کسی بوڑھے کے ساتھ ہونے والی میری سب سے جلدی سیٹنگ:
اُن دنوں میں لاہور ماڈل ٹاؤن میں رہتا تھا اپنی جاب کی ٹریننگ کے سلسلے میں، ایک رات تقریباً 10 بجے میں گوالمنڈی کھانا کھانے کے لئے گیا، ایک ہوٹل پر “مغز” آرڈر کیا اور خود موبائل پر گیم کھیلنے میں لگ گیا، میرے سامنے والی ٹیبل پر ایک خوبصورت، گورا رنگ، تھوڑا موٹا لیکن زیادہ نہیں، اچھے طریقے سے کی ہوئی شیو اور مونچھیں تقریباً بالکل چھوٹی چھوٹی، عمر تقریباً 60 سال، بیٹھا کھانا کھا رہا تھا، ایک بار میرا اسکی طرف دھیان گیا وہ میری طرف دیکھ رہا تھا، میں نے توجہ نہیں دی، تھوڑی دیر بعد گیم کھیلتے کھیلتے شیطان میرے دماغ میں گھس گیا، میں نے پھر اسکی طرف دیکھا تو وہ کھانے میں مصروف تھا، میں نے اسکے چہرے کے خدوخال نوٹ کرنا شروع کیے تو وہ مجھے پر کشش سا لگا. اتنے میں اس نے پھر دھیان اوپر کیا تو ہماری نظریں دو چار ہوئیں. میں نے پھر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا، اسی طرح چپکے چپکے کبھی وہ میری طرف دیکھتا اور کبھی میں اسکی طرف.
وہ اپنا کھانا ختم کر چکا تھا اور میرا آرڈر کیا ہوا کھانا ابھی ٹیبل پر آیا تھا. جیسے ہم نظریں ملا رہے تھے یہ بات تو کنفرم ہو چکی تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لیا ہے. میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کھانا ختم کر لیا ہے اب وہ نکل جائے گا لیکن میرا کھانا تو ابھی پہنچا ہے اور بھوک بھی بہت زور کی لگی ہے، اتنے میں اس نے ویٹر کو آرڈر کیا کہ چائے لے کر آئے اور پیار سے میری طرف دیکھا، میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے بولا ہے کہ آرام سے کھانا کھاؤ. جیسے ہی میں نے کھانا کھایا وہ بھی چائے پی چکا تھا، میں نے ہاتھ دھونے کے بعد کاؤنٹر پر اپنا بِل دیا اور اسکی طرف مُڑ کر گہری نظر سے دیکھ کر باہر نکل گیا وہ بھی فوراً اٹھا اور اپنا بل دینے لگا. باہر نکل کر میں نے جائزہ لیا اور دیکھا کہ یہاں سے مجھے دائیں ہاتھ جانا چاہیے کیونکہ اسکی ٹیبل پر کار کی چابی میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا مجھے پتہ تھا کہ یہ دائیں ہاتھ آ سکتا ہے بائیں ہاتھ ٹریفک نہیں جاتی.
میں نے ہوٹل کے ساتھ واقع پان شاپ سے سگریٹ کا پیکٹ خریدا اور سگریٹ پیتا ہوا پیدل چل پڑا، پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بھی ایک نیلے رنگ کی Mitsubishi Lancer میں بیٹھ رہا تھا، ابھی 1، 2 منٹ ہی پیدل چلا ہوں گا کہ وہ گاڑی میرے ساتھ آ کر رک گئی، اس نے شیشہ نیچے کیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، بیٹا! کہاں جانا ہے؟ بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے اسے بولا کہ ماڈل ٹاؤن، وہ کہنے لگا کہ بیٹھو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں، میں نے بیٹھتے ہی سلام لیا اور ہاتھ ملاتے ہی ہمیں ایک دوسرے کا اندازہ ہو گیا. اور ہم ایک دوسرے سے تعارفی سوالات کرنے لگے.
