Crossing the Kunhar River en route to Lulusar Lake, Pakistan.
seen from United States
seen from France
seen from United States
seen from China
seen from United Kingdom

seen from Singapore

seen from Canada
seen from Russia

seen from Chile
seen from United States
seen from China
seen from United States

seen from Greece
seen from United States
seen from Chile

seen from Malaysia

seen from Brazil

seen from United States
seen from United States
seen from United States
Crossing the Kunhar River en route to Lulusar Lake, Pakistan.
دریا ئے کنہار
بابو سرٹاپ سے بہنے والا دریائے کنہار 166 کلومیٹر طویل اور اپنے یخ بستہ پانی کے علاوہ ٹراؤٹ فش کیلئے بھی مشہور ہے۔ یہ دریا وادی کاغان کے حسن میں قدرتی اضافہ کرتا ہے۔ یہاں کی مچھلی اپنے ذائقے اور جسامت کے حساب سے بے مثال ہوتی ہے۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹرائوٹ مچھلی کی افزائش کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔ جہاں ایک طرف خیبر پختونخوا انتظامیہ دریا کے گرد درخت لگا رہی ہے وہاں رواں سال ٹرائوٹ کی افزائش کیلئے تیس ہزار سے زائد ٹرائوٹ مچھلی کے بچے چھوڑے گئے۔ بے دریغ شکار کے باعث ٹرائوٹ کی نسل معدوم ہو رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے شکار پر دو سال کیلئے پابندی لگائی گئی۔ ٹرافی فشنگ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں کینیڈا اور اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدد فراہم کرتے ہیں ۔ سیاحتی مرکز کی وجہ سے ٹرائوٹ مچھلی کا شکار کر کے دوبارہ مچھلی دریا میں چھوڑ دی جاتی ہے۔ مچھلی کے شکار کی وجہ سے دریا کنارے ریسٹورنٹس کے کاروبار پر فرق پڑا ہے۔ تیز بہاؤ کے حامل اس دریا پر قبل ازیں سی پیک منصوبہ میں شامل'' سکی کناری ڈیم ‘‘ کی تعمیر کا کام جاری ہے جو آئندہ دو برس تک مکمل ہو گا جس کی تعمیر کے بعد 870 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ دریائے کنہار کو وادی کاغان کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے کیونکہ 166 کلومیٹر طویل یہ دریا اپنی تمام تر دلکشی، خوبصورتی اور رعنائی کے ساتھ پوری وادی میں سانپ کی طرح بل کھاتا، مچلتا، گنگناتا اور محبتوں کے نغمے سناتا رواں دواں ہے۔ دریائے کنہار ناران سے 48 کلومیٹر اوپر 14000 فٹ کی بلندی پر واقع لالو سر جھیل سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے لیکن ملکہ پربت کے گلیشیئرز اور دودی پت جھیل بھی اسے پانی فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ویسے تو دریائے کنہار کا ہر نظارہ دلوں کو چھو لینے والا ہے لیکن شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی محبتوں کی رازدار جھیل سیف الملوک کے ساتھ اس کا ملاپ لافانی شاہکار ہے۔ دریا کا پانی اس قدر شفاف ہے کہ ایک کلو میٹر کی بلندی سے بھی آپ اس کی تہہ میں پڑے کنکر اور پتھر دیکھ سکتے ہیں جبکہ اس کا پانی اس قدر یخ بستہ ہے کہ گرمیوں میں بھی لوگ اس میں نہانے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ اس دریا میں دنیا کی سب سے خوبصورت اور لذیذ مچھلی ٹراؤٹ پائی جاتی ہے۔ دریا کا برفیلا پانی اس کی افزائش کے لیے بے حد موزوں ہے۔ کنہار، دو الفاط یعنی پہاڑ اور نہار یعنی نہریں کا مجموعہ ہے۔ اس کا پانی آنکھوں کے امراض کے لیے بے حد اکسیر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار ہندوستان کی ملکہ نور جہاں کشمیر کی سیر کے لیے جارہی تھیں تو انہیں آشوب چشم ہو گیا، حکما ء کے مشورے پر ملکہ نے دریائے کنہار کے پانی سے اپنی آنکھیں دھوئیں تو انہیں آرام آگیا چنانچہ انہوں نے اسے دریائے نین سکھ کا نام دیا جوآج بھی زبان زد عام ہے۔ سڑک کے کنارے سفر کریں تو دریائے کنہار مسلسل پہاڑوں سے آنکھ مچولی کھیلتا نظر آتا ہے، کبھی پہاڑ اوجھل تو کبھی دریا اوجھل۔ اکثر لوگ دوران سفر اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے دریا کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دریا کے بے ترتیب پتھروں پر پاؤں رکھنا بعض اوقات جان لیوا ہوتا ہے لیکن اس کی نمی سے لبریز اور مختلف خوشبوؤں میں بسے ہوا کے دل آویز جھونکے دلوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔ رات کے وقت دریائے کنہار وادی کاغان میں چاندی کی ایک ٹیڑھی میڑھی لکیر کی طرح دکھائی دیتا ہے جو پہاڑوں اور چٹانوں سے لڑتا بھڑتا اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔ دریائے کنہار، وادی کاغان، جل کھنڈ، بالا کوٹ اور گڑھی حبیب اللہ سے گزرتا بالاآخر وادی کشمیر میں داخل ہو جاتا ہے اور مظفرآباد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر پتن کے مقام پر دریائے جہلم اور نیلم سے جا ملتا ہے۔ آزاد کشمیر کے پرچم پر بنی چار لکیریں یہاں کے چار دریاؤں کی نمائندگی کرتی ہیں، کنہار بنیادی طور پر خیبر پختونخوا کا دریا ہے لیکن ان چار میں سے ایک لکیر دریائے کنہار کو آزاد کشمیر کا دریا ہونے کا اعزاز بھی بخشتی ہے۔ نازش حسن بشکریہ دنیا نیوز
دریا ئے کنہار
بابو سرٹاپ سے بہنے والا دریائے کنہار 166 کلومیٹر طویل اور اپنے یخ بستہ پانی کے علاوہ ٹراؤٹ فش کیلئے بھی مشہور ہے۔ یہ دریا وادی کاغان کے حسن میں قدرتی اضافہ کرتا ہے۔ یہاں کی مچھلی اپنے ذائقے اور جسامت کے حساب سے بے مثال ہوتی ہے۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹرائوٹ مچھلی کی افزائش کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔ جہاں ایک طرف خیبر پختونخوا انتظامیہ دریا کے گرد درخت لگا رہی ہے وہاں رواں سال ٹرائوٹ کی افزائش کیلئے تیس ہزار سے زائد ٹرائوٹ مچھلی کے بچے چھوڑے گئے۔ بے دریغ شکار کے باعث ٹرائوٹ کی نسل معدوم ہو رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے شکار پر دو سال کیلئے پابندی لگائی گئی۔ ٹرافی فشنگ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں کینیڈا اور اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدد فراہم کرتے ہیں ۔ سیاحتی مرکز کی وجہ سے ٹرائوٹ مچھلی کا شکار کر کے دوبارہ مچھلی دریا میں چھوڑ دی جاتی ہے۔
مچھلی کے شکار کی وجہ سے دریا کنارے ریسٹورنٹس کے کاروبار پر فرق پڑا ہے۔ تیز بہاؤ کے حامل اس دریا پر قبل ازیں سی پیک منصوبہ میں شامل'' سکی کناری ڈیم ‘‘ کی تعمیر کا کام جاری ہے جو آئندہ دو برس تک مکمل ہو گا جس کی تعمیر کے بعد 870 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ دریائے کنہار کو وادی کاغان کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے کیونکہ 166 کلومیٹر طویل یہ دریا اپنی تمام تر دلکشی، خوبصورتی اور رعنائی کے ساتھ پوری وادی میں سانپ کی طرح بل کھاتا، مچلتا، گنگناتا اور محبتوں کے نغمے سناتا رواں دواں ہے۔ دریائے کنہار ناران سے 48 کلومیٹر اوپر 14000 فٹ کی بلندی پر واقع لالو سر جھیل سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے لیکن ملکہ پربت کے گلیشیئرز اور دودی پت جھیل بھی اسے پانی فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ویسے تو دریائے کنہار کا ہر نظارہ دلوں کو چھو لینے والا ہے لیکن شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی محبتوں کی رازدار جھیل سیف الملوک کے ساتھ اس کا ملاپ لافانی شاہکار ہے۔
دریا کا پانی اس قدر شفاف ہے کہ ایک کلو میٹر کی بلندی سے بھی آپ اس کی تہہ میں پڑے کنکر اور پتھر دیکھ سکتے ہیں جبکہ اس کا پانی اس قدر یخ بستہ ہے کہ گرمیوں میں بھی لوگ اس میں نہانے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ اس دریا میں دنیا کی سب سے خوبصورت اور لذیذ مچھلی ٹراؤٹ پائی جاتی ہے۔ دریا کا برفیلا پانی اس کی افزائش کے لیے بے حد موزوں ہے۔ کنہار، دو الفاط یعنی پہاڑ اور نہار یعنی نہریں کا مجموعہ ہے۔ اس کا پانی آنکھوں کے امراض کے لیے بے حد اکسیر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار ہندوستان کی ملکہ نور جہاں کشمیر کی سیر کے لیے جارہی تھیں تو انہیں آشوب چشم ہو گیا، حکما ء کے مشورے پر ملکہ نے دریائے کنہار کے پانی سے اپنی آنکھیں دھوئیں تو انہیں آرام آگیا چنانچہ انہوں نے اسے دریائے نین سکھ کا نام دیا جوآج بھی زبان زد عام ہے۔ سڑک کے کنارے سفر کریں تو دریائے کنہار مسلسل پہاڑوں سے آنکھ مچولی کھیلتا نظر آتا ہے، کبھی پہاڑ اوجھل تو کبھی دریا اوجھل۔ اکثر لوگ دوران سفر اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے دریا کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
