havent seen you 4 in a while

#dc#dc comics#batman#bruce wayne#batfam#dick grayson#batfamily#dc universe#tim drake#dc fanart




seen from Czechia
seen from United Kingdom

seen from Germany
seen from United Kingdom
seen from China
seen from China
seen from France

seen from T1
seen from China
seen from Türkiye
seen from Hungary
seen from China

seen from Poland
seen from United Kingdom

seen from Malaysia

seen from United States
seen from United States

seen from Israel
seen from Russia
seen from United States
havent seen you 4 in a while
میلکم مارشل : جو صرف دو گیندوں میں بلے باز کی کمزوری پہچان لیتے تھے
کرکٹ کی دنیا ہمیشہ 18 اپریل کی احسان مند رہے گی۔ 18 اپریل سنہ 1958 کو میلکم مارشل بارباڈوس میں پیدا ہوئے۔ ان کی آمد سے کرکٹ کی دنیا مزید دلچسپ اور پُرجوش ہو گئی۔ دنیائے کرکٹ میں جب ویسٹ انڈیز کے تیز بولرز کا طوطا بولتا تھا اس زمانے میں میلکم مارشل کے ساتھ اینڈی رابرٹس، جوئل گارنر، مائیکل ہولڈنگ اور کولن کرافٹ سے دنیا بھر کے بلے باز خوفزدہ رہتے تھے۔ لیکن ان میں میلکم مارشل سب سے مختلف اور جدا تھے۔ میلکم مارشل جس طرح کے بولر تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ان خطرناک بولرز میں تیز ترین تھے۔ جب مارشل نے سنہ 1991 میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہا تو انھوں نے 81 ٹیسٹ میں 376 وکٹیں لے رکھی تھیں۔ ان کا بولنگ سٹرائک ریٹ 47 سے کم تھا جبکہ اوسط 21 سے کم۔ تاہم ان اعداد و شمار سے یہ انکشاف نہیں ہوتا کہ مارشل کتنے خطرناک بولر تھے۔
خوف کا دوسرا نام در حقیقت سنہ 1983 سے 1991 تک مارشل دنیا بھر کے بلے بازوں کے لیے خوف کا دوسرا نام تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مارشل جتنے مہلک فاسٹ بولر تھے اتنا ہی اپنی گیندوں پر انھیں کنٹرول تھا۔ اگر آپ رفتار کے لحاظ سے انھیں 'بروٹل' (سفاک) کہتے ہیں تو لائن اور لینتھ کے معاملے میں انھیں 'روتھ لیس' یعنی بے رحم کہنا بے جا نہ ہو گا۔ اپنے بین الاقوامی کیریئر کے 13 سال میں مارشل صرف آٹھ سال ہی بین الاقوامی کرکٹ کھیل سکے۔ لیکن اس دوران انھوں نے پوری دنیا میں اپنے مداح بنائے۔ مارشل کے ساتھ کھیلنے والے بولر مائیکل ہولڈنگ نے اپنی سوانح عمری 'نو ہولڈنگ بیک' میں لکھا: 'میرے خیال میں میلکم مارشل اور اینڈی رابرٹس دنیا کے تیز ترین بولرز تھے۔ میلکم رابرٹس سے تیز تھے۔ ہم اسے میکو پکارتے تھے۔ 'میں نے مارشل کو سنہ 1979-80 کے دورہ آسٹریلیا سے پہلے دیکھا تھا۔ ان کا قد چھ فٹ سے کم تھا، لہذا ہمارا خیال تھا کہ وہ زیادہ تیز بولر نہیں ہوں گے لیکن ہمارے ساتھی کھلاڑی ڈیسمنڈ ہینز نے کہا تھا دیکھنا کہ وہ کتنا تیز ہے، وہ واقعی تیز ہے۔ بہت تیز ہے۔'
پاؤں پر وزن رکھتے تھے مارشل اپنی کرکٹ پر کس قدر توجہ دیتے تھے اور وہ اپنے قد سے اونچے بولرز کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے گیند کس طرح پھینکتے تھے، اس کے متعلق مائیکل ہولڈنگ نے ایک دلچسپ بات بتائی۔ ہولڈنگ کے مطابق: 'ایک بار جب ہم تاش کھیل رہے تھے اور کسی وجہ سے میکو کی فل پینٹ اوپر کھسک آئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ انھوں نے اپنے دونوں پیروں پر وزن کی پٹیاں لگا رکھی تھیں۔ میں حیرت زدہ تھا، میں نے پوچھا کہ یہ کیا لگا رکھا ہے تو میکو نے کہا کہ وہ ہر وقت اپنے پاؤں پر اضافی وزن رکھتے ہیں، یہاں تک کہ جب خریداری کرتے ہوں یا آرام کر رہے ہوں تو بھی۔ تاکہ ٹانگوں کے پٹھے زیادہ مضبوط ہوں۔' ہولڈنگ اپنے ساتھی کرکٹر کی اس مشق پر حیران تھے۔ انھوں نے میلکم سے پوچھا کہ جب میچ کے دوران تم یہ سٹرپس کھولتے ہو تو کیسا محسوس کرتے ہو۔ میلکم مارشل نے ان سے کہا اس کے بعد 'میں سارا دن دوڑتا رہ سکتا ہوں۔'
