Daddy I’m coming home!

Love Begins
Cosimo Galluzzi
dirt enthusiast
Keni
Cosmic Funnies
he wasn't even looking at me and he found me
we're not kids anymore.

⁂
TVSTRANGERTHINGS
todays bird

Origami Around

oozey mess

pixel skylines
noise dept.

★
Show & Tell

tannertan36
Aqua Utopia|海の底で記憶を紡ぐ

祝日 / Permanent Vacation

No title available
seen from Spain
seen from United States

seen from United States

seen from Malaysia

seen from United States
seen from United States
seen from Mexico
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from South Africa
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from Türkiye

seen from T1
@classyeagleoperatorbonk
Daddy I’m coming home!
So beautiful uncle
Syed Asif Ali Gay old men from Karachi contact no 03332798805
اکرم…… The End
مری والے واقعے کے بعد تقریباً 3 ہفتے تک اکرم، یعقوب اور میرے درمیان کوئی رابطہ نہ ہو سکا، 3 ہفتے بعد میں حسبِ معمول اکرم کو ڈھونڈنے نکل پڑا، ہمارا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ میں پچھلے ٹائم تقریبا 5 بجے اسکے ڈیرے کے باہر روڈ پر جاتا جیسے ہی وہ مجھے نظر آتا میں ہارن بجاتا اور وہ مجھے دیکھ لیتا پھر موقع ملتے ہی وہ میری طرف آتا اور ہم ٹائم فکس کر لیتے، مگر اس دن اکرم مجھے نظر نہیں آیا، اگلے دن بھی نہیں پھر اس سے اگلے دن بھی نہیں، میں پریشان واپس آ جاتا.
اسکا پتہ کرنے کے لیے میں اکیلا ہی ملنگ کے ڈیرے پر گیا، ملنگ اپنے حقے کے لیے آگ جلا رہا تھا، میں وہاں بیٹھ گیا اور اس سے ادھر اُدھر کی باتی کرنے لگ گیا اس نے بتایا کہ اکرم کو مہینہ ہو گیا ہے وہ نہیں آیا، پھر باتوں ہی باتوں میں ملنگ نے مجھے سے شکوہ بھرے انداز میں کہا کہ مجھے پتہ ہے تم دونوں یہاں کیا کرنے آتے ہو، جب تم مجھے دودھ لینے کے بہانے بھیجتے تھے تو کئی بار میں نے جلدی واپس آ کر چھپ کر دیکھا تم گندی حرکتیں کر رہے ہوتے ہو، مجھے پسند نہیں کہ تم دونوں میرے ڈیرے پر آؤ، میں نے باتوں باتوں میں اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میری عمر 80 سال ہے اور مجھے یہ سب پسند نہیں. تم دونوں یہاں نہ آیا کرو.
ملنگ سے بھی اکرم کی کوئی اطلاع نہ ملنے پر میں پریشان واپس لوٹا، اگلے دن میں نے اپنی جرات اکٹھی کی اور اکرم کے گھر پہنچ گیا، اسکی بوڑھی بیوی نے دروازہ کھولا، میں نے اس سے پوچھا کہ اکرم کہاں ہے؟ تو اس نے بتایا کہ وہ شیخوپورہ گیا ہوا ہے وہاں انکی زمینوں میں فصل کی کٹائی چل رہی ہے، اس کی بیوی نے پوچھا کہ تم کون ہو، کہاں سے آئے ہو کیا کام ہے؟ تو میں نے پہلے ہی کہانی سوچ رکھی تھی میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے ابو کا دوست ہے اور ہمارا ڈیرا یہ ساتھ والے گاؤں میں ہے کافی دن ہو گئے ہیں وہ ابو سے ملے نہیں تو ابو نے کہا کہ جاؤ اس کا پتہ کر کے آؤ، میں نے اسے کہا کہ اگر وہ پوچھے تو اس سے کہنا کہ فیصل آیا تھا… فیصل میرا فرضی نام تھا جو میں Gay sex کے لئے استعمال کرتا تھا، اسکی بیوی نے کہا کہ چلو ٹھیک ہے وہ فون کرے گا تو ہم اسے بتا دیں گے. اسی رات اکرم نے مجھے کال کر دی اور کہا کہ شیخوپورہ میں وہ اکیلا سوتا ہے ڈیرے پر تم بھی آ جاؤ یہیں. میں نے کہ کہ اتنی دور ممکن نہیں، اس نے بتایا کہ ایک ہفتے بعد واپس آ کر رابطہ کروں گا.
ٹھیک 1 ہفتے بعد اکرم واپس آ گیا اس نے مجھے کال کی کہ کام والا ایک ہفتے کے لیے اپنے آبائی شہر لیّہ چلا گیا ہے، اب ایک ہفتہ روز وہ اکیلا ہو گا ڈیرے پر. اس ہفتے میں 5 رات میں اکرم کے پاس گیا ان میں اکرم نے صرف ایک دن میری لی.. جبکہ میں 5 دن تک روز 2 پھیرے کھینچتا رہا، روز 2 پھیرے لگانے سے میری سیکس ٹائمنگ اتنی بڑھ چکی تھی کہ اکرم کی دہکتی ہؤی بھٹی کی طرح گانڈ میں بھی میں آدھے گھنٹے تک فارغ نہ ہوتا اور وہ نیچے تنگ ہو جاتا کہ بس کرو اب. اس ہفتے کے بعد اکرم نے کہا کہ میرے دونوں بیٹے سعودی عرب سے واپس آ رہے ہیں ان میں سے ایک کی شادی ہے 10 دن بعد اب وہ بھی اکثر ڈیرے پر ہوا کریں گے اور مجھے بھی اگلے 15، 20 دب فرصت نہیں تو تم اب اگلے 15، 20 دن تک ادھر نہ آنا. لیکن شادی پہ ولیمے پر ضرور آنا. خیر میں… اسکی بیٹے کی شادی پر تو نہ گیا. میں نے اسکے شیخوپورہ سے واپس ملنے کے پہلے ہی دن اسے منلگ کے بارے بتایا کہ اسے سب پتہ ہے ہم جو کرتے ہیں وہاں، تو اکرم نے کہا کہ تم ٹینشن نہ لو میں سنبھال لوں گا، پھر تقریبا 1 مہینہ گزر گیا، اکرم نے مجھے کال کر کہ ملنگ کے ڈیرے کا ٹائم فکس کیا.
ملنگ کے ڈیرے پر پہنچتے ہی میں نے موٹر سائیکل پیچھلی جھونپڑی میں کھڑی کی اور اس پر ایک پرانی سی چادر ڈال دی. اکرم نے جاتے ہی سلام دعا کے بعد جیب سے 500 روپے کا نوٹ نکال کے ملنگ کو تھما دیا، ملنگ نے چپ چاپ جیب میں رکھ لیا، اسکی جھونپڑی کے اندر ایک صاف کپڑا ہم نے رکھا ہوا تھا جس سے ہم کام کرنے کے بعد اپنی اپنی گانڈ اور لن صاف کرتے تھے. جیسے ہی ملنگ جانے لگا اس نے ایک اور صاف کپڑا اکرم کو پکڑایا کہ یہ لے لو تمہارا جو پہلے والا کپڑا تھا وہ میں نے پھینک دیا تھا. میں حیران اور پریشان تھا کہ ابھی کچھ دن پہلے تک یہ اس کام پر اتنا غصے میں تھا اور آج 500 روپیہ ملنے کے بعد خود ہمیں کپڑا لا کر دے رہا ہے. خیر… ہم نے کام شروع کیا، اکرم نے حسبِ معمول میری ٹانگیں اٹھا کر کوئی آدھا گھنٹہ کیا ہو گا. پھر میں نے 5 منٹ کا پہلا پھیرا اور 15 منٹ میں دوسرا پھیرا لگایا. پھر ہم نے اپنے آگے پیچھے صاف کیے اور گھر واپسی کے لیے نکل گئے.
راستے میں اکرم نے مجھے بتایا کہ شیخوپورہ اسکا آبائی شہر ہے اسکا سارا خاندان وہاں رہتا ہے، وہاں کچھ مسئلہ ہو گیا ہے اور وہ 1 مہینہ کے لیے وہاں جا رہا ہے شاید 1 مہینے سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے، جب واپس آؤں گا تو تمہیں کال کر لوں گا. میں نے کہا چلو ٹھیک ہے میں انتظار کروں گا، ہم نے الوداعی جپھی لگائی اور میں نے اسکے ہونٹوں پر اور گردن پر kiss کی.
