ کے سو جاتے۔ نعیم الحق اور عون چوہدری ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ عون چوہدری نے بھی بڑی محنت کی۔ میری نعیم الحق سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔ جب بھی عمران خان سے ملنے جاتا تو ان سے ضرور ملاقات ہوتی، اس کے علاوہ بھی ملاقاتیں رہیں۔ وہ ہمیشہ میرے کالموں کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ’’....تم اگر شہنشاہ اکبر کے دور میں کالم لکھتے تو تمہارا کالم صد ہزاری ہوتا....‘‘ اگرچہ عدیل مرزا، ان کی صحت کے بارے میں بتاتا رہتا تھا مگر مجھے دو ماہ پہلے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب نعیم الحق کا آخری دور چل رہا ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں آئے، مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے ’’....میں تو اپنے پارٹنر کے ساتھ بیٹھوں گا....‘‘
خیر ہم دونوں ایک صوفے پر بیٹھ گئے مگر مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب وہ کہنے لگے کہ ’’....پرائم منسٹر سے آپ کی ملاقات کیسی رہی....‘‘ میں نے کہا کہ نعیم بھائی! میں تو آج نہیں ملا۔ وہ کافی دیر بضد رہے کہ ’’....آپ ملے ہو، میں نے آپ کو خود دیکھا ہے....‘‘ اس دن مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب ان کی یادداشت پر گہرا اثر پڑ چکا ہے۔ نعیم الحق نے کبھی مالی کرپشن نہیں کی۔ آخر ہر ایک کو جانا ہے، نعیم الحق بھی چلا گیا۔ جانے والے کو روکا تو نہیں جا سکتا، اس کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ 38 سالہ رفاقت کے باوجود عمران خان، نعیم الحق کے جنازے میں شریک نہ ہو سکے، ڈاکٹر عارف علوی تو کراچی کے رہنے والے ہیں، وہی جنازے میں شریک ہو جاتے مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا۔
ہمارے معاشرے میں بےحسی کی کئی مثالیں ہیں مگر وزیراعظم اور صدر نے تو بےحسی کی ساری حدیں پار کر دیں۔ کچھ لوگ سیکورٹی کے نام پر بہانے تراشیں گے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پچھلے سال قمر زمان کائرہ کا جواں سال بیٹا حادثے میں جاں بحق ہوا تھا۔ اس کے جنازے میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری دونوں شریک ہوئے تھے، سیکورٹی خدشات تو انہیں بھی تھے، قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی کے بانی رکن بھی نہیں ہیں۔ ان کی زرداری صاحب سے وہ دوستی بھی نہیں جیسی نعیم الحق اور عمران خان کی تھی۔ شاید ایسے ہی وقت کے لئے اظہر سہیل نے کہا تھا کہ؎
ویلا خورے کیہڑا نقش مٹا دیوے مینوں رج کے ویکھ لو میرے نال دیو
مظہر بر لاس
بشکریہ روزنامہ جنگ
پاکستان میں مزاحمت کی سیاست کا مستقبل؟
پاکستان میں ایک کمزور قسم کی مزاحمت اس طاقت کے خلاف ہے، جو ’عوامی امنگوں کے برعکس‘ فیصلے کرتی ہے، انتظامی فیصلوں کو موم کی ناک کی طرح مروڑتی اور میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے۔ ضرورت پڑے تو پارلیمینٹ میں سیاسی جماعتوں کو من مرضی کی قانون سازی پر راضی کرتی ہے اور عدلیہ میں بولنے والے ججز کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ملک میں بظاہر سب آزاد نظر آتے ہیں مگر اصل میں ایسی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے، جو نظر بھی نہیں آتیں۔ پاکستان میں محفوظ الفاظ میں اس طاقت کو اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں۔ ملکی تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ ہی اہم فیصلہ ساز رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں فوج کشی کر کے اکثریت کو چپ کرانا ہے، 1970ء کے انتخابی نتائج کے بعد اقتدار منتخب وزیراعظم مجیب الرحمان کو نہیں دینا، حالات قابو سے باہر ہوں تو بھٹو کو سامنے لانا ہے۔ بھٹو اگر قابو سے باہر ہو تو اسے گھر بھیجنا اور پھر پھانسی لگانا ہے۔ ملک میں انتخابات ہونے ہیں یا نہیں۔ اگر ہونے ہیں تو کس کو کتنا حصہ دینا ہے؟
