درد وفاء میرا پہلا ناول کتابی شکل میں چھپ چکا ہے. بہت اچھا لگ رہا ہے اپنی سرگوشیوں کو ان کاغذوں پر چیختے چلاتے. سب سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ میرے قلم کے اس سفر میں اللہ ڈھیڑوں برکتیں اور خیر رکھ دے.
دردِ وفاء۔۔۔میرا پہلا ناول
Misplaced Lens Cap
No title available

★

oozey mess
One Nice Bug Per Day

Kiana Khansmith
Stranger Things

Origami Around
AnasAbdin

ellievsbear
YOU ARE THE REASON
trying on a metaphor
Aqua Utopia|海の底で記憶を紡ぐ

Andulka
I'd rather be in outer space 🛸
hello vonnie

Discoholic 🪩

❣ Chile in a Photography ❣
almost home

Janaina Medeiros
seen from United States

seen from France

seen from Brazil
seen from Peru

seen from Germany
seen from Costa Rica

seen from Canada

seen from Malaysia
seen from United States

seen from Canada
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from Germany
seen from Germany

seen from Mexico

seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from Malaysia
@twit-blog
درد وفاء میرا پہلا ناول کتابی شکل میں چھپ چکا ہے. بہت اچھا لگ رہا ہے اپنی سرگوشیوں کو ان کاغذوں پر چیختے چلاتے. سب سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ میرے قلم کے اس سفر میں اللہ ڈھیڑوں برکتیں اور خیر رکھ دے.
دردِ وفاء۔۔۔میرا پہلا ناول
شادیوں پروہ ’’خاص‘‘ لوگ
*First posted on Express News.
کبھی کبھی میں آج کل کی شادی بیاہ کی تقریبات پر ہونے والے نت نئے فیشن ٹرینڈز کی بھرمار دیکھ کر حیران ہوجاتی ہوں۔ آج کل جب تک کوئی فوٹو گرافر نہ ہو تب تک لوگوں کی شادیاں نامکمل سمجھی جانے لگ گئی ہیں۔ ان میں ایک نیا شوشا ویڈنگ فوٹوگرافی (Wedding Photography) کے بڑھتے ہوئے دام بھی ہیں، جب مجھے اِس نئے رجحان پر خرچ ہونے والی قیمت کے بارے میں معلوم چلا تو اتنے اونچے ریٹ…
View On WordPress
رشتے کیسے نبھائے جائیں؟
*First posted on Express News.
ایسے لوگ جن کا ظاہر و باطن ایک ہو، جن کے لفظوں میں بناوٹ یا جھوٹ کی ملاوٹیں نہ ہوں، جن کے دل زہر کے حصار سے کالے نہ ہوں، جن کے ظرف ایسی اونچی اُڑان پر نہ ہو کہ وہ کسی کو نیچے گرانے کا سوچیں، جن کی صحبت ایسی نایاب ہو کہ ہر لمحہ کچھ بانٹ رہے ہوں، جو خالص، صاف و شفاف، اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا بھرم رکھے انمول انسانوں کی صورت میں ہو، ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں تقریباً…
View On WordPress
عورت پیر کی جوتی نہیں *First posted on Express News. عورت کے احساسات و جذبات بہت نازک اور انمول ہوتے ہیں اور اِس سے بڑھ کر وہ عزت کی حریص ہوتی ہے۔ محل میں رہنے والی امیر عورت کو بھی اگر کوٹھڑی نما گھر میں عزت دے دی جائے تو یہ مخلوق اتنی قدر دان ہے کہ ہر مشکل میں ساتھ نبھانے کی بھرپور کوشش کرتی ہے، لیکن جب اِسے عزت کی گُھٹی ملنا بند ہوجائے تو وہ اِن شاندار محلوں میں بھی خود کو قید کی ہوئی ایک لونڈی کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتی۔ یہ مرد کو ہمیشہ سمجھنا چاہیئے کہ اِس سے منسلک عورت کو صرف شاندار گھر، سجنے سنورنے کے لیے بہترین لباس یا پیسہ ہی نہیں چاہیئے ہوتا بلکہ اِن سب سے بڑھ کر اور اہم اِس کے لیے اپنے شوہر سے ملنے والا پیار اور عزت ہوتی ہے، جبکہ اُس کو بے بس کرنے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ اُس کا شوہر اُس کی تذلیل کرتا پھرے۔ بیوی بننا عورت کے لیے بہت عظیم اور اہم رشتوں میں سے ایک رشتہ ہوتا ہے اور ہر عورت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی جگہ اُس کے شوہر کے دل میں بہت خاص ہو۔ جس عورت کو مرد کی طرف سے پیار کے ساتھ ساتھ توجہ اور عزت بھی مل رہی ہو تو اُس کی ذات میں خود اعتمادی، اپنے فیصلوں پر یقین اور اُس کی ذات میں بے پناہ اطمینان دیکھنے کو ملتا ہے لیکن جب یہی مرد اِس عورت کی پاؤں میں پڑی جوتی کہہ کر تذلیل کرے اور اپنے ہر عمل سے اِس بات کو ثابت کرنے کے در پر بھی ہو تو ایسی عورتوں کی ذات میں بے پناہ احساس کمتری، خوف اور ہیجان کی سی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ میں نے بہت سے ایسے پاکستانی مرد دیکھے ہیں جو بھری محفل میں اپنی عورت کو ذلیل کرکے رکھ دیتے ہیں اور اُن مردوں کا ایسا برتاؤ کسی صورت اللہ کو پسند نہیں، کیونکہ وہ اللہ کی بنائی مخلوق کی عزت و تکریم کے بجائے اِس کو محض اپنی پیروں کی جوتی سے تشبہہ دینا پسند کرتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں عورت کے احساسات آبگینہ کی مانند نازک ہیں جو ذرا سی ٹھیس پر بکھر جاتے ہیں۔ کانچ سے بنی اشیاء کو نازک ہونے کی وجہ سے بہت احتیاط سے رکھا جاتا کہ کہیں ذرا سی بے احتیاطی سے ٹوٹ کر کرچی کرچی نہ ہوجائے اور اِس لیے آئینہ سے تشبیہ دے کر صنف نازک کا یہی خواص باور کروایا جاتا ہے کہ اِس کے ساتھ بھی احتیاط کا رویہ رکھا جائے۔ یہاں تک کہ نبیﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں بھی مردوں کو خاص تاکید کی کہ، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت کے ساتھ مردوں کا رویہ اسلام اور ہماری خود ساختہ روایات کا ملاپ بن کر رہ گیا ہے۔ اِس مخلوق پر جوتی کا لیبل تو مردانگی کے زعم میں جمادیا جاتا ہے لیکن اُس کیلئے کانچ جیسی تشبہات کو معاشرہ فراموش کردیتا ہے۔ اسلام جس نے آج سے 14 سو سال پہلےعورتوں کے لیے مردوں کے رویے کو جس انداز میں بدلا تھا، وہ بدقسمتی سے آج تک ہمارے معاشرے میں غالب نہ آسکا۔ صنف قوی کی اصل مردانگی اُن کی تربیت اور رویے میں جھلکنی چاہئیے جہاں وہ ہمیشہ عورت کی عزت و تکریم کو سب سے مقدم رکھیں اور اپنی اسی تربیت کے پیش نظر ’’پیر کی جوتی‘‘ جیسی فرسودہ اور گھٹیا سوچ کو رد کریں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مدیحی عدن
مفلوج عبداللہ کی تین خواہشات۔۔ زندگی میں جب کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو انسان ہر چیز کا کریڈٹ اپنی محنت ، لگن کو دیتا ہے کہ میں نے فلاں کام میں دن رات ایک کر دی ، آج جو مال دولت ہے وہ میری دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس کے برعکس جیسے ہی کوئی آزمائش آئی سارے الزامات کا ذمہ دار حالات اور اللہ کو ٹھرا دیا جاتا ہے۔دنیا میں آئے دن لوگ کئی طرح کی مصیبتوں سے دو چار ہوتے ہیں۔ اور اکثر ان آزمائشوں میں ایک شکوہ ضرور کیا جاتا ہے کہ اللہ نے میرے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا۔۔۔ مجھ ہی پہ یہ مصیبت کیوں آئی۔۔۔ کچھ ایسی ہی آزمائش عبداللہ نامی تیس سالہ ایک نوجوان پہ بھی گزشتہ کئی برسوں سے آئی ہوئی ہے۔ عبداللہ اٹھارہ سال کا تھا جب وہ دوران سوئمنگ ڈوب گیا اور آدھے گھنٹے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہا ، پھر اسکو بچا لیا گیا، لیکن اسکا سارا جسم مفلوج ہو گیا ۔ Three wishes of a paralyzed man ویڈیو یوٹیوب پہ کافی مشہور ہے، جوعبداللہ ہی کے بارے میں ہے جس میں ان سے ایک انٹرویو لیا گیا ۔ اور انٹرویو میں ان سے انکی پہلی زندگی کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کس چیز کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہیں اور وہ کیا تین شدید خواہش کرتے ہیں کہ اگر انکے پاس اس وقت تندرست و توانا بدن ہوتا تو وہ کیا فائدہ اٹھاتے ۔ ہم سب کے خیال میں وہ کیا کمیاں ہوسکتیں ہیں ایک مفلوج انسان کی زندگی میں سوائے اس کے وہ اس قابل ہو جائے کہ دوبارہ سے چلنا شروع کر دیں ، یا پھراس قابل ہو جائے کہ اپنے ہاتھوں سےدوبارہ کھانا کھا سکے، یا پھر اس قابل ہو جائے کہ دوبارہ سے کام کریں اور خوب پیسہ بنائے۔۔ لیکن عبداللہ تو کوئی اور ہی کمیوں کو پور ا کرنا چا ہ رہا تھا ۔ عبداللہ نے جواب دیا کہ ماضی کی تین چیزیں ہیں جن کی وہ سب سے زیادہ کمی محسوس کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ “پہلی خواہش جسکی میں بہت کمی محسوس کرتا ہوں وہ میرا بدن ہے ،ماضی کی اٹھارہ سالہ تندرست بدن کے ساتھ میں نے ایک بار بھی زمین پہ اللہ کے حضور سجدہ نہیں کیا۔ میری خواہش ہے کہ میں زمین پہ سر رکھ کے اللہ کے حضور سجدہ کروں ،ایسا سجدہ کہ جس سے میں کبھی نہ اٹھوں کیونکہ مجھے احساس ہوا ہے کہ کتنی زیادہ نعمتیں اللہ نے انسانوں کو عطا کی ہے۔ لیکن جب آپ اپنی غفلت کی زندگی میں ڈوبے ہوتے ہوں تو اپنے رب کی سب نعمتیں بھول جاتے ہوں ۔ لوگ میری ابھی کی حالات کو المیہ سمجھتے ہیں ، حالانکہ اس سے بڑا المیہ یہ تھا کہ میرا بدن تندرست تھا لیکن نمازو سجدے کی عبادت سے غافل تھا۔ اس نے مزید کہا کہ قرآن کی ایک آیت ہے جس میں دیدار خدا تعالی کا ذکر ہے اور خوشخبری ہے کہ سب مومن سجدے میں گر جائے گئے اور ساتھ ہی یہ تنبیہی بھی ہے کہ کچھ لوگ سجدہ نہیں کر سکیں گئے۔ مجھے ڈرہے کہ میں ان انسانوں میں سے نہ ہوں جو سجدہ نہ کر سکیں گئے۔ میری دوسری کمی اپنے بازو اور ہاتھوں کو اٹھانے کی ہے اور خواہش ہے کہ اپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھاؤں اور قرآن پاک کے ورقوں کو اپنے ہاتھوں سے پلٹوں ، لیکن یہ سب اب میرے لیے ایک پہاڑ سر کرنے کے برابر ہے ۔ میری تیسری خواہش جسکی کمی مجھے بہت محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی اسلامک تہورا عید ہو یا کوئی اور خوشی کا موقع اور میں اپنی ماں کے گلے لگا سکوں۔ ” ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ اب آپ اپنی زندگی کو لے کے کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ عبداللہ نے کہا کہ میں نے اس روئے زمین پر اپنی بیماری سے ایسا سبق سیکھا ہے جو کوئی نہیں جان سکتا۔اور میں شکر گزارہوں اللہ کی نعمتوں پہ۔ عبداللہ کی خواہشات کافی حیران کن تھی،ایک بندہ جو مفلوجی کی زندگی بسر کر رہا ہوں اسکی خواہشات دنیا کو لے کے اسے مکمل بنانے کی نہیں بلکہ ایک سجدے، قرآن اور ماں کے گلے لگنے کی تھی۔ نہ ہی کوئی شکوے اور مایوسیوں کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا تھا کہ اللہ نے میرے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا جب کہ میں ایک خوشگوار اور مکمل زندگی بسر کررہا تھا اور آج مجھے کچھ بھی کرنے کے قابل نہ چھوڑا۔۔حالانکہ ایسے حالات میں بہت سے ایسے شکوے بنتے ہیں۔ اپنے رب کے ساتھ۔ انسانوں کا ایک عام رویہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب تک انسان کی زندگی خوشگوار گزررہی ہوتی ہے تو اسے اپنے اردگرد لوگوں کےدکھ اور پریشانیاں نظر نہیں آتیں یا پھر وہ انکی گہرائیوں کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اور جیسے ہی حالات نے زرا سا پلٹا کھایا اور اس پہ مشکل اور کٹھن وقت آیا ، فور اً اسکو اپنے ساتھ ساتھ پوری دینا میں ہونے والے ظلم و ستم ، زیادتیاں بھی نظر آنے لگ جاتیں ہیں ۔ اور وہ اپنی ناکامیوں کو اللہ یا حالات کے ذمہ لگا کہ خود کو بری الذمہ قرار دیتا نظر آتا ہے اور اللہ سے کئی شکوے اور شکایتیں کرتا ہے کہ اللہ نے اسکے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا۔۔؟ لیکن جب یہی انسان زندگی کےدن عیش و آرام سے بسر کر رہا ہوتا ہے اور اسکے اردگرد کے لوگ تنگدستی کے ساتھ زندگی کے ایام گزار رہے ہوتے ہیں، تب یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ اللہ نے ان لوگوں کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کیا؟ عبداللہ کی کہانی اس سے قدرے مختلف ہے ، جو کٹھن اور مشکل حالات میں بھی زندگی کو ایک اور طریقے سے دیکھتا ہے۔وہ شکوے اور شکایتوں کے انبار اکھٹے کرنے کی بجائے زندگی کو آگے لے کے جانے کی جدوجہد میں مصروف ہے اور آجکل پوری دنیا میں دین اسلام کی دعوت کا کام سرانجام دے رہا ہے۔ وہ اس بیماری کو حکمت جانتا ہے جو سبب بنی اسے اللہ کے قریب لانے میں۔ عبداللہ کے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران ایک ماں کی کال آئی اور اس نے رو کہ سوال کیا کہ عبداللہ ان ماؤں کا کیا ہو جن کہ بچے تو صحت مند ہیں لیکن وہ ماں کو گلے لگانے کے لیے تیار نہیں۔۔؟؟ زندگی گزارنے کا ایک فارمولا رسول اللہ ؐ نے بتا یا کہ اپنے سےکمتر لوگوں کو دیکھو ۔اپنے سے کمتر کے پاس جب وہ کچھ نہیں ہوتا جو ہمارے پاس ہے تو بہت سی چیزوں کی قدر آجاتی ہے اورفطرت میں قناعت پسندی کی روش پیدا ہوتی ہے۔ اور اگر اپنا موازنہ اپنے سے برتر سے کیا جائے تو سوائے حسرتوں اور مایوسیوں کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اپنی آزمائشوں کا موازنہ عبداللہ کی اٹھارہ سالہ مفلوج زندگی سےضرور کریں، بجائے اس سوال کو جنم دینے کے کہ اللہ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا، اس چیز کا شکر ادا کریں کہ اللہ کی ذات بہت کچھ اور بھی کرنے پہ قادر تھی، لیکن کرم کیا۔ اپنی آزمائشوں اور مصیبتوں میں عبداللہ بننا سیکھیں ، کیونکہ آپ کی مصیبت کتنی بھی بڑی اور کٹھم کیوں نہ ہو، کم از کم عبداللہ جیسی نہیں ہو سکتیں۔ - - - - - - - - - - مدیحی عدن
