ada yg tegang x pg2 ni mai sini
ada.. jom2

Discoholic 🪩

oozey mess
let's talk about Bridgerton tea, my ask is open
🪼
PUT YOUR BEARD IN MY MOUTH

shark vs the universe
RMH
d e v o n

@theartofmadeline

Andulka

祝日 / Permanent Vacation

❣ Chile in a Photography ❣
taylor price
"I'm Dorothy Gale from Kansas"

Origami Around
No title available
occasionally subtle

No title available
Monterey Bay Aquarium
Alisa U Zemlji Chuda

seen from Brazil

seen from Singapore
seen from Argentina
seen from United Kingdom
seen from United States
seen from United States

seen from Malaysia
seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from Vietnam

seen from Türkiye

seen from United States
seen from United States

seen from Malaysia

seen from United States
@pemburudaddy
ada yg tegang x pg2 ni mai sini
ada.. jom2
奥ヒダ部長のアヌスの収縮がエロい
best dapat daddy jepun ni
آپکے اردگرد کونسا بوڑھا آدمی Gay ہے، کس طرح کے بوڑھے کو کس طرح سیٹ کیا جا سکتا ہے، اسکے لئے مندرجہ ذیل tips آپ سب دوستوں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں
This is very important article about “tips and tricks to find old man gay around you” those who can’t understand Urdu can copy text and paste into Google Translate. And don’t forget to reblog.
1) ورسٹائل کے لئیے فوج اور پولیس سے ریٹائرڈ بوڑھے بہترین انتخاب ہیں، ریٹائرڈ فوجی وفادار بھی ہوتے ہیں اور شریف النفس بھی، انکے اندر پیسوں کا لالچ بھی نہیں ہوتا، جبکہ ریٹائرڈ پولیس والے پہ یقین کرنا ذرا مشکل کام ہوتا ہے وہ کسی وقت بھی دھوکہ دے سکتے ہیں. میرے تجربے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد ریٹائرڈ فوجی ہم جنس پرستی پسند کرتے ہیں. جسمانی طور پر فِٹ ہوتے ہیں ٹاپ ہوں تو بھی مزہ دیتے ہیں اور باٹم میں بھی وفادار رہتے ہیں.
2) ریٹائرڈ فوجی دیہات میں اور چھوٹے شہروں میں رہنے والوں کو بآسانی مل جائیں گے، بڑے افسر پر نہ ہاتھ ڈالیں، سپاہی وغیرہ بہترین ہوتے ہیں.
3) ہر شہر کے اندر پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی ایجنسیاں ہوتی ہیں جیسا کہ “Phoenix” وغیرہ جو کہ بینکوں کو سیکورٹی گارڈ فراہم کرتی ہیں، وہ سب لوگ 5 بجے چھٹی کرتے ہیں اور عموماً دیہاتوں میں رہتے ہیں، اور اکثر اس دفتر کے باہر کھڑے نظر آئیں گے یا تھوڑا بہت پیدل چلتے ہوئے کو بس اسٹینڈ تک لفٹ دیں اسی دوران اس سے بات چیت کر لیں.
4) اگر آپ کے شہر میں فیکٹری ایریا ہے تو شام ساڑھے 6 سے 7 بجے کے درمیان اکثر ریٹائرڈ فوجی یا بوڑھے پٹھان آپ کو پیدل فیکٹری ایریا کی طرف جاتے یا کسی فیکٹری کے باہر بیٹھے مل جائیں گے، ان لوگوں کے پاس جگہ بھی ہوتی ہے اور فل نائٹ ٹائم بھی.
5) بُھوری یعنی grey آنکھوں والے زیادہ بوڑھے Gay ہوتے ہیں.
6) لمبے یا درمیانے قد مگر جنکے ہاتھ چھوٹے چھوٹے ہوں ہاتھوں کی انگلیاں بھی قد کے مقابلے چھوٹی ہوں زیادہ چانسز یہی ہوتے ہیں کہ وہ Gay ہیں.
7) ایسے بوڑھے جو ہر وقت لش پش صاف ستھرے اور شیو یا داڑھی سیٹ کر کے رکھتے ہیں وہ بھی شوقین مزاج کے ہوتے ہیں.
8) ایسے بوڑھے جنکی عمر 50 سے 60 کے درمیان ہو مگر انکی بیوی نہ ہو انہیں بھی اپنی جنسی ہواہش کو پورا کرنے کے لئے ہر حال میں کوئی راستہ چاہیے ہوتا ہے.
9) ایسے بوڑھے جو جوان لڑکوں کے ساتھ گپ شپ لگانا پسند کرتے ہوں، جہاں 2، 4 جوان لڑکے اکٹھے دیکھے خود وہاں جا کر سلام دعا کرتے ہوں وہ بھی شوقین مزاج ہوتے ہیں.
10) آپکے محلے میں کوئی نہ کوئی ایسا لڑکا ہو گا جو گانڈو مشہور ہو گا یا جس پر لوگ شک کرتے ہوں گے، اگر کسی بوڑھے کو ایسے لڑکے سے اکثر سلام دعا یا بات چیت کرتے ہوئے پائیں تو وہ بوڑھا بھی ہم جنس پرست ہوتا ہے.
11) ایسا بوڑھا جو محلے کی زیادہ تر عورتوں سے راہ گزرتے ہوئے بات چیت یا ہنسی مذاق کرے.
12) ایسا بوڑھا جو آپ سے اکیلے میں تو اچھی خاصی گپ شپ لگائے مگر جیسے ہی کوئی اور بوڑھا ارد گرد ہو تو آپکو مکمل نظر انداز کرے.
13) ایسا بوڑھا جو آپکو یا دوسرے جوان لڑکوں کو آنکھیں بھر کے دیکھتا ہو، آپ سے سلام لیتے ہوئے گرمجوشی سے سلام لے.
14) ایسا بوڑھا جو آبادی سے دور ڈیرے پر رہتا ہو وہ آسان شکار ہوتا ہے.
15) ایسا بوڑھا جو آپ سے پرسنل قسم کے سوال پوچھتا ہو، کہ کیا کرتے ہو، کتنے بہن بھائی ہو، گھر میں کون کون ہوتا ہے، ڈرائینگ روم یعنی بیٹھک ہے کہ نہیں.