1 مہینہ گزر گیا، 2 مہینے گزر گئے، 3 مہینے گزر گئے، 6 مہینے گزر گئے، 1 سال گزر گیا لیکن نہ تو اکرم نے مجھے کال کی نہ وہ مجھے ڈیرے پر نظر آیا. میں ہر دوسرے تیسرے دن اسی ٹائم پہ اسکے ڈیرے کے ارد گرد چکر لگاتا… اسکا ڈیرہ، اسکی بھینسیں، اسکا نوکر، اسکی بیوی اسکے چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیاں سب…. سب… وہیں پر تھے بس ایک اکرم نہیں تھا… زندگی رواں دواں تھی، میں اسکے ڈیرے کے باہر روڈ پر کھڑا تھا، سائیکل، موٹر سائیکل، ٹریکٹر گزر رہے تھے مگر میری آنکھیں صرف ایک چہرہ تلاش کر رہیں تھیں، وہ….. سفیدی مائل گندمی سا رنگ، چاندی جیسی خط والی چھوٹی چھوٹی داڑھی، اونچی ناک، پتلے ہونٹ، فربہ سا جسم، وہ سفید تہمند اور قمیض….. میں حسرت سے ایک آخری نگاہ اسکے ڈیرے پر ڈالی اور افسردہ سا گھر واپس آ گیا کیونکہ اسی رات میری دُبئ کی فلائٹ تھی.
دبئی 2 سال کے دوران پاکستان کو جو سب سے زیادہ یاد آئ وہ اکرم تھا…2 سال بعد میں واپس آیا اور اگلے ہی دن اسکے ڈیرے پر گیا، 3 مہینے تک ہر روز جاتا حتیٰ کہ اب تو وہاں سے گزرنے والوں کو میری پہچان ہو گئی تھی، اسکا ڈیرہ تو وہیں تھا مگر اسکی بیوی بھی مجھے کہیں نظر نہ آئی جس سے میں پوچھ لیتا، اسکی گلی کے بچوں سے پوچھا کہ وہ جن سے کوئی جواب نہ مل سکا. میں پھر مایوس واپس دبئی آ گیا.
اب اس سے آخری ملاقات کو 6 سال گزر گئے ہیں، وہ تو اب شاید ساری زندگی مجھے نہ مل سکے لیکن اکرم ہمیشہ میری یادوں میں رہے گا. اللہ کرے وہ جہاں ہو خوش ہو.
اگلی تین چار ملاقاتیں ایک جیسی رہیں، ہم ہفتہ دس بعد بیلے میں ملنگ کی جھونپڑی میں سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے جاتے، اکرم ملنگ سے باتوں میں مشغول ہو جاتا اکیلے ہونے پر ہم جپھیاں اور چومیاں کرتے.. اندھیرا ہوتے ہی اکرم ملنگ کو پیسے دیتا اور گاؤں بھیج دیتا پیچھے ہم دونوں اپنا کام سٹارٹ کر دیتے، اکرم میری ٹانگیں اٹھا کر کرتا، ہر بار تقریباً آدھا گھنٹا کرنے کے بعد وہ فارغ ہوتا پھر وہ نیچے سیدھا لیٹ جاتا میں اسکے اوپر لیٹ کر اسکی نرم اور گرم رانوں کے درمیان فارغ ہوتا. پھر ملنگ کے آنے سے پہلے ہم وہاں سے نکل آتے.
دل میں بہت شوق تھا کہ میں بھی اکرم کی پیٹھ کے اندر کروں حالانکہ میرا ل اس سے بڑا بھی تھا اور موٹا بھی. پھر میں نے فورپلے کے دوران اسکی گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا.. جیسے ہی اسکے سوراخ کے اوپر انگلی رکھ کر انگلی اندر کرنے لگتا وہ میرا ہاتھ جھٹک دیتا. اسکے نرم اور موٹے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جب اسکی ناف کے اندر انگلی پھیرتا تو وہ بقرار ہو جاتا.. میں ڈرتا تھا کہ اسے گانڈ دینے کو کہا تو کہیں وہ ناراض ہی نہ ہو جائے.
پانچویں یا چھٹی بار تھی، اس دن مجھے بہت زور کی چڑھی ہوئی تھی، جب ہم معمول کے مطابق اپنے ٹھکانے پر پہنچے، ملنگ کو بھیجا، کپڑے اتارے، اکرم نے میری ٹانگیں اٹھا کر کرنا شروع کیا اور وہ 10، 12 منٹ میں ہی فارغ ہو گیا.. وہ سیدھا لیٹا تاکہ میں اسکے اوپر لیٹ کر فارغ ہو سکوں لیکن میں نے کہا کہ ابھی نہیں موڈ تھوڑی دیر لیٹتے ہیں، میں اسکے ساتھ لیٹ کر اسکے ہونٹ چوسنے لگ گیا، اسکی گردن کو چُوسا اور اسکے سوئے ہوئے ل کے ساتھ کھیلنے لگ گیا.. ملنگ کی تیل والی بوتل میں سے تیل لا کر اسکے ل پر لگا کر میں نے اسکی مٹھ مارنی شروع کی.. تھوڑی ہی دیر بعد اسکا ل پھر کھڑا ہو گیا، اب میں نے کہا کہ ٹانگیں اٹھا کر نہیں میں فلیٹ ہو کر الٹا لیٹ گیا کہ اب اوپر آؤ وہ کہنے لگا کہ ایسے مزہ نہیں آتا.. میں نے کہا کہ نہیں ایسے ہی کرنا ہے، تھوڑی دیر بعد بحث کے بعد وہ اوپر آ گیا، ل اندر کر کے وہ میرے اوپر اپنا موٹا Belly لگا کر کرنے لگ گیا..اسکا موٹا سا پیٹ ہر جھٹکے کے ساتھ میری کمر پر رگڑ کھاتا اور مزہ دوبالا کر دیتا کافی دیر گزر گئ لیکن وہ فارغ ہی نہیں تھا ہو رہا، میں نے کہا کہ ملنگ کے آنے کا وقت ہو گیا ہے جلدی فارغ ہو میں بھی تھک گیا ہوں، اس نے کہا کہ مجھے تو ابھی بہت ٹائم لگے گا، پھر اس نے باہر نکالا اور خود ہی اپنی مٹھ مارنے لگ گیا.. پھر ایک دن اس نے دوبارہ میرے اندر کیا اور فارغ ہو گیا…
اس نے پاس پڑے ہوئے کپڑے سے اپنا ل صاف کیا اور میری بھی صاف کی، اور نیچے سیدھا ہو کر لیٹ گیا کہ جلدی سے اوپر آ کر فارغ ہو لو تاکہ پھر گھر جائیں… میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ ایسے نہیں… میں نے بھی آپکے پیچھے فارغ ہونا ہے، ایک لمحے کو تو میری سانس تھم گئی کہ یہ اب کیا کہے گا، ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے اندھیرے میں محسوس کیا کہ اکرم الٹا ہو کر لیٹ چکا تھا.. مجھے اسکی ہلکی سی آواز آئی کہ “جلدی اوپر آؤ”… میں جلدی سے اسکی ٹانگوں کی بیچ پہنچا.. میں نے ہاتھ اسکی گانڈ کے اوپر رکھ دیے.. اسکی روئی جیسی نرم اور لچکیلی گانڈ کے اندر اور ہاتھ پھیرتے ہؤے میری دھڑکنیں قابو سے باہر تھیں.. مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں اس لمحے میں ہوں جسکا کتنے عرصے سے میں خواب دیکھ رہا تھا. اسکے گانڈ اور سوراخ پر ایک بھی بال نہیں تھا. میرے ہاتھ اسکی پیٹھ پر پھسلے جا رہے تھے.
مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا اسوقت لگا جب میں نے اپنی درمیان والی انگلی اسکے سوراخ کے اندر کی.. اس کے منہ سے ‘سییییی" کی آواز نکلی اور اس نے میرا ہاتھ جھٹکتے ہؤے کہا کہ" جلدی سے اندر کرو.. “ میں توقع کر رہا تھا کہ وہ کہے گا کہ اوپر اوہر ہی کرو وہ اندر نہیں کرنے دے گا… پھر اس نے کہا کہ تھوک لگا لو تمہارا بہت موٹا ہے.. اس نے اپنا ہاتھ پیچھے موڑا اور میرے لن کی ٹوپی پر تھوک لگا دی.. اور کہا کہ آرام آرام سے اندر کرنا.. میرا خود پر قابو نہیں تھا میں نے اندھیرے میں اسکی گانڈ کے اندر ٹٹولتے ہوئے سوراخ کی لوکیشن کنفرم کی،اپنا لن اسکے سوراخ کے قریب لیجا کر رکھا.. اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکی پیٹھ کے دونوں حصوں کو علیحدہ علیحدہ کیا اور……. اور بے قابو ہو کر ایک جھٹکے سے ہی سارا اسکے اندر کر دیا.. اسکے منہ سے ہلکی سی درد بھری آہ نکلی.. اور اس نے غصے سے کہا کہ “کہا بھی تھا آرام سے اندر کرنا” پھر وہ گہرے گہرے سانس لینے لگا.. میں نے اسے ریلیکس ہونے دیا..مجھے لگ رہا تھا کہ میرا ل کسی دہکتی ہؤی بھٹی کے اندر ہے
اکرم نے میرے ل کو اپنی گانڈ کے دونوں حصوں میں اتنی زور سے دبا لیا کہ مجھے جھٹکے لگانا بھی مشکل ہو رہا تھا.. ابھی چند جھٹکے ہی لگائے ہوں گے کہ میں نے بہت دنوں سے جمع شدہ اپنا قیمتی مادہ اکرم کے اندر انڈیل دیا.. اور اسکے اوپر پوری طرح لیٹ کر اسکی کمر پر Kissing کرنے لگ گیا.. اس نے مجھے کہا کہ اب اتر جاؤ.. میرا دل تو نہیں تھا کر رہا لیکن پھر بھی میں نیچے اترا… اپنا ل صاف کیا اور اسکی گانڈ بھی صاف کی.. اور اپنے کپڑے اٹھا کر پہننے لگ گیا.. اکرم جلدی سے جھونپڑی کے باہر گیا اور تہمند اٹھا کر “پھڑ پھڑ پھڑ” کی آواز کے ساتھ میرا پانی اپنی گانڈ سے نکال دیا. پھر وہ کہنے لگا بائیک نکالو آج نہانے کا ٹائم نہیں ملنگ آنے والا ہے. ہم نے نلکے پر ہاتھ دھؤیے وہ میرے پیچھے بیٹھا اور ہم گھر کی طرف چل دیے. راستے میں اکرم سے میں نے کہا کہ مجھے آج سب سے زیادہ مزہ آیا ہے..“ کرنے کا یا کرانے کا” اکرم نے مجھ سے پوچھا، میں نے کہا دونوں کا.. میں نے اسے بتایا کہ میری بہت خواہش تھی کہ تمہاری گانڈ کے اندر کروں اس نے کہا کہ “میں نے تو پہلے دن ہی تمہیں اشارہ دیا تھا لیکن تم نے نہیں تھے سمجھے”
نوٹ:اسکے بعد ملنگ کو کیسے ہم پر شک ہوا، اسکا ردّعمل کیا تھا، پھر میں نے اور اکرم نے مل کر ملنگ کو کیسے ہینڈل کیا، اور اسکے بعد کتنا عرصہ اسی جگہ ملتے رہے، اور اکرم کے ساتھ تعلقات کا اختتام کیسے ہوا… یہ کہانی پھر سہی.. اگلی کہانی تب ہو گی جب اس کہانی کے 100 ری-بلاگ ہو جائیں گے.
nice
Waw maza agiya nice story
Nice daddy from Wazeristan
Waw very Hinduism
دوسری ملاقات
2 دن کے بعد چاچے اکرم نے دن 3 بجے مجھے کال کی اور پوچھا کہ کیا پروگرام ہے میں نے اسے کہا کہ میں تیار ہوں ملنے کے لیے اس نے مجھے جگہ بتای کہ فلاں جگہ پر 3:30 پر ہوں تم مجھے وہاں سے لے لینا، میں جب مقررہ ٹائم پر وہاں پہنچا تو اپنے مخصوص لباس سفید قمیض اور سفید تہمند، سر پر پگ اور پاؤں میں کُھسا پہنے بیٹھا تھا. موٹر سائیکل اسکے پاس روکتے ہی میرا دل کیا کہ اسے جپھی لگا کے ہونٹ چوس لوں لیکن عین سڑک کے کنارے ہونے کی وجہ سے کنٹرول کیا. خیر.. وہ پیچھے بیٹھا اور میں نے پوچھا کہ کیا پلان ہے کہاں جانا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ ڈیرے پر تو کام والا آدمی ہے وہاں ممکن نہیں تم جنگل کی طرف چلو.. ہمارے شہر کے باہر ایک چھوٹا سا جنگل بھی ہے جسے ہم “بیلا” کہتے ہیں، میں نے پوچھا کہ بیلے میں کدھر، میں نے کھلی جگہ پر درختوں وغیرہ میں نہیں کرنا. وہ کہنے لگا کہ ٹینشن نہ لو جگہ ہے ادھر. وہ بتانے لگا کہ جنگل کے تھوڑا ہی اندر جا کر ایک ملنگ کی جھونپڑی ہے اور وہاں سے بعض دفعہ گزرتے ہوئے وہ وہاں اسکے پاس بیٹھ جاتا ہے اور اب اس ملنگ سے اسکی اچھی خاصی دوستی ہے.
جیسے ہی ہم جھونپڑی کے پاس پہنچے، وہاں 2 جھونپڑیاں تھیں ایک تھوڑی بڑی تھی اور صاف ستھری تھی، جسکے اندر ایک چٹائی بچھی تھی اور ایک چارپائی تھی جس پر بالکل صاف ستھرا بستر لگا ہوا تھا، دوسری جھونپڑی میں مٹی کا چولہا اور جلانے کے لئیے لکڑیاں وغیرہ رکھی تھیں. ماحول بالکل صاف ستھرا تھا جس پر میں خود حیران تھا. ملنگ بابا نے جھونپڑی کے ساتھ تھوڑی سی جگہ پر سبزیاں وغیرہ لگا رکھی تھیں. اکرم نے مجھے کہا کہ موٹر سائیکل ساتھ والی جھونپڑی کے اندر کھڑا کرو تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ یہاں کوئی موٹر سائیکل والے بھی ہیں کیونکہ پولیس اکثر جنگل کے اندر تک گشت کرتی ہے.
جب میں رہائش والی جھونپڑی میں گیا تو اندر 3 لوگ پہلے سے ہی موجود تھے، ایک ملنگ جو کہ کافی کمزور سا تھا اور عمر 70 سے 80 کے درمیان ہو گی. اور ساتھ والے گاؤں سے آئے ایک بوڑھے میاں بیوی تھے جنہوں نے ملنگ کے ساتھ مل کر سبزیاں کاشت کی ہوئیں تھیں. میں نے سلام دعا کیا اور اکرم کو دیکھا جو جاتے ہی ملنگ کی چارپائی میں بستر کے اندر گُھس گیا تھا جبکہ ملنگ خود اور دوسرے میاں بیوی باہر چٹائی پر بیٹھے تھے. میں نے سوچا کہ بوڑھے بیچارے باہر نیچے بیٹھے ہیں تو میرا اوپر بیٹھنا مناسب نہیں. میں نیچے بیٹھنے لگا تو اکرم نے کہا نہیں بیٹھو نیچے ٹھنڈ ہے ادھر اوپر آ جاؤ، جس پر باقی تینوں نے بھی کہا کہ اوپر بیٹھ جاؤ. ویسے بھی میں نے پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی اور شکل صورت اور لباس دیکھ کر وہ مجھے بہت ممی ڈیڈی سا سمجھ رہے تھے، خیر میں نے بھی دل میں شکر کیا کہ اکرم کے پاس بستر کے اندر بیٹھنے کا موقع ملا ہے.
تھوڑی دیر میں بستر کے اندر بیٹھنے سے میرے ہاتھ پاؤں نارمل ہوئے تو میں نے آہستہ آہستہ بستر کے اندر ہی اکرم کے ل کی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کیا تو اکرم نے کہا کہ میں تھکا ہوا ہوں مجھے دبا دو تاکہ سب کہ پتہ چل جائے کہ میں اسے دبانے کے لئے اسکی ٹانگوں پر ہاتھ پھیر رہا ہوں. پھر میں ایک ہاتھ سے دبانے اور دوسرے ہاتھ سے اسکے ل کے ساتھ کھیلنے لگ گیا.. ل اسکا ابھی جاگ رہا تھا اور ٹٹے رضای کے اندر گرمی ہونے سے تھوڑے لٹک رہے تھے، تقریباً آدھا گھنٹہ میں اسکے ل کے ساتھ کھیلتا رہا، سب لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے اور ملنگ اور دوسرا گاؤں کا بوڑھا ساتھ ساتھ حقہ پی رہے تھے. کافی دیر بیٹھ بیٹھ کر میں تھک گیا تو اکرم نے کہا کہ ادھر ساتھ لیٹ جاؤ. میں بھی ساتھ لیٹ گیا لیکن اب اسکے لن کے ساتھ کھیلنا ممکن نہیں تھا اسلئیے میں دوبارہ اٹھ کر بیٹھ گیا. ساڑھے چار بجے کے قریب سورج تقریباً ڈھل چکا تھا اور گاؤں والے میاں بیوی گھر جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے جس پر میں نے دل ہی دل میں شکر کا کلمہ پڑھا. ملنگ اٹھ کر باہر آگ جلانے چلا گیا. اور میں اکرم کے اوپر لیٹ کر اسکے ہونٹ چوسنے لگ گیا. پھر میں اسکے ساتھ جپھی لگا کر لیٹ گیا. اتنی دیر میں ملنگ پھر اندر کوئی چیز لینے آیا تو ہم سیدھے ہو کر لیٹ گئے، پھر وہ باہر جاتا تو ہم جپھی، چومیاں اور یہ سب کرنے لگ جاتے پھر یہ سلسلہ 20 منٹ تک سیسے ہی چلتا رہا. پھر جب ملنگ فارغ ہو گیا تو اکرم نے اسے کہا کہ چائے پینے کو دل کر رہا ہے. ملنگ نے کہا کہ اسوقت تو دودھ بھی نہیں اور چینی بھی ختم ہے، اکرم نے اسے پیسے دیے اور کہا کہ ساتھ والے گاؤں سے جا کر دودھ اور چینی لے آؤ. ساتھ والا گاؤں پیدل تقریباً 15 منٹ کے فاصلے پر تھا. مطلب 15 منٹ جانے 15 منٹ ادھر خریداری اور 15 منٹ واپس آنے میں نے دل میں حساب لگایا کہ اسے کم از کم بھی 45 منٹ لگیں گے.. میں نے دل ہی دل میں اکرم کو اسکے زبردست پلان کی داد دی.