دریا کے بے ترتیب پتھروں پر پاؤں رکھنا بعض اوقات جان لیوا ہوتا ہے لیکن اس کی نمی سے لبریز اور مختلف خوشبوؤں میں بسے ہوا کے دل آویز جھونکے دلوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔ رات کے وقت دریائے کنہار وادی کاغان میں چاندی کی ایک ٹیڑھی میڑھی لکیر کی طرح دکھائی دیتا ہے جو پہاڑوں اور چٹانوں سے لڑتا بھڑتا اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔ دریائے کنہار، وادی کاغان، جل کھنڈ، بالا کوٹ اور گڑھی حبیب اللہ سے گزرتا بالاآخر وادی کشمیر میں داخل ہو جاتا ہے اور مظفرآباد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر پتن کے مقام پر دریائے جہلم اور نیلم سے جا ملتا ہے۔ آزاد کشمیر کے پرچم پر بنی چار لکیریں یہاں کے چار دریاؤں کی نمائندگی کرتی ہیں، کنہار بنیادی طور پر خیبر پختونخوا کا دریا ہے لیکن ان چار میں سے ایک لکیر دریائے کنہار کو آزاد کشمیر کا دریا ہونے کا اعزاز بھی بخشتی ہے۔
نازش حسن
بشکریہ دنیا نیوز
River Kunhar Garhi Habibullah KPK
Dudiptsar Lake
Dudiptsar Lake or Dudipat Lake is a lake encircled by snow clad peaks in Lulusar-Dudipatsar National Park. The lake lies in the extreme north of the Kaghan Valley, in the Mansehra District, Khyber Pakhtunkhwa province, in northern Pakistan. The word "dudi" means white, "pat" means mountains and "sar" means lake. This name has been given to the lake because of the white color of snow at surrounding peaks. In summer the water of the lake reflects like a mirror. The word "sar" is used with the name of each lake in the area, translating as 'lake.'
Geography
The lake's water is a beautiful greenish blue hue and very cold, at an elevation of 3,800 metres (12,500 ft). The surrounding mountains, with snow patches in the shady dales, average around 4,800 metres (15,700 ft) in elevation. Their natural habitat is in the Western Himalayan alpine shrub and meadows ecoregion.[2] The lake and its wetlands habitats are of significant ecological importance for resident fauna and migratory waterfowl. Some of the park's fauna includes the Snow leopard, Black bear, Marmot, Weasel, Lynx, Leopard, Himalayan Snowcock, and the Snow Partridge.
Lulusar Lake, also in the park, is the primary headwaters of the Kunhar River. Saiful Muluk National Park, with Saif ul Maluk Lake, is adjacent in the 150 kilometres (93 mi) long Kaghan Valley region and together the parks protect 88,000 hectares (220,000 acres).
Access
The lake and park is accessible for four months of the year from June to late September. In the summer, when the mirror-like water reflects the scenery, visitors from different regions of the country and from abroad travel to enjoy the enchanting views. The trail head for Dudipatsar is located at Besal, which is about an hours drive from the town of Naran. The road is accessible by cars and motorbikes. From Besal onwards visitors trek in vast alpine meadows to reach Dudiptsar Lake. The lake had an abundance of trout, but illegal fishing with dynamite and nets resulted in a sharp fish population decline. It is advised to not track it in snow, as it is an avalanche prone area.