اب یہ والی ٹپس اس صورتحال کے لئیے ہیں کہ آپکو اپنا کو رشتہ دار یا گلی محلے کا بندہ پسند آ جائے، لیکن آپ کو پتہ نہیں کہ وہ Gay ہے یا نہیں اور آپ ڈائریکٹ پوچھ کے رِسک بھی نہیں لینا چاہتے تو ان باتوں پر step by step عمل کریں:
16) اپنے محلے کے کسی بوڑھے کو چیک کرنا ہو تو اسے سے پرسنل سوال پوچھیں. کہ کہاں سوتے ہو، کس ٹائم سوتے ہو، کس ٹائم جاگتے ہو، بچے زیادہ کیوں پیدا کیے یا کم کیوں پیدا کیے؟ اکیلے کیا کرتے ہو، کس ٹائم اکیلے ہوتے ہو. رات کو سوتے وقت کونسا ڈریس پہنتے ہو؟ تہمند، دھوتی باندھتے ہو یا شلوار پہن کے سوتے ہو؟ آپکی شادی کتنی عمر میں ہوئی تھی؟ شادی سے پہلے یا شادی کے بعد کبھی کسی سے پیار ہوا تھا کہ نہیں؟ وغیرہ وغیرہ
17)کوشش کریں اسے اس ٹائم ملا کریں جب یا تو اندھیرا ہو یا پھر وہ اکیلا ہو، اسے باقی سب لوگوں سے بڑھ کر احترام اور پیار دیں، جب بھی ملے ہاتھ تھوڑا دبا کر سلام لیں اور کوشش کریں جب بھی وہ ملے اسے گلے ملیں، اور اگر بالکل اکیلے ہوں یا اندھیرے میں گلی محلے میں بھی ملیں تو مکمل اوپر سے نیچے تک ساتھ لگ کے ملیں، سلام لیتے وقت مسکراہٹ کے ساتھ اسکی آنکھوں میں دیکھتے رہیں.
18) جب اسے گلے ملنے کی عادت پڑ جائے تو درمیان والے حصے کو اسکے درمیان والے حصے کے ساتھ لگا کر ملیں، پھر کچھ دنوں بعد گال کے ساتھ گال جوڑنا شروع کریں، پھر کچھ دنوں بعد اسکی گردن پر تھوڑے تھوڑے ہونٹ ٹچ کرنا شروع کریں.
19) اسے اکیلے کھانے پر لے کے جائیں اور اسکی توقع سے اچھی اور رومانٹک جگہ پر کھانا کھلائیں.
20) اگر نارمل فرینڈلی موڈ میں آ جائے تو سینما فلم دکھانے لے جائیں. وہاں اندھیرے میں بار بار ہاتھ پکڑنے کا موقع ملتا ہے.
21) اسے اپنے پیچھے موٹر سائیکل پر بٹھا کر اسے بولیں کہ آگے ہو کر بیٹھے یا وہ موٹر سائیکل چلا رہا ہو تو اسکے دونوں کولہوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر بیٹھیں. جب اسے چلتا ہوا دیکھیں کہ وہ آپکی طرف آ رہا ہے تو اسکے “لن” والی جگہ پر نظر جما کر دیکھتے رہیں پھر فوراً اسکی آنکھوں میں دیکھیں پھر لن کی طرف، ایک بار Gay ہونے کا بس پتہ چل جائے ٹاپ یا باٹم ہونے کا مسئلہ تو بعد میں حل ہو سکتا ہے.
22) اسے اکثر فون کال کریں کہ آپکی یاد آ رہی ہے کافی دن ہو گئے ہیں ملے ہی نہیں. عید پر سپیشل اسے عید ملیں چاہے اسکے گھر جا کر.
اُمید ہے کہ اس سب کے بعد اور اگر اس میں تھوڑے سے بھی Gay والے جراثیم ہوئے تو وہ سیٹ ہو جائے گا اگر پھر بھی نہیں ہو تو یا اس سے پیچھے ہٹ جائیں یا پھر صاف ستھری دوستی کر لیں.
اب یہ والی ٹپس ان بوڑھوں کو چیک کرنے کے لئے ہیں جو آپکو نہیں جانتے اور آپ انہیں نہیں جانتے انہیں بآسانی تھوڑا بہت رسک لے کر بھی چیک کیا جا سکتا ہے.
23) سلام دعا لیں، سلام کے لئیے اسکا ہاتھ تھوڑی دیر اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھیں اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے رہیں پیار سے.
24) سلام لیتے وقت جب وہ آپکے چہرے کی طرف دیکھ رہا ہو تو اپنے ہونٹوں پر زبان پھیریں.
25) اسکا نام پتہ پوچھیں، اب مشکل مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ نام معلوم بندہ ہے اسکے ساتھ بات چیت کیسے سٹارٹ کریں
26) چونکہ وہ آپ کو نہیں جانتا اور آپ اسے نہیں جانتے اس لئے ڈائریکٹ بولیں کہ آپ پہلی نظر میں اچھے لگے ہیں اسلئیے دل کیا کہ آپ کے ساتھ سلام دعا لوں، اگر وہ بہت ہی سنجیدہ دکھ رہا ہو تو اسے چائے پانی آفر کریں، اگر وہ بھی شوق سے بات چیت کر رہا ہو تو اسے بولیں کہ “آپ مجھے شوقین مزاج کے لگتے ہیں”
“لگتا ہے آپکو بھی میری طرح یاری دوستی کرنے کا شوق ہے”
اگر بات بن گئ تو ٹھیک، نہیں تو وہ اپنی راہ اور آپ اپنی راہ.
اس سے پوچھیں کہ “آپ سے دوستی کرنی ہو تو؟” اگر وہ آگے سے زیادہ پھیکا یا سخت اور سنجیدہ جواب دے تو صرف اتنا کہیں “آپ مجھے اچھے لگے ہیں صرف اسلئے بولا ہے” اگر تھوڑا نرم جواب دے یا گرین سگنل دے تو فوراً سے پہلے اسکا موبائل نمبر لیں.
27) اگر وہ آپکو شوق سے دیکھے یا مسکرا کر جواب دے تو پھر سلام کے لئیے ہاتھ بڑھائیں اور اس بار سلام کے ساتھ اپنی انگلیاں اسکی ہتھیلی کے اندر رگڑ کر سلام لیں، ہاتھ چھوڑتے وقت اسکا انگوٹھا 👍 مٹھ مارنے کے سے انداز میں پکڑیں.