ملنگ چلا گیا تو پیچھے ہم دونوں جھونپڑی میں اور جنگل بیابان… اکرم نے ملنگ کو کہا کہ جاتے ہوئے جھونپڑی کا دورازہ بند کر جاؤ. ملنگ نے گھاس پھوس اور چند لکڑیوں سے بنا ہوا دروازہ ٹائپ جھونپڑی کے آگے دروازے کے طور پر رکھ دیا.
اسکے بعد ہم نے کپڑے اتارے، اکرم نے کہا کہ پینٹ اتار کے سائیڈ پہ رکھ دو میں اس طرح کے غیر محفوظ جگہ پر پہلی بار کر رہا تھا تو تھوڑا ڈر رہا تھا، اس نے کہا کہ ٹینشن نہ لو اب اسوقت ادھر کوئی بھی نہیں آنے والا. خیر اسکی تسلی پر میں نے پینٹ اور انڈر ویئر اتار کر چارپائی کی سائید پر رکھ دیا. اکرم نے خود تو تہمند باندھا تھا.. جو کہ سیکس کے لئیے سب سے مزیدار چیز ہے آرام سے آگے سے پیچھے کرو اور کام کرو.. خیر اس نے اپنی پسند کے طریقے کے مطابق میری ٹانگیں اپنی کندھوں پر رکھیں اور ل پر تھوڑی تھوک لگا کر آرام آرام سے اندر کرنے لگا.. جیسے ہی مجھے تکلیف ہوتی وہ رک جاتا اور پھر بہت آرام سے تھوڑا سا اور اندر کرتا. جب پورا اندر چلا گیا تو اس نے آہستہ آہستہ سے جھٹکے لگانے شروع کیے، چارپائی کافی گہری سی تھی اور ہم دونوں ہی آرامدہ محسوس نہیں کر رہے تھے اور جھٹکے لگانے سے چارپائی کے اندر سے مختلف “چیں چیں چیں” کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں جس پر وہ پریشان ہو کر رک گیا… پھر وہ بہت ہی آرام سے جھٹکے لگانے لگا لیکن دونوں کو ہی مزہ نہیں آ رہا تھا. اس نے مجھے کہا کہ نیچے چٹائی پر آ جاؤ. ہم نے اوپر لینے والی رضائی اٹھائ اور نیچے چٹائی پر آ کر کرنے لگ گئے. میں نے کہا کہ اب پھر سے اندر کرنا پڑے گا اب پھر درد ہو گی. اس نے کہا کہ ٹینشن نہ لو میں آرام سے کروں گا. اسکے بعد پھر اس نے اندر کیا اور مزے سے تیز تیز جھٹکے لگانے لگ گیا. پھر وہ میرے اوپر آیا اور میرے ہونٹ چوس کر ساتھ ساتھ جھٹکے لگاتا رہا… کبھی وہ میرا ل ہاتھ میں پکڑ کر مٹھ مارتا تو کبھی میرے ہونٹ چوستا. تقریباً آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا جب وہ فارغ ہوا… اس نے اپنی جیب سے کپڑا نکال کر مجھے دیا ک صاف کر لو اور خود بھی اپنا ل صاف کرنے لگا. اور چپ کر کے نیچے سیدھا لیٹ گیا.. میں اپنی باری کے مطابق اسکے اوپر لیٹ گیا اور اپنی ل اسکے ل کے قریب اسکی ٹانگوں کے بیچ رکھ دیا، اس نے ٹانگیں دونوں بند کر لیں میں جھٹکے لگانے لگ گیا اور ساتھ ساتھ اسکے ہونٹ اور گردن پر چومیاں کرنے لگ گیا… اسکے نرم اور گرم پٹوں کے اندر میں نے فارغ ہو گیا اس نے پہلے ہی اس جگہ نیچے کپڑا رکھ دیا تھا تو کہ چٹائی خراب نہ ہو. پھر ہم نے کپڑے پہنے. اکرم کہنے لگا کہ تھوڑی دیر نلکا چلاؤ تو کہ نہا لوں اسوقت گھر جا کر نہیں نہا سکتا. میں نلکا چلاتا رہا اور اس نے غسل کیا.
اسوقت تک عشاء کی آذان ہونے کے قریب کا ٹائم ہو گیا تھا. ملنگ ابھی تک واپس نہیں آیا تھا. ہم نے جلدی جلدی جنگل سے نکلنے کا سوچا، ملنگ کی جھونپڑی کا دورازہ بند کیا موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور میں اکرم کے گاؤں کی طرف چل پڑا اسے چھوڑنے کے لئے. راستے میں ہم نے اگلی بار ملنے کا پروگرام سیٹ کیا.
(اس سے اگلی 3 ملاقاتیں تقریباً ایک ہی جیسی تھیں، اسکے بعد کی وہ یادگار ملاقات تھی جس میں اکرم باٹم بنا، وہ کب، کیسے اور کیوں بنا اور کب تک وہ باٹم رہا… یہ کہانی پھر سہی)
Nice story frien
کسی بوڑھے کے ساتھ ہونے والی میری سب سے جلدی سیٹنگ:
اُن دنوں میں لاہور ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا اپنی جاب کی ٹریننگ کے سلسلے میں، ایک رات تقریباً 10 بجے میں گوالمنڈی کھانا کھانے کے لئے گیا، ایک ہوٹل پر “مغز” آرڈر کیا اور خود موبائل پر گیم کھیلنے میں لگ گیا، میرے سامنے والی ٹیبل پر ایک خوبصورت، گورا رنگ، تھوڑا موٹا لیکن زیادہ نہیں، اچھے طریقے سے کی ہوئی شیو اور مونچھیں تقریباً بالکل چھوٹی چھوٹی، عمر تقریباً 60 سال، بیٹھا کھانا کھا رہا تھا، ایک بار میرا اسکی طرف دھیان گیا وہ میری طرف دیکھ رہا تھا، میں نے توجہ نہیں دی، تھوڑی دیر بعد گیم کھیلتے کھیلتے شیطان میرے دماغ میں گھس گیا، میں نے پھر اسکی طرف دیکھا تو وہ کھانے میں مصروف تھا، میں نے اسکے چہرے کے خدوخال نوٹ کرنا شروع کیے تو وہ مجھے پر کشش سا لگا. اتنے میں اس نے پھر دھیان اوپر کیا تو ہماری نظریں دو چار ہوئیں. میں نے پھر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا، اسی طرح چپکے چپکے کبھی وہ میری طرف دیکھتا اور کبھی میں اسکی طرف.
وہ اپنا کھانا ختم کر چکا تھا اور میرا آرڈر کیا ہوا کھانا ابھی ٹیبل پر آیا تھا. جیسے ہم نظریں ملا رہے تھے یہ بات تو کنفرم ہو چکی تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا ہے. میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کھانا ختم کر لیا ہے اب وہ نکل جائے گا لیکن میرا کھانا تو ابھی پہنچا ہے اور بھوک بھی بہت زور کی لگی ہے، اتنے میں اس نے ویٹر کو آرڈر کیا کہ چائے لے کر آئے اور پیار سے میری طرف دیکھا، میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے بولا ہے کہ آرام سے کھانا کھاؤ. جیسے ہی میں نے کھانا کھایا وہ بھی چائے پی چکا تھا، میں نے ہاتھ دھونے کے بعد کاؤنٹر پر اپنا بِل دیا اور اسکی طرف مُڑ کر گہری نظر سے دیکھ کر باہر نکل گیا وہ بھی فوراً اٹھا اور اپنا بل دینے لگا. باہر نکل کر میں نے جائزہ لیا اور دیکھا کہ یہاں سے مجھے دائیں ہاتھ جانا چاہیے کیونکہ اسکی ٹیبل پر کار کی چابی میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا مجھے پتہ تھا کہ یہ دائیں ہاتھ آ سکتا ہے بائیں ہاتھ ٹریفک نہیں جاتی.
