Govt to Build mausoleum on Grave of Dr Abdul Qadeer Khan
The Bowery Presents
occasionally subtle
"I'm Dorothy Gale from Kansas"

roma★
Cosimo Galluzzi
The Bright Sessions

No title available

bliss lane
Phantogram Three
Claire Keane
I'd rather be in outer space 🛸
The Stonewall Inn
PUT YOUR BEARD IN MY MOUTH

❣ Chile in a Photography ❣
No title available

Product Placement
NASA
tumblr dot com
Fieri Frames

Origami Around
seen from United Kingdom

seen from United States
seen from Ecuador

seen from France
seen from United States

seen from Germany

seen from Bosnia & Herzegovina
seen from Saudi Arabia

seen from United States
seen from Ukraine
seen from Netherlands

seen from Sweden

seen from Germany

seen from United States
seen from United States
seen from Colombia
seen from Mexico

seen from United States

seen from Malaysia
seen from United States
@sangeenalizada
Govt to Build mausoleum on Grave of Dr Abdul Qadeer Khan
#مدھیہ پردیش
#میراج طیارہ
#انڈین ائیر فورس
بھارتی فضائیہ کا میراج جنگی طیارہ کامیابی سے گر تباہ ہوگیا
پائیلٹ کی محفوظ لینڈنگ 😎😎😎
طیارہ گوالیار ائیر بیس سے اڑا تھا
بھارتی فضائیہ کا ایک میراج 2000 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ پائلٹ زخمی ہے لیکن زندہ ہے۔ جنگی طیارے نے گوالیار ایئربیس سے اڑان بھری۔ یہ رواں سال آئی اے ایف کا 6 واں حادثہ ہے۔ #IndianAirForce #PlaneCrash #India #AirForce #Mirage2000 #IAF
ہم اگر موجودہ صورتحال کا موازنہ ن لیگی دور حکومت سے کریں تو ایک بات پتہ چلتی ہے. ن لیگ اس پریشر میں تھی کہ ان کے ساتھ ڈنڈے والوں کی ہمدردیاں نہیں ہیں. اگر انہوں نے ٹی ایل پہ طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تو ممکن ہے کہ ان کی حکومت گر جائے. دراصل انہیں ڈر تھا کہ بپھرے عوام کا منہ ڈنڈے والوں نے کسی ترکیب سے پارلیمنٹ کی طرف کر دیا تو یہ عوام روکنے ناممکن ہوں گے. اب صورتحال اس کے الٹ ہے.
اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کانفیڈینٹ ہے. بلکہ اوور کانفیڈینس کا شکار ہے. انہیں لگتا ہے کہ جتنے تعلقات ان کے ڈنڈے والوں کے ساتھ بہتر ہیں اتنے کسی کے ساتھ نہیں تھے. لہٰذا بزور قوت گاڑ دو.
انگریزی مقولہ ہے کہ جب آپ کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہو تو آپ کو ہر مسئلہ کیل نظر آتا ہے. لہٰذا آپ کی پہلی سوچ ہوتی ہے
"گاڑ دو"
یہ سوچ حکومت کو طاقت دیتی ہے. اور اس طاقت کا اثر ہمیں تمام داخلہ پالیسیوں میں دکھائی دیتا ہے.
طاقت کی اپنی اخلاقیات اور اپنے ہی اثرات ہوتے ہیں. طاقت کا نشہ دور اندیشی ختم کر دیتا ہے. بین الاقوامی سیاست میں ہمیں اس کی ایک مثال بُش کے افغانستان پہ حملہ کرنے کے فیصلے میں دکھائی دیتی ہے. امریکی طاقت نے امریکہ کی روایتی دور اندیشی چھین لی. اور امریکہ روس اور برطانیہ سے ملتا جلتا اپنا انجام نا دیکھ سکا. حالانکہ وہ انجام صرف مستقبل کے بیس سالوں کے بعد سامنے رکھا تھا. واضح رہے کہ امریکی پالیسیوں کے معاملے میں سو پچاس سال آگے کی سوچ رکھتے ہیں. مگر طاقت کے نشے نے ان کی دور اندیشی ختم کر دی.
ملکی سیاست میں طاقت کے دور اندیشی کو ختم کر دینے کی مثال لال مسجد آپریشن میں بھی دکھائی دیتی ہے. لال مسجد آپریشن بالکل درست تھا. البتہ مُکے لہرا لہرا کر مشرف صاحب نے اس آپریشن کی جو پروجیکشن ملک میں کی، اس نیگیٹو پروجیکشن نے عوام کو ان سے کافی حد تک بدظن کر دیا. وہاں بھی مسئلہ مذھبی نوعیت کا تھا.
اب مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے ہاتھ میں "دیگر اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات" کا "ہتھوڑا" ہے اور وہ ٹی ایل پی سمیت ہر مسئلے کو کیل کی طرح گاڑ دینے پہ تلی ہوئی ہے. لیکن جو مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے وہ یہ ہے کہ حکومت دور اندیشی کھو چکی ہے.
کیا حکومت ہمیشہ ہاتھ میں رہنے والی چیز ہے؟
کیا طاقت ہمیشہ ہاتھ میں رہنے والی چیز ہے؟
عمرانیات اور انسانی تاریخ کے تمام ماہرین اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں، یکسر نفی میں.
سولہویں صدی میں دنیا میں قوت کی علامت ہسپانیہ (سپین) تھا، چلا گیا. سترہویں صدی کو ولندیزیوں کی صدی کہا جاتا ہے، وہ بھی گزر گئے. اٹھارہویں صدی میں دنیا میں سیاہ و سفید کے مالک فرانسیسی سمجھے جاتے تھے، ختم ہو گیا اقتدار. انیسویں صدی برطانیہ کی صدی تھی. سلطنتِ برطانیہ، جو اتنی وسیع تھی کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا. بیسویں صدی میں سمٹ کر اتنی رہ گئی کہ کل رقبہ پنجاب کے صوبہ جتنا رہ گیا.