28) سب سے آخر میں ہاتھ کے اندر انگلی سے خارش کرنے والا فارمولا بیشک پرانا اور گھٹیا ہے لیکن آج بھی سب سے زیادہ آزمودہ اور جلدی رزلٹ دینے والا ہے، جہاں ممکن ہو یہ استعمال کریں، بوڑھے سے بوڑھا اور ان پڑھ بھی 1 سیکنڈ میں سمجھ جائے گا، اسکے بعد پھر ہو گا “ہاں یا ناں”
سڑک کنارے پیدل چلتے ہوئے بوڑھے کو لفٹ دیں اور اور اسے بولیں کہ آگے ہو کر ساتھ لگ کر بیٹھو، یا تو وہ بیٹھ جائے گا یا پھر بولے گا کہ نہیں تم مجھے اتار دو، فوری طور پر ہاں یا ناں کا پتہ چل جائے گا.
30) اور آخری ٹِپ اگر اوپر والی 29 میں سے کسی ٹپ پر عمل نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی خاص طور پر کسی بوڑھے رشتہ دار یا محلے کے آدمی کے Gay ہونے کا پتہ کرنا ہو تو Tumblr پر کسی اعتماد والے دوست کو اسکی تفصیل بتا کر اس سے پتہ کرا لیں.
نوٹ: یہ سب میرے علم کے مطابق ہے، آپ کمنٹس میں اپنا سب سے زیادہ آزمودہ فارمولا بتائیں، ہو سکتا ہے آپ مجھ سے بڑے استاد آدمی ہوں. اگر پوسٹ مکمل پڑھ لی ہے تو اسے ری-بلاگ یعنی شئیر کر کہ میری اتنا لمبا آرٹیکل لکھنے پر حوصلہ افزائی کریں.
tips nk tau org tu gay atau tak
Pakcik Hamdan
Pada malam hari sabtu, ayah dan emak tiada di rumah kerana menghadiri majlis perkahwinan sepupu saya yang tinggal di Parit Buntar, Perak. Hanya saya seorang sahaja yang berada di rumah. Saya tidak mengkuti ayah dan emak kerana tidak mengenali rapat dengan sepupu saya itu. Maklumlah, bila berjumpa, saya dianggap macam pendatang asing atau anak orang mana yang muncul di muka mereka.
Emak tidak menyediakan makan malam dan telah menyuruh saya keluar makan di pekan. Waktu pun menunjukkan pukul 8:35 malam. Perut saya pun lapar dan saya mengambil keputusan untuk makan di sebuah kedai makan Melayu yang menjual nasi tomato dari waktu Maghrib hingga ke lewat malam. Setibanya di kedai makan tersebut, saya pun memesan nasi dan lauk yang memang terkenal di pekan yang saya tinggal. Saya pun memesan sepingan nasi tomato dan lauk ayam masak merah, daging lembu dan acar timun. Setelah pesanan saya dihidangkan, saya pun mula menikmati makan malam saya yang agak lewat dari biasa.
Dalam kesedapan menikmati nasi tomato, saya pun ternampak 5 orang pakcik dalam lingkungan 50 tahun ke atas datang ke kedai makan ini. Mereka ni baru selesai sembahyang Isyak di masjid yang terletak di hadapan kedai makan ini. Mereka pun mengambil tempat duduk masing-masing di sebelah meja saya dan memesan kopi dan teh. Mata saya mula menjeling kain pelikat yang dipakai oleh 5 orang pakcik ni. Kesemua pakcik ni berbaju Melayu dan berkain pelikat. Aduuhh….cantiknya kain pelikat mereka ini. Rasa macam nak minta kain pelikat dari mereka. Kan best kalau ada ‘remote control’ yang boleh ‘pause’ mereka!! Ada seorang pakcik yang memakai kain berwarna coklat dan berpetak kecil, seorang lagi berkain pelikat warna hijau tua petak besar, seorang lagi berkain pelikat warna biru petak besar, seorang lagi berkain pelikat warna merah tua petak sederhana dan akhir sekali ialah pakcik yang berkain pelikat warna biru tua petak sederhana kecil
Saya pun makan dengan lebih lambat untuk melihat kain pelikat mereka. Semasa saya melihat mereka duduk sambil bersembang dan minuman masing-masing, alangkah terkejutnya saya melihat salah seorang pakcik yang duduk bertentangan dengan saya, kainnya terpacak macam tiang khemah di bawah meja. Hati saya menjadi berdebar-debar dan membuatkan saya pun makan dengan cepat lagi. Ingatkan nak makan dengan lambat sambil menikmati pemandangan sekumpulan pakcik yang berkain pelikat, mana tahu makan lagi cepat!! Memang terangsang sungguh melihat pakcik itu stim dengan kainnya terpacak. Packcik ni agak cute dan chubby juga rupanya. Bercermin mata dan berperut boroi. Tapi kelima-lima pakcik tu semua boroi-boroi belaka.
