ہم اگر موجودہ صورتحال کا موازنہ ن لیگی دور حکومت سے کریں تو ایک بات پتہ چلتی ہے. ن لیگ اس پریشر میں تھی کہ ان کے ساتھ ڈنڈے والوں کی ہمدردیاں نہیں ہیں. اگر انہوں نے ٹی ایل پہ طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تو ممکن ہے کہ ان کی حکومت گر جائے. دراصل انہیں ڈر تھا کہ بپھرے عوام کا منہ ڈنڈے والوں نے کسی ترکیب سے پارلیمنٹ کی طرف کر دیا تو یہ عوام روکنے ناممکن ہوں گے. اب صورتحال اس کے الٹ ہے.
اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کانفیڈینٹ ہے. بلکہ اوور کانفیڈینس کا شکار ہے. انہیں لگتا ہے کہ جتنے تعلقات ان کے ڈنڈے والوں کے ساتھ بہتر ہیں اتنے کسی کے ساتھ نہیں تھے. لہٰذا بزور قوت گاڑ دو.
انگریزی مقولہ ہے کہ جب آپ کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہو تو آپ کو ہر مسئلہ کیل نظر آتا ہے. لہٰذا آپ کی پہلی سوچ ہوتی ہے
یہ سوچ حکومت کو طاقت دیتی ہے. اور اس طاقت کا اثر ہمیں تمام داخلہ پالیسیوں میں دکھائی دیتا ہے.
طاقت کی اپنی اخلاقیات اور اپنے ہی اثرات ہوتے ہیں. طاقت کا نشہ دور اندیشی ختم کر دیتا ہے. بین الاقوامی سیاست میں ہمیں اس کی ایک مثال بُش کے افغانستان پہ حملہ کرنے کے فیصلے میں دکھائی دیتی ہے. امریکی طاقت نے امریکہ کی روایتی دور اندیشی چھین لی. اور امریکہ روس اور برطانیہ سے ملتا جلتا اپنا انجام نا دیکھ سکا. حالانکہ وہ انجام صرف مستقبل کے بیس سالوں کے بعد سامنے رکھا تھا. واضح رہے کہ امریکی پالیسیوں کے معاملے میں سو پچاس سال آگے کی سوچ رکھتے ہیں. مگر طاقت کے نشے نے ان کی دور اندیشی ختم کر دی.
ملکی سیاست میں طاقت کے دور اندیشی کو ختم کر دینے کی مثال لال مسجد آپریشن میں بھی دکھائی دیتی ہے. لال مسجد آپریشن بالکل درست تھا. البتہ مُکے لہرا لہرا کر مشرف صاحب نے اس آپریشن کی جو پروجیکشن ملک میں کی، اس نیگیٹو پروجیکشن نے عوام کو ان سے کافی حد تک بدظن کر دیا. وہاں بھی مسئلہ مذھبی نوعیت کا تھا.
اب مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے ہاتھ میں "دیگر اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات" کا "ہتھوڑا" ہے اور وہ ٹی ایل پی سمیت ہر مسئلے کو کیل کی طرح گاڑ دینے پہ تلی ہوئی ہے. لیکن جو مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے وہ یہ ہے کہ حکومت دور اندیشی کھو چکی ہے.
کیا حکومت ہمیشہ ہاتھ میں رہنے والی چیز ہے؟
کیا طاقت ہمیشہ ہاتھ میں رہنے والی چیز ہے؟
عمرانیات اور انسانی تاریخ کے تمام ماہرین اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں، یکسر نفی میں.
سولہویں صدی میں دنیا میں قوت کی علامت ہسپانیہ (سپین) تھا، چلا گیا. سترہویں صدی کو ولندیزیوں کی صدی کہا جاتا ہے، وہ بھی گزر گئے. اٹھارہویں صدی میں دنیا میں سیاہ و سفید کے مالک فرانسیسی سمجھے جاتے تھے، ختم ہو گیا اقتدار. انیسویں صدی برطانیہ کی صدی تھی. سلطنتِ برطانیہ، جو اتنی وسیع تھی کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا. بیسویں صدی میں سمٹ کر اتنی رہ گئی کہ کل رقبہ پنجاب کے صوبہ جتنا رہ گیا.