اکیسویں صدی امریکہ کی صدی سمجھی جا رہی تھی. پوری قوت سے دنیا پہ چڑھ دوڑا. محض اکیس سالوں میں بکھرنے لگا ہے. آگے چین آیے گا اور چلا جایے گا. یہ دنیا کی تاریخ ہے. ملکی تاریخ بھی اس سے مختلف نہیں. ایوب سے طاقتور کون تھا؟ کوئی نہیں. مگر وہ بھی بے یارو مددگار رہ گئے. بھٹو سے زیادہ مقبول لیڈر پاکستان کی تاریخ میں کون تھا؟ بے یارو مددگار پھانسی چڑھ گئے. ضیاء الحق، طاقت کا وہ استعارہ جس سے یورپ اور امریکا خوفزدہ تھا کہ ہمارا حشر روس سے بدتر کر سکتا ہے. مگر. ضیاء الحق کا اقتدار بھی ایک ہوائی دھماکے میں ختم ہو گیا. بینظیر مقبول ترین تھیں اقتدار آئے اور گزر گیے. نواز شریف اتنا طاقتور حاکم کہ ہر آرمی چیف سے لڑائی کی، سپریم کورٹ تک پہ چڑھ دوڑے، آجکل پاکستان نہیں آ پا رہے. مشرف پاکستانی تاریخ کے کمانڈو، سپہ سالار حاکم، مگر دبئی میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں. تمام تر ملٹری سپورٹ کے باوجود پاکستان واپس اپنی مٹی پہ آنے سے قاصر و مجبور.
کیا سبق ملا تاریخ سے ہمیں؟ کیا سبق ملا عمران خان صاحب کو تاریخ سے؟
یہ ہتھوڑا جسے اقتدار کہہ لیں یا دیگر اداروں سے مضبوط تعلق کہہ لیں. یہ ہتھوڑا ہمیشہ ہاتھ میں نہیں رہنا. اس کے اثرات بھیانک ہونے ہیں. یہ اپنی معینہ مدت پوری کر کے چلے جانے والے ہیں. عوام اور اداروں نے یہیں رہنا ہے. جو صورت حال اب دکھائی دے رہی ہے وہ عوام اور اداروں کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج پیدا کر رہی ہے. ملک کی ستر فیصد آبادی سنی ہے. جنہیں سڑکوں پر حکومت پوری قوت سے گاڑ رہی ہے، ایک ایسے اشو پر جس پہ بات چیت کے زریعے آرام راستہ نکالا جا سکتا ہے. حاکم نے چلے جانا مگر اس دوری کے اثرات اگلی کئی قیادتوں اور نسلوں تک منتقل ہونے ہیں. کیا حکومتی ادارے یہ طویل اثرات برداشت کر لیں گے؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی سمیت ہر اشو پہ آج کل انگلی پارلیمنٹ کے بجائے پنڈی کی جانب جاتی ہے. ان حالات میں حکومت رینجرز کو انوالو کر چکی ہے، مگر اس کے اثرات کون بھگتے گا؟ حکومت اب فوج کو آگے کھڑا کرنے کی فکر کر رہی ہے. اس اثرات کون بھگتے گا؟ اقتدار آنی جانی چیز ہے، دنیا کی تاریخ اسی بات پہ گواہ ہے مگر حاکموں کے فیصلوں اور ان کے اقتدار کے اثرات ہمیشہ مستقل ہوتے ہیں. ابلیس کی سرکشی کے اثرات آج تک مستقل چلتے آ رہے ہیں. آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب نسلِ آدم آج تک جنت کے بجائے زمین پہ ہی پیدا ہوتی چلی آ رہی ہے. آفٹر ایفیکٹس اتنے ہی بڑے ہوتے ہیں جتنی بڑی شخصیت اور جتنا بڑا عہدہ ہو. جو کچھ ہو رہا ہے اس کے آفٹر ایفیکٹس اور اثرات ہو رہے ہیں اور ابھی مزید ہونے ہیں. عہدوں اور کرسیوں والوں نے تو چلے جانا ہے. ادارے اور محکمے کیا اس طویل اور گہری خلیج کے متحمل ہو سکتے ہیں جو حکومت کے اوور کانفیڈینس کی وجہ سے وجود میں آ چکی ہے؟ یقیناً نہیں.
سنگین علی زادہ
السلام علیکم سنگین بھائی ۔ آپکے وائس نوٹ کے بعد ہی یہاں اکاؤنٹ بنایا ہے ۔ فالو کیجئے ۔ عثمان مرزا
جزاک اللہ بھائی
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
"میرے نبی ﷺ کا ذِکر ہمیشہ بُلند رہے گا" ❤❤❤
موجودہ مہنگائی کی وجہ، کب ختم ہو گی؟ کیسے ختم ہو گی؟
پیپلز پارٹی کے پانچ سالوں میں لیا گیا قرض. پندرہ ارب ڈالر.
یعنی تین ارب ڈالر فی سال.
ن لیگی حکومت میں پانچ سالوں میں لیا گیا کل قرض:
چونتیس ارب ڈالر.
یعنی چھ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر فی سال.
عمران خان کی حکومت کے صرف پہلے تین سالوں میں لیا گیا قرض.
ستائیس ارب ڈالر.
یعنی اوسط نو ارب ڈالر قرضہ ہر سال پی ٹی آئی لیتی رہی. اور پاکستان کی پوری تاریخ میں ایسا موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے نہیں ہوا. اسی رفتار سے غیر ملکی قرضہ حکومت نے آئندہ مزید دو سال لیا تو یہ کل پینتالیس ارب ڈالر بنتا ہے.
واپسی کی شرح دیکھیں تو سالانہ تیرہ اعشاریہ انیس ارب ڈالر کی ریشو سے اب تک انتالیس ارب انسٹھ کروڑ ڈالر واپس کیے ہیں حکومت نے. اس حکومت کے پانچ سال پورے اگر اسی شرح سے قرضہ واپس ہوا تو پینسٹھ ارب پچانوے کروڑ ڈالر بنتے ہیں.
ملک پہ کل قرض اس وقت ایک سو بائیس ارب ڈالر ہے.
یعنی جس رفتار سے مہنگائی ہے اگر اسی حد پہ مہنگائی اگلے آٹھ سال مزید رہے. اور حکومت آئی ایم ایف سے مزید قرضہ بھی نا لے. تو ہم اگلے آٹھ سالوں میں ایک آزاد معیشت ہوں گے.