Nasi yang saya makan pun sudah habis. Saya pun menjeling kain pakcik tu dan melihat apa yang akan terjadi nanti. Mereka pun masih sembang dan pakcik yang tengah stim ni pun turut mengikuti pakcik-pakcik yang lain berborak walaupun koteh dia tengah stim. Tapi topik yang mereka tengah bincang ni bukannya tentang apa-apa yang berkaitan dengan seks, perempuan atau perkahwinan. Saya menjadi hairan kenapa pakcik ini boleh stim. Maklumlah, saya dapat dengar apa yang mereka sembangkan kerana mereka berada di sebelah meja saya sahaja.
Dengan riuh rendah sembang, saya sekali lagi terangsang bila melihat pakcik yang tengah stim itu memegang koteh dia pada kain pelikat dan menghalakan ke bawah sambil mengurut perlahan-lahan. Adduhhhh……..koteh saya pula mengeras pulak melihat gelagat pakcik itu. Mereka pun tidak sembang lama dan kemudian membayar minuman masing-masing dan beredar dari kedai makan ini. Saya pun menghabiskan minuman saya dan terus ke kaunter bayaran untuk membayar makan dan minum saya. Semasa mula melangkah keluar dari kedai itu, pakcik yang tengah stim tadi masih belum pulang. Pakcik-pakcik yang lain semuanya baru beredar dengan menaiki motosikal. Pakcik itu tengah menolak dan mengundurkan motosikalnya. Eeeee……kotehnya masih terpacak dalam kain pelikatnya. Pakcik itu kemudian menyelak kain dia sedikit ke paras lutut sambil menaiki motosikalnya. Pakcik itu menghidupkan motosikalnya dan kotehnya masih jelas terpacak dalam kainnya walaupun dia duduk di atas motosikalnya.
Sebelum pakcik itu beredar dari kadai makan ini dengan motosikalnya, dia menoleh ke belakang sebelum melintas jalan. Dia pun ternampak saya yang berada di belakangnya. Pakcik itu pun bersenyum dengan saya. Saya pun membalas senyumannya tanpa berfikir panjang. Setelah itu, dia pun melintasi jalan dan terus pulang. Saya rasa amat terkejut kenapa dia memberi senyuman kepada saya padahal saya tengah melihat kain pelikatnya yang terpacak dan saya tidak mengenali dia langsung. Saya pun berasa terangsang pada malam itu dan tidak dapat melupakan adegan pakcik itu semasa di kedai makan. Pada malam itu, saya pun tidak dapat tidur awal disebabkan teringat pakcik comel itu yang berkain pelikat.
Keesokan hari pun tiba. Saya pun seperti biasa pergi kerja pada awal pagi dan balik kerja pada pukul 5 petang. Pada hari ini, saya masih teringat kejadian yang berlaku semalam. Saya pun mengambil kesempatan pada malam ini untuk mencuba nasib di kedai makan tersebut sekali lagi kalau dapat berjumpa dengan pakcik comel itu.
Pukul 8 malam pun tiba. Terpaksa saya makan malam dengan ayah dan emak terlebih dahulu tapi makan sedikit sahaja. Nak simpan sedikit ruang dalam perut untuk malam ini di kedai makan yang dinanti-nantikan. Setelah makan malam di rumah, saya pun menaiki motosikal saya ke kedai makan di pekan yang tidak jauh dari rumah saya. Setibanya di kedai makan, saya pun memesan sepingan kecil nasi tomato dan sedikit lauk. Mujurlah, baru makan tak sampai 15 minit di rumah.
Jam tangan saya pun menunjukkan pukul lapan dua puluh lima minit. Saya pun makan dengan lambat sekali kerana nak tunggu kalau-kalau sekumpulan pakcik tu datang ke kedai makan ini. Setelah dua minit berlalu, saya hanya dapat menyuapkan dua sudu nasi ke dalam mulut saya. Ah…tu dia!! Pakcik comel tu pun datang ke kedai makan ini tapi hari ini hanya nampak dia dengan dua orang pakcik. Ketika itu dia bersongkok putih, berbaju Melayu biru dan berkain pelikat petak besar warna coklat. Pakcik tu pun duduk di meja yang sama seperti semalam iaitu di sebelah saya dan memesan teh panas. Saya pun menjeling kain pelikat dia kalau-kalau ada istimewa pada malam ini.