توجہ ہر عورت کو اچھی لگتی ہے ڈرامے کے ڈائیلاگ “توجہ ہر عورت کو اچھی لگتی ہے” میں مجھے بہت حد تک حقیقت نظر آئی، بحثیت عورت میں نے بھی اپنے اندر اس چیز کو کئی بار محسوس کیا۔ عورت کو ہمیشہ سے توجہ کا مرکز بننا اچھا لگتا ہے، یہ عورت کی فطرتی کمزوری سمجھ لیں، یا اس کے نفس کا لالچ لیکن وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل میں بھی داد وصول کرنا چاہتی ہے یا منتظر رہتی ہے حوصلہ افزائی کی ۔ اس چھوٹی سی تمنا کو وہ اپنے دل میں لئے کئی طرح کے جتن کرتی نظر آتی ہے۔ کبھی من پسند کھانے بنا کر تو کبھی زیب تن خوبصورت لباس پہن کر تو کبھی اپنی دماغی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے۔ ہر صورت حال میں وہ اپنی ذات کو محور بنا کے اپنے اردگرد کے کرداروں سے بس توجہ ہی تو مانگ رہی ہوتی ہے۔ لیکن عورت اس توجہ کے معاملے میں ہمیشہ سے بڑی جلد باز رہتی ہے، اسکو حوصلہ افزائی، داد کی وصولی فورا چاہیے ہوتی ہے اور چاہیے بھی تصدیق شدہ شائشتہ الفاط کی ادائیگی کی صورت میں ۔تبھی یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا پہ عورتیں اپنی تصاویریں مردوں کے مقابلے میں زیادہ پوسٹ کرتی ہیں، جہاں انھیں اپنی چھوٹی سی سیلفی کاوش کاصلہ چند سکینڈز میں لائیکس اور حوصلہ افزاہ کمنٹس کی صورت میں مل جاتا ہے، اور یہی اس کے ذہنی عصاب کو سکون دیتا ہے۔ عصر حاضر کے تقاضوں میں اچھی گفتگو، پختہ سوچ ، بھلی شکل و صورت، ویل ڈریس اور کرئیر اورینٹڈ ہونا بھی ضروری سمجھا جاتا ہےآج کی عورت کے لیے۔۔۔ جیسے جیسے انسان ماڈرن ازم کی طرف آئے، عورتوں کی خوبیوں اور صلاحیتوں کے معیار بھی بدلتے چلےگئے۔ اب روٹی چولہا ،اچھا گھر سبنھالا اوربچے پال لینا کوئی خاص معیار نہیں رہا جبکہ ہر کام کا متبادل رول وجود میں آچکا ہے میڈ، کلینر، کوک، خانساماں کی صورت میں۔ یہ ہماری ماوں کا زمانہ تھا جب دن بھر روٹی چولہا کر کے ایک دات کی منتظر ہوتی تھیں کہ آج کھانے میں نمک بالکل پرفیکٹ پڑا ۔ آج کی عورت کو کافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے، اور اکثر عورتیں یہ کام صرف توجہ کے حصول کے لیے نہیں کر رہی ہوتیں، بلکہ وہ اپنی تمام تر کوشش اور جدوجہد کے بعد دات کی وصولی کی منتظر ضرور ہوتیں ہیں اوراپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پہ توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔ لیکن کچھ عورتوں کے لیے یہ توجہ لاحاصل تمنا بن جاتی ہے۔ پھر اس تمنا کو پا لینے کے لیے وہ اپنے اندر کچھ ایسا تلاش کرتی ہے ، جو فوراً سب کی توجہ کا مرکز بن جائے اور اسی ضمن میں وہ عورت اپنے اندر کئی صلاحتیں ڈھونڈتی ہے ۔ فطری، ذہنی، جسمانی اور جذباتی۔ ایسی عورتوں کی جلد باز فطرت بغیر ذہنی و دماغی محنت کے کچھ شارٹ کٹ راستے تلاش کرتی ہے۔اور ایسے میں اس کے پاس اپنی سب سے قیمتی دولت اپنا جسم ہی ایسا محور ہوتا ہے جس کی سر عام نیلامی کرتی ہے۔ اس ضمن میں خاص کر مغرب کی عورت کا ایک سرسری سا جائزہ لیا جائے تو اس معاشرے میں اب کوئی ایسی چیز نہیں رہی جو عورت نہ کر سکے مرد کے مقابلے میں ۔ مرد و عورت کی کام کرنے کی صلاحتیں تقریبا ایک جیسی ہو چکی ہیں، کوئی خاص فرق نہیں رہا سوائے جنسی خدوخال کے۔ ایسے میں عورت اسی فرق کو زیادہ نمایاں کرنے کے درپے ہے جو اسے مختلف بناتا ہے مردوں سے۔ تبھی آج مغرب کی عورت لباس کومختصر سے مختصر کرکے توجہ کا مرکز بنتی نظر آتی ہیں۔ اور مرد عورت کے جسم ہی سے تو سب سے زیادہ راغب ہوتے ہیں اسکی طرف۔ مرد کی فطرت ہے کہ وہ عورت کو اس کے ظاہری حسن کی وجہ سے پسند کرتا ہے دوسرے الفاظ میں مرد کی جنسی خواہش عورت کے ظاہری خدو حال اور جسمانی خوبصورتی دیکھ کر ہی پروان چڑھتی ہے۔