لیکن اگر حکومت مزید قرضہ لیتی ہے. یعنی پینتالیس ارب ڈالر پورے لیتی ہے پانچ سالوں میں. اور اگلی حکومت بھی قرض اتارنے کےلیے مزید قرض لیتی ہے. تو پھر مہنگائی اگلے آٹھ سالوں تک مسلسل اوپر جاتی رہے گی.
اس میں کچھ معجزے ہیں جو ہو جائیں تو عوام اور پاکستان بچ سکتے ہیں. اور وہ یہ ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان معاشی جنگ کی وجہ سے کسی طرح ڈالر کولیپس کر جائے. جتنی ڈالر کی اب ویلیو ہے وہ اگر گھٹ کے آدھی رہ جائے. یعنی ڈالر ایک سو ستر سے واپس ساٹھ روپے پہ آ جائے تو پاکستان کا قرضہ آنے والے سوا تین سال میں اتر سکتا ہے. مگر بات وہی ہے کہ یہ ایک معجزہ ہو گا.
معجزہ نمبر دو.
آئی ایم ایف کے شراکت دار ممالک خود دیوالیہ ہو جائیں جیسے ماضی میں روس دیوالیہ ہوا. اور ملٹری طور پر اتنے کمزور ہو جائیں کہ دنیا کے معاشی امور میں اپنی رِٹ قائم نہ رکھ سکیں. اس طرح پاکستان سمیت جتنے ممالک ہیں وہ قرض دینے سے انکاری ہو کے قرض کھا جائیں. ایسا کسی عالمی جنگ میں کمزور معیشت والے ملکوں کی فتح ہونے کے زریعے ممکن ہے. لہٰذا یہ بھی معجزہ ہی ہے اگر ہو جائے.
معجزہ نمبر تین.
آیی ایم ایف میں ملکوں کی معاشی پالیسی بنانے والے تمام کنٹری ڈائریکٹرز اور ریجنل ہیڈز کسی کرونا جیسی وبا کے زریعے مر جائیں. اور اس طرح دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرنے والی آئی ایم ایف کی عالمی باڈی ختم ہو جائے. اس کے بعد وہ بینکرز اور ماہرین معاشیات بھی دنیا بھر میں مر جائیں جو اس باڈی کی جگہ لے سکتے ہیں. تو دوسری اور تیسری دنیا کے تمام مقروض ممالک میں سکون آ جائے گا. کیونکہ اس کے بعد آئی ایم ایف میں کوئی ایک بھی دماغ ایسا نہیں رہے گا جو غریب عوام کا خون نچوڑ لینے والی پالیسیاں بنا سکے.
یہ بھی ایک معجزہ ہے اگر ہوا تو. اور آپ جانتے ہیں کہ معجزات آجکل نہیں ہوتے. لہٰذا اگلے آٹھ سال قربانی دینے کےلیے دماغی طور پہ تیار رہیں.
سنگین علی زادہ
#مہنگائی #آئی_ایم_ایف #معیشت #حکومت
Islamic preacher Dr Musa al-Qarni has died in prison after serving 15 years of a 20 year sentence. He was initially imprisoned in 2007 after calling for reform in the Kingdom.
#Saudi #Arabia #KSA
فطرت خطرناک ہونے کے باوجود خوبصورت ہوتی ہے.
Do You Know?
Where Does the Concept of Time Travel Come From?
The dream of traveling through time is both ancient and universal. But where did humanity's fascination with time travel begin, and why is the idea so appealing?
The concept of time travel — moving through time the way we move through three-dimensional space — may in fact be hardwired into our perception of time. Linguists have recognized that we are essentially incapable of talking about temporal matters without referencing spatial ones. "In language — any language — no two domains are more intimately linked than space and time," wrote Israeli linguist Guy Deutscher in his 2005 book "The Unfolding of Language." "Even if we are not always aware of it, we invariably speak of time in terms of space, and this reflects the fact that we think of time in terms of space."
Deutscher reminds us that when we plan to meet a friend "around" lunchtime, we are using a metaphor, since lunchtime doesn't have any physical sides. He similarly points out that time can not literally be "long" or "short" like a stick, nor "pass" like a train, or even go "forward" or "backward" any more than it goes sideways, diagonal or down.
Perhaps because of this connection between space and time, the possibility that time can be experienced in different ways and traveled through has surprisingly early roots. One of the first known examples of time travel appears in the Mahabharata, an ancient Sanskrit epic poem compiled around 400 B.C., Lisa Yaszek, a professor of science fiction studies at the Georgia Institute of Technology in Atlanta, told Live Science