Lahhh……kain pelikat dia terpacak sekali lagi di bawah meja!! Apa yang tak kena dengan orang tua ni?? Saya pun melihat dia dengan kain pelikat dia. Sambil menyuapkan nasi tomato saya sehingga habis, tak dengar apa yang menarik tentang topik percakapan mereka berempat dan pakcik tu hanya koteh keras di dalam kain pelikatnya. Sembang-sembang, pakcik tu tertengok saya dan saya cepat-cepat menoleh ke arah lain. Alamak!!…..pakcik tu sedang memerhati saya. Saya pun buat tak tahu dan cepat-cepat menghabiskan minuman saya. Ingat nak tengok pakcik tu mana tahu dia yang tengok saya pulak hari ini. Saya pun ke kaunter bayaran membayar makan minum saya dan beredar dari kedai makan itu. Isshhh…rancangan pada hari ini agak rosak sedikit…
Saya pun mendekati motosikal saya dan mengambil kunci motosikal saya dari poket. Tiba-tiba ada tangan memegang bahu saya. Saya pun menoleh ke belakang melihat siapa yang memegang bahu saya. Gulp!!!! Pakcik comel tu memegang bahu saya dengan matanya yang terus tertumpu pada mata saya.
“Kenapa adik ni asyik tengok pakcik tadi? Dari kelmarin pakcik nampak adik asyik tengok pakcik”, tanya pakcik itu dengan suara yang perlahan. Saya menjadi panik dan sejuk badan saya tiba-tiba disoal oleh pakcik comel ini. “Errr…tak ada apa-apa pakcik, tak ada apa-apa….”, kata saya.
“Adik ni mesti sudah nampak sesuatu dari pakcik. Adik berterus terang kepada pakcik kenapa adik asyik tengok pakcik dari kelmarin dan hari ini. Pakcik tak akan marah pada adik”, soal pakcik comel itu dengan senyuman manis.
Aduh….macam mana saya nak jawab?! “Adik cuma tengok pakcik ni nampak baik dan comel. Sebab itulah adik asyik tengok pakcik”, jawab saya. “Takkan itu sahaja kot?”, tanya pakcik lagi.
Alamak!!…..Tak sangka pakcik ni tanya lebih-lebih! Kena pecah rahsialah!! “Errr….adik terangsang tengok kain pelikat pakcik yang ter..ter..terpacak….”, kata saya. Pada ketika pakcik comel itu tengah menyoal saya, memang kainnya di bahagian kemaluannya masih nampak menonjol. “Yang inilah adik asyik tengok pakcik dari semalam dan hari ini”, kata saya sambil jari saya menunjuk ke arah kemaluan pakcik tu.
“Ohh….adik rupanya tengah tumpu perhatian pada koteh pakcik ya! Adik suka tengok ya?” soal pakcik tu. Saya cuma mengangguk kepala saya sahaja menandakan ya. “Tak mengapa adik. Adik tidak perlu berasa takut. Nama pakcik ialah Hamdan. Panggilah pakcik, pakcik Hamdan”, kata pakcik ni. Oh, rupanya pakcik yang comel ni bernama Hamdan. Memang sesuai namanya dengan muka yang comel dan badannya yang boroi.
Adik tinggal di mana?”, tanya pakcik Hamdan. “Adik tinggal berdekatan sahaja. Kenapa pakcik Hamdan?”, tanya saya pula. “Tak ada apa, cuma nak tahu kalau adik tinggal jauh. Pakcik Hamdan nak ajak adik datang ke rumah pakcik, nak tak?”, tanya pakcik dengan senyuman manis. Saya pun berasa was-was kenapa orang tua ni tak pasal-pasal ajak saya ke rumah dia. Lagipun baru kenal sahaja dengan dia hari ini. Ni mesti nak membuat sesuatu pada saya. Saya pun bertanya kepada pakcik Hamdan, “kenapa pakcik Hamdan ajak adik ke rumah?”.
“Adik mesti suka kain pelikat, betul tak? Pakcik Hamdan sejak dulu dari muda sampai sekarang memang suka pada kain pelikat”, kata pakcik. Mendengar kata-kata pakcik Hamdan, saya macam tak percaya apa yang dikatakan olehnya. “Ya ke? Pakcik Hamdan suka pada kain pelikat?”, tanya saya kepada pakcik Hamdan. “Ya, memang benar pakcik Hamdan suka kain pelikat dan juga suka melihat pemakainya”, jawab pakcik Hamdan.
Saya dengan segera mengambil tangannya dengan erat dan berkata, “pakcik Hamdan, adik pun suka pada kain pelikat. Adik pun suka tengok si pemakainya yang berkain pelikat. Tak sangka kita berdua ditemukan dengan minat yang sama”. Setelah mendengar kata-kata saya, Pakcik Hamdan pun memeluk saya bagaikan kekasih yang hilang sekian lama bertemu kembali.