بے شک ہر مرد کا معیار الگ الگ ہے لیکن بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی مثال کیم کردیشان ہے، جس نے اپنے علم یا دماغی صلاحیت سے اپنا آپ نہیں منوایا بلکہ اپنی جسمانی خدوخال کو مختلف سانچوں میں ڈھال کے وہ ہر اخبار و میگزین کی آئے روز زینت بنی رہتی ہے۔ یہ ہے مغرب معاشرے کے وہ ڈارک شیڈز جن کی تقلید کی تلقین ہمیں کی جاتی ہوتی ہے نام و نہاد آزاد معاشرے کا نام دے کے جس میں عورت کسی قید کے بغیر آزاد زندگی بسر کر رہی ہے۔ جب معاشرے کے اصول فطرت سے ہٹ کے انسان کے ایجاد کردہ معیار پہ رکھے جائے تو فراق کے کئی راستے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ حرص، بھڑاس ، خود غرضی اور مفاد پرستی کی جنگ نے مغربی معاشرے کا سارا توازن ہی بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ ایک توجہ حاصل کرنے کا سدا کا حریص بن کے رہ گیا تو دوسرا جنسی خواہشات کا بے لگام گھوڑا بنے ہر وقت ہانپتا پھرتا ہے۔ دونوں بغیر نکیل کے نام نہاد آزاد معاشرے میں کیسی آزاد بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ خواہشات و خیالات پہ مبنی آزاد زندگی۔ بغیر کسی قیدو بند کے دو آزادجنس اپنے اپنے مفاد میں گامزن ۔ - - - - - - - - - - مدیحی عدن
سوشل میڈیا ڈپریشن کی وجہ
سوشل میڈیا ڈپریشن کی وجہ
سوشل میڈیا پہ اکثر ہر دوسرا انسان ہمیں اپنے سے زیادہ پرفیکٹ اور بھرپور زندگی گزارتا نظر آتا ہے، حالانکہ وہ اپنی زندگی میں رونماہ ہونے والے چند خوشی کے لمحات کو ہمارے ساتھ شئیر کرتا ہے جس سے ہمارے اندر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید سب کی زندگیاں خوشیوں سے بھرپور اور مکمل ہیں۔ وہ انسان ہمیں ہمیشہ اپنی زندگی کی برائٹ، کلر فل سائیڈ دکھاتا ہے اور اپنی زندگی کی ڈارک سائیڈ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اسے…
View On WordPress
ہم ’مسلمان‘ کیوں ہیں؟ *First posted on Express News. ہم کون ہیں؟ ہم ’مسلمان‘ ہیں۔ ہمیں کس نے پیدا کیا؟ ہمیں الله تعالی نے پیدا کیا۔ ہمارا مذہب کیا؟ ہمارا مذہب ’اسلام‘ ہے۔ بعض دفعہ سوال پوچھنا غلط نہیں ہوتا، بلکہ سوال کا رٹے رٹائے جواب کے ساتھ اُس کی اہمیت کو کھوکھلا کردینا ضرور ہوتا ہے۔ ہماری زندگیوں میں بھی ’ہم کون؟‘ سے شروع ہونے والا یہ سوال ہمارے لیے اسلام کا سب سے پہلا تعارف ہوتا ہے۔ مسلمان ہونا تو ہمیں بخوبی یاد کروا دیا جاتا ہے لیکن کیسے ہوتے ہیں مسلمان؟ اِس کا جواب ساری زندگی ہم کہیں نہ کہیں اپنے اندر یا اپنے معاشرے میں موجود مختلف چہروں میں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جیسے ہم پاکستانی، سندھی، پنجابی، پٹھان بن جاتے ہیں، ایسے ہی کہیں نہ کہیں ہم مسلمان بھی بن ہی جاتے ہیں۔ پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا یہ اسلام ہماری زندگیوں میں بس چند عبادات، کچھ عقائد اور رسومات کی حد تک ہی رہتا ہے جسے ہم بڑی عقیدت مندی سے اپنے سے منسلک مذہب کا نام دیتے ہیں۔ پھر جیسے جیسے ہماری سوچ اور عمر میں پختگی آتی ہے مذہب کی سمجھ بوجھ یتیم ہی رہتی ہے جس کی پرورش میں کوئی خاص محنت نہیں کی ہوتی۔ ہاں بس اسلامی شناخت دینے کے لیے کچھ احسانات ضرور کردیے جاتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ اگر آج ہم سے کوئی غیر مسلم یہ سوال پوچھے کہ ’’ہم مسلمان کیوں ہیں؟‘‘ سچ بتائیے کیا ہمارے پاس اِس آسان سے سوال کا جواب ہے؟ شاید نہیں۔ اِس ’نہیں‘ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ سوال نہ تو ہمیں کبھی ڑٹایا گیا اور نہ ہی کبھی اِس سے پہلے ہم سے پوچھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت دیانتداری سے ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ’ہم مسلمان کیوں ہیں؟‘ اگر ہمارے پاس کوئی جواب ہے تو وہ یہ کہ ’’ہم کلمہ پڑھتے ہیں‘‘، ‘‘پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں‘‘ اور ’’ہم شراب اور سور کا گوشت نہیں کھاتے۔‘‘ لیکن سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا اسلام کا تعارف بس یہی ہے؟ اور کیا ایسے جواب سن کے کسی ’نو مسلم‘ کی اسلام میں کوئی دلچسپی پیدا ہوسکتی۔ لیکن مزے کی بات یہ کہ یہی سوال جب ایک ’نو مسلم‘ فرانسیسی خاتون Sylvie Fawzy سے پوچھا گیا تو اُس کا جواب کچھ ہوں تھا۔ ’’اسلام میں مجھے ایسی طرزِ ندگی ملی جس کے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ جو انسان کو اِس طرح سے منظم کرتی ہے کہ ہمیشہ اِس کو فائدہ پہنچے، درحقیقت اسلام انسان کی فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ اِس کے کپڑے، کھانے پینے کے طریقے، روز مرہ کے کام کاج، شادی، رشتے ناطے نیز ہر معاملے میں اسلام انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اِس لیے اِس میں کوئی حیران کن بات نہیں کہ جو بھی اسلام کو مانتا ہے وہ خود کو مطمئن اور محفوظ محسوس کرتا ہے، جو کہ میری نظر میں سب سے زیادہ اہم نقطہ ہے۔‘‘ اب آپ ہمارے جواب میں اور اِس نو مسلم خاتون کے جواب میں فرق ملاحظہ کیجیے۔ یہ فرق شاید اِس لیے ہے کہ وہ جانتی ہے کہ ’وہ مسلمان کیوں ہے؟‘ اُس کی جو بنیادیں اسلام کو لے کر بنی ہیں وہ ہماری طرح کھوکھلی اور خالی نہیں۔ اگر وہ رسومات کی حد تک ہماری جیسی مسلمان ہوتی تو سب سے پہلے اِن رسومات کا سہارا لے کر خود کو مسلمان ہونا گنواتی۔ لیکن وہ اصل میں ایک ایسے اسلام کی نمائندگی کر رہی ہے جو کہ حقیقت میں اُس کی زندگی میں ایک دین کی حیثیت سے رائج ہے، جو اُس کے نظامِ زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ آج ہماری اسلامی سمجھ کی یتیم ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہماری اسلام سے مکمل نا واقفیت ہے۔ جب ہم نے اپنے ذہن کو ہی خالی چھوڑ رکھا ہے تو پھر کوئی بھی آکر ہمیں کوئی تعریف دے جائے اسلام کی، ہمارے لیے وہ قبول کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے لیے اب اسلام کی تعریف اسلامی رسومات ہیں جو ہماری زندگی میں خوش قسمتی سے مذہب تو بن گیا لیکن دین نہ بن سکا۔ - - - - - - - - - - - - - - مدیحی عدن
کراچی، رنگوں کا مجموعہ
کراچی، رنگوں کا مجموعہ
ہم انسان ہمیشہ تبدیلی کی تلاش میں ہوتے ہیں ، کیوں کے اگر زندگی ایک ہی رخ میں چلتی تو شاید کوئی بھی اسے گزرنے کا روادار نہیں ہوتا . زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے ہم سفر کرتے ہیں . مختلف شہروں ، مختلف ملکوں کا سفر اور اس سفر کے دوران ہم زندگی کے مختلف پہلو سے اگاہ ہوتے ہیں . سفر چاہے اندروں ملک ہو یا بیرون ملک ، ہمیں ہمیشہ بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے . دوسرے علاقوں کے لوگ کیسے گزر بسر کرتے ہیں ،…
View On WordPress
افسوس کہ میں بھی چور، آپ بھی چور
افسوس کہ میں بھی چور، آپ بھی چور
بدقسمتی سے آج کرپشن ہماری جھوٹ کی طرح قومی بیماری بن چکی ہے۔
*First posted on Express News.
آج کل حالیہ حکومت کے پانامہ کرپشن کیس کےچرچے ہر جگہ گونج رہے ہیں۔ آئے روز قوم کو اِس کیس کے حل ہونے کا بے تابی سے انتظار رہتا ہے۔ کچھ وزیراعظم صاحب کو اقتدار کی کرسی سے اُترتا دیکھنا چاہتے ہیں تو کچھ کو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے حکومتِ وقت پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو رد کرکے نیچا دکھانے کا شوق ہے۔…
View On WordPress
MORE IS DIFFERENT
MORE IS DIFFERENT..! Recently I read a book called “Out of Control” written by Kevin Kelly. In this he talks about Biology, social systems and economic world. In his book, there is one chapter –Hive Mind, which shows us the vision he has observed about the bees........
Recently I read a book called “Out of Control” written by Kevin Kelly. In this he talks about Biology, social systems and economic world. In his book, there is one chapter –Hive Mind, which shows us the vision he has observed about the bees. A hive about to swarm, is a hive possessed. It becomes visibly agitated around the month of its entrance. The colony whines in a centerless loud drone, which…
View On WordPress