گاڑی جیل روڈ پر آتے ہی وہ کہنے لگا کہ مجھے کینٹ میں تھوڑا کام ہے اور میں اکیلا ہوں میرے ساتھ چلو گے بعد میں تمہیں میں اِدھر چھوڑ دوں گا. میں ایک نامعلوم بندے کے ساتھ نامعلوم جگہ پر جانا نہیں چاہتا تھا لیکن اس وقت ایسی شیاری ایسی چڑھی ہوئی تھی کہ میں انکار نہیں کر سکا. اسکے بعد اس میرے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا اور میرا ہاتھ دبا کر کہنے لگا کہ “شکریہ، مجھ پر اعتماد کرنے کا”
میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا کہ مجھ سے کس طرح کی دوستی چاہتے ہو، وہ کہنے لگا کہ جیسے تم کہو گے ویسے کر لیں گے. جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ یا تو یہ ورسٹائل ہے یا باٹم. کینٹ میں وہ گاڑی مختلف بلاکس میں گھماتا ہوا ایک ویران سی جگہ لے گیا اور لائٹس بند کر دیں. اسکے بعد وہ میری طرف مڑا اور ایک بازو میری گردن کے پیچھے کر کے مجھے اپنے قریب کے کہ میرے ہونٹ چوسنے لگ گیا. مجھے کہنے لگا کہ اپنی زبان میرے منہ میں دو مجھے زبان چوسنے کا بہت مزہ آتا ہے. 2، 3 منٹ ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے کے بعد ہم نے گہری سانس لی اور پھر ایک دوسرے کی چومیاں لینے لگ گئی، میں نے ساتھ ایک پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے ل کی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کر دیا، جیسے ہی میرا ہاتھ اسکے ل کے قریب پہنچا اس نے بھی اپنی ٹانگیں کھول کر میرا کام آسان کر دیا.. ل ابھی سو رہا تھا اور مجھے اندازہ ہو گیا زیادہ بڑا نہیں پھر میں نے ہاتھ اسکی کمر پر پھیرتے ہؤے جب اسکی پیٹھ کے قریب پہنچا تو اس نے اس بار وہ زیادہ مڑا اور اپنی پیٹھ بالکل واضح کر دی جیسے ہی میں اسکی پیٹھ کے دونوں حصوں کے درمیان اسکے سوراخ تک اپنی انگلی پہنچای تو اسکے منہ سے “سیی سیی” کی آواز نکلی. میں اسکی پینٹ کے اوپر سے ہی اسکے سوراخ کے اوپر اپنی انگلی پھیرتا رہا اور مزید بیتاب ہؤے جا رہا تھا. وہ اس پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تھک چکا تھا اور ہم جیسے ہی اپنی سیٹوں پر سیدھے ہو کر بیٹھے ہم دونوں ہی لمبے لمبے سانس لینے لگے. اس نے پیچھلی سیٹ سی پانی والی بوتل اٹھای اور میری طرف بڑھا دی، میں نے چند گھونٹ پیے اور بوتل اسکی طرف بڑھا. اسکے بعد میں نے سیگرٹ سلگائی اور اسے آفر کی اس نے کہا کہ میں نہیں پیتا.
گاڑی پہلے ہی سٹارٹ تھی اس نے ہیڈ لائٹس آن کیں اور کہنے لگا کہ اب کیا پلان ہے؟ میں نے پہلے تو اسے کہا کہ میرے پاس جگہ نہیں حالانکہ میں کمرے میں اکیلا رہتا جو کہ میری کمپنی نے ایک ماہ کے لیے مجھے لے کر دیا ہوا تھا. وہ کہنے لگا کہ اسکے پاس بھی جگہ نہیں لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہوٹل میں کمرہ لے لیتے ہیں، میں ہوٹل میں لگے خفیہ کیمرے یا اسکی جگہ پر جانے سے ڈر رہا تھا، پھر میں نے کہا کہ چلو میرے کمرے میں چلتے ہیں، ہم دوبارہ ماڈل ٹاؤن کی طرف چل دیئے، راستے میں اس نے ایک بیکری پر گاڑی روکی مجھے گاڑی کے اندر بیٹھے رہنے کا کہا اور خود بیکری کے اندر چلا گیا. وہ کافی ساری چِپس، چاکلیٹس، ریڈ بُل اور ہارس پاور انرجی ڈرنکس لے آیا، اسکے بعد اس نے گاڑی ایک پان شاپ پر روکی اور اسے گولڈ لیف سیگرٹ کا ایک پورا ڈندا جس میں 10 پیکٹ ہوتے ہیں وہ بھی لیا، میں چپ چاپ بیٹھا رہا.