یہ مارشل کے کریئر کی محض ایک مثال ہے۔ اس وقت کرکٹ کی دنیا میں ٹیکنالوجی پر اس قدر زور نہیں دیا جاتا تھا۔ کوچنگ عملے کی بیٹری ایک، ایک کھلاڑی کے پیچھے نہیں ہوتی تھی، لیکن مارشل نے پریکٹس کے ذریعے خود کو مہلک بنانے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ چنانچہ جب وہ اپنے رن اپ سے دوڑ کر امپائر کے پاس سے گزرتے تو ان کی اپنی رفتار انتہائی تیز ہوتی تھی اور کندھے کے استعمال والے ایکشن کے ساتھ جب گیند ان کے ہاتھ سے نکلتی تو وہ گولی کی رفتار سے بیٹسمین کے پاس پہنچتی تھی۔ خواہ ان کی لیگ کٹر گیندیں ہوں یا اسٹمپ سے باہر سوئنگ کرنے والی گیندیں ہوں، بلے بازوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خاص بات یہ تھی کہ مارشل اپنی بولنگ سے پوری طرح لطف اٹھاتے تھے۔ لہذا وہ وقت بے وقت اپنے باؤنسر سے بیٹسمینوں کی آزمائش کیا کرتے تھے۔
ان کے باؤنسروں کی درستی اتنی زیادہ تھی کہ زیادہ تر بیٹسمین ان کی گیندوں پر چوٹ کھا جاتے تھے۔ سامنے بیٹسمین کو پریشان دیکھ کر مارشل کو ایک قسم کی خوشی ہوتی تھی۔ جب وہ راؤنڈ دی وکٹ بولنگ کے لیے آتے تو ان کے باؤنسروں کی درستگی میں کافی اضافہ ہو جاتا تھا۔ انگلینڈ کے بلے باز مائیک گیٹنگ کی ناک مارشل کے باؤنسر سے ہی ٹوٹی تھی۔ پاکستان کے تیز بولر وسیم اکرم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: 'میلکم مارشل کسی بھی بیٹسمین کی کمزوری کو صرف دو گیندوں میں پہچان جاتے تھے۔ یہی خصوصیت انھیں مارشل بناتی تھی۔' مارشل نے جن 81 ٹیسٹ میں شرکت کی ان میں سے ان کی ٹیم 43 ٹیسٹ میں فاتح رہی اور انھوں نے ان جیتنے والے میچز میں 254 وکٹیں حاصل کیں۔ چار فاسٹ بولرز کے ساتھ کسی ایک بولر کا ایسا غلبہ کرکٹ کی دنیا میں شاید ہی دیکھا جائے۔
پردیپ کمار بی بی سی ہندی، نئی دہلی
بشکریہ بی بی سی اردو
Pace generation from short run-up makes Bumrah injury prone: Holding - Times of India
Pace generation from short run-up makes Bumrah injury prone: Holding – Times of India
MUMBAI: With his short run-up, Jasprit Bumrah makes it extremely difficult for batsmen to measure his pace but the Indian pacer’ body may not hold for long because of that approach, reckons West Indies’ fast bowling great Michael Holding.
Holding, who completed the famous West Indies’ pace quartet along with Malcolm Marshall, Joel Garnerand Andy Roberts, said Bumrah’s ability to hit the deck…
View On WordPress
Pace generation from short run-up makes Bumrah injury prone: Holding - Times of India
New Post has been published on https://apzweb.com/pace-generation-from-short-run-up-makes-bumrah-injury-prone-holding-times-of-india/
Pace generation from short run-up makes Bumrah injury prone: Holding - Times of India
MUMBAI: With his short run-up, Jasprit Bumrah makes it extremely difficult for batsmen to measure his pace but the Indian pacer’ body may not hold for long because of that approach, reckons West Indies’ fast bowling great Michael Holding.
Holding, who completed the famous West Indies’ pace quartet along with Malcolm Marshall, Joel Garner and Andy Roberts, said Bumrah’s ability to hit the deck hard with short run up is unique.
“Bumrah hits the deck hard and that creates more problem. And especially with that short run, it is difficult for batsmen to formulate in their minds the pace at which that ball is coming,” Holding said on the ‘Sony Ten Pit Stop’ show aired on channel’s Facebook page.