میں نے ہوٹل کے ساتھ واقع پان شاپ سے سگریٹ کا پیکٹ خریدا اور سگریٹ پیتا ہوا پیدل چل پڑا، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بھی ایک نیلے رنگ کی Mitsubishi Lancer میں بیٹھ رہا تھا، ابھی 1، 2 منٹ ہی پیدل چلا ہوں گا کہ وہ گاڑی میرے ساتھ آ کر رک گئی، اس نے شیشہ نیچے کیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، بیٹا! کہاں جانا ہے؟ بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے اسے بولا کہ ماڈل ٹاؤن، وہ کہنے لگا کہ بیٹھو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے بیٹھتے ہی سلام لیا اور ہاتھ ملاتے ہی ہمیں ایک دوسرے کا اندازہ ہو گیا. اور ہم ایک دوسرے سے تعارفی سوالات کرنے لگے.
گاڑی جیل روڈ پر آتے ہی وہ کہنے لگا کہ مجھے کینٹ میں تھوڑا کام ہے اور میں اکیلا ہوں میرے ساتھ چلو گے بعد میں تمہیں میں اِدھر چھوڑ دوں گا. میں ایک نامعلوم بندے کے ساتھ نامعلوم جگہ پر جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اس وقت ایسی شیاری ایسی چڑھی ہوئی تھی کہ میں انکار نہیں کر سکا. اسکے بعد اس میرے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا اور میرا ہاتھ دبا کر کہنے لگا کہ “شکریہ، مجھ پر اعتماد کرنے کا”
میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا کہ مجھ سے کس طرح کی دوستی چاہتے ہو، وہ کہنے لگا کہ جیسے تم کہو گے ویسے کر لیں گے. جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ یا تو یہ ورسٹائل ہے یا باٹم. کینٹ میں وہ گاڑی مختلف بلاکس میں گھماتا ہوا ایک ویران سی جگہ لے گیا اور لائٹس بند کر دیں. اسکے بعد وہ میری طرف مڑا اور ایک بازو میری گردن کے پیچھے کر کے مجھے اپنے قریب کے کہ میرے ہونٹ چوسنے لگ گیا. مجھے کہنے لگا کہ اپنی زبان میرے منہ میں دو مجھے زبان چوسنے کا بہت مزہ آتا ہے. 2، 3 منٹ ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے کے بعد ہم نے گہری سانس لی اور پھر ایک دوسرے کی چومیاں لینے لگ گئی، میں نے ساتھ ایک پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے ل کی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کر دیا، جیسے ہی میرا ہاتھ اسکے ل کے قریب پہنچا اس نے بھی اپنی ٹانگیں کھول کر میرا کام آسان کر دیا.. ل ابھی سو رہا تھا اور مجھے اندازہ ہو گیا زیادہ بڑا نہیں پھر میں نے ہاتھ اسکی کمر پر پھیرتے ہؤے جب اسکی پیٹھ کے قریب پہنچا تو اس نے اس بار وہ زیادہ مڑا اور اپنی پیٹھ بالکل واضح کر دی جیسے ہی میں اسکی پیٹھ کے دونوں حصوں کے درمیان اسکے سوراخ تک اپنی انگلی پہنچای تو اسکے منہ سے “سیی سیی” کی آواز نکلی. میں اسکی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکے سوراخ کے اوپر اپنی انگلی پھیرتا رہا اور مزید بیتاب ہؤے جا رہا تھا. وہ اس پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تھک چکا تھا اور ہم جیسے ہی اپنی سیٹوں پر سیدھے ہو کر بیٹھے ہم دونوں ہی لمبے لمبے سانس لینے لگے. اس نے پیچھلی سیٹ سی پانی والی بوتل اٹھای اور میری طرف بڑھا دی، میں نے چند گھونٹ پیے اور بوتل اسکی طرف بڑھا. اسکے بعد میں نے سیگرٹ سلگائی اور اسے آفر کی اس نے کہا کہ میں نہیں پیتا.
گاڑی پہلے ہی سٹارٹ تھی اس نے ہیڈ لائٹس آن کیں اور کہنے لگا کہ اب کیا پلان ہے؟ میں نے پہلے تو اسے کہا کہ میرے پاس جگہ نہیں حالانکہ میں کمرے میں اکیلا رہتا جو کہ میری کمپنی نے ایک ماہ کے لیے مجھے لے کر دیا ہوا تھا. وہ کہنے لگا کہ اسکے پاس بھی جگہ نہیں لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہوٹل میں کمرہ لے لیتے ہیں، میں ہوٹل میں لگے خفیہ کیمرے یا اسکی جگہ پر جانے سے ڈر رہا تھا، پھر میں نے کہا کہ چلو میرے کمرے میں چلتے ہیں، ہم دوبارہ ماڈل ٹاؤن کی طرف چل دیئے، راستے میں اس نے ایک بیکری پر گاڑی روکی مجھے گاڑی کے اندر بیٹھے رہنے کا کہا اور خود بیکری کے اندر چلا گیا. وہ کافی ساری چِپس، چاکلیٹس، ریڈ بُل اور ہارس پاور انرجی ڈرنکس لے آیا، اسکے بعد اس نے گاڑی ایک پان شاپ پر روکی اور اسے گولڈ لیف سیگرٹ کا ایک پورا ڈندا جس میں 10 پیکٹ ہوتے ہیں وہ بھی لیا، میں چپ چاپ بیٹھا رہا.
جیسے ہی ہم میرے کمرے میں پہنچے، دروازہ بند ہوتے ہی ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور ہونٹ چوسنے لگے، اس نے مجھے پینٹ اور انڈروئر اتارنے کو کہا اور خود اپنی بھی اتارنے لگ گیا، اسکا ل تو سو رہا تھا لیکن میرے کا تو چھلانگیں مار مار کر برا حال تھا. اسکے بعد وہ نیچے بیٹھ گیا اور میرا ل اپنے منہ میں لے لیا، 1 منٹ بعد ہی میں فارغ ہونے والا ہو گیا اور میں نے ل جلدی سے اسکے منہ سے نکال کے پیچھے ہو گیا. وہ میری طرف حیرت سے دیکھنے لگ گیا میں نے کہا کہ “کیا جلدی ہے پوری رات ہمارے پاس ہے” جاؤ اور جا کہ کُلی کر کے آؤ.
میرے پاس ایک ہی سنگل بیڈ تھا لیکن کمرے میں کارپٹ بچھا ہوا تھا. کھانا چونکہ دونوں پہلے ہی کھا چکے تھے اسلئیے فی الحال بھوک دونوں کو نہیں تھی، انرجی ڈرنک نکالا اور وہ پینے لگ گئیے، میں نے ساتھ سیگرٹ نکالی اور وہ پینے لگ گیا، وہ مجھے کہنے لگا کہ میں سیگرٹ نہیں پیتا لیکن مجھے سیگرٹ پینے والے لڑکے بڑے اچھے لگتے ہیں، سیگرٹ کا کش لگاؤ اور جب دھواں تمہارے منہ میں ہو تو وہ دھواں چومی کے ذریعے میرے منہ میں ڈالو اسکی اس حیرت انگیز فرمایش پر میں تھوڑا حیران تھا، اسکے بعد میں ایک لمبا کش لگاتا اور فوراً اسکے منہ سے منہ ڈال دیتا ہم دونوں ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے ہوئے سیگرٹ کا دھواں ادھر سے ادھر ٹرانسفر کرتے.
اسکے بعد میں نے اس سے کہا کہ اب ڈوگی سٹائل میں ہو جاؤ مجھے ایک بار پانی نکالنا ہے جلدی جلدی، وہ کہنے لگا کہ نہیں ایسے نہیں… وہ الٹا لیٹ گیا اور اپنی ایک ٹانگ سائیڈ سے اوپر کی طرف کر لی، اسکا سوراخ سامنے تھا، اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ل پر تھوک لگا کر کہا اب کر دو اندر لیکن آرام آرام سے… جیسے ہی میں نے اسکی پیٹھ کی ایک سائڈ کو ہاتھ سے اوپر کیا وہ پھر سے سی سی سی کی آوازیں نکالنے لگ گیا حالانکہ ابھی تک میں نے اندر بھی نہیں تھا کیا. پھر میں نے آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا تو اسکی سی سی سی کی آوازیں آہ آہ آہ میں بدلنے لگ گئیں، تھورے ہی جھٹکے لگانے کے بعد میں فارغ ہو گیا، میں نے اسے بتایا کہ بہت دنوں سے کیا نہیں تھا اسلئیے جلدی فارغ ہوا ہوں دوسرے پھیرے میں بہت لمبا ٹائم لگے گا، اور تھوڑی دیر بعد واش روم میں جا کر ہم نے صاف کیا اور ایک بار پھر جپھی لگا کر لیٹ گئے اور دوسرے راؤنڈ کی تیاری کرنے لگے.