“Wah adik ni, rupanya kita berdua mempunyai minat yang sama. Jom, datanglah ke rumah pakcik Hamdan sekarang” ajak pakcik Hamdan dengan rasa gembira. “Bagaimana dengan isteri serta anak-anak pakcik Hamdan yang berada di rumah?”, tanya saya.
“Oh begini, kebetulan isteri dan anak pakcik Hamdan ke Kuala Lumpur menghadiri kenduri kahwin anak saudara dan akan pulang pada minggu depan. Pakcik Hamdan berasa bebas dalam minggu ini. Sebab itu pakcik tidak rasa kekok untuk mengajak adik ke rumah pakcik. Jom pergi ke rumah pakcik dahulu dan kemudian baru kita berbincang”, kata pakcik Hamdan.
Saya pun menghidupkan motosikal saya dan pakcik Hamdan pun menghidupkan motosikalnya sambil menyelak kain pelikatnya ke lutut sebelum menaikinya. Kainnya masih lagi ternampak menonjol. Mungkin kami berdua dipertemukan dengan minat yang sama kot yang membuatkan dia lagi stim.
Saya pun membiarkan pakcik Hamdan mendahului saya dalam perjalanan ke rumahnya. Rumahnya tidak jauh dari masjid dan kedai makan tadi, cuma 3 minit sahaja sudah sampai. Sesampai di rumahnya, pakcik Hamdan tinggal di sebuah rumah berkembar satu tingkat di sebuah taman yang berhampiran dengan pekan. Pakcik Hamdan pun membuka pintu pagar rumahnya dan mengajak saya masuk. Pintu rumahnya pun dibuka dan sekali lagi pakcik Hamdan mengajak saya masuk ke dalam dan duduk di sofa ruang tamunya. Pakcik Hamdan pun membuka kipas dan menyuruh saya agar tunggu seketika. Pakcik Hamdan pun masuk ke dalam bilik tidurnya dan saya pulak tidak tahu apa yang dibuatnya. Saya pun duduk di atas sofa sambil melihat ruang tamu rumah Pakcik Hamdan yang kemas.
“Adik ambil kain pelikat pakcik ni dan pakai sekarang”, kata Pakcik Hamdan yang keluar dari bilik tidurnya. Saya pun terkejut sedikit kerana tak pasal-pasal ambil kain pelikat untuk saya pakai. Hati saya pun agak rasa berdebar-debar bila pakcik Hamdan menyuruh saya memakai kain pelikatnya. Cantik kain pelikat pakcik Hamdan yang berpetak sederhana dengan warna putih dan hijau tua. Koteh saya pun stim pada masa itu apabila mengambil kain pelikatnya.
“Adik boleh menyalin kain pelikat di dalam bilik tidur pakcik ya!” beritahu pakcik Hamdan. Pakcik Hamdan pun sudah stim. Kain pelikat yang dipakai pun terpacak tegak melintang. Ermmm….. bestnya. Saya pun terus ke dalam bilik tidurnya untuk menyalin kain pelikat yang diberi oleh pakcik Hamdan. Pintu bilik tidurnya dibiarkan terbuka dan saya pun menanggalkan baju serta seluar saya sambil menyarungkan kain pelikatnya. Baju dan seluar saya di letakkan pada rak pakaian dan saya pun keluar dari bilik tidurnya menuju ke ruang tamu kembali. “Pakcik Hamdan, adik sudah menyarungkan kain pelikat”, kata saya kepadanya.
“Tu dia! Adik berperut boroi jugak ya! Pakcik dah tak tahan ni melihat adik berkain pelikat”, kata pakcik Hamdan. “Mari masuk ke dalam bilik pakcik”, ajak pakcik Hamdan dengan riang sekali. Saya pun mengikut apa yang dikatakan oleh pakcik Hamdan. “Adik baring di atas katil, pakcik nak bermain dengan adik”, kata pakcik Hamdan.
Dengan tidak membuangkan masa lagi, saya pun berbaring di atas katil besarnya manakala pakcik Hamdan pun membuka ketayap dan menanggalkan baju melayu yang dipakainya. Sekarang, kami berdua tidak berpakaian apa-apa selain kain pelikat. Pakcik Hamdan pun naik ke atas katil dengan kain pelikatnya yang terpacak tegang. Dia pun berbaring di tepi saya. Pakcik Hamdan meraba dada dan perut saya yang agak boroi. Saya pun memicit perlahan dadanya yang berisi dan pakcik Hamdan pun menutup matanya sambil megeluh perlahan.
Saya pun tidak berhenti meraba dada pakcik Hamdan yang begitu berisi sambil mencubit pipinya yang comel. Pakcik Hamdan pun mencium pipi saya dan kemudian tangannya memegang koteh saya sambil mengurut perlahan. Oooohh….bestnya masa dia memegang koteh saya. Secara perlahan-lahan dia mengurut naik turun.
