اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تیری
یہ اندیشہ تو——- ہمیں پہلی ملاقات سے تھا
Ab jo bichra Hai tu Kya royin judayi Pey Teri…
Yeah indesha tu…. Humyain phli mulqat say that.. !!!

Product Placement

titsay

oozey mess

shark vs the universe
Not today Justin
Jules of Nature
Three Goblin Art
wallacepolsom

祝日 / Permanent Vacation
Sade Olutola

izzy's playlists!
occasionally subtle

tannertan36
Sweet Seals For You, Always

PR's Tumblrdome
No title available
RMH

blake kathryn
Misplaced Lens Cap

Love Begins
seen from United States
seen from United States
seen from Netherlands
seen from Australia

seen from United Arab Emirates
seen from United States
seen from Australia
seen from United States

seen from Romania
seen from United States
seen from United States

seen from United Kingdom
seen from United States

seen from Malaysia

seen from United States

seen from Canada

seen from United States

seen from France

seen from Germany
seen from Romania
@atiah-syed
اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تیری
یہ اندیشہ تو——- ہمیں پہلی ملاقات سے تھا
Ab jo bichra Hai tu Kya royin judayi Pey Teri…
Yeah indesha tu…. Humyain phli mulqat say that.. !!!
ﺁﻭ ! ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﺳﮯ ﻟﻤﺤﺎﺕ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮟ ﺭُﻭﭨﮭﯽ ﮨﻮﺉ ﺭﺍﺕ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﺎﺋﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ۔۔۔ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﭘﺎﻭٌﮞ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﮭﻮ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﭼُﮭﭗ ﺟﺎﻭٌﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﮐﮭﻮﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺲ ﺩﻭُﮞ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺭﻭ ﺩﻭ ﺁﻭٌ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﮦ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮟ ﺭﺍﮦ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮟ۔۔
!دُشـــواری ۔۔۔۔۔۔۔
سکوت شام خزاں ہے قریب آ جاؤ ۔۔۔۔
“اللهم صل على محمد و على آل محمد”
— http://twitter.com/Du3aa
I entrust my affair to Allah. Indeed, Allah is Seeing of [His] servants.
بارشیں جاڑے کی اور تنہا بہت میرا کسان
جسم اور اکلوتا کمبل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
سنا ہے، لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں۔
تو اس کے شہر میںکچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، ربط ہے اس کو خراب حالوں سے۔
سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی،
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف۔
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں۔
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، رات اسے چاند تکتا رہتا ہے۔
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں۔
سنا ہے، رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں۔
سنا ہے، حشر ہیںاس کی غزال سی آنکھیں،
سنا ہے، اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، رات سے بڑھ کر ہیںکاکلیں اس کی،
سنا ہے، شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے۔
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، جب سے حمائل ہے اس کی گردن میں،
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، اس کے بدن کی تراش ایسی ہے۔
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں۔
سو ہم بہار پہ الزام دھر کےدیکھتے ہیں۔
سنا ہے، آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی،
جو سادہ دل ہیںاسے بن سنور کے دیکھتے ہیں۔
بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا،
سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں۔
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں،
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے، اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت،
مکیں ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں۔
کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے،
کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں۔
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں۔
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی،
اگر وہ خواب ہے، تعبیر کرکے دیکھتے ہیں۔
اب اس کے شہر میںٹھہریں کہ کوچ کر جائیں۔
فراز آؤ، ستارے سفر کے دیکھتے ہیں۔
- احمد فراز
کیا کہیں کچھ نہیں ہے کہنے کو،
ہائے کیا غم مِلا ہے سہنے کو.
میں وہ ہوں !!!
جسے اب کسی کی حد درجہ توجہ اور فکر سے خوف آتا ہے۔۔
مسکراؤ___ کہ رونے کے لیے زندگی میں کوئی دن نہیں بنا! اُڑو___ کہ اُڑنے کا حق صرف پر والوں کے پاس ہی نہیں! اور ایسے کُھل کر مہکو کی تم سے بہتر گلستان میں کوئی گل نہیں!
مسکراؤ___ کہ رونے کے لیے زندگی میں کوئی دن نہیں بنا! اُڑو___ کہ اُڑنے کا حق صرف پر والوں کے پاس ہی نہیں! اور ایسے کُھل کر مہکو کی تم سے بہتر گلستان میں کوئی گل نہیں!
آگہی ….. موت کے برابر ہے….. جان جاتی ہے.. جان جانے میں