The 2005 Kashmir earthquake in North Pakistan made access more difficult. However since 2006 the Pakistan government has taken 'all steps' to restore tourism in the Kaghan Valley, including rebuilding and new tourism facilities and infrastructure.
Lulusar Lake
Lulusar is group of mountain peaks and a lake in the Kaghan Valley in the Khyber-Pakhtunkhwa province of Pakistan. The word "sar" means "top" or "peak" in Pashto. The highest peak has a height of 11,200 ft (3,410 m) above sea level (N35.0804 E73.9266). The locale is famous for the scenic and large Lulusar Lake, which is a popular tourism attraction.
Lulusar Lake
Lulusar Lake, at 3,410 m (11,190 ft), is the primary headwaters of the Kunhar River.[1] It flows southwest through the entire length of Kaghan Valley passing Jalkhand, Naran, Kaghan, Jared, Paras and Balakot until its confluence with the Jhelum River. Lulusar Lake marks the historic place where fifty-five participants of the 1857 Indian war of independence were arrested.
Destination
The lake is much larger than other lakes in the Kaghan Valley, and has mirror-like water reflecting the surrounding snowcapped Lulusar mountains, creating a natural tourist attraction. In the summer many domestic and international visitors make the lake and Lulusar-Dudipatsar National Park a destination. From Gittidas east of the lake the Naran-Babusar road goes through the Babusar Pass, which is the highest point in the Kaghan Valley (el.4,173 metres (13,691 ft)), to the Karakoram Highway and mountaineering hub of Gilgit.
Access
From Naran Town the Naran-Babusar road ascends 48 kilometres (30 mi) northeast up Kaghan Valley to Basel, from where one reaches Lulusar Lake. Jeeps can be hired in Naran for visiting the lake. A road is being built southeast around the lake which will link Naran and Basel to Chilas and the Karakoram Highway south of Gilgit.
The Kunhar River
The Kunhar River also known as Nain Sukh Persian: "eye's repose" is 166 kilometres (103 mi) long river, located primarily in the Khyber Pakhtunkhwa province, northern Pakistan. It is in the Indus River watershed basin.
Route
The river originates from Lulusar Lake, nearly 48 kilometres (30 mi) upstream from Naran Valley. Waters of Dudipat and Saiful Muluk Lakes feed the river besides glacial waters from Malka Parbat and other high peaks in the valley. The Kunhar flows through the entire Kaghan Valley, Jalkhad, the Naran Valley, Kaghan, Balakot, and Garhi Habibullah.
The Kunhar River's confluence with the Jhelum River is outside Muzaffarabad, in the Azad Jammu and Kashmir province, Pakistan.
Brands Magazine
http://monthlybrands.com.pk/selfie-takes-life-sukkur/
Man drowns while taking a selfie in Sukkur
A man fell into River Indus, Sukkur and died by drowning in his quest to take a selfie at the Lansdowne Bridge on Wednesday, 4th-January-2017.
Asif Jamil, a resident of Christian Colony went to the bridge with wife for a picnic. During his try to capture a selfie with flowing water, Asif lost control and fell into the river. Rescue services started a search operation instantly, but they couldn’t recover him due to the presence of dense fog.
The Lansdowne Bridge is man-made and connects Sukkur with Rohri. The bridge is a spectacular display of engineering with architecture to look for.
This is not the first time that selfie has caused death in the country. Previously, a boy lost his life on railway tracks while a family drowned in Kunhar River while taking a selfie.