In the Mahabharata is a story about King Kakudmi, who lived millions of years ago and sought a suitable husband for his beautiful and accomplished daughter, Revati. The two travel to the home of the creator god Brahma to ask for advice. But while in Brahma's plane of existence, they must wait as the god listens to a 20-minute song, after which Brahma explains that time moves differently in the heavens than on Earth. It turned out that "27 chatur-yugas" had passed, or more than 116 million years, according to an online summary, and so everyone Kakudmi and Revati had ever known, including family members and potential suitors, was dead. After this shock, the story closes on a somewhat happy ending in that Revati is betrothed to Balarama, twin brother of the deity Krishna.
Time is fleeting
To Yaszek, the tale provides an example of what we now call time dilation, in which different observers measure different lengths of time based on their relative frames of reference, a part of Einstein's theory of relativity.
Such time-slip stories are widespread throughout the world, Yaszek said, citing a Middle Eastern tale from the first century BCE about a Jewish miracle worker who sleeps beneath a newly-planted carob tree and wakes up 70 years later to find it has now matured and borne fruit (carob trees are notorious for how long they take to produce their first harvest). Another instance can be found in an eighth-century Japanese fable about a fisherman named Urashima Tarō who travels to an undersea palace and falls in love with a princess. Tarō finds that, when he returns home, 100 years have passed, according to a translation of the tale published online by the University of South Florida.
In the early-modern era of the 1700 and 1800s, the sleep-story version of time travel grew more popular, Yaszek said. Examples include the classic tale of Rip Van Winkle, as well as books like Edward Belamy's utopian 1888 novel "Looking Backwards," in which a man wakes up in the year 2000, and the H.G. Wells 1899 novel "The Sleeper Awakes," about a man who slumbers for centuries and wakes to a completely transformed London.
In other stories from this period, people also start to be able to move backward in time. In Mark Twain’s 1889 satire "A Connecticut Yankee in King Arthur's Court," a blow to the head propels an engineer back to the reign of the legendary British monarch. Objects that can send someone through time begin to appear as well, mainly clocks, such as in Edward Page Mitchell's 1881 story "The Clock that Went Backwards" or Lewis Carrol's 1889 children's fantasy "Sylvie and Bruno," where the characters possess a watch that is a type of time machine.
The explosion of such stories during this era might come from the fact that people were "beginning to standardize time, and orient themselves to clocks more frequently," Yaszek said.
Time after time
Wells provided one of the most enduring time-travel plots in his 1895 novella "The Time Machine," which included the innovation of a craft that can move forward and backward through long spans of time. "This is when we’re getting steam engines and trains and the first automobiles," Yaszek said. "I think it’s no surprise that Wells suddenly thinks: 'Hey, maybe we can use a vehicle to travel through time.'"
Because it is such a rich visual icon, many beloved time-travel stories written after this have included a striking time machine, Yaszek said, referencing The Doctor's blue police box — the TARDIS — in the long-running BBC series "Doctor Who," and "Back to the Future"'s silver luxury speedster, the DeLorean.
More recently, time travel has been used to examine our relationship with the past, Yaszek said, in particular in pieces written by women and people of color. Octavia Butler's 1979 novel "Kindred" about a modern woman who visits her pre-Civil-War ancestors is "a marvelous story that really asks us to rethink black and white relations through history," she said. And a contemporary web series called "Send Me" involves an African-American psychic who can guide people back to antebellum times and witness slavery.
