seen from Argentina
seen from United States
seen from China

seen from Malaysia
seen from Türkiye
seen from United States

seen from Malaysia
seen from China
seen from Yemen
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United Kingdom
seen from Greece

seen from United States

seen from Malaysia
seen from China
seen from Mexico

seen from Malaysia

seen from United States
الطاف حسین کی تقاریر، تصاویر کی نشرو اشاعت پر پابندی
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر احمد بھٹہ کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم ) الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں
پیر کو لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل 3 رکنی فل بینچ نے ایم کیو ایم قائد پر تقریروں کے ذریعے انتشار پھیلانے کے الزام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی
الطاف حسین کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ عبداللہ ملک، ایڈووکیٹ آفتاب، ایڈووکیٹ مقصود اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم قائد نے اپنی تقاریر میں پاک فوج اورریاستی اداروں کے خلاف انتشار آمیز بیان بازی کی، لہذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے
واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت مملکت پاکستان سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو، واجب التعمیل ذمہ داری ہے جبکہ آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی شخص پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جاسکتا ہے
مذکورہ کیس کی گذشتہ سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر کی لائیو کوریج پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی تھی
درخواست گزار کا موقف تھا کہ الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اور کوئی بھی غیر ملکی شہری پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں ہوسکتا،جبکہ انھیں پاکستانی ٹی وی چینلز پر تقاریر کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے
پیر کو مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایات جاری کیں کہ تمام ٹی وی چینلز، کیبل نیٹ ورک کو الطاف حسین کی تصویر یا تقریر جاری یا نشر نہ کرنے پر پابند کیا جائے
بعد ازاں عدالت نے سیکریڑی داخلہ سے الطاف حسین کی شہریت کے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز پیمرا کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ اسی دن اس حوالے سے بھی رپورٹ پیش کی جائے کہ الطاف حسین کی تقاریر و تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے یا نہیں
زرداری اور الطاف کا دور ختم ہوا
آصف زرداری اپنے ’’وفاداروں‘‘ کی گرفتاری کو’’ انتقامی سیاست‘‘ سے منسوب کررہے ہیں حالانکہ ان سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ سیاسی حاکم کی ڈور ’’ڈوری والی سرکار‘‘ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جا رہاہے تو بلبلا اٹھے؟ حاکم وقت کو اپنی پڑی ہے وہ حریف کے خلاف انتقامی کارروائی کیوں کر کرے گا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں فرینڈلی اپوزیشن اور رومانس کی دنیا گواہ ہے۔ سب کے کھاتے کھل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھا جس میں تمام سیاستدانوں کو ایک جیل میں بند دکھایا اور لکھا گیا تھا ’’یہ ہے پاکستان کو بچانے کا واحد طریقہ‘‘ ہم نے غور سے تمام چہرے دیکھے مگر ان میں ایک بھی صحافی، بیوروکریٹ اورکاروباری آئیکون دکھائی نہیں دیا۔
سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کا پروپیگنڈا روایتی ہو چکا ہے جبکہ کرپٹ بیوروکریٹس اور صحافیوں کے احتساب کے بغیر ملک صاف نہیں ہو سکتا۔ رپورٹروں، کالم نگاروں، اینکروں کے سامنے تمام ادارے پانی بھرتے ہیں۔ کاروباری آئیکون کی کرپشن کو خیراتی دیگوں اور مساجد کی تعمیر سے ’’پاک‘‘ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاستدانوں کے علاوہ بھی بہت سے مگر مچھ ہیں جنہوں نے اس ملک کو لہو لہان کر رکھا ہے۔
حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیئے پپٹ کردار بوقت ضرورت ’’دھرنا‘‘ دیتے ہیں۔ نواز شریف اور زرداری میں کبھی سیاسی مفاہمت ہوا کرتی تھی مگر اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سیاست میں کوئی کسی کا بھائی اور دوست نہیں ہوتا۔ بھٹو کو رات کی تاریکی میں پھانسی دے دی گئی اور جیالے خود سوزی کے سوا کچھ نہ کر سکے
بے نظیر کو بھرے میلے میں گولی مار دی گئی، جیالے کھڑے منہ تکتے رہ گئے۔ زرداری کے پاس تو جیالے بھی نہیں، مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے، ٹولے کے سردار کی سیاست اب ختم ہوئی۔ کراچی صاف ہو رہا ہے، الطاف حسین بھی ماضی ہونے جا رہا ہے۔ عوام کے لئے سیانے کہہ گئے ہیں کہ ’’عقل بادام کھانے سے نہیں، دھوکہ کھانے سے آتی ہے‘‘۔ امید ہے عوام کو عقل آ گئی ہو گی البتہ عقل جب ماؤف ہو جائے تو بندہ زرداری اور الطاف حسین کی طرح اپنی ہی فوج کے خلاف اول فول بکنے لگتا ہے۔
