Noise Pollution in Pakistan
11 نومبر 2018،
کراچی.
آج میری آنکھ اپنی اتواری صبح، دوپہر دو بجے ایک بے ہنگم شور سے کھل گی. حواس بحال ہوئے تو معلوم ہوا کہ پھر کسی جماعت کے دل میں رسول کی بے پناہ محبت نے کروٹ لی ہے اور اس سے آنے والے زلزلے کو ہم، ہمارے گھر کے سامنے روڈ پر تمبو اور لاوڈ اسپیکر کی صورت میں دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں. لاوڈ اسپیکر پر نئے زمانے کی بےسری نعتیں چل رہی تھیں جو سردیوں کے خاموش ماحول میں سورِ اسرافیل کا کام کر رہی تھیں. شاید یہ اپنے sp26 کے فرنگیوں کے بنائے ہوئے لاوڈ اسپیکروں سے عرش معلی تک آواز پہنچانا چاہ رہے تھے یا روڈ پر انہیں تمام معتبر اسلامی ہستیاں نظر آنا شروع ہو گئی تھیں جنہیں یہ خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہ رہے تھے.
ہمارے ملک میں اللہ و دیگر کو خوش کرنے کے لیے کوئی بھی, کبھی بھی, اس کی مخلوق کو کسی بھی قسم کی پریشانی دینے سے گریز نہیں کرتا. شیعہ، امام حسین علیہ السلام کے نام پر جب چاہتے ہیں شہر کو ڈھٹائی سے یرغمال بنا لیتے ہیں ان کی ٹکر پر باقی مسلمان بھی عوام کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے . مگر ہاں اقلیتی مسلمان, بوہری اور اسماعیلی, فلحال اپنی عبادت بھی اپنے تک محدود رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی کو تبلیغ کرنے کے چکر میں معاشرے کا توازن بگاڑتے ہیں اور یہ اس لیے کہ ان کی سپریم قیادت ان کے امام زندہ اور لکھپتی فورنر ہوتے ہیں جو کہ بدلتی اخلاقی اقداروں کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی بدلتے رہتے ہیں،انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ ابھی وہ تعداد میں کم ہیں ذرا ان کے پاس بھی طاقت آنیں دیں پھر دیکھیں کہ بدلتا ہے آسماں رنگ کیسے کیسے.
عمران خان ہوں، بڑے بھائی ہوں ، چھوٹے بھائی ہوں، مسڑ 10% ہوں یا پھر کوئی اشتہاری مہم چلانے والی کمپنی، ہر ایک مکمل حق سے معاشرے میں noise pollution پھیلاتے ہیں.
ہمیں چاہیے کہ انسانیت کا بھرم رکھتے ہوئے انسان کو سب سے مقدم رکھیں، انسانی بنیادوں پر بنائے گئے ریاستی اصولوں کی پاسداری ہو. خدارا noise pollution پھیلانا بند کرو. جیو اور جینے دو کے اصول پر عملدرآمد کریں اور سب سے بڑھ کر مذہب اور مذہبی رسومات کو اپنے تک ہی محدود رکھیں کیونکہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہونا چاہیے.