"I'm really excited about stories like that," Yaszek said. "They help us re-see history from new perspectives."
Time travel has found a home in a wide variety of genres and media, including comedies such as "Groundhog Day" and "Bill and Ted's Excellent Adventure" as well as video games like Nintendo's "The Legend of Zelda: Majora's Mask" and the indie game "Braid."
Yaszek suggested that this malleability and ubiquity speaks to time travel tales' ability to offer an escape from our normal reality. "They let us imagine that we can break free from the grip of linear time," she said. "And somehow get a new perspective on the human experience, either our own or humanity as a whole, and I think that feels so exciting to us."
That modern people are often drawn to time-machine stories in particular might reflect the fact that we live in a technological world, she added. Yet time travel's appeal certainly has deeper roots, interwoven into the very fabric of our language and appearing in some of our earliest imaginings.
"I think it's a way to make sense of the otherwise intangible and inexplicable, because it's hard to grasp time," Yaszek said. "But this is one of the final frontiers, the frontier of time, of life and death. And we're all moving forward, we're all traveling through time."
میں ساری دنیا کے حسینوں کا حُسن تمہارے حُسن کے سامنے یتیم سمجھتا ہوں. حسن اگر دولت ہے تو خدا کی قسم کی قسم دنیا بھر کے حسین چہرے تمہارے ایک ابرو کے سامنے کنگال ہیں
تین بین الاقوامی سربراہ
اپنی دیانت داری سے بتائیں اس وقت پوری اسلامی دنیا میں سوائے مہاتیر محمد، رجب طیب ایردوان اور عمران خان کے اور کوئی لیڈر ہے جو بھارت سے یوں بات کرے جیسے بات کرنے کا حق ہے؟
ایران اپنے داخلی مسائل میں اس قدر الجھا ہے کہ اس سے توقع نہیں کی جا سکتی. نیز روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات کی وجہ سے ایران بھارت کے خلاف نہیں جائے گا.
سعودیہ میں شاہ سلیمان ہے اس کا کردار آپ سب کے سامنے ہے. بھارت سے کھربوں روپے کے معاہدے ہیں. پاک بھارت جنگ کی صورت میں سعودی سرمایہ کاری ڈوبتی ہے. یہ پاکستان کےلیے ایک بہت بڑا ایڈوانٹیج ہے اگر سعودی عرب اپنی سرمایہ کاری کو بھارت پہ دباؤ کےلیے استعمال کرے. لیکن اس کے برعکس ہوا. اور الٹا بھارت سعودیہ کو بتا رہا ہے کہ پاکستان سے جنگ کی صورت میں سعودیہ کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی. اس کے نتیجے میں سعودیہ پاکستان کو بھارت کے معاملے میں احتیاط کی تلقین کر رہا ہے.
امریکہ بھارت کے خلاف پاکستان کی مدد اس لیے نہیں کرے گا اسرائیل امریکہ کو ایسا نہیں کرنے دے گا. اور اسرائیل خود بھارت کا بہت اچھا دوست ہے. نیز اسرائیل پاکستان کو اپنے لئے ایک خطرے کے طور پر دیکھتا ہے اور بھارت کے زریعے پاکستان کو راستے سے ہٹانا چاہتا ہے. لہٰذا وہ امریکہ کو پاکستان کےلیے کچھ بھی نہیں کرنے دے گا.
چین ہمارا دیرینہ دوست اور اچھے برے ہر طرح کے ماحول میں بہترین ساتھی ہے. فی الحال وہ بھی پاک بھارت جنگ نہیں چاہتا اس لیے کہ پاکستان میں چین نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے. پاک بھارت جنگ کی صورت میں چین کو براہ راست اربوں روپے کا جھٹکا لگے گا، لہذا سرِدست چین بھی جنگ سے بچاؤ چاہتا ہے.
یمن، لیبیا، عراق، شام وغیرہ داخلی انتشار کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں کہ کوئی کردار ادا کر سکیں. سوڈان، بحرین، لبنان، عمان، انڈونیشیا وغیرہ کی داخلی سیاست ایسی نہیں کہ پاک بھارت جنگ میں دلچسپی لیں. دبئی ویسے ایک عیاش ریاست بن چکی ہے. اس وقت دبئی اسلامی دنیا کا لاس اینجلس ہے. سیاحت کی آڑ میں شراب، جوا اور زنا کمائی کا مرکزی زریعہ ہیں.
بچتا کون ہے پیچھے ایسا جو ایسی خصوصیات پہ پورا اترتا ہو کہ:
عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے.
قیادت کا صرف جذبہ ہی نا ہو بلکہ قیادت کی مکمل صلاحیت بھی ہو.
مرعوب ہونے والا یا ڈرپوک نا ہو. اور سب سے بڑھ کر بکنے والے نا ہو.
مہاتیر، ایردوان اور عمران تینوں نیچے سے اٹھ کر اوپر جانے والے لیڈر ہیں. اور مجھے تینوں میں یہ خوبیاں دکھائی دیتی ہیں.