میں کون؟ گزشتہ دنوں مجھے فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا..... اور وہ چند دن میری زندگی کے یادگار دن بن گئے... وہاں کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر میں مجھے رہنے کا اتفاق ہوا..... وہاں رہ کر میں نے کسی لفظ کواپنے اردگرد بہت محسوس کیا اور وہ تھا "مٹی"!... مٹی کے برتن، مٹی کے گھر اور مٹی کا ہی انسان۔۔۔۔ جب اتنا کچھ مٹی کا اکٹھا ہو جائے تو پھر بناوٹ کہاں رہ جاتی ہے!.. جی ہاں بناوٹ!... وہاں کے لوگ نہ برتنوں کو، نہ گھروں کو اور نہ ہی انسانوں کو اپنے سے اونچا یا کمتر سمجھتے ہیں. ان لوگوں میں کوئی رکھ رکھاؤ کوئی بناوٹ نہیں!... کسی باہر کے آجانے والے انسان کو دیکھ کر وہ اپنے برتنوں کو نہیں بدلتے.... وہ باہر سے آنے والی میں تھی... وہاں کے لوگ میرے لیے گھر کا سب سے عمدہ برتن نکال کے لاتے لیکن میرے ہی سامنے چائے اپنی ہی کچی پیالیوں میں پیتے!.... اور مجھے وہ عمدہ برتن سے برتر لگتا...یہی ایک فرق میں نے محسوس کیا اسی فرق کی وجہ سے،، سکون،، کا لفظ ہماری زندگی سے ختم اور ان کی زندگیوں میں برقرار ہے!.... ہمارے ہاں کوئی باہر سے آ جائے تو ہم شہر کے پڑھے لکھے لوگ اپنی چیزوں کو چھوڑ کر ان کی چیزوں کو اپنے اوپر لینا زیادہ پسند کرتے ہیں!.... چاہیے وہ ہماری زبان ہو!..... چاہیے وہ ہمارا رہن سہن ہو!.... لیکن ہم ہر چیز میں بناوٹ ضرور ڈال دیتے ہیں!... ہم انسانوں کو ننگے پاؤں سے نہیں بلکہ اس میں پہنی ہوئی جوتی سے اس کو ناپتے ہیں۔۔۔ طرح طرح کی جوتیاں پہن کر ہم اپنے پیروں کے نشانوں کو بھول چکے ہیں!..... میں نے اپنے پیروں کے نشان تب دیکھے جب میں ننگے پاؤں گیلی مٹی پر چلی۔۔ تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی شاخ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا سو نا پید ہوگا - - - - - - - - مدیحی عدن
افضل کون، مٹی کا پتلا یا آگ کا بت؟؟ ۔۔ *First posted on the Express Urdu. میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے ۔۔۔ آگ کی چنگاڑ میں رعونت ہے ۔۔ اسکی بھڑکتی لہلہاہٹ سے انسان تو انسان جانور پر بھی خوف و ہراس طاری ہو جاتا ہے۔ ۔اور اسکا جذبہ ہیبت ہی اسکا غرور ہے۔۔ کہاں بیچاری حقیر سی لیپ دار ،گارے والی مٹی۔۔ جس میں نہ تو بھڑک ہے اور نہ ہی رعب۔۔ ابلیس کی بات میں دم تو تھا کہ اسکی تخلیق جس آگ سے ہوئی ہے وہ افضل تو تھی ہی ۔۔پھر غرور کا سریا کیونکر نہ اسکی گردن میں آتا۔۔۔ اس نے ایک منطقی دلیل دے کے اپنی صفائی پیش کی۔۔ صفائی اس ذات کے سامنے پیش کی، جس کے رب ، مالک، خالق ہونے میں اسے ذرا برابر بھی شک و شہبہ نہ تھا۔۔ منطقی اس ذات کے سامنے ہو رہا تھا، جس نے اسکو آگ سے پیدا کیا، جس طرح آج اس کے سامنے رکھے انسان کو مٹی سے۔۔لیکن وہ اپنے آگ کے غرور میں آکے یہ سوچنے سے قاصر ہو گیا کہ آگ ہو یا مٹی تخلیق میں اسکی مرضی کس نے پوچھی۔۔ اور بالفرض آگ سے افضل و اعلی کوئی مخلوق بن جاتی تب اسکی دلیل خود پہ ترس کھلوانے والی ہوتی۔۔ لیکن دل میں کونپل کسی اور چیز کے پھوٹنی تھی، اور وہ تھی حسد کی۔۔ ایک عام رویہ ہے کے جب کوئی کسی سے حسد محسوس کرتا ہے تو وہ کبھی بھی حسد کو براہ راست بنیاد نہیں بنائے گا اس سے نفرت کرنے کی بلکہ کئی وجوہات دلیل بنائے گا نفرت کو ثابت کرنے کی ۔۔۔ اس کو بھی حسد کی آگ بے چین کیے ہوئے تھی، جس نے اسکو دلیلیں دینےپہ اکسایا۔۔ حسد اسکی بنیاد تھی اور غرور کی چادر اسکی دلیل۔۔ کرنا اس نے انکار ہی تھا دونوں صورتوں میں۔ ۔لیکن اپنے انکار میں ٹھوس وزن ڈالنے کے لیے دلیل پیش کی۔۔ اور اس دلیل کو وجہ بنا کے انکار کر دیا۔۔ایک سجدے سے۔ یہی خصلت انسانوں نے بھی پکڑ لی۔۔ کرنا انھوں نے بھی ہر صورت انکار ہی ہوتا ہے،چاہے ایک سجدے کا ہو یا کوئی چھوٹے بڑے حکم کا۔۔ لیکن اپنے انکار کو وہ ہمیشہ کئی دلیلوں میں ڈھا کے ایک عمارت اپنی سوچوں کی قائم کر لیتا ہے۔ اور اپنے غلطیوں اور برائیوں پہ دلیلیوں کو جواز بنا کے وہ اس کے نقش قدموں کی پیروی کرتا ہے جس نے کئی صدیوں پہلے اپنے افضل ہونے کا اقرار کیا۔۔ پھر ا س کی اس سے بھی بڑی خصلت یہ تھی کے اس نے رب کو الزام دیا کہ توں نے مجھے سیدھے راستے سے بھڑکیا، میرے انکار گناہ کا زمہ دار رب ہے۔۔انسانوں میں بھی ایسے بڑے پیدا ہوئے ہیں جو اپنے گناہوں کا زمہ دار اللہ کو ٹھہرا دیتے ہیں۔۔ ہم فرشتے نہیں جو ہر کام صحیح کریں۔اللہ نہ چاہتا تو زمین پہ اتنے گناہ نہ ہوتے۔۔