قدرت مجھے لڑکا بناتی
قدرت مجھے لڑکا بناتی اور تجھے لڑکی، پھر تو دیکھتا میں کس طرح تیرے باپ کے سامنے سونے کا ڈھیر لگاتی۔
ojovivo
EXPECTATIONS

Discoholic 🪩
todays bird
Noah Kahan
h
sheepfilms
art blog(derogatory)

Product Placement

oozey mess
No title available
No title available
2025 on Tumblr: Trends That Defined the Year
𓃗
noise dept.
Keni

if i look back, i am lost
Fai_Ryy
trying on a metaphor
taylor price

seen from United States

seen from India

seen from Malaysia

seen from Vietnam
seen from United States
seen from Malaysia

seen from Hong Kong SAR China

seen from Malaysia
seen from Germany
seen from Netherlands

seen from Malaysia

seen from Japan
seen from Malaysia

seen from Canada
seen from Germany

seen from United States
seen from Malaysia
seen from Malaysia
seen from United States

seen from Malaysia
@urduadab-blog
قدرت مجھے لڑکا بناتی
قدرت مجھے لڑکا بناتی اور تجھے لڑکی، پھر تو دیکھتا میں کس طرح تیرے باپ کے سامنے سونے کا ڈھیر لگاتی۔
اتنا معلوم ہے ! : پروین شاکر
اتنا معلوم ہے! اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ وبُو میں روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہوگا!؟ آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیںآئی ہیں؟ میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہوگا کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہوگا کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہوگا وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہوگا راہداری میں، ہرے لان میں ،پُھولوں کے قریب اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا نام بُھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہوگا بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بُھولا ہوگا یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگا کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہوگی اُسے اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہوگا چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہوگا یاد کرکے مجھے، نَم ہوگئی ہوںگی پلکیں ’’آنکھ میں پڑگیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہوگا اور گھبراکے کتابوں میں جو لی ہوگئی پناہ ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہوگا جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانی دل یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا! اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی مَیں نے پُوچھا کہ سنو۔آئے تھے وہ۔کیسے تھے؟ مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈُھونڈا تھا چاروں جانب؟ اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا
Remembering madam Noor Jehan on her 11th death anniversary - raat pheli hai....
نور جہاں کی گیارہوں برسی کے موقع پر ان ایک یاد گار گیت۔۔۔۔ رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرح۔۔۔۔
جہاں سوال کے بدلے سوال ہوتا ہے
جہاں سوال کے بدلے سوال ہوتا ہے
وہیں محبتوں کا زوال ہوتا ہے
کسی کو اپنا بنانا ہنر ہی سہی
کسی کا بن کے رہنا کمال ہوتا ہے
خوش آمدید
تمام اردو کے چاہنے والوں کو خوش آمدید