فی الحقیقت شاہ فیصل کی *شہا*د*ت* کے بعد اسلامی دنیا میں ایک دفعہ پھر امتِ مسلمہ کی سطح پر اجتماعی سوچ اجاگر کرنے میں ان تین بندوں کا کردار ہے. بین الاقوامی برادری میں مسلمانوں کو اجتماعی طور پر زیرِ بحث لانے کی رسم ان تینوں نے تازہ کی ہے.
میرا یقین ہے کہ جس طرح سعودیہ کے شاہ سلیمان نے پاکستان کو عین
موقع پر ہاتھ کرایا ہے اس طرح یہ دونوں نوسربازی نہیں کریں گے. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سعودیہ کی اس حرکت کے بعد پاکستان میں سعودی سفارت خانہ سعودیہ کو ایک ہنگامی مراسلہ جاری کرتا. جس کا متن یہ ہوتا ہے سعودیہ کی اس حرکت پر پاکستانی عوام آل سعود کے حوالے سے سخت ناراضگی اور کسی حد مایوسی کا شکار ہیں. اس کے نتیجے میں سعودی حکومت بھی اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پہ مجبور ہوتی. مگر ہوا وہی جو حسبِ معمول ہوتا ہے. اور حسبِ معمول کیا ہوتا ہے، یہ آپ سبھی جانتے ہیں.
سنگین علی زادہ.
"کیا کہوں، تخیل میں آنکھوں کی کوئی صورت مستقل ہے ہی نہیں. میں کیا کروں کہ شام کو جو آنکھیں ستاروں کی مانند روشن اور شبنم کے جیسی شفاف دکھتی ہیں، رات تک وہی آنکھیں دھڑا دھڑ جل رہی ہوتی ہیں. عین ممکن ہے کہ لمحہ قبل جو آنکھیں مجھے خواب بکھیرتی دکھائی دیں لمحہ بعد ان میں دھول اڑ رہی ہو."
سنگین علی زادہ
Updates to Tumblr’s Community Guidelines
Today we announced some big updates to our Community Guidelines and what kind of content is permitted on Tumblr. Adult content will no longer be allowed here. While we do not judge anyone for their desire to post, engage with, or view this stuff, it is time for us to change our relationship with it.
We expect you may have some questions on how this will affect you, and we’re here to make sure those questions get answered.
When does the new policy take effect?
Our new Community Guidelines will go into effect on December 17, 2018.
Newly uploaded content flagged as adult will no longer be allowed on Tumblr. We’ll also begin flagging and removing existing adult content with the ultimate goal of removing as much of it as we can.
What is considered adult content?
Adult content primarily includes photos, videos, or GIFs that show real-life human genitals or female-presenting nipples, and any content—including photos, videos, GIFs and illustrations—that depicts sex acts.
What is still permitted?
Examples of exceptions that are still permitted are exposed female-presenting nipples in connection with breastfeeding, birth or after-birth moments, and health-related situations, such as post-mastectomy or gender confirmation surgery. Written content such as erotica, nudity related to political or newsworthy speech, and nudity found in art, such as sculptures and illustrations, are also stuff that can be freely posted on Tumblr.
Keep reading
A better, more positive Tumblr
Since its founding in 2007, Tumblr has always been a place for wide open, creative self-expression at the heart of community and culture. To borrow from our founder David Karp, we’re proud to have inspired a generation of artists, writers, creators, curators, and crusaders to redefine our culture and to help empower individuality.
Over the past several months, and inspired by our storied past, we’ve given serious thought to who we want to be to our community moving forward and have been hard at work laying the foundation for a better Tumblr. We’ve realized that in order to continue to fulfill our promise and place in culture, especially as it evolves, we must change. Some of that change began with fostering more constructive dialogue among our community members. Today, we’re taking another step by no longer allowing adult content, including explicit sexual content and nudity (with some exceptions).