اگر اللہ چاہتا تو مجھے گناہ کرنے سے روک لیتا، لیکن اس نے نہیں کیا ایسے۔۔اگر اللہ نے ہر چیز پہلے سے طے کر کے رکھی ہے تو پھر ہمیں کیوں ذمہ دار ٹھرایا جاتا گناہوں کا ۔۔اور ایسی بہت سی عقلی دلیلیں ہم جواز کے طور پہ پیش کرتے ہیں۔۔ ایک فرق جو آدم اور ابلیس کے رویے میں مختلف تھا وہ یہ کے گناہ تو دونوں سے سر زرد ہو گیا، لیکن ایک نے اسکاذمہ دار اللہ کو ٹھرایا اور عقلی دلیلیں دیں۔۔ اور ایک نے اپنی ذات کو سارا قصور وار ٹھرا کے پستی اختیار کی اور معافی مانگ لی۔۔۔ اس نے مان لیا تھا کے کچھ ہو جائے رب کی ذات نا انصاف نہیں ہو سکتی۔۔۔ تو پھر افضل کون ہوا؟۔۔حقیر مٹی کا وہ پتلا جو گیلے گارے سے بنا تھا یا آگ کا وہ جلتا بت؟۔۔ - - - - - - - - - - - - - مدیحی عدن
کسانوں کی عجیب زندگی
کسانوں کی عجیب زندگی
ان کسانوں کی بھی عجیب زندگی ہوتی ہے۔ پہلے بیچ اپنے ہاتھوں سے بوتے ہیں، پھر خوب محنت مشقت کر کے ہل چلاتے، زمین سیراب کرتے ہیں۔ موسموں کے بدلتے رنگ انھیں کبھی خوشی دیتے ہیں تو کبھی بہت مایوسی۔ اگر ہر چیز کا انحصار صرف محنت و مشقت پہ ہوتا تو اس طبقے سے زیادہ کوئی محنتی نہیں۔۔ لیکن محنت سے کہیں زیادہ انکا ناطہ توکل پہ ہوتا ہے۔ اللہ کی ذات پہ توکل ہی انکی بنجر زمین کو زندگی بخشتا ہے۔
تبھی کسانوں میں…
View On WordPress
Repent, Because His mercy is greater than your sins!
Repent, Because His mercy is greater than your sins!
“Say: O my servants! who have acted extravagantly against their own souls, do not despair of the mercy of Allah; surely Allah forgives the faults altogether; surely He is the Forgiving the Merciful.” (39:53)
Sometimes we make a mistake, we disappoint someone, regret it and may even apologize. Inspite of all this, it takes awful lot of effort and tolerance to bring everything back to normal again.
View On WordPress
Today, This Moment, Right now.. is everything.
Today, This Moment, Right now.. is everything.
“And when your Lord proclaimed: If you give thanks, I will give you more; but if you are thankless, Indeed! My punishment is dire.” (14:7)
If you look around, you will find people with little in their hands yet gratifying the majesty of Allah. There are people who find a way to pay gratitude to His Highness even with heaps of hardships on their way. Why? Because there is immense virtue of paying…
View On WordPress
میں گاڑی میں بیٹھی سائیڈ ونڈو سکرین پرباہر لوگوں کی ہلچل نوٹ کر رہی تھی، روزہ کھلنے میں چند منٹ ہی باقی تھے کہ ایک سپیٹ بریکر پہ گاڑی آہستہ ہوئی اور اچانک دو نوجوان انتہائی بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں ہاتھ پھلا کراور آسمان کی طرف اشارے کر کر کے کچھ افطار کے لیئے درخواست کر رہے تھے۔۔ میں نے ایک منٹ سے بھی کم یہ منظر دیکھا ہوگا کہ پاس بیٹھی میری بہن بولی، "ہائے کاش ابھی ہمارے پاس کچھ پوتا انکو دینے کے لیئے۔۔" اور میں کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔پتہ نہیں انکا آسمان کی طرف بار بار دیکھنا اور کچھ کھانے کو مانگنا میرے دل پہ عجیب سا اثر کر گیا تھا ، شاہد اسکی بڑی وجہ میرا خود بھی بھوک کو اسی شدت سے محسوس کرنا تھا جیسا وہ کر ریے تھے۔۔ دینے کو تو واقعے کچھ نہیں تھا اور یہی چیز اداس کر رہی تھی کہ اچانک اسی سڑک کے تھوڑےآگے جا کے افطاری کا دسترخوان لگا ہوا تھا، جہاں کافی لوگ بیتھے روزہ کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔ امید ہوئی کہ انھیں یہ افظار دستر خوان نظرآ جائے گا، ساتھ خوشی بھی کہ اللہ نے اپنے بھوک سے نڈھال بندوں کے لیئے کیسے کیسے اور کہاں کہاں وسیلے رکھ دیئے، اور دکھ بھی کہ وہ نیکی جس کو پانا میرے مقدر میں نہیں تھا اس سے کئی اسکے بندے اپنی جھولیاں بھری جا رہا ہے۔۔ کئی اللہ کا واسطہ دے کر ہاتھ پھلا رہے ہیں اور کئی اسی ذات کے واسطے سے انھیں کھلا پلا ریے ہیں۔۔ تیرے بندوں کی عجیب دنیا یا رب، تیرے واسطے سے ہمیں منسلک کیے ہوئے ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مدیحی عدن