تیرا نام ہے پاک پروردگار
تیری رحمتوں کا نہیں کچھ شمار
اک ادنٰی سیِ قدرت ترِی آشکار
کیے کُن سے عالم اٹھارہ ہزار
ہے زیبا تجھے اکبری سروری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
تیری ذات ہے تو ہے غفوررحیم
مرضِ لادوا کا تو ہی ہے حکیم
ہمیشہ سے ہے اور رہے گا قدیم
تجھی کو کہیں ہم سمیع و علیم
تجھے علم ہے باطنی ظاہری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
تیرے حکم بِن برگ جنبش نہ کھا
جگہ سے کہیں ہل کہ زرا نہ جا
تیرے حکم سے مینہ برسنے لگا
ہوئی باغ دنیا کی جس سے فضا
کرے خشک کھیتی کو پل میں ہری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
زمیں کا کیا تو نے عجز قبول
یہاں تک دیا ان کے رُتبے کو طول
کہ لولاک ہے جن کی شانِ رسول
میری بار کیوں دیر اتنی کری
کسی کو کیا انبیاء ، اولیاء
کسی کو قطب سے و قلندر کیا
میری بار کیوں دیر اتنی کری
لیا حضرت آدمؑ نے گندم کو کھا
بہشتوں سے باہر ملی ان کو جا
کیا بابِ رحمت کا پھر ان کے وا
میری بار کیوں دیر اتنی کری
گرایا جو بھائیوں نے یوسفؑ کو جا
انہوں نے چاہی ادھر تیری ہی پناہ
محافظ رہا ان کا شام و پگاہ
کیا پھر ان کو مصر کا بادشاہ
میری بار کیوں دیر اتنی کری
ہوئے غم میں جب یعقوب ؑ مبتلا
کیا انکو یوسف ؑ سے جِس دم جدا
ہوا انکا اُس دم تو ہی رہنماء
کرم کی گھڑی اُنپے عائد کری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
اِس غم میں یعقوب ؑ گریہ کناں
ولیکن نہ پایا پسر کا نشاں
کیا رازِ پنہاںیہ اُن پے عیاں
خبر اُن پے یوسف ؑ کی ظاہر کری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
زلیخا کا فاسد ہوا جب خیال
تو اُسنے بچھا کر فریبوں کا جال
یہ چاہا کرے یوسفؑ مجھ پے وصال
مقفل تھے وہ ساتویں کوٹھڑی
میری بار کیوں دیر اتنی کری
انگوٹھی سلیمانؑ کی گم ہو گئی
جو بہت تھی شاہی سب جاتی رہی
کہ فرمان انکا نا ما نے کوئی
ملی شکمِ ماہی سے وہ انگشتری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
ہوئے جب داؤدؑ غم میں مبتلا
تیرے حکم کی کچھ نہیں انتہا
جو چاہے کر لے جو چاہے کیا
ہے دور از سمجھ تیری کاریگری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
ترا نام عیسٰیؑ نے جس دم لیا
دیا قبرِ کہنہ سے مُردہ جِلا
یہی وقت موسٰیؑ پہ عائد ہوا
ملا پھل تیری یاد جس نے کری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
کیاجسم کو کیڑوں نے چھلنی وہاں
کدورت کا پایا نہ نام و نشاں
رہا تیرا ہی شکر وردِ زباں
رفع اُنکی تکلیف پَل میں کری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
پکارا اُنہوں نے کہ اے ربِ جلیل
ہوا فضل بس ترا ہی اُنکا کفیل
وہ آتش جو دیکھی باغ باری کری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
پڑی اُمتِ نُوحؑ پر جب بلا
گیا ڈوب وہ جسکو تھا ڈوبنا
دکھائی وہاں تو نے صنعت گری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
زمانے میں تھا حضور کے اک بشر
برے کام کرتا تھا شام و سحر
مرا جب اُس پہ ہوئی تیری نظر
نمازاُسکی حضرت نے جا پڑہی
میری بار کیوں دیر اتنی کری
یہ بندہ تیرا سراسر گنہ گارہے
مِری ناؤ ہے اور منجدھار ہے
یہ حالت مِری بھلی ہے یا بُری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
تیری ذات میں کب ہو چوں چراں
وسیلہ ہے لا تقنٰطو کی صدا
تیرے گھر کا سائل ہے ہر شاہ و گدا
ہر اک کی دعا تونے پوری کری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
تیری حمد کیا کر سکے بے زباں
ٖٖثناء خواں ہیں تیرے سب اِنس و جاں
تو عیب پوش اور تو ہی عیب داں
میری بار کیوں دیر اتنی کری
گئی جبکہ یونسؑ کو ماہی نگل
نہ کام آیا اُس وقت کوئی عمل
بتایا اُسے اپنا نام برمحل
میری بار کیوں دیر اتنی کری
گناہوں کا مجھ پے ہے بادالم
تجھ کو ہے پیدا کیے کی شرم
یہی التجا ہے میری د م بدم
کہ ہوں دور سب مجھ سے دُنیاکے غم
نہ ہومیری دُنیا میں پردہ گری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
یہ عاصی کی ہے اب تجھ سے دُعا
کہ ظاہر ہے تجھ پے میرا مدعا
بحقِ نبیؐ شاہِ خیر الورایٰ
ہوں لاچار اُمیدتجھ پے دھری
میری بار کیوں دیر اتنی کری
تو ادنٰی کو چاہے تو اعلٰی کرے
تو اعلٰی کو چاہے تو ادنٰی کرے
یہ بندہ کہاں دھرے تجھ بِن دھرے
سوا تیرے کسی کو نا کچھ سرے
کرے پَل میں ہل تو ہی مشکل اڑی
میری بار کیوں دیر اتنی کری
زمانے پہ ہے رحمت تیری کا نزول
ولیکن میں ہوں رنج و غم میں ملول
دعا مجھ گناہگار کی کر قبول
میری بار کیوں دیر اتنی کری