اکیسویں صدی امریکہ کی صدی سمجھی جا رہی تھی. پوری قوت سے دنیا پہ چڑھ دوڑا. محض اکیس سالوں میں بکھرنے لگا ہے. آگے چین آیے گا اور چلا جایے گا. یہ دنیا کی تاریخ ہے. ملکی تاریخ بھی اس سے مختلف نہیں. ایوب سے طاقتور کون تھا؟ کوئی نہیں. مگر وہ بھی بے یارو مددگار رہ گئے. بھٹو سے زیادہ مقبول لیڈر پاکستان کی تاریخ میں کون تھا؟ بے یارو مددگار پھانسی چڑھ گئے. ضیاء الحق، طاقت کا وہ استعارہ جس سے یورپ اور امریکا خوفزدہ تھا کہ ہمارا حشر روس سے بدتر کر سکتا ہے. مگر. ضیاء الحق کا اقتدار بھی ایک ہوائی دھماکے میں ختم ہو گیا. بینظیر مقبول ترین تھیں اقتدار آئے اور گزر گیے. نواز شریف اتنا طاقتور حاکم کہ ہر آرمی چیف سے لڑائی کی، سپریم کورٹ تک پہ چڑھ دوڑے، آجکل پاکستان نہیں آ پا رہے. مشرف پاکستانی تاریخ کے کمانڈو، سپہ سالار حاکم، مگر دبئی میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں. تمام تر ملٹری سپورٹ کے باوجود پاکستان واپس اپنی مٹی پہ آنے سے قاصر و مجبور.
کیا سبق ملا تاریخ سے ہمیں؟ کیا سبق ملا عمران خان صاحب کو تاریخ سے؟
یہ ہتھوڑا جسے اقتدار کہہ لیں یا دیگر اداروں سے مضبوط تعلق کہہ لیں. یہ ہتھوڑا ہمیشہ ہاتھ میں نہیں رہنا. اس کے اثرات بھیانک ہونے ہیں. یہ اپنی معینہ مدت پوری کر کے چلے جانے والے ہیں. عوام اور اداروں نے یہیں رہنا ہے. جو صورت حال اب دکھائی دے رہی ہے وہ عوام اور اداروں کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج پیدا کر رہی ہے. ملک کی ستر فیصد آبادی سنی ہے. جنہیں سڑکوں پر حکومت پوری قوت سے گاڑ رہی ہے، ایک ایسے اشو پر جس پہ بات چیت کے زریعے آرام راستہ نکالا جا سکتا ہے. حاکم نے چلے جانا مگر اس دوری کے اثرات اگلی کئی قیادتوں اور نسلوں تک منتقل ہونے ہیں. کیا حکومتی ادارے یہ طویل اثرات برداشت کر لیں گے؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی سمیت ہر اشو پہ آج کل انگلی پارلیمنٹ کے بجائے پنڈی کی جانب جاتی ہے. ان حالات میں حکومت رینجرز کو انوالو کر چکی ہے، مگر اس کے اثرات کون بھگتے گا؟ حکومت اب فوج کو آگے کھڑا کرنے کی فکر کر رہی ہے. اس اثرات کون بھگتے گا؟ اقتدار آنی جانی چیز ہے، دنیا کی تاریخ اسی بات پہ گواہ ہے مگر حاکموں کے فیصلوں اور ان کے اقتدار کے اثرات ہمیشہ مستقل ہوتے ہیں. ابلیس کی سرکشی کے اثرات آج تک مستقل چلتے آ رہے ہیں. آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب نسلِ آدم آج تک جنت کے بجائے زمین پہ ہی پیدا ہوتی چلی آ رہی ہے. آفٹر ایفیکٹس اتنے ہی بڑے ہوتے ہیں جتنی بڑی شخصیت اور جتنا بڑا عہدہ ہو. جو کچھ ہو رہا ہے اس کے آفٹر ایفیکٹس اور اثرات ہو رہے ہیں اور ابھی مزید ہونے ہیں. عہدوں اور کرسیوں والوں نے تو چلے جانا ہے. ادارے اور محکمے کیا اس طویل اور گہری خلیج کے متحمل ہو سکتے ہیں جو حکومت کے اوور کانفیڈینس کی وجہ سے وجود میں آ چکی ہے؟ یقیناً نہیں.