میاں صاحب میثاق جمہوریت کی یک طرفہ پاسداری۔ آخر کیو ں اور کب تک ؟
میثاق جمہوریت کی افادیت سے کوئی بھی محب وطن انکار نہیں کر سکتا۔ اور اس پر جب اتفاق کیا گیا اسوقت قوم کی مخلص اور جہاںدیدہ شخصیات کے ما بین یہ معائدہ طے پایا ۔ محترمہ بے نظیر پاکستانی سیاست اور اس کی کمزوریوں سے بخوبی واقف تھیں اور اسی طرح اپ نےبھی زخم کھا کر بہت کچھ سیکھ لیا تھا ۔ لیکن اتنا جامع اور ملک و قوم کی بھلائی کے لئے دونوں بڑی پارٹیوں کا ایک دوسرے کی پوزیشن کو تسلیم کرنا اور قومی مفادات ہی کو ترجیح دینا عوامی جزبات کی ترجمانی تھی اور حب الوطنی کی لا زوال مثال تھی ۔ لیکن افسوس اسکے موجودہ رکھوالوں ہی نے اسکو مزاق جمہوریت بنا ڈالا۔ میاں صاحب کسی بھی معائدہ کی کامیابی کی بنیاد نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ زاتی ترجیہات پر ۔ اپ نے پی۔پی۔پی۔ کے دور میں اس معائدہ کی پاسداری میں انتہا کر دی اور ایک کمزور اور نااہل حکومت کو سہارا دے کر کامیاب کرایا جسکی طرز حکمرانی پر اج پارٹی بغلیں بجانے سے بھی باز نہیں اتی ۔ اور عوام اسکے لگائے ہوئے زخموں کو چاٹ رہے ہیں اور انے والی حکومتیں کافی مدت انہیں گانٹھوں کو کھولتی رہیں گیں ۔ایک طاقتور مضبوط سیاسی پارٹی کے قائیدین کی خواہشات کے بر خلاف اپ نے اپنے عہد کو نبھایا ۔ لیکن کیا اپ نے کبھی سوچا کہ جن سے وعدہ پاسداری تھا اسکا قد و کاٹھ ، سوچ اور جمہوری رکھ رکھائو اج کے پہرے داروں سے بالکل ہی جوڑ نہیں رکھتا ؟ انہوں نے اس وقت بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپکی پارٹی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کیا اور انکا ہر وار کار گر ثابت ہوا۔ میاں صاحب سانپ کا اپ زہر بھی نکال دیں تو اسکے نام سے خوف دل سے نہیں جاتا۔ لیکن اپ جانتے ہوئے بھی ان سے ڈستے رہے ہیں ۔ اور اج جب اپ اقتدار میں ہیں جو کہ اپکی پارٹی کارکنوں اور ممبروں کی انتہائی کوشش کا نتیجہ ہے ۔ اپکے اس اقتدار سے عوامی توقعات پوری نہیں ہو رہی ہیں اور برائے نام پارٹیاں اب زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ اج بھی اس میثاق کا دوسرا فریق اپ اور اپکی پارٹی سے مخلص نہیں ۔ اس پارٹی کو سوائے اپنے مفاد کے کوئی چیز عزیز نہیں ۔اس مشکل دور میں بھی وہ پس پردہ اور کھیل میں مصروف ہیں اور وہ اس کے لئے ہر فورم کا بخوبی استعمال بھی کر رہے ہیں ۔جب اپ کسی کی مدد پر امادہ ہوتے ہیں تو دونوں فریقوں کی ہلہ شیری نہیں کرتے بلکہ ایک واضع اور اصولی موقف اپناتے اور ترجمانی کرتے ہیں ۔ لیکن یہاں تو ایک سازش کے تحت ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں۔ میاں صاحب اتنی سادگی بھی اچھی نہیں جہاں اپکے کندھوں پر قدم رکھ کر عوام کو باور کرایآ جا رہا ہے کہ بہتریں منصوبہ بندی ، عقل و دانش ،حکمت عملی ،افہام و تفہیم صرف اسی پارٹی کا خاصہ ہے اور انکے چھوٹے چھوٹے اہل کار بہ بانگ دھل اسکا پرچاربھی کر رہے ہیں۔ میاں صاحب اپکی پارٹی کے پاس خلوص نیت، بہترین ٹیم ، کام کی شفافیت، کار حکمرانی کا جو خاصہ ہے کسی اور جماعت کے پاس نہیں ۔ اگر اج ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام اباد والے جلسے کوجس نے پوری حکوت کو کنٹینر میں لا کھڑا کیا ، روز وزرائے عظماء کے تبادلے، انتہا کی کرپشن ، غیر یقینی کے پانچ سال ، اور ٹکرائو ہی ٹکرائو کے دور کو کامیابی کا نام دے رہی ہے وہ اپ کو کبھی بھی حقیقی کامیابی حاصل نہیں کرنے دے گی خطرات کو بڑھا چڑھا کر اپکے سامنے لائے گی ۔ کیونکہ انکا مطمع نظر ملک کی بہتری نہیں اقتدار کی باری ہے۔ جو اج بھی اس زعم میں ہیں کہ اگلا دور انکا ہوگا۔ میاں صاحب سب کارڈ اپکے ہاتھ میں ہیں صرف انکو خود ہی استعمال کریں ۔ اگر اپ اس تصویر کو سمجھ جائیں اور اپنے رفقاء سے مشاورت کے ساتھ خود ہی پیش رفت کریں تویقین کریں ہر انے والا دور اپکا ہو گا۔ دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے عوام کو حکومتی میں خود اعتمادی اور کارکردگی نظر انی چاہے۔ یہ سب انتشار اور واویلے وقتی ہیں۔ اور اپکی پارٹی کے قائدین کی سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کے سامنے ہیچ ہیں۔ میاں صاحب تمام سیاسی پارٹیاں اپکو مشکل کاموں میں ہاتھ ڈالنے کا مشورہ بھی دیتی ہیں اور بسا اوقات مجبور بھی کرتی ہیں ۔ پر خود کرنے سے کیوں قاصر رہیں ؟ لیکن بڑے لیڈروں سے توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں یہ ایک فطری عمل ہے ۔ اپ ضرور کریں لیکن مناسب وقت اور طریقہ کے چناو کا اختیار اپکے پاس ہونا چاہے۔ اللہ تعالی نے اس انتہائی مشکل وقت میں اس ملک کی باگ ڈور اپکے حوالے کی ہے اور یقینا اسکی تائید اور فتح اور نصرت بھی اپکو حاصل ہوگی انشاء اللہ