Lepas itu dia pun menyelak kain pelikat saya sedikit ke atas perut. Pakcik Hamdan pun melurut koteh saya serta menggosok kepala zakar saya dengan ibu jari dia. Saya mengerang kesedapan dan tidak dapat bertahan dengan kenikmatan yang tak terkata. Lama juga pakcik Hamdan berbuat sedemikian dan saya sudah merasai darah dalam badan saya seperti mendidih. “Ahhhhh…..Pakcik……. sedap pakcik…….. ahhhhhhh……”, saya mengerang kesedapan.
Memang tak tertahan saya dibuat seperti itu. “Pakcik berhenti sekejap ya”, kata pakcik Hamdan. Pakcik Hamdan pun berhenti dan terus ke menghala kepalanya ke bahagian zakar saya. Pakcik Hamdan memegang koteh saya dan berkata, “Pakcik nak hisap, boleh ya adikku sayang?”, tanya pakcik. Saya mengangguk kepala saya dan dia terus memasukkan koteh saya ke dalam mulutnya. Saya tiba-tiba rasa ada kenikmatan yang lagi seronok yang dialami ketika itu. Pakcik Hamdan mengulum koteh saya dengan sepenuhnya dan boleh terasa lidahnya menggeser pada kepala koteh saya. “Pakcik…….pakcik……ahhhhhh pakcik…….aduuuhhh pakcik….”, mengerang saya dengan badan saya yang mengeletar.
“Pakcik, nak keluar dah air”, kata saya kepada pakcik Hamdan. Pakcik Hamdan pun mengundur dan menarik keluar koteh saya dari mulutnya sambil merancap. Dengan tangkas pakcik Hamdan mencapai kain pelikat dia yang dipakai ketika tidur yang terletak di tepi katil dan dialas di bawah koteh saya. Pakcik Hamdan merancap sehingga air mani saya terpancut keluar ke atas kain pelikat dia. “Ahhh…..pakcik…..ahhhh….ahhhhhhh……..ahhhh…..”, saya megerang ketika air mani saya pancut. Pekat dan basah kain pelikat pakcik itu dibasahi air mani saya. “Wah, banyaknya air mani adik. Adik tak merancap ke akhir-akhir ini?”, tanya pakcik Hamdan. “Dah seminggu adik tak merancap”, jawab saya.
Pakcik Hamdan pun kemudian merangkak naik dan berbaring di tepi saya kerana letih mengulum dan merancap saya. Kini, giliran saya pula untuk memuaskan nafsu pakcik Hamdan. Saya pun menyelak kain pelikat dia dan terus mengulum koteh dia. Saya mengulum kepala koteh pakcik Hamdan sambil merancap koteh dia yang selebihnya. Kedengaran pakcik Hamdan mengerang kesedapan. “Ahhhh adik…..adik…..ahhhh….ahhhh….”, pakcik Hamdan mengerang. Setelah mengulum sedikit pada kepala koteh pakcik Hamdan, saya pun mengulum seluruh koteh dia yang tak berapa panjang sangat tapi tebal. Pakcik Hamdan kini mengerang dengan lebih kuat dan terlihat seluruh badannya menggeletar macam kesejukkan. ”Adik, jangan berhenti adik…..jangan berhenti…..ahhhh sedapnya……ahhhh……ahhhhh……oh adik…..”, pakcik Hamdan mengerang dengan kuat.
“Adik, pakcik nak keluar dah……ahhhhhhh…….”, kata pakcik menandakan air maninya sudah hampir pancut. Saya pun menarik keluar koteh pakcik Hamdan dan merancap. “Ahhh……ahhhh….ahhhhh”, pakcik Hamdan mengerang sambil memancutkan air maninya. Saya pun menghala pancutannya ke arah kain pelikat dia yang dibasahi air mani saya tadi. “Wah! Tak sangka air mani pakcik pun begitu banyak”, kata saya kepadanya. Pakcik Hamdan pun tersenyum sahaja.
Kami berdua pun berbaring di atas katil setelah penat mencapai kenikmatan yang seronok. Pakcik Hamdan pun mencium pipi saya dan kemudian pada bibir saya. Saya pun bercium bibir dengannya dengan berpeluk erat. Memang seronok bercium dengan pakcik Hamdan sambil perutnya yang boroi bersentuhan dengan perut saya. Kami berdua kemudian menuju ke bilik air untuk membersihkan kemaluan masing-masing.