اس آدمی کا نام شیخ بشیر تھا، اور گورنمنٹ کا 19ویں گریڈ کا افسر تھا اس نے مجھے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک بہت سینئر جج بھی بہت مشہور باٹم ہے، پھر اس جج نے مجھے بتایا کہ ایک سنئیر وفاقی وزیر بھی ورسٹائل پسند کرتا ہے، جج صاحب تو نہ خود کسی کہ ارینج کی ہوئی جگہ پر جاتے اور نہ کسی کو اپنے گھر بلاتے تھے، بلکہ 5سٹار ہوٹل میں کمرہ بُک کرا کے انجوائے کرتے تھے، اور سیٹنگ ہونے سے پہلے دوسرے سے ملاقات، اسکا نام وغیرہ کسی کو نہ بتانے کی قسم لیتے تھے، میں نے بھی انہیں قسم دی تھی، اس لیے انکی تفصیلات تو نہیں لکھ سکتا. اور وفاقی وزیر کو تو میں نہ مل سکا لیکن فون پر اس سے کافی دفعہ بات ضرور ہو گی وہ مجھے جلد ملنے کے وعدے کرتا رہا لیکن ملا نہیں… اس وقت پی پی پی کی حکومت تھی. تفصیلات پھر کسی پوسٹ میں لکھوں گا.
Nice story friend
آپکے اردگرد کونسا بوڑھا آدمی Gay ہے، کس طرح کے بوڑھے کو کس طرح سیٹ کیا جا سکتا ہے، اسکے لئے مندرجہ ذیل tips آپ سب دوستوں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں
This is very important article about “tips and tricks to find old man gay around you” those who can’t understand Urdu can copy text and paste into Google Translate. And don’t forget to reblog.
1) ورسٹائل کے لئیے فوج اور پولیس سے ریٹائرڈ بوڑھے بہترین انتخاب ہیں، ریٹائرڈ فوجی وفادار بھی ہوتے ہیں اور شریف النفس بھی، انکے اندر پیسوں کا لالچ بھی نہیں ہوتا، جبکہ ریٹائرڈ پولیس والے پہ یقین کرنا ذرا مشکل کام ہوتا ہے وہ کسی وقت بھی دھوکہ دے سکتے ہیں. میرے تجربے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد ریٹائرڈ فوجی ہم جنس پرستی پسند کرتے ہیں. جسمانی طور پر فِٹ ہوتے ہیں ٹاپ ہوں تو بھی مزہ دیتے ہیں اور باٹم میں بھی وفادار رہتے ہیں.
2) ریٹائرڈ فوجی دیہات میں اور چھوٹے شہروں میں رہنے والوں کو بآسانی مل جائیں گے، بڑے افسر پر نہ ہاتھ ڈالیں، سپاہی وغیرہ بہترین ہوتے ہیں.
3) ہر شہر کے اندر پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی ایجنسیاں ہوتی ہیں جیسا کہ “Phoenix” وغیرہ جو کہ بینکوں کو سیکورٹی گارڈ فراہم کرتی ہیں، وہ سب لوگ 5 بجے چھٹی کرتے ہیں اور عموماً دیہاتوں میں رہتے ہیں، اور اکثر اس دفتر کے باہر کھڑے نظر آئیں گے یا تھوڑا بہت پیدل چلتے ہوئے کو بس اسٹینڈ تک لفٹ دیں اسی دوران اس سے بات چیت کر لیں.
4) اگر آپ کے شہر میں فیکٹری ایریا ہے تو شام ساڑھے 6 سے 7 بجے کے درمیان اکثر ریٹائرڈ فوجی یا بوڑھے پٹھان آپ کو پیدل فیکٹری ایریا کی طرف جاتے یا کسی فیکٹری کے باہر بیٹھے مل جائیں گے، ان لوگوں کے پاس جگہ بھی ہوتی ہے اور فل نائٹ ٹائم بھی.
5) بُھوری یعنی grey آنکھوں والے زیادہ بوڑھے Gay ہوتے ہیں.
6) لمبے یا درمیانے قد مگر جنکے ہاتھ چھوٹے چھوٹے ہوں ہاتھوں کی انگلیاں بھی قد کے مقابلے چھوٹی ہوں زیادہ چانسز یہی ہوتے ہیں کہ وہ Gay ہیں.
7) ایسے بوڑھے جو ہر وقت لش پش صاف ستھرے اور شیو یا داڑھی سیٹ کر کے رکھتے ہیں وہ بھی شوقین مزاج کے ہوتے ہیں.
8) ایسے بوڑھے جنکی عمر 50 سے 60 کے درمیان ہو مگر انکی بیوی نہ ہو انہیں بھی اپنی جنسی ہواہش کو پورا کرنے کے لئے ہر حال میں کوئی راستہ چاہیے ہوتا ہے.
9) ایسے بوڑھے جو جوان لڑکوں کے ساتھ گپ شپ لگانا پسند کرتے ہوں، جہاں 2، 4 جوان لڑکے اکٹھے دیکھے خود وہاں جا کر سلام دعا کرتے ہوں وہ بھی شوقین مزاج ہوتے ہیں.
10) آپکے محلے میں کوئی نہ کوئی ایسا لڑکا ہو گا جو گانڈو مشہور ہو گا یا جس پر لوگ شک کرتے ہوں گے، اگر کسی بوڑھے کو ایسے لڑکے سے اکثر سلام دعا یا بات چیت کرتے ہوئے پائیں تو وہ بوڑھا بھی ہم جنس پرست ہوتا ہے.
11) ایسا بوڑھا جو محلے کی زیادہ تر عورتوں سے راہ گزرتے ہوئے بات چیت یا ہنسی مذاق کرے.
12) ایسا بوڑھا جو آپ سے اکیلے میں تو اچھی خاصی گپ شپ لگائے مگر جیسے ہی کوئی اور بوڑھا ارد گرد ہو تو آپکو مکمل نظر انداز کرے.
13) ایسا بوڑھا جو آپکو یا دوسرے جوان لڑکوں کو آنکھیں بھر کے دیکھتا ہو، آپ سے سلام لیتے ہوئے گرمجوشی سے سلام لے.
14) ایسا بوڑھا جو آبادی سے دور ڈیرے پر رہتا ہو وہ آسان شکار ہوتا ہے.
15) ایسا بوڑھا جو آپ سے پرسنل قسم کے سوال پوچھتا ہو، کہ کیا کرتے ہو، کتنے بہن بھائی ہو، گھر میں کون کون ہوتا ہے، ڈرائینگ روم یعنی بیٹھک ہے کہ نہیں.
اب یہ والی ٹپس اس صورتحال کے لئیے ہیں کہ آپکو اپنا کو رشتہ دار یا گلی محلے کا بندہ پسند آ جائے، لیکن آپ کو پتہ نہیں کہ وہ Gay ہے یا نہیں اور آپ ڈائریکٹ پوچھ کے رِسک بھی نہیں لینا چاہتے تو ان باتوں پر step by step عمل کریں:
16) اپنے محلے کے کسی بوڑھے کو چیک کرنا ہو تو اسے سے پرسنل سوال پوچھیں. کہ کہاں سوتے ہو، کس ٹائم سوتے ہو، کس ٹائم جاگتے ہو، بچے زیادہ کیوں پیدا کیے یا کم کیوں پیدا کیے؟ اکیلے کیا کرتے ہو، کس ٹائم اکیلے ہوتے ہو. رات کو سوتے وقت کونسا ڈریس پہنتے ہو؟ تہمند، دھوتی باندھتے ہو یا شلوار پہن کے سوتے ہو؟ آپکی شادی کتنی عمر میں ہوئی تھی؟ شادی سے پہلے یا شادی کے بعد کبھی کسی سے پیار ہوا تھا کہ نہیں؟ وغیرہ وغیرہ
17)کوشش کریں اسے اس ٹائم ملا کریں جب یا تو اندھیرا ہو یا پھر وہ اکیلا ہو، اسے باقی سب لوگوں سے بڑھ کر احترام اور پیار دیں، جب بھی ملے ہاتھ تھوڑا دبا کر سلام لیں اور کوشش کریں جب بھی وہ ملے اسے گلے ملیں، اور اگر بالکل اکیلے ہوں یا اندھیرے میں گلی محلے میں بھی ملیں تو مکمل اوپر سے نیچے تک ساتھ لگ کے ملیں، سلام لیتے وقت مسکراہٹ کے ساتھ اسکی آنکھوں میں دیکھتے رہیں.