زرداری کا دور بھی یاد ہے جب آٹا لینے کے لئے چھ گھنٹے لمبی قطار میں لگے ایک شخص کو غصہ آ گیا اور بولا ’میں صدر کو گولی مار دوں گا، یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور دوبارہ قطار میں لگ گیا۔ کسی نے پوچھا ’کیوں کیا ہوا؟ مار دیا حکمرانوں کو؟ اس نے مایوسی سے جواب دیا ’نہیں یار وہاں تو اس سے بھی لمبی قطار لگی ہوئی ہے‘۔ آصف زرداری نے کہا تھا کہ ’’ہم نے شہیدوں کے خون پر حکومت بنائی ہے‘‘۔ بھٹو زندہ ہے‘ نعرہ کی حد تک ٹھیک ہے جبکہ بھٹو حقیقت میں زندہ ہوتے تو نہ زرداری ان کے داماد ہوتے اور نہ پارٹی کا یہ حال ہوتا۔
زرداری نے یہ بھی کہا ’’گڑھی خدا بخش پیپلز پارٹی کا کربلا ہے‘‘۔ یہ کیسی کربلا ہے جس کا یزید بھٹو کی بیٹی کو بھی ختم کر گیا مگر آج تک گمنام ہے؟ دنیا کا کوئی دوسرا مقام، مقام کربلا ہے اور نہ ہی کوئی شہید کربلا کے شہیدوں کی خاک کو چھو سکتا ہے۔ جمہوریت پیغمبری نہیں اور نہ سیاستدان معصوم ہیں کہ ان کی شان میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جائے۔ چوری اور کمزوری کو جب لفاظی کا لبادہ پہنانے کی کوشش کی جائے تو وہ بے نقاب ہو نے لگتی ہے۔ زرداری اور الطاف خدا کی گرفت میں آ چکے ہیں۔ اندھے گھوڑے جب اندھا دھند دوڑے چلے جاتے ہیں تو منہ کے بل گر تے ہیں۔ زرداری صاحب نے بہت بلنڈرز کئے مگر فوج اورسیاسی اتحادیوں نے ساتھ دیااور پانچ سال پورے کروائے۔
الطاف حسین اور آصف علی زرداری نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ کبھی فوج کے حق میں بیان دیتے ہیں اور کبھی دھمکیاں دیتے ہیں، رازداروں کو مروا دیتے ہیں اور کبھی اپنی ہی زبان کاٹ لیتے ہیں، بوریاں سلواتے ہیں اور کبھی قبریں کھدواتے ہیں۔ فوج کا ڈنڈا نہ ہو تو یہ لوگ کب کا ملک بیچ چکے ہوتے۔ زرداری نے پانچ سال جنرل پرویز کیانی کے طفیل گزارے۔ میاں نواز شریف، سابق جنرل پرویز کیانی اور آصف زرداری کے سیاسی تعلقات مفاد پرستی پر قائم تھے جس کی وجہ سے زرداری پانچ سال پورے کر سکے۔
وہ مت بھولیں کہ ان کا پانچ سالہ دور پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور کرپٹ ترین دور حکومت تھا۔ انہیں پانچ سال کرسی پر بٹھائے رکھنے والے فرینڈلی اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف اور فرینڈلی جرنیل پرویز کیانی تھے۔ ملک کچھ بہتری کی جانب گامزن ہونے لگا تو الطاف حسین اور آصف زرداری نے فوج مخالف خطابات شروع کر دیے۔ زرداری صاحب کو سب علم ہے کہ نواز حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں، حکومت تو اپنی باری کا سوچ کر پریشان ہے۔
کرپٹ اور غداران جس پارٹی میں بھی موجود ہیں، عنقریب پکڑے جائیں گے۔ جب تک پاکستان کے نمک حراموں کوکیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، اس ملک کو دہشت گردی اور کرپشن سے نجات نہیں دلائی جا سکتی۔ کراچی کی روشنیوں کی بحالی کے بعد بلوچستان اور پنجاب میں امن بحال کرنا ناگزیر ہے جبکہ خیبر پختونخواہ کو ماڈل بنانے کی ذمہ داری عمران خان کو سونپ دی گئی ہے۔
طیبہ ضیاءچیمہ
الطاف حسین کی تقاریر، تصاویر کی نشرو اشاعت پر پابندی
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر احمد بھٹہ کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم ) الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں
پیر کو لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل 3 رکنی فل بینچ نے ایم کیو ایم قائد پر تقریروں کے ذریعے انتشار پھیلانے کے الزام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی
الطاف حسین کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ عبداللہ ملک، ایڈووکیٹ آفتاب، ایڈووکیٹ مقصود اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم قائد نے اپنی تقاریر میں پاک فوج اورریاستی اداروں کے خلاف انتشار آمیز بیان بازی کی، لہذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے
واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت مملکت پاکستان سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو، واجب التعمیل ذمہ داری ہے جبکہ آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی شخص پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جاسکتا ہے
مذکورہ کیس کی گذشتہ سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تقاریر کی لائیو کوریج پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی تھی
درخواست گزار کا موقف تھا کہ الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اور کوئی بھی غیر ملکی شہری پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں ہوسکتا،جبکہ انھیں پاکستانی ٹی وی چینلز پر تقاریر کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے
پیر کو مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایات جاری کیں کہ تمام ٹی وی چینلز، کیبل نیٹ ورک کو الطاف حسین کی تصویر یا تقریر جاری یا نشر نہ کرنے پر پابند کیا جائے
بعد ازاں عدالت نے سیکریڑی داخلہ سے الطاف حسین کی شہریت کے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز پیمرا کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ اسی دن اس حوالے سے بھی رپورٹ پیش کی جائے کہ الطاف حسین کی تقاریر و تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے یا نہیں