Who did this? 😂🤣
hello vonnie
sheepfilms
occasionally subtle

Love Begins
The Bright Sessions

roma★
Aqua Utopia|海の底で記憶を紡ぐ

oozey mess
RMH

Origami Around
noise dept.
Fieri Frames
h
Not today Justin
Claire Keane
Doug Jones
PUT YOUR BEARD IN MY MOUTH
TMBGareOK. The Official They Might Be Giants tumblr
untitled

Product Placement
seen from Türkiye

seen from India
seen from Türkiye
seen from Brazil

seen from Venezuela

seen from Mexico
seen from Russia
seen from Brazil
seen from United States

seen from Malaysia

seen from Venezuela
seen from Kenya

seen from United States
seen from Bosnia & Herzegovina

seen from Türkiye
seen from Italy

seen from United States

seen from Saudi Arabia
seen from Vietnam

seen from Italy
@rajput-sniper
Who did this? 😂🤣
ملکی صورت حال کے پیش نظر ذرا سا فہم,
جی ہاں زراسا فہم اور تدبر آپ کو دشمن کا آلہ کار بننے سے بچا سکتا ھے,
کیسے؟
چلیں اس مثال سے سمجھتے ہیں,
احادیث میں کالے جھنڈوں کی جماعت کے بارے پڑھ کر داعش کو لانچ کیا گیا تھا،جنہوں نے اپنا جھنڈا بھی کالا رکھا، اور خلافت کا ناصرف نعرہ لگایا بلکہ ابوبکر بغدادی کی صورت میں اپنا خلیفہ بھی لانچ کیا،
شروع میں لوگ اس پراپیگنڈہ کا شکار ھوئے اور عرب ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ تک سے لوگ اس میں جوک در جوک شامل ھوئے
وقت کے ساتھ انہوں نے اپنے عزائم کو واضع کیا اور جہاد کے نام پر ایسا قتل و غارت کا بازار گرم کیا کہ الحفیظ الامان
یہ تھا ففتھ جنریشن وار فیئر کا پہلا کاری وار جو امت مسلمہ پر کیا گیا
جس سے ایک طرف کالے جھنڈوں والی جماعت کا سیکنڈ ورژن تیار کر کے اصل کالے جھنڈوں والی جماعت کا تشخص مشکوک کر دیا گیا تو دوسری طرف جہاد جیسے اسلام کے بنیادی رکن کی اصل پرکاری ضرب لگائی گئی
آج بھی یہی کچھ ھو رہا بے
ھر مسلک کا فیک ورژن بنا کر اپنےایجنڈے کو اس مسلک کے نظریات میں شامل کر کے مخالف مسلک کے نظریات کو نشانہ بنانا اور ان کی تضحیک کر کے فساد کو ھوا دینا ان کی اولین ترجیحات میں شامل بے
جس کا نظارہ آپ عراق شام میں بخوبی کر سکتے ہیں
پاکستان میں داعش کا سیکنڈ ورژن ٹی ٹی پی کے طور پر لانچ کیا گیا تھاجسے اللہ کے فضل و کرم سے غیر موثر کر دیا گیا تھا،جب وہاں بات نا بنی تو اب
شیعہ دیوبندی اہل حدیث بریلوی کے سیکنڈ ورژن تیار کر کے لانچ کئے جا چکے ہیں
اس کا علاج صرف یہ ہے کہ ان کی فتنہ و فساد والی پوسٹس کو کاؤنٹر کیا جائے،ناکہ ان پر تنقید کے شوق میں ان پر بحث کرتے کرتے آپ خود ان کا آسان شکار بن جائیں۔
اگر کوئی لڑ رہا ہو تو انہیں سمجھائیں کہ
نفرت والے مواد کا جواب دراصل اس کی تشہیر کا سبب بنتا ھے۔
سیف رہیں اور دوسروں کو بھی بچائیں
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
آمین
سدا رھنا پاکستان زندہ باد
ہم اگر موجودہ صورتحال کا موازنہ ن لیگی دور حکومت سے کریں تو ایک بات پتہ چلتی ہے. ن لیگ اس پریشر میں تھی کہ ان کے ساتھ ڈنڈے والوں کی ہمدردیاں نہیں ہیں. اگر انہوں نے ٹی ایل پہ طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تو ممکن ہے کہ ان کی حکومت گر جائے. دراصل انہیں ڈر تھا کہ بپھرے عوام کا منہ ڈنڈے والوں نے کسی ترکیب سے پارلیمنٹ کی طرف کر دیا تو یہ عوام روکنے ناممکن ہوں گے. اب صورتحال اس کے الٹ ہے.
اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کانفیڈینٹ ہے. بلکہ اوور کانفیڈینس کا شکار ہے. انہیں لگتا ہے کہ جتنے تعلقات ان کے ڈنڈے والوں کے ساتھ بہتر ہیں اتنے کسی کے ساتھ نہیں تھے. لہٰذا بزور قوت گاڑ دو.
انگریزی مقولہ ہے کہ جب آپ کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہو تو آپ کو ہر مسئلہ کیل نظر آتا ہے. لہٰذا آپ کی پہلی سوچ ہوتی ہے
"گاڑ دو"
یہ سوچ حکومت کو طاقت دیتی ہے. اور اس طاقت کا اثر ہمیں تمام داخلہ پالیسیوں میں دکھائی دیتا ہے.
طاقت کی اپنی اخلاقیات اور اپنے ہی اثرات ہوتے ہیں. طاقت کا نشہ دور اندیشی ختم کر دیتا ہے. بین الاقوامی سیاست میں ہمیں اس کی ایک مثال بُش کے افغانستان پہ حملہ کرنے کے فیصلے میں دکھائی دیتی ہے. امریکی طاقت نے امریکہ کی روایتی دور اندیشی چھین لی. اور امریکہ روس اور برطانیہ سے ملتا جلتا اپنا انجام نا دیکھ سکا. حالانکہ وہ انجام صرف مستقبل کے بیس سالوں کے بعد سامنے رکھا تھا. واضح رہے کہ امریکی پالیسیوں کے معاملے میں سو پچاس سال آگے کی سوچ رکھتے ہیں. مگر طاقت کے نشے نے ان کی دور اندیشی ختم کر دی.
ملکی سیاست میں طاقت کے دور اندیشی کو ختم کر دینے کی مثال لال مسجد آپریشن میں بھی دکھائی دیتی ہے. لال مسجد آپریشن بالکل درست تھا. البتہ مُکے لہرا لہرا کر مشرف صاحب نے اس آپریشن کی جو پروجیکشن ملک میں کی، اس نیگیٹو پروجیکشن نے عوام کو ان سے کافی حد تک بدظن کر دیا. وہاں بھی مسئلہ مذھبی نوعیت کا تھا.
اب مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کے ہاتھ میں "دیگر اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات" کا "ہتھوڑا" ہے اور وہ ٹی ایل پی سمیت ہر مسئلے کو کیل کی طرح گاڑ دینے پہ تلی ہوئی ہے. لیکن جو مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے وہ یہ ہے کہ حکومت دور اندیشی کھو چکی ہے.
کیا حکومت ہمیشہ ہاتھ میں رہنے والی چیز ہے؟
کیا طاقت ہمیشہ ہاتھ میں رہنے والی چیز ہے؟
عمرانیات اور انسانی تاریخ کے تمام ماہرین اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں، یکسر نفی میں.
سولہویں صدی میں دنیا میں قوت کی علامت ہسپانیہ (سپین) تھا، چلا گیا. سترہویں صدی کو ولندیزیوں کی صدی کہا جاتا ہے، وہ بھی گزر گئے. اٹھارہویں صدی میں دنیا میں سیاہ و سفید کے مالک فرانسیسی سمجھے جاتے تھے، ختم ہو گیا اقتدار. انیسویں صدی برطانیہ کی صدی تھی. سلطنتِ برطانیہ، جو اتنی وسیع تھی کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا. بیسویں صدی میں سمٹ کر اتنی رہ گئی کہ کل رقبہ پنجاب کے صوبہ جتنا رہ گیا.
اکیسویں صدی امریکہ کی صدی سمجھی جا رہی تھی. پوری قوت سے دنیا پہ چڑھ دوڑا. محض اکیس سالوں میں بکھرنے لگا ہے. آگے چین آیے گا اور چلا جایے گا. یہ دنیا کی تاریخ ہے. ملکی تاریخ بھی اس سے مختلف نہیں. ایوب سے طاقتور کون تھا؟ کوئی نہیں. مگر وہ بھی بے یارو مددگار رہ گئے. بھٹو سے زیادہ مقبول لیڈر پاکستان کی تاریخ میں کون تھا؟ بے یارو مددگار پھانسی چڑھ گئے. ضیاء الحق، طاقت کا وہ استعارہ جس سے یورپ اور امریکا خوفزدہ تھا کہ ہمارا حشر روس سے بدتر کر سکتا ہے. مگر. ضیاء الحق کا اقتدار بھی ایک ہوائی دھماکے میں ختم ہو گیا. بینظیر مقبول ترین تھیں اقتدار آئے اور گزر گیے. نواز شریف اتنا طاقتور حاکم کہ ہر آرمی چیف سے لڑائی کی، سپریم کورٹ تک پہ چڑھ دوڑے، آجکل پاکستان نہیں آ پا رہے. مشرف پاکستانی تاریخ کے کمانڈو، سپہ سالار حاکم، مگر دبئی میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں. تمام تر ملٹری سپورٹ کے باوجود پاکستان واپس اپنی مٹی پہ آنے سے قاصر و مجبور.