Let’s first be unequivocal about something that should not be confused with today’s policy change: posting anything that is harmful to minors, including child pornography, is abhorrent and has no place in our community. We’ve always had and always will have a zero tolerance policy for this type of content. To this end, we continuously invest in the enforcement of this policy, including industry-standard machine monitoring, a growing team of human moderators, and user tools that make it easy to report abuse. We also closely partner with the National Center for Missing and Exploited Children and the Internet Watch Foundation, two invaluable organizations at the forefront of protecting our children from abuse, and through these partnerships we report violations of this policy to law enforcement authorities. We can never prevent all bad actors from attempting to abuse our platform, but we make it our highest priority to keep the community as safe as possible.
So what is changing?
Posts that contain adult content will no longer be allowed on Tumblr, and we’ve updated our Community Guidelines to reflect this policy change. We recognize Tumblr is also a place to speak freely about topics like art, sex positivity, your relationships, your sexuality, and your personal journey. We want to make sure that we continue to foster this type of diversity of expression in the community, so our new policy strives to strike a balance.
Why are we doing this?
It is our continued, humble aspiration that Tumblr be a safe place for creative expression, self-discovery, and a deep sense of community. As Tumblr continues to grow and evolve, and our understanding of our impact on our world becomes clearer, we have a responsibility to consider that impact across different age groups, demographics, cultures, and mindsets. We spent considerable time weighing the pros and cons of expression in the community that includes adult content. In doing so, it became clear that without this content we have the opportunity to create a place where more people feel comfortable expressing themselves.
Bottom line: There are no shortage of sites on the internet that feature adult content. We will leave it to them and focus our efforts on creating the most welcoming environment possible for our community.
So what’s next?
Starting December 17, 2018, we will begin enforcing this new policy. Community members with content that is no longer permitted on Tumblr will get a heads up from us in advance and steps they can take to appeal or preserve their content outside the community if they so choose. All changes won’t happen overnight as something of this complexity takes time.
Another thing, filtering this type of content versus say, a political protest with nudity or the statue of David, is not simple at scale. We’re relying on automated tools to identify adult content and humans to help train and keep our systems in check. We know there will be mistakes, but we’ve done our best to create and enforce a policy that acknowledges the breadth of expression we see in the community.
Most importantly, we’re going to be as transparent as possible with you about the decisions we’re making and resources available to you, including more detailed information, product enhancements, and more content moderators to interface directly with the community and content.
Like you, we love Tumblr and what it’s come to mean for millions of people around the world. Our actions are out of love and hope for our community. We won’t always get this right, especially in the beginning, but we are determined to make your experience a positive one.
Jeff D’Onofrio CEO
امریکہ و بھارت کا مشترکہ خونی کھیل
چند دن قبل داعش کا ایک دہشت گرد افغان طالبان کے ہاتھ لگ گیا جس نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں ان کی تربیت امریکہ خود کر رہا ہے۔ یہ انکشاف کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے بلکہ جب شام میں داعش چرچے ہو رہے تھے اس وقت عالمی حلقوں میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ امریکہ شام میں داعش کی پرورش کر رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی داعش کے متعلق یہی انکشاف کیا تھا کہ افغانستان میں فوجی اڈے داعش استعمال کرتی رہی ہے۔ امریکہ افغان طالبان کو دہشت گرد کہتا ہے تو داعش کو کیوں اتنی چھوٹ دے رہا ہے؟