“People talk about bowlers who hit the deck hard and bowlers who just skid off the surface. Malcolm Marshal, for instance, great fast bowler, he skidded the ball off the surface, more than hitting the deck.”
It may be an advantage for Bumrah but it also has a drawback, the 68-year-old felt.
“My problem with Bumrah and I mentioned it to him, when last time I saw him in England, is how long that body will hold up with that short run and the amount of effort he has to put into his bowling, it is a human body. It is not a machine,” said Holding.
Bumrah had to be on sidelines for four months last year due to stress fracture in his lower back and made a return to competitive cricket only in January this year when India competed against Sri Lanka.
Holding said both Bumrah and Mohammed Shami are India’s special fast bowling talent and it’s “not just because of the pace” they generate.
“It is important to have pace, but you have got to have control as well and both of these guys have control. Shami is not very tall, is not extremely quick, but is quick enough. And he has the control and he moves the ball around a bit,” the Kingston-born legend observed.
“You don’t find Shami spraying the ball all over the place. When you spray the ball all over the place, batsmen get relief, watching those balls go away. If you are constantly (bowling) in the right areas, attacking these batsmen, it creates more and more pressure and they are more liable to make mistakes. So that is Shami’s real strength,” elaborated Holding, who picked 249 wickets from 60 Tests.
Source link
مائیکل ہولڈنگ کی نظر میں دنیا کے چار بہترین فاسٹ بالرز کون ہیں؟
ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری فاسٹ بالر مائیکل ہولڈنگ نے دنیا کے چار بہترین فاسٹ بالرز کے ناموں کی فہرست بنائی ہے۔ مائیکل ہولڈنگ کی جانب سے چنے گئے دنیا کے چار بہترین فاسٹ بالروں کی فہرست میں ویسٹ انڈیز کے میلکم مارشل، اینڈی رابرٹس، آسٹریلیا کے ڈینس للی اور ساؤ تھ افریقا کے ڈیل شامل ہیں۔ مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے کہ میلکم مارشل اینڈی رابرٹس اور ڈینس للی کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ ہے جبکہ ڈیل اسٹین کو کھیلتے ہوئے دیکھا ہے انہیں ٹاپ فور سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔ مائیکل ہولڈنگ کے مطابق ڈینس للی کے پاس رفتار کنٹرول اور جارح مزاجی سب کچھ تھا جبکہ میلکم مارشل مخالف بیٹسمین کو بہت جلد سمجھ جاتے تھے۔ مائیکل ہولڈنگ کا مزید کہنا ہے کہ اینڈی رابرٹس سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ
Ravi Shastri Posts Throwback Pictures With Malcolm Marshall And Viv Richards
Ravi Shastri Posts Throwback Pictures With Malcolm Marshall And Viv Richards
Ravi Shastri, the head coach of Team India, took a trip down memory lane on Saturday as he posted a couple of nostalgic pictures of himself with his “brothers in arms”. Ravi Shastri shared throwback pictures with former West Indies greats Malcolm Marshall and Viv Richards. “Brothers in arms. The best I played against. Privilege and honour Folded hands – with Malcolm Denzil Marshall and Sir Isaac…
View On WordPress