کیا سبق ملا تاریخ سے ہمیں؟ کیا سبق ملا عمران خان صاحب کو تاریخ سے؟
یہ ہتھوڑا جسے اقتدار کہہ لیں یا دیگر اداروں سے مضبوط تعلق کہہ لیں. یہ ہتھوڑا ہمیشہ ہاتھ میں نہیں رہنا. اس کے اثرات بھیانک ہونے ہیں. یہ اپنی معینہ مدت پوری کر کے چلے جانے والے ہیں. عوام اور اداروں نے یہیں رہنا ہے. جو صورت حال اب دکھائی دے رہی ہے وہ عوام اور اداروں کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج پیدا کر رہی ہے. ملک کی ستر فیصد آبادی سنی ہے. جنہیں سڑکوں پر حکومت پوری قوت سے گاڑ رہی ہے، ایک ایسے اشو پر جس پہ بات چیت کے زریعے آرام راستہ نکالا جا سکتا ہے. حاکم نے چلے جانا مگر اس دوری کے اثرات اگلی کئی قیادتوں اور نسلوں تک منتقل ہونے ہیں. کیا حکومتی ادارے یہ طویل اثرات برداشت کر لیں گے؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی سمیت ہر اشو پہ آج کل انگلی پارلیمنٹ کے بجائے پنڈی کی جانب جاتی ہے. ان حالات میں حکومت رینجرز کو انوالو کر چکی ہے، مگر اس کے اثرات کون بھگتے گا؟ حکومت اب فوج کو آگے کھڑا کرنے کی فکر کر رہی ہے. اس اثرات کون بھگتے گا؟ اقتدار آنی جانی چیز ہے، دنیا کی تاریخ اسی بات پہ گواہ ہے مگر حاکموں کے فیصلوں اور ان کے اقتدار کے اثرات ہمیشہ مستقل ہوتے ہیں. ابلیس کی سرکشی کے اثرات آج تک مستقل چلتے آ رہے ہیں. آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب نسلِ آدم آج تک جنت کے بجائے زمین پہ ہی پیدا ہوتی چلی آ رہی ہے. آفٹر ایفیکٹس اتنے ہی بڑے ہوتے ہیں جتنی بڑی شخصیت اور جتنا بڑا عہدہ ہو. جو کچھ ہو رہا ہے اس کے آفٹر ایفیکٹس اور اثرات ہو رہے ہیں اور ابھی مزید ہونے ہیں. عہدوں اور کرسیوں والوں نے تو چلے جانا ہے. ادارے اور محکمے کیا اس طویل اور گہری خلیج کے متحمل ہو سکتے ہیں جو حکومت کے اوور کانفیڈینس کی وجہ سے وجود میں آ چکی ہے؟ یقیناً نہیں.
سنگین علی زادہ
آپ کے بغیر زندگی میں ہے سناٹا
آپ میری چائے میں آپ کا پراٹھا
😽❤️
#مدھیہ پردیش
#میراج طیارہ
#انڈین ائیر فورس
بھارتی فضائیہ کا میراج جنگی طیارہ کامیابی سے گر تباہ ہوگیا
پائیلٹ کی محفوظ لینڈنگ 😎😎😎
طیارہ گوالیار ائیر بیس سے اڑا تھا
بھارتی فضائیہ کا ایک میراج 2000 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ پائلٹ زخمی ہے لیکن زندہ ہے۔ جنگی طیارے نے گوالیار ایئربیس سے اڑان بھری۔ یہ رواں سال آئی اے ایف کا 6 واں حادثہ ہے۔ #IndianAirForce #PlaneCrash #India #AirForce #Mirage2000 #IAF
Children Of Conflict.
Indian occupied #Kashmir #HindutvaTerror
#Pakistan Navy has once again detected and blocked an Indian submarine on 16 Oct 21 from entering Pakistan's water territories.
Its the 3rd incident, an 🇮🇳Submarine has been prematurely detected and tracked by PN Long Range Maritime Patrol Aircraft. #ISPR statement said.. https://t.co/QW4avbMmeb
Islamic preacher Dr Musa al-Qarni has died in prison after serving 15 years of a 20 year sentence. He was initially imprisoned in 2007 after calling for reform in the Kingdom.