اس سوال کا جواب جاننے کےلیے ہمیں 2016 میں جانا پڑے گا جب بھارتی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے چیف اجیت ڈوول نے عراق کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ اس دورہ کے بعد اچانک سے ہی افغانستان میں داعش فعال ہو گئی۔ افغانستان میں داعش کا فعال ہونا کئی لحاظ سے بھارت اور امریکہ دونوں کے بیک وقت فائدہ مند تھا لہٰذا یہاں پہ داعش کو طریقے سے منظم کیا گیا۔ امریکہ کےلیے یہ فائدہ تھا کہ جہاد کے نام پر داعش کو یہاں منظم کیا جائے تا کہ افغان طالبان کے لوگ ٹوٹ کر داعش میں شامل ہوں اور وہی داعش پھر افغان طالبان سے لڑ پڑے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغان طالبان جب بھی اقتدار میں آئے وہ بھارت کو افغانتان سے مار بھگائیں گے۔ اور بھارت جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کےلیے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے، وہ افغانستان سے محروم ہو جائے گا۔ یہ صورتحال نہ تو امریکہ کےلیے قابلِ قبول ہے اور نا ہی بھارت کےلیے۔ لہٰذا افغان طالبان کے توڑ کےلیے بھارت اور امریکہ نے مشترکہ طور پر افغانستان میں داعش کو مضبوط کیا۔ امریکہ اس میں کامیاب تو ہوا لیکن بہت کم حد تک۔
اسی طرح بھارت کا یہ مفاد ہے کہ بھارت میں جہاد کے شوقین مسلمانوں کو داعش میں کھپا دیا جائے۔ اب تک سینکڑوں بھارتی افغانستان آ کر داعش میں شامل ہوچکے ہیں۔ جس کا اعتراف بھارتی میڈیا بھی کرتا ہے۔ بھارت کا منصوبہ یہ ہے کہ یہاں ان دہشت گردوں کو تیار کر کے کشمیر میں جہاد کے نام پر چھوڑ دیا جائے گا۔ پھر جس طرح داعش افغانستان میں افغان طالبان سے لڑتی رہی بالکل اسی طرح یہ کشمیر جا کر مجاہدین سے لڑ پڑے گی۔ یوں جہاد کے نام پر یہ داعشی خوارج ایک تو مجاہدین کو قتل کریں گے دوسرا ان کے ساتھ لڑنے والے لوگوں کو توڑ کر اپنے ساتھ شامل کریں گے۔ اور یوں کشمیر کے جہاد کا ایک اہم چیپٹر کلوز ہو جائے گا۔ اللہ اپنی تدبیریں کرتا ہے ضروری نہیں کہ ایسا ہو لیکن بھارت بالکل یہی سوچ رہا ہے۔ افغانستان میں مضبوط داعش اس لحاظ سے بھی بھارت کے حق میں ہے کہ بھارت ان خوارج کے زریعے پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نواز افغان حکومت، امریکہ اور خود بھارت کو اس وقت بہت تکلیف ہو رہی تھی جب پاکستان پاک افغان بارڈر پہ باڑ لگا رہا تھا۔
اگر آپ کو اجیت ڈوول کی وہ ویڈیو یاد ہو تو اس نے بڑے واضح اور اعلانیہ انداز میں یہ کہا تھا کہ اب بھارت کوٹلہ چانیکہ کے فارمولے پہ عمل کرتے ہوئے کانٹے سے کانٹا نکالے گا۔ یعنی جہاد کو نقلی جہاد سے ختم کرے گا۔ بھارت اب اپنی اس پالیسی پر پورے اعلانیہ طریقے سے عمل درآمد کر رہا ہے اور امریکہ اس سلسلے میں بھارت کی مکمل مدد بھی کر رہا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے اس مشترکہ خوفناک منصوبے کو دیکھ کر ایران جیسا ملک جو کبھی افغان طالبان کے شدید خلاف تھا اب افغان طالبان سے ہاتھ ملا چکا ہے۔ دوسری جانب روس جو افغان طالبان سے طویل عرصہ حالتِ جنگ میں رہا، اب وہ بھی افغان طالبان دوستی کر چکا ہے۔ کیوں کہ امریکہ و بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتی داعش پاکستان سمیت ایران، روس اور چائنہ کےلیے مشترکہ طور پر خطرناک ہے۔ خطے کا ہر ملک امریکہ و بھارت کے اس خونی کھیل سے بچاؤ کےلیے اپنے طور پر اقدامات کر رہا ہے جب کہ دوسری جانب پاکستان میں حکومت چین کی نیند سوئی ہوئی ہے۔ سابقہ حکومتوں کی ساری توجہ اپنی کرپشن چھپانے اور لوٹی ہوئی دولت بچانے پہ مرکوز ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ قومی سلامتی کے اداروں پہ کیچڑ اچھال کر ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے جا رہے ہیں۔ بروقت اگر داعش کو افغانستان میں روکنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو یاد رکھیں کہ امریکہ و بھارت کا مشترکہ ہتھیار جلد ہی پاکستان کے کونے کونے میں استعمال ہو رہا ہو گا۔ لال مسجد کا مولوی عبدالعزیز پہلے ہی داعش کی بیت کر چکا ہے جب کہ بلوچستان میں جند اللہ کو فعال کرنے کےلیے بھارت پھر سے کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کو بروقت اقدامات کرنا ہوں گے وگرنہ بہت جلد پانی سر سے اونچا ہونے جا رہا ہے۔
سنگین علی زادہ
کے قلم سے۔
False Flag attacks Of Bombay