جیسے ہی ہم میرے کمرے میں پہنچے، دروازہ بند ہوتے ہی ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور ہونٹ چوسنے لگے، اس نے مجھے پینٹ اور انڈروئر اتارنے کو کہا اور خود اپنی بھی اتارنے لگ گیا، اسکا ل تو سو رہا تھا لیکن میرے کا تو چھلانگیں مار مار کر برا حال تھا. اسکے بعد وہ نیچے بیٹھ گیا اور میرا ل اپنے منہ میں لے لیا، 1 منٹ بعد ہی میں فارغ ہونے والا ہو گیا اور میں نے ل جلدی سے اسکے منہ سے نکال کے پیچھے ہو گیا. وہ میری طرف حیرت سے دیکھنے لگ گیا میں نے کہا کہ “کیا جلدی ہے پوری رات ہمارے پاس ہے” جاؤ اور جا کہ کُلی کر کے آؤ.
میرے پاس ایک ہی سنگل بیڈ تھا لیکن کمرے میں کارپٹ بچھا ہوا تھا. کھانا چونکہ دونوں پہلے ہی کھا چکے تھے اسلئیے فی الحال بھوک دونوں کو نہیں تھی، انرجی ڈرنک نکالا اور وہ پینے لگ گئیے، میں نے ساتھ سیگرٹ نکالی اور وہ پینے لگ گیا، وہ مجھے کہنے لگا کہ میں سیگرٹ نہیں پیتا لیکن مجھے سیگرٹ پینے والے لڑکے بڑے اچھے لگتے ہیں، سیگرٹ کا کش لگاؤ اور جب دھواں تمہارے منہ میں ہو تو وہ دھواں چومی کے ذریعے میرے منہ میں ڈالو اسکی اس حیرت انگیز فرمایش پر میں تھوڑا حیران تھا، اسکے بعد میں ایک لمبا کش لگاتا اور فوراً اسکے منہ سے منہ ڈال دیتا ہم دونوں ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے ہوئے سیگرٹ کا دھواں ادھر سے ادھر ٹرانسفر کرتے.
اسکے بعد میں نے اس سے کہا کہ اب ڈوگی سٹائل میں ہو جاؤ مجھے ایک بار پانی نکالنا ہے جلدی جلدی، وہ کہنے لگا کہ نہیں ایسے نہیں… وہ الٹا لیٹ گیا اور اپنی ایک ٹانگ سائیڈ سے اوپر کی طرف کر لی، اسکا سوراخ سامنے تھا، اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ل پر تھوک لگا کر کہا اب کر دو اندر لیکن آرام آرام سے… جیسے ہی میں نے اسکی پیٹھ کی ایک سائڈ کو ہاتھ سے اوپر کیا وہ پھر سے سی سی سی کی آوازیں نکالنے لگ گیا حالانکہ ابھی تک میں نے اندر بھی نہیں تھا کیا. پھر میں نے آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کیا تو اسکی سی سی سی کی آوازیں آہ آہ آہ میں بدلنے لگ گئیں، تھورے ہی جھٹکے لگانے کے بعد میں فارغ ہو گیا، میں نے اسے بتایا کہ بہت دنوں سے کیا نہیں تھا اسلئیے جلدی فارغ ہوا ہوں دوسرے پھیرے میں بہت لمبا ٹائم لگے گا، اور تھوڑی دیر بعد واش روم میں جا کر ہم نے صاف کیا اور ایک بار پھر جپھی لگا کر لیٹ گئے اور دوسرے راؤنڈ کی تیاری کرنے لگے.
اس آدمی کا نام شیخ بشیر تھا، اور گورنمنٹ کا 19ویں گریڈ کا افسر تھا اس نے مجھے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک بہت سینئر جج بھی بہت مشہور باٹم ہے، پھر اس جج نے مجھے بتایا کہ ایک سنئیر وفاقی وزیر بھی ورسٹائل پسند کرتا ہے، جج صاحب تو نہ خود کسی کہ ارینج کی ہوئی جگہ پر جاتے اور نہ کسی کو اپنے گھر بلاتے تھے، بلکہ 5سٹار ہوٹل میں کمرہ بُک کرا کے انجوائے کرتے تھے، اور سیٹنگ ہونے سے پہلے دوسرے سے ملاقات، اسکا نام وغیرہ کسی کو نہ بتانے کی قسم لیتے تھے، میں نے بھی انہیں قسم دی تھی، اس لیے انکی تفصیلات تو نہیں لکھ سکتا. اور وفاقی وزیر کو تو میں نہ مل سکا لیکن فون پر اس سے کافی دفعہ بات ضرور ہو گی وہ مجھے جلد ملنے کے وعدے کرتا رہا لیکن ملا نہیں… اس وقت پی پی پی کی حکومت تھی. تفصیلات پھر کسی پوسٹ میں لکھوں گا.
Nice story friend