#Saudi #Arabia #KSA
موجودہ مہنگائی کی وجہ، کب ختم ہو گی؟ کیسے ختم ہو گی؟
پیپلز پارٹی کے پانچ سالوں میں لیا گیا قرض. پندرہ ارب ڈالر.
یعنی تین ارب ڈالر فی سال.
ن لیگی حکومت میں پانچ سالوں میں لیا گیا کل قرض:
چونتیس ارب ڈالر.
یعنی چھ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر فی سال.
عمران خان کی حکومت کے صرف پہلے تین سالوں میں لیا گیا قرض.
ستائیس ارب ڈالر.
یعنی اوسط نو ارب ڈالر قرضہ ہر سال پی ٹی آئی لیتی رہی. اور پاکستان کی پوری تاریخ میں ایسا موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے نہیں ہوا. اسی رفتار سے غیر ملکی قرضہ حکومت نے آئندہ مزید دو سال لیا تو یہ کل پینتالیس ارب ڈالر بنتا ہے.
واپسی کی شرح دیکھیں تو سالانہ تیرہ اعشاریہ انیس ارب ڈالر کی ریشو سے اب تک انتالیس ارب انسٹھ کروڑ ڈالر واپس کیے ہیں حکومت نے. اس حکومت کے پانچ سال پورے اگر اسی شرح سے قرضہ واپس ہوا تو پینسٹھ ارب پچانوے کروڑ ڈالر بنتے ہیں.
ملک پہ کل قرض اس وقت ایک سو بائیس ارب ڈالر ہے.
یعنی جس رفتار سے مہنگائی ہے اگر اسی حد پہ مہنگائی اگلے آٹھ سال مزید رہے. اور حکومت آئی ایم ایف سے مزید قرضہ بھی نا لے. تو ہم اگلے آٹھ سالوں میں ایک آزاد معیشت ہوں گے.
لیکن اگر حکومت مزید قرضہ لیتی ہے. یعنی پینتالیس ارب ڈالر پورے لیتی ہے پانچ سالوں میں. اور اگلی حکومت بھی قرض اتارنے کےلیے مزید قرض لیتی ہے. تو پھر مہنگائی اگلے آٹھ سالوں تک مسلسل اوپر جاتی رہے گی.
اس میں کچھ معجزے ہیں جو ہو جائیں تو عوام اور پاکستان بچ سکتے ہیں. اور وہ یہ ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان معاشی جنگ کی وجہ سے کسی طرح ڈالر کولیپس کر جائے. جتنی ڈالر کی اب ویلیو ہے وہ اگر گھٹ کے آدھی رہ جائے. یعنی ڈالر ایک سو ستر سے واپس ساٹھ روپے پہ آ جائے تو پاکستان کا قرضہ آنے والے سوا تین سال میں اتر سکتا ہے. مگر بات وہی ہے کہ یہ ایک معجزہ ہو گا.
معجزہ نمبر دو.
آئی ایم ایف کے شراکت دار ممالک خود دیوالیہ ہو جائیں جیسے ماضی میں روس دیوالیہ ہوا. اور ملٹری طور پر اتنے کمزور ہو جائیں کہ دنیا کے معاشی امور میں اپنی رِٹ قائم نہ رکھ سکیں. اس طرح پاکستان سمیت جتنے ممالک ہیں وہ قرض دینے سے انکاری ہو کے قرض کھا جائیں. ایسا کسی عالمی جنگ میں کمزور معیشت والے ملکوں کی فتح ہونے کے زریعے ممکن ہے. لہٰذا یہ بھی معجزہ ہی ہے اگر ہو جائے.
معجزہ نمبر تین.
آیی ایم ایف میں ملکوں کی معاشی پالیسی بنانے والے تمام کنٹری ڈائریکٹرز اور ریجنل ہیڈز کسی کرونا جیسی وبا کے زریعے مر جائیں. اور اس طرح دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرنے والی آئی ایم ایف کی عالمی باڈی ختم ہو جائے. اس کے بعد وہ بینکرز اور ماہرین معاشیات بھی دنیا بھر میں مر جائیں جو اس باڈی کی جگہ لے سکتے ہیں. تو دوسری اور تیسری دنیا کے تمام مقروض ممالک میں سکون آ جائے گا. کیونکہ اس کے بعد آئی ایم ایف میں کوئی ایک بھی دماغ ایسا نہیں رہے گا جو غریب عوام کا خون نچوڑ لینے والی پالیسیاں بنا سکے.
یہ بھی ایک معجزہ ہے اگر ہوا تو. اور آپ جانتے ہیں کہ معجزات آجکل نہیں ہوتے. لہٰذا اگلے آٹھ سال قربانی دینے کےلیے دماغی طور پہ تیار رہیں.
سنگین علی زادہ
#مہنگائی #آئی_ایم_ایف #معیشت #حکومت
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
"میرے نبی ﷺ کا ذِکر ہمیشہ بُلند رہے گا" ❤❤❤
اسلام وعلیکم