18) جب اسے گلے ملنے کی عادت پڑ جائے تو درمیان والے حصے کو اسکے درمیان والے حصے کے ساتھ لگا کر ملیں، پھر کچھ دنوں بعد گال کے ساتھ گال جوڑنا شروع کریں، پھر کچھ دنوں بعد اسکی گردن پر تھوڑے تھوڑے ہونٹ ٹچ کرنا شروع کریں.
19) اسے اکیلے کھانے پر لے کے جائیں اور اسکی توقع سے اچھی اور رومانٹک جگہ پر کھانا کھلائیں.
20) اگر نارمل فرینڈلی موڈ میں آ جائے تو سینما فلم دکھانے لے جائیں. وہاں اندھیرے میں بار بار ہاتھ پکڑنے کا موقع ملتا ہے.
21) اسے اپنے پیچھے موٹر سائیکل پر بٹھا کر اسے بولیں کہ آگے ہو کر بیٹھے یا وہ موٹر سائیکل چلا رہا ہو تو اسکے دونوں کولہوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر بیٹھیں. جب اسے چلتا ہوا دیکھیں کہ وہ آپکی طرف آ رہا ہے تو اسکے “لن” والی جگہ پر نظر جما کر دیکھتے رہیں پھر فوراً اسکی آنکھوں میں دیکھیں پھر لن کی طرف، ایک بار Gay ہونے کا بس پتہ چل جائے ٹاپ یا باٹم ہونے کا مسئلہ تو بعد میں حل ہو سکتا ہے.
22) اسے اکثر فون کال کریں کہ آپکی یاد آ رہی ہے کافی دن ہو گئے ہیں ملے ہی نہیں. عید پر سپیشل اسے عید ملیں چاہے اسکے گھر جا کر.
اُمید ہے کہ اس سب کے بعد اور اگر اس میں تھوڑے سے بھی Gay والے جراثیم ہوئے تو وہ سیٹ ہو جائے گا اگر پھر بھی نہیں ہو تو یا اس سے پیچھے ہٹ جائیں یا پھر صاف ستھری دوستی کر لیں.
اب یہ والی ٹپس ان بوڑھوں کو چیک کرنے کے لئے ہیں جو آپکو نہیں جانتے اور آپ انہیں نہیں جانتے انہیں بآسانی تھوڑا بہت رسک لے کر بھی چیک کیا جا سکتا ہے.
23) سلام دعا لیں، سلام کے لئیے اسکا ہاتھ تھوڑی دیر اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھیں اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے رہیں پیار سے.
24) سلام لیتے وقت جب وہ آپکے چہرے کی طرف دیکھ رہا ہو تو اپنے ہونٹوں پر زبان پھیریں.
25) اسکا نام پتہ پوچھیں، اب مشکل مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ نام معلوم بندہ ہے اسکے ساتھ بات چیت کیسے سٹارٹ کریں
26) چونکہ وہ آپ کو نہیں جانتا اور آپ اسے نہیں جانتے اس لئے ڈائریکٹ بولیں کہ آپ پہلی نظر میں اچھے لگے ہیں اسلئیے دل کیا کہ آپ کے ساتھ سلام دعا لوں، اگر وہ بہت ہی سنجیدہ دکھ رہا ہو تو اسے چائے پانی آفر کریں، اگر وہ بھی شوق سے بات چیت کر رہا ہو تو اسے بولیں کہ “آپ مجھے شوقین مزاج کے لگتے ہیں”
“لگتا ہے آپکو بھی میری طرح یاری دوستی کرنے کا شوق ہے”
اگر بات بن گئ تو ٹھیک، نہیں تو وہ اپنی راہ اور آپ اپنی راہ.
اس سے پوچھیں کہ “آپ سے دوستی کرنی ہو تو؟” اگر وہ آگے سے زیادہ پھیکا یا سخت اور سنجیدہ جواب دے تو صرف اتنا کہیں “آپ مجھے اچھے لگے ہیں صرف اسلئے بولا ہے” اگر تھوڑا نرم جواب دے یا گرین سگنل دے تو فوراً سے پہلے اسکا موبائل نمبر لیں.
27) اگر وہ آپکو شوق سے دیکھے یا مسکرا کر جواب دے تو پھر سلام کے لئیے ہاتھ بڑھائیں اور اس بار سلام کے ساتھ اپنی انگلیاں اسکی ہتھیلی کے اندر رگڑ کر سلام لیں، ہاتھ چھوڑتے وقت اسکا انگوٹھا 👍 مٹھ مارنے کے سے انداز میں پکڑیں.
28) سب سے آخر میں ہاتھ کے اندر انگلی سے خارش کرنے والا فارمولا بیشک پرانا اور گھٹیا ہے لیکن آج بھی سب سے زیادہ آزمودہ اور جلدی رزلٹ دینے والا ہے، جہاں ممکن ہو یہ استعمال کریں، بوڑھے سے بوڑھا اور ان پڑھ بھی 1 سیکنڈ میں سمجھ جائے گا، اسکے بعد پھر ہو گا “ہاں یا ناں”
سڑک کنارے پیدل چلتے ہوئے بوڑھے کو لفٹ دیں اور اور اسے بولیں کہ آگے ہو کر ساتھ لگ کر بیٹھو، یا تو وہ بیٹھ جائے گا یا پھر بولے گا کہ نہیں تم مجھے اتار دو، فوری طور پر ہاں یا ناں کا پتہ چل جائے گا.
30) اور آخری ٹِپ اگر اوپر والی 29 میں سے کسی ٹپ پر عمل نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی خاص طور پر کسی بوڑھے رشتہ دار یا محلے کے آدمی کے Gay ہونے کا پتہ کرنا ہو تو Tumblr پر کسی اعتماد والے دوست کو اسکی تفصیل بتا کر اس سے پتہ کرا لیں.
نوٹ: یہ سب میرے علم کے مطابق ہے، آپ کمنٹس میں اپنا سب سے زیادہ آزمودہ فارمولا بتائیں، ہو سکتا ہے آپ مجھ سے بڑے استاد آدمی ہوں. اگر پوسٹ مکمل پڑھ لی ہے تو اسے ری-بلاگ یعنی شئیر کر کہ میری اتنا لمبا آرٹیکل لکھنے پر حوصلہ افزائی کریں.
Very nice post friend
Koi hai jo old bottom number exchange kari mere sath peshawar wali ??
Agar teri pas ho hamko bi exchange karo
چوہدری اکرم سندھو
سردیوں کے دن تھے میں جاب سے واپس آ رہا تھا 5 بجے کے لگ بھگ ٹائم تھا، اپنی عادت کے مطابق 30، 40 کی سپیڈ پر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے، جب دور میں نے سڑک کے کنارے سفید رنگ کی دھوتی/تہمند اور بوسکی کی قمیض پہنے ہوئے ایک فربہ مائل بوڑھے آدمی کو جس کی عمر 60 سے 65 کے درمیان تھی چلتے ہوئے دیکھا، جب قریب پہنچا تو توقع سے زیادہ خوبصورت پایا. چھوٹی چھوٹی چاندی جیسی داڑھی، سرخی مائل سفید رنگ، باریک نین نقش، سر پر پگ باندھے ہوئے. میں نے اسے بڑے پیار اور عزت سے پوچھا، چاچا جی کہاں جانا ہے بیٹھیں میں آپکو چھوڑ دیتا ہوں، اس نے ایک نظر بھر کر اوپر سے نیچے تک میرا جائزہ لیا اور میرے پیچھے بیٹھ گیا، میں نے گئیر لگایا اور آہستہ آہستہ موٹر سائیکل چلا لیا دل میں دعا مانگنے لگا کہ کہیں دور کا بتائے تا کہ وہاں جانے میں ٹائم لگے. میں نے پھر پوچھا کہ کہاں جانا ہے تو اس نے میرے ساتھ والے گاؤں کا بتایا، میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں میں آپکو چھوڑ دیتا ہوں. پھر ہم ہلکا پھلکا ایک دوسرے سے تعارفی باتیں کرنے لگے.
