وہ تھک گئی تھی بھیڑ میں چلتے ہوئے ظہور
اس کے بدن پہ ان گنت آنکھوں کا بوجھ تھا
🪼

Janaina Medeiros
hello vonnie
Misplaced Lens Cap
PUT YOUR BEARD IN MY MOUTH
Game of Thrones Daily

Kaledo Art

roma★
YOU ARE THE REASON

#extradirty
2025 on Tumblr: Trends That Defined the Year
Not today Justin
Show & Tell
Three Goblin Art

Discoholic 🪩
Monterey Bay Aquarium
One Nice Bug Per Day
I'd rather be in outer space 🛸

blake kathryn

@theartofmadeline

seen from Malaysia

seen from Serbia
seen from United Kingdom
seen from Malaysia
seen from United States
seen from Australia
seen from United States

seen from United States
seen from Philippines

seen from Spain

seen from Malaysia
seen from Russia

seen from Malaysia

seen from United States

seen from Mexico

seen from United Kingdom
seen from Japan

seen from Macao SAR China
seen from United States

seen from Malaysia
@subiabbasi
وہ تھک گئی تھی بھیڑ میں چلتے ہوئے ظہور
اس کے بدن پہ ان گنت آنکھوں کا بوجھ تھا
ابھی کچھ دن لگیں گے
دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
جہانِ رنگ کے سارے خس و خاشاک
سب سرو و صنوبر پھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر
کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر
بنتے بنتے رہ گیا ہے
وہ اک گھر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں
بس اک دن دل کی لوح منتظر پر
اچانک
رات اترے گی
میری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے
ہر خواب کی تکمیل کر دے گی
مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی
اک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا
اک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک
کوئی روشن دن نہیں تھا
ابھی کچھ دن لگیں گے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔!
افتخار عارف
Sehar
محبتیں خیرات یا احسان نہیں ہوتی یہ تو اعزاز ہوتی ہیں آپ محبت کرنے والے کا ایک قیمتی لمحہ جو اس نے پورے خلوص نیت سے آپ پہ " وارا " تھا ادا نہیں کر سکتے۔۔۔
"لہذا محبتیں تلاش نہ کریں بلکہ محبتیں بانٹیں"......
ﻭﺻﺎﻝ ُﺭﺕ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﯽ ﺳﺮﺯﻧﺶ ﺗﮭﯽ
ﮐﮧ ﮨﺠﺮ ﻣﻮﺳﻢ ﻧﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ کر دیا ھے
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﺎﻟﻤﺲ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﻨﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ
ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﻟﻮ کہ
ﺭﻓﺎﻗﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻨﮩﺮﺍ ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﮐﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ
ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﻼﺏ ﺭﺳﺘﮯ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺎﻡ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺗﻢ ﻟﮕﮯ ﭘﺮﺍﺋﮯ
ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ
کہ ﺷﺎﻡ ﺑﮯ ﺑﺲ ﺗﮭﯽ ﺷﺐ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۔۔۔۔۔
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮاﮨﺶ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﯿﺎﮞ ﺑﮯ دھیاﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮭﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ ﺟﮕﻨﻮﺅﮞ ﻧﮯ
ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﻤﺲ ﺗﺎﺯﮦ ﮐﯽ ﺧﻮاﮨﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮍﮮ ﮔﮭﻨﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﺎﭨﮯ
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺧﺪﺷﮯ ، ﯾﮧ ﻭﺳﻮﺳﮯ ﺗﻮ ﺗﮑﻠﻔﺎََ ﮨﯿﮟ
ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﺠﻤﺪﺭﺍﺋﯿﮕﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﯾﮧ ﺳﻮﭺ لیں ﮔﮯ
ﮐﮧ ﮨﺠﺮ ﻣﻮﺳﻢ ﺗﻮ ﻭﺻﻞ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﮨﯽ
ﺳﻔﺮ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ
ﻧﻮﺷﯽ ﮔﯿﻼﻧﯽ
عجیب شام تھی جب لوٹ کر میں گھر آیا
کوئی چراغ لیے منتظر نظر آیا
دعا کو ہاتھ اٹھائے ہی تھے بہ وقتِ سحر
کہ اک ستارا مرے ہاتھ پر اتر آیا
تمام عمر ترے غم کی آبیاری کی
تو شاخِ جاں میں گلِ تازہ کا ثمر آیا
پھر ایک شام درِ دل پہ دستکیں جاگیں
اور ایک خواب کے ہم راہ نامہ بر آیا
گلے سے لگ کے مرے پوچھنے لگا دریا
کیوں اپنی پیاس کو صحرا میں چھوڑ کر آیا
یہ کس دیار کے قصے سنا رہے ہو نویدؔ
یہ کس حسین کا آنکھوں میں خواب در آیا
غریب عورت راشن کا ڈبہ لے کر گھر پہنچی
نقاب اتارا ۔
اور کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگی ۔
بچے خاموشی سے دیکھ رہے تھے ۔
بیٹی نے پوچھا :
" ماں ۔۔۔۔ یہ راشن کہاں سے ملا ۔۔۔۔۔؟"
" ایک بڑے آدمی نے دیا ہے ۔۔۔۔؟"
" بڑا آدمی ۔۔۔۔؟" بیٹی نے چونک کر پوچھا ۔
" ہاں ۔۔۔۔ بہت بڑا آدمی ۔۔۔۔ فوج ، سپاہی ،ادارے ، سب اس کے ماتحت ہیں ۔۔۔۔"
بیٹی حیرانی سے بولی ۔
" اتنے بڑے آدمی نے اتنا چھوٹا سا پیکٹ دیا ۔۔۔۔؟"
ماں نے اثبات میں سر ہلایا ۔
" ہاں ۔۔۔۔ بیٹا ۔۔۔۔۔ صرف عہدہ بڑا تھا اس کا ۔۔۔۔ "
بیٹی چپ ہوگئی ۔ سوچتی رہی ۔ پھربولی ۔
" کسی کو پتا تو نہیں چلا اماں ۔۔۔ کہ تم یہ خیرات کا راشن لائی ہو ۔۔۔۔؟ "
ماں نے انکار میں سر ہلایا ۔
" نہیں ۔۔۔۔۔ میں نے نقاب لگایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ تصویر کھنچی تو میرے عبایا نے میرا چہرہ چھپالیا ۔۔۔۔"
بیٹی تڑپ گئی ۔
" اماں ۔۔۔۔۔ تمہیں شرم نہیں آئی ۔۔۔۔ خیرات لیتے وقت تصویر کھنچواتے ہوئے ۔۔۔۔۔"
ماں نے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا ۔
" نہیں بیٹا ۔۔۔۔۔۔ اُسے بھی نہیں آئی ۔۔۔۔ میں تو نقاب میں تھی ۔۔۔۔ وہ بے نقاب ہو گیا ۔۔۔۔ " 🙏
*
زیست کا بھی ادب نہیں ہوتا
آپ اپنا میں اب نہیں ہوتا
عارضہ ہے عجیب یہ دل کا
جب تو ہوتا ہے تب نہیں ہوتا
یاد آتے ہیں غم میں اپنے سب
غم بھی لیکن یہ کب نہیں ہوتا
بھول بیٹھا ہوں دنیا داری کو
یہ دکھاوا بھی اب نہیں ہوتا
خوب ہنستا ہے تھک کے دیوانہ
رونا دھونا ہی اب نہیں ہوتا
اس نے آنے کی شرط رکھی ہے
اور میں جاں بہ لب نہیں ہوتا
سرد راتیں ، وہ نیند، خواب ترے
ہم سے اب یہ بھی سب نہیں ہوتا
ہم پہ ہوتے ہیں فیصلے نافذ
اب یہ مجرم طلب نہیں ہوتا
سب ہیں عالی جناب، قد آور
اک ہمارا نسب نہیں ہوتا
جو دکھاتا تھا راہ منزل کی
وہ ستارا بھی اب نہیں ہوتا
لفظ تقدیر ، علم ہے رب کا
کچھ یہاں بے سبب نہیں ہوتا
جس کے ملنے کا ہو یقین ۔ ابرک
اس کا کھونا عجب نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔ اتباف ابرک
اب اُن لبوں پہ مرا تذکرہ نہیں رہتا
مجھے یہ زعم کہ بس برملا نہیں رہتا
سرکتا شانوں سے آنچل، شبِ بہارِ وصال
ہوا کے ہاتھ میں پھر فیصلہ نہیں رہتا
رہینِ درد ہے وہ ہجرتوں کا موسم بھی