جنرل ضیاالحق کا طیارہ تباہ ہو تو اس کی تحقیقات کو منظرعام پر لانا ہے یا نہیں۔ بے نظیر بھٹو سے کیا طے کرنا اور انہیں کس طرح اقتدار دے کر اقتدار سے فارغ کرنا اور نواز شریف کو متعارف کروانا ہے۔ پھر کچھ عرصہ بلی چوہے کا کھیل کیسے کھیلنا ہے۔ کب ڈگی ڈگی بجانا اور نچوانا ہے اور کب خاموشی اختیار کر کے ملک پر قبضہ کرنا ہے۔ جب مشرف کنٹرول سے باہر ہو رہا ہے تو انہیں بھی گھر بھیجنا ہے مگر عزت کے ساتھ کیونکہ وہ اپنا ہے۔ بے نظیر کے ساتھ ڈیل کرنا ہے پھر اس کی پراسرار ہلاکت کے بعد اقتدار پیپلز پارٹی کو دینا اور پانچ سال بعد ن لیگ کو منظرعام پر لانا یا پھر عمران خان کے بت میں جان ڈالنا۔ ان سب واقعات میں کہیں نہ کہیں اس اسٹیبلشمنٹ کا کہیں نہ کہیں اہم ترین کردار موجود ہے۔ صرف یہی نہیں پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کیسے رکھنا ہیں؟ چین کے ساتھ سی پیک پر آگے بڑھنا ہے یا اسے رول بیک کرنا ہے؟ سعودی عرب سے محبت کرنا ہے یا امریکا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہیں۔
ایران سے معاملات آگے بڑھانے ہیں یا افغانستان میں امن عمل میں اپنا کردار ادا کرنا ہے، ان سب میں بھی اسی اسٹیبلشمنٹ کا ہی کردار ہے۔ سوال یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملکی تاریخ کے یہ سب بڑے فیصلے اسٹیبلشمنٹ نے ہی کیے ہیں یا ان فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تو کیا ملک میں کبھی عوام کی اصل نمائندہ حکومت آئی ہی نہیں؟ جی نہیں عوامی حکومتیں ضرور آتی رہیں۔ کچھ انفرادی مزاحمت کار بھی آتے رہے مگر موقع ملتے ہی اسٹیبلشمنٹ دوبارہ ملک پر قابض ہو جاتی رہی۔ تاہم منظم اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ منظم اور طاقتور انداز میں کبھی کیا ہی نہیں گیا۔ یہاں مقابلے کا مطلب شکست یا توہین نہیں صرف پارلیمینٹ اور آئین کے تقدس کی عملی یقین دہانی ہے۔ عدلیہ کے احترام اور میڈیا کی تنقید کا خیرمقدم ہے۔ حکومتوں اور وزیراعظم کے عہدوں کی پانچ سالہ مدت کی بلاتعطل تکمیل ہے۔ کسی عملی مداخلت کے بغیر۔
سوال مگر یہ ہے کہ پاکستان میں عوامی امنگوں کی ترجمان مزاحمت کی سیاست کا آج علمبردارکون ہے؟ کیا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتی مسلم لیگ ن ؟ وہی جس نے جنوری کے پہلے ہفتے میں اپنی پارٹی قیادت کے حکم پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیح کے قانون کی بلا چوں و چراں حمایت کر دی۔ حالانکہ ماضی میں وہ ایسے اقدامات کی مداخلت کرتی رہی۔ جی نہیں ہرگز نہیں۔ اب مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ سے طلاق کے بعد دوبارہ بیاہ کے لیے حلالے کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اب یہ جماعت عملی طور پر مسلم لیگ ن سے مسلم لیگ شہباز بن چکی۔ جس میں مزاحمت کی آوازیں یا تو مریم نواز کی طرح خاموش ہیں یا پھر پرویز رشید کی طرح دبا دی گئی ہیں۔ تو کیا قومی سطح پر پیپلزپارٹی مزاحمت کا علم اٹھائے ہوئے ہے؟ نہیں وہ بھی نہیں! مذکورہ توسیع کے بل پر بڑھ چڑھ کر حمایت کرنے والی یہ جماعت مزاحمت کی ترجمان کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ جماعت بھی اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کرنے کے لیے بیتاب ہے، جس کا اظہار وقتاﹰ فوقتاﹰ ہوتا رہتا ہے۔
تو کیا جمعیت علمائے اسلام ف اور جماعت اسلامی جیسی جماعتیں، جن کے ہاتھوں پر مشرف کے ایل ایف او کو آئین کا حصہ بنانے کا داغ ابھی تک نمایاں ہے، مزاحمت کی سیاست کی علمبردار ہیں؟ شاید آپ کہیں گے ہاں! دیکھیے، انہوں نے تو سروسز چیفس کی حالیہ قانون سازی میں کردار ادا ہی نہیں کیا۔ وہ ڈٹے رہے لیکن اس میں جمعیت کا موقف دلچسپ ہے، وہ پارلیمینٹ کا حصہ ہے مگر کہتی ہے کہ یہ جعلی انتخابات پر مبنی پارلیمینٹ ہے، اس لیے یہ قانون سازی متنازعہ ہے۔ جماعت اسلامی نے تاہم توسیع کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قومی سطح پر مزاحمت کی سیاست کے لیے ن لیگ کی ڈیل کے بعد پیدا ہونے والی خالی جگہ پُر کون کرئے گا ؟ کیا یہ وقت نہیں کہ صوبائی سطح پر مزاحمت کی سیاست کرنے والے آگے بڑھیں اور قومی سطح پر پائی جانے والی اس کمی کو پورا کریں۔ مشکلات تو ہوں گی مگر شاید بہتری کا کوئی رستہ ہی نکل آئے، ورنہ تو مستقبل تاریک ہی ہے۔
اعزاز سید
بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) Core Committee while condemning the recent drone strike in Miranshah has demanded of the government to immediately stop Nato supply.