ذوالفقار علی بھٹو اور حبیب جالب سے بلاول بھٹو زرداری تک کا سفر
ذوالفقار علی بھٹو اور حبیب جالب سے بلاول بھٹو زرداری تک کا سفر تحریر محمد عمار ارسلان سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جب عوامی نیشنل پارتی کے راہنماؤں کو پاکستان میں حراست میں لیا گیا تو ایک ایسا شخص تھا جو بہت ہی خستہ حال تھا، اس کو گرفتار کر کے حیدرآباد جیل لایا گیا۔ جیلر نے اس پریشان حال شخص کو دیکھا اور حقارت سے کہا کہ اگر تم عبدالولی خان کے خلاف بیان لکھ کر دے دو تو ہم تم کو رہا کر دیں گے ورنہ یاد رکھو اس کیس میں تم ساری عمر جیل میں گلتے سڑتے رہو گے اور یہیں تمہاری موت ہو گی۔ یہ سن کر اس شخص نے جیلر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور مسکرا کر کہا. جیلر صاحب جیل میں تو شاید میں چند برس زندہ بھی رہ لوں لیکن اگر میں نے یہ معافی نامہ لکھ دیا تو شاید چند دن بھی نہ جی پاؤں. Read the full article








