وقت کا ولی
تحریر محمدعمار ارسلان سید ابولاعلی مودودیؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے ؟ سید مودودیؒ نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے ۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے ۔ جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا، میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا ، اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردئیے ۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “نہیں صاحب میری مزدوری چار آنے ہی بنتی ہے” ۔ آپ یقین کریں ہم سب ولی اللہ بننے اور اللہ کے ولیوں کو ڈھونڈنے میں دربدر ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مشکل ترین ریاضتوں ، مشقتوں اور مراقبوں سے گذرنا پڑےگا ۔ سار ی ساری رات نوافل میں گذارنی پڑےگی یا شاید گلے میں تسبیح ڈال کر میلے کچیلے کپڑے پہن کر اللہ ہو کی صدائیں لگانا پڑے گی تب ہم ولی اللہ کے درجے پر پہنچ جائینگے ۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ہماری آدھی سے زیادہ قوم بھی اس کو ہی” پہنچا “ہوا سمجھتی ہے جو ابنارمل حرکتیں کرتا نظر آئیگا ۔ جو رومال میں سے کبوتر نکال دے یا عاشق کو آپ کے قدموں میں ڈال دے ۔ اللہ کا دوست بننے کے لیے تو اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے ۔ قربانی ، ایثار اور انفاق کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے ۔ اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنے ابا جی سے پوچھا کہ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں کیا فرق ہے ؟ انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہنے لگے “بیٹا ! کسی ایک کے آگے اپنی Read the full article