جیسے ہی ہم تھوڑی ویران جگہ پر پہنچے میں نے پیچھے دیکھا کہ ٹریفک نہیں نہیں تو میں نے اسے کہا کہ آگے ہو کر بیٹھ جائیں جس پر وہ کھسک کر تھوڑا آگے ہو گیا، تھوڑی دیر بعد پھر میں نے پیچھے دیکھا کہ کوئی ٹریفک نہیں تو میں نے ہاتھ پیچھے کر کہ اسکے لن کو ہاتھ لگایا، جس پر اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا، میں تھوڑی دیر اسکے لن سے کھیلتا رہا اور آہستہ آہستہ موٹر سائیکل چلاتا رہا، پھر تعارفی سوالات آگے بڑھے ایک دوسرے سے ذاتی نوعیت کے سوال پوچھنے لگے. تھوڑی دیر بعد شہری آبادی شروع ہو گئی اور ہم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے. اکرم کہنے لگا کہ مجھے یہیں اتار دو میں نے کہا لیکن آپ نے تو فلاں فلاں جگہ جانا تھا اس نے کہا کہ نہیں یہاں تھوڑا کام ہے مجھے یہیں اتار دو لیکن اپنا نمبر دے دو، وہ مجھ سے پوچھنے لگا کہ کب مل سکتے ہو جس پر میں نے اسے ٹائم بتا دیا. اس نے مجھے اپنی جیب سے چھوٹی سی ڈائری دی جس پر میں نے اپنا نمبر لکھ دیا.
رات 7 بجے اسکی کال آئی جو کہ اس نے PCO سے کی کیونکہ اسکے پاس موبائل نہیں تھا، اس نے مجھے اپنے ڈیرے پر بلایا جب میں وہاں پہنچا تو اس نے کہا کہ خوش قسمتی سے آج کام ڈیرے پر کام والا آدمی چھٹی چلا گیا ہے اس لئے ادھر بلایا ہے، موٹر سائیکل کھڑی کر کے ہم ڈیرے کے اندر ایک کمرے میں چلے گئے جہاں 1 چارپائی جس پر رضائی وغیرہ موجود تھی اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا اور تھرماس سے گرم گرم دودھ کا ایک گلاس دیا جو کہ وہ گھر سے لے کہ آیا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ آج کام والا ادھر نہیں اسلئیے آج ادھر سو رہا ہوں نہیں تو میں گھر میں ہی سوتا ہوں.
دودھ پینے کے بعد وہ بستر میں گھس گیا اور مجھے بھی پاؤں اوپر کر کر رضائی اوپر لینے کا کہا، میں نے شوز اتارے اور پاؤں اوپر کر کے رضائی اپنی ٹانگوں کے اوپر لے لی. وہ کہنے لگا کہ آج چل چل کے بہت تھک گیا ہوں اگر تم غصہ نہ کرو تو میری ٹانگیں تھوڑی دبا دو، میں تو پہلے ہی اسی انتظار میں تھا کہ اسے ہاتھ لگانے کا موقع ملے، میں نے اسکے گھٹنوں سے لیکر اوپر کی طرف دبانا شروع کر دیا، تھوڑی ہی دیر بعد ہاتھ جب اسکے ٹانگوں کے درمیان پہنچا تو اسکا لن کھڑا تھا میں نے اسکے لن اور نرم نرم ٹٹّوں سے کھیلنا شروع کر دیا کافی دیر کھیلنے کے بعد میں اسکے ساتھ لیٹ گیا، ہم نے ایک دوسرے کو اپنی بانہوں میں لپیٹ لیا اور ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے، پھر ایک دوسرے کے منہ پر بوسے میں نے اسکی گردن پر ہلکی ہلکی نرم نرم چکیاں کاٹیں جس پر وہ فل گرم ہو گیا، اس نے مجھے سیدھا ہونے اور پینٹ اتارنے کا کہا میں نے ویسا ہی کیا، پھر اس نے دھوتی پیچھے کی اپنے لن کو تھوڑی سی تھوک لگائ اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا، مجھے چونکہ باٹم کی زیادہ عادت نہ تھی بس وہ خوبصورت ہی اتنا تھا کہ میں اسے کسی صورت کھونا نہیں چاہتا تھا، میں نے اسے کہا کہ درد ہو رہا ہے جس پر اس نے تھوڑی اور تھوک لگائ پھر آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا، اس نے میری ٹانگیں اپنے کندھوں کے اوپر رکھ لیں اور آہستہ آہستہ جھٹکے لگانے لگا، مجھے سخت درد ہو رہا تھا لیکن میں برداشت کر رہا تھا، 10 منٹ بعد میں نے اسے کہا کہ میں تھک گیا ہوں کسی اور طرح سے کر لو وہ کہنے لگا کہ کسی اور طرح سے مجھے مزہ نہیں آتا، میں نے اسکا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھا وہ اس نے ساتھ ساتھ میرے لن کو پکڑ کر مُٹھ مارنی شروع کر دی، 20، 22 منٹ کرنے کے بعد وہ فارغ ہو کر میرے ساتھ لیٹ گیا، میں نے ڈرتے ڈرتے اسے کہا کہ میں تمہارے اوپر آ کر تمہارے لن کے ساتھ اپنا لن لگا کر فارغ ہونا چاہتا ہوں اس نے پوچھا کہ ایسے ہو جاؤ گے میں نے کہا کہ ہاں.. اس نے کہا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی، میں اسکے اوپر لیٹ گیا اپنا لن اسکے پٹوں میں رکھ کر رگڑنے لگا اس نے میرا لن اپنے پٹوں میں لے کر دونوں ٹانگیں زور سے بند کر لیں تھوڑے جھٹکے لگانے کے بعد میں نے لن نکالا اور اسکے پیٹ کے اوپر گرم گرم منی کا ڈھیر لگا دیا.
اس نے پاس پڑے کپڑے سے اپنا موٹا سا پیٹ صاف کیا پھر ہم اکٹھے جپھی لگا کر لیٹ گئے. پھر وہ پوچھنے لگا کہ اب پھر کب مِلو گے تو میں نے اسے 2 دن بعد کا ٹائم دیا.
پھر وہ کہنے لگا کہ نلکے کا پانی ٹھیک ہے میں نلکا چلاتا ہوں اور تم نہا کر جاؤ، پھر ہم باہر آئے، وہ اندھیرے میں نلکا چلاتا رہا اور میں نے غسل کیا. اسکے بعد میں نے کہا کہ میں اب نلکا چلاتا ہوں آپ نہا لو، وہ کہنے لگا کہ کوئی بات نہیں میں بعد میں نہا لوں گا. 2 دن بعد میں تمہیں فون کروں گا پھر ایک اور جگہ جانا پڑے گا کیونکہ یہاں کام والا آدمی ہو گا. میں نے سلام لیا اور موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے اپنے گھر واپس آ گیا.
(اکرم کے باٹم ہونے کا کتنی ملاقاتوں کے بعد پتہ چلا اور کونسی ملاقات سب سے یادگار تھی… یہ کہانی پھر سہی)
Nice story friend
ورسٹائل ہونے میں زیادہ مزہ اور آسانی ہے بجائے اسکے کہ صرف ٹاپ یا صرف باٹم ہوں، پاکستانی معاشرے میں ہر کوئی خود کو ٹاپ ہی کہتا ہے چاہے اندر سے وہ باٹم ہو لیکن اپنا جھوٹا بھرم رکھنے کے لئے خود کو ٹاپ کہتا رہے گا.
میرے اپنے 15 سالہ اس تجربے میں مجھے اگر کوئی اپنی پسند کا بوڑھا مل جاتا تھا تو مجھے کوئی پوزیشن پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا، اصل مزہ تو کپڑے اُتار کے اسکے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگنے میں، اسکے ہونٹ چوسنے میں، اسکے سینے کے سفید بال اپنے سینے کے ساتھ رگڑنے میں آتا ہے، بعد میں وہ آپکے اندر کرے یا آپ اسکے اندر کرو اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا.
ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر 10 میں سے 6 بوڑھے لونڈے بازی پسند کرتے ہیں چاہے مارنے والے ہوں یا چاہے مروانے والے. 80% ریٹائرڈ فوجی ہم جنس پرستی پسند کرتے ہیں،
50 سال سے زیادہ عمر والوں کا سب سے بڑا مسئلہ انکی فیملی اور گلی محلے میں عزت کا ہوتا ہے، اسکے بعد سب سے بڑا مسئلہ “جگہ” کا ہوتا ہےکیونکہ عموماً جوان ہو یا بوڑھا کوئی بھی اپنے محلے سے دور جا کہ کرنا پسند کرتے ہیں،رِسک نہیں لینا چاہتے.
اگر آپ نے بُڈھے کا اعتماد جیت لیا، آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ اسکی کوئی بات باہر نہیں پھیلاؤ گے تو وہ آپکو اپنے گھر کے اندر بھی لے کہ جائے گا اور گانڈ بھی دے گا.
Nice comments I like old man
GROUP WHATAPP
SAPA YANG NA MASUK GROUP WHATAPP ADMIN SILAAAA TINGGAL KAN NUMBER . BANYAK VIDEO ADMIN AKAN UPDATE .
Nak
Nak jugak join… 83190938
0189482340..
Please add me on whatsapp 03000500159
Video daddy2 ke?
0197001646
0122422355 urut
Ada tak ayah2 tukang urut area semenyih kajang
plzzz add me 00971543111604
0522692152 add me