Setelah habis membersihkan diri, saya pun kembali ke bilik tidur pakcik Hamdan untuk menyalin pakaian saya seperti sediakala sebelum pulang ke rumah. Takkan nak balik dengan berkain pelikat sahaja kot?! Apabila saya sudah siap menyalin pakaian, pakcik Hamdan pun memasuki ke biliknya. Dia menuju ke almari bajunya dan membuka pintu almari baju. “Adik, pakcik ada banyak kain pelikat. Adik boleh pilih satu dari banyak-banyak ini. Pakcik nak beri kepada adik sebagai hadiah”, beritahu pakcik Hamdan.
Saya pun berasa segan nak menerima hadiah kain pelikat dari dia dan menolak tawaran pakcik Hamdan. “Alah…nak segan buat apa. Pakcik ikhlas ni. Lepas adik ambil kain pelikat ini dari pakcik, barulah pakcik rasa senang hati dan adik akan ingat pada pakcik selalu”, kata pakcik Hamdan. Saya pun bersetuju dan memilih salah satu dari banyak kain pelikat dia. Selepas memilih, dapatlah satu yang saya suka iaitu kain pelikat yang berwarna biru petak sederhana dengan punca ungu jenama cap Mangga. Cantik kain pelikat itu.
Kami berdua pun ke ruang tamu dan sembang sedikit berkaitan dengan diri masing-masing. Rupa-rupanya pakcik Hamdan merupakan seorang kakitangan kerajaan yang sudah bersara dua tahun. Kini pakcik Hamdan berumur 57 tahun dan nampak sungguh comel. Dengan dagunya yang bulat dan besar serta pipinya yang berisi. Memang rupanya disayangi orang kalau ada peminat. Kami berdua pun saling bertukar pendapat dan masa pulak menunjukkan pukul 10:25 malam. Saya pun memberitahu pakcik bahawa saya nak pulang dan kemudian dia menjemput saya ke kedai makan pada esok malam seperti pada malam ini lebih kurang pukul 8:15 malam. Pakcik Hamdan memberitahu saya ada berita menarik untuk saya bila bertemu pada keesokan hari di kedai makan nanti.
Saya pula terkejut dengan kata-katanya. Saya pun bersalam dengan pakcik Hamdan dan berpeluk sekali lagi sebelum saya keluar dari rumahnya. Motosikal saya dihidupkan dan saya pun beredar dari rumah pakcik Hamdan. Saya amat gembira pada malam ini lebih-lebih lagi mendapat hadiah kain pelikat dari pakcik Hamdan. Pada malam itu, saya tidak dapat tidur awal. Saya memegang erat kain pelikat yang diberi pakcik Hamdan sambil membau haruman kain pelikat dia yang mengingatkan saya kepadanya. Tak tahulah apa yang akan pakcik Hamdan akan ‘surprise’ saya esok.
Kalau la betul benda ni terjadi..nak juga jumpa pakcik hamdan
Dulu ber sayang2.kini dah sombong..Siapa nak pm.aku bg no tpon..lokasi serendah batangkali
Apa no dia..
ramai haji2 yg gay.. tua2 lg ramai.. ada cucu dah tp nafsu songsang..
Haji tu rukun islam..seks nafsu..walau tua tp masih bernafsu..nk main perempuan susah..dh rasa btg laki jd ketagih..
Dulu ber sayang2.kini dah sombong..Siapa nak pm.aku bg no tpon..lokasi serendah batangkali
Apa no dia..
Abh2 service baik
Yg baring tu baik juga..pm no plis..
Dah jumpa FB daddy polis ni. Hihihi. I like abg Wan Hasren tu kawan kpd abg Rosly. 😘
Tu polis mmg ensem.. Kote besar
Polis tu bkn plu..tp kalau berkwn ok je..tk tau la kot ada skandal dlm diam ngan jantan..
Abah Melayu40an dah suka kat empunya nama “Z”. Rupanya dia tinggal tak jauh dari tempat tinggal Abah Melayu40an. First time bertemu di sebuah restoran bistro tak jauh dari rumah Abah Melayu40an. First time jumpa dada dah berdebar. Segak orang nya.. Kumis nipisnya itu yang buat Abah Melayu40an tak keruan. Time tu tengah makan nasi. “Z” datang duk sebelah dan ucap salam. Memang taste Abah Melayu40an. Tapi kena control macho sikit.. Padahal kalau ikut hati dah nak kiss pipi jantan dia. Asalnya dah plan nak jumpa sebelum tu, tapi ada beberapa halangan tapi akhirnya dapat berjumpa juga. Nak cerita huh.. Time tu dah stim.. Tapi ada orangkan. Jaga tata susila adap Melayu. “Z” ni peramah orangnya. Tu yang Abah Melayu40an tambah suka. Harap ini bukan kali terakhir jumpa. Kepada “Z” you take care ye…😄
Kat mana tu..negeri mana Z ni..haha