سنو رے میری سکھی، ایک بات کہوں تم کو،
دیوار کے اِس پار، کل رات خوابوں کا قتل ہوا،
دیوار کے اُس پار بھی خیالوں کی تدفین ہوئی۔
سنا ہے، کوئی جنگ ہوئی ہے دونوں طرف—
آنکھوں میں دھواں اُترا ہے ، دل پر پرچھائیاں
چھائی ہیں کہنے کو تو خاموشی ہے.
مگر صدیوں کی صدا آئی ہے، گونجتی ہوئی۔
جیسے شور کی آواز ہو، افراتفری ہر سمت،
چیخوں کی بازگشت ہو ، لاشیں بچھیں،
دھرتی کو کوکھ بابجھ ہوگئی ہو جیسے،
سوگ و ماتم کا عالم ہو ہر سُو۔
دیوار کے دونوں جانب بکھرے سپنے،
سہمے ہوئے سارے جذبے، ٹوٹے رشتے،
اور چہروں پر کئے خون کے دھبے۔
لگتا ہے، ہر کوئی پیاسا ہے خون کا،
یہ دیواریں صرف اینٹوں کی نہیں،
یہ سرحدیں فقط نکیلی تاروں کی نہیں،
یہ دیواریں ہمارے بیچ اُٹھی ہیں
ہم فاقہ زدہ، بھوک و افلاس کے مارے لوگ،
ہماری جنگ تو صدیوں سے اشرافیہ سے تھی
پھر ہم تم یے جنگ کیوں لڑ رہے ہیں؟
کیا امن سے؟ بھائی چارے سے؟ محبت سے؟
چلو، ہم تم آج یہ دیوار گرادیں،
اپنے خوابوں کو پھر سے سجا دیں،
خاموش خیالوں کو آواز دیں،
نسلوں کی تباہی کا سبب دیوار بنانے والوں سے لیں،
مقتل گاہوں میں پڑی لاشون کا قاتل ان کو ٹھرائیں۔
محبت کی روشنی میں نئے سپنے سجائیں،
میں اور تم، مل کر امن کا پرچم لہرائیں،
آؤ آج ہم نظمیں ساحر کی پھر سے گنگنائیں
کہ جنگ، خود ہی ایک مسئلہ ہے،
جنگ کیا مسئلوں کا حل دی گی؟
-Picture taken from the bombaywalla's account.
#rekhtashayari #urdushayari