کہ منزلیں تو رہیں، حوصلہ نہیں رہتا
صبا کے لمس سے خوشبو خراج کیا لیتی
سپردگی میں کوئی یوں فنا نہیں رہتا
ذرا سی دیرجو نکھرے نشاطِ وصل کا رنگ
کمالِ ضبط، غرورِ انا نہیں رہتا
ملا تو مل کے اسے دل کی بات کیا کہتے
جدائیوں میں جو ہم سے جدا نہیں رہتا
تمام عمر رہی تشنگی، فریب و سراب
یقیں تھا بس کہ کوئی معجزہ نہیں رہتا
غبارِ کوچۂ دل تھا بکھر گیا ہو گا
رہِ وفا میں بھی یوں نقشِ پا نہیں رہتا
رہا جو دل میں سدا لمحۂ دعا بن کر
کسی نے پوچھا تو ہم نے کہا، نہیں رہتا
شعاعِ مہر سے گوندھا گیا ہے اس کا بدن
ہوا کا لمس بھی جس پر نشان چھوڑتا ہے
"ایک فارسی نظم"
(ترجمہ)
شہر خالی، رستہ خالی، کوچہ خالی، گھر خالی
جام خالی، میز خالی، ساغر و پیمانہ خالی
ہمارے دوست و بلبلیں، دستہ دستہ کر کے کوچ گئے، باغ خالی، باغیچہ خالی، شاخیں خالی، گھونسلے خالی.........
وائے دنیا.... !
کہ جہاں دوست, دوست سے ڈر رہا
جہاں غنچہ ہائے تشنہ, باغ ہی سے ڈر رہا
جہاں عاشق اپنے دلدار کی آواز سے ڈر رہا
جہاں موسیقار کا ہاتھ، تارِ ساز سے ڈر رہا
شہسوار، سہل و ہموار رستے سے ڈر رہا
اور طبیب، بیمار کو دیکھنے سے کترا رہا..
سُر بکھیرنے والے ساز، ٹوٹ چکے
اور شاعروں کا درد حد سے تجاوز کر گیا
تمھارے میرے انتظار کے کئی کربناک سال بیت چکے،
آشنا، نا آشنا میں بدل چکے
اور میرا یہ سب بیان کرنا میرے لیئے کسی عذاب سے کم نہیں......
میں نے بہت نالہ و گریہ کیا،
ہر در پر دستک دی اور اس ویرانے کی خاک اپنے سر میں ڈالی....
جیسے پانی نہیں جانتا کہ اسکی گہرائی کتنی ہے، ایسے ہی کوئی خوابیدہ نہیں جانتا وہ کیسی گہری نیند سو رہا ہے.....
چشمے سوکھ گئے،
دریا حالِ خستگی سے دو چار ہے،
آسماں نے بھی میرے افسانے کو بے وقعت جانا،
جام بے اثر ہو گئے،
گرمئ سینہِ عشق ماند پڑ گئی
کسی ایک شخص نے بھی مجھ، اور
میرے نالوں کیطرف معمولی دھیان بھی نہیں دیا.....
لوٹ آ تا کہ، روانہ ہو چکا کارواں، بھی لوٹ آئے
لوٹ آ تا کہ، دلبرانِ ناز کے ناز، دوبارہ لوٹ آئیں
لوٹ آ تا کہ، گلوکار، موسیقی و ساز پھر لوٹ آئے
اپنی زلفوں کو مہرِ جاناں کے استقبال میں پھیلا دو
لوٹ آ تا کہ ہم حافظ کے در پر سر جھکا سکیں, گل فشانی کرتے، اور ساغر بھرتے ہوئے......
مُجھ کو رُسوا سرِ محفل تو نہ کروایا کرے
کاش آنسو مِری آنکھوں میں ہی رہ جایا کرے
اے ہَوا، میں نے تو بس اُس کا پتہ پوچھا تھا
اب کہانی تو نہ ہر بات کی بن جایا کرے
بس بہت دیکھ لے خواب سُہانے دن کے
اب وہ باتوں کی رفاقت سے نہ بہلایا کرے
اِک مصیبت تو نہیں ٹوٹی سو اب اِس دِل سے
جس قیامت نے گزرنا ہے گزُر جایا کرے
دِل نے اب سوچ لیا ہے کہ یہ ظالم دُنیا
جو بھی کرنا ہے کرے مُجھ کو نہ اُلجھایا کرے
جس کے خوابوں کو میں آنکھوں میں سجا کر رکھوں
اُس کی خوشبو کبھی مُجھ کو بھی تو مہکایا کرے
نوشی گیلانی
ابھی لکھیں تو کیا لِکھیں..
ہر اِک جانب اداسی ہے..!
ابھی سوچیں تو کیا سوچیں..؟
ہر اک سو ہو کا عالم ہے...
ابھی بولیں تو کیا بولیں..؟
ہر اِک انسان پتھر ہے..
ابھی دھڑکیں تو کیا دھڑکیں..؟
فضا پر نیند تاری ہے...!!
ابھی جاگیں تو کیا جاگیں..؟
ہر اِک مقتل کی شہ رگ میں..
لہو کی لہر جاری ہے...!
ابھی دیکھیں تو کیا دیکھیں؟
ہر اِک انساں کا سایہ...!
ابھی مٹی پہ بھاری ہے
ابھی لکھیں تو کیا لکھیں؟
محسن نقوی
#Corona #Covid19
*
زیست کا بھی ادب نہیں ہوتا
آپ اپنا میں اب نہیں ہوتا
عارضہ ہے عجیب یہ دل کا
جب تو ہوتا ہے تب نہیں ہوتا
یاد آتے ہیں غم میں اپنے سب
غم بھی لیکن یہ کب نہیں ہوتا
بھول بیٹھا ہوں دنیا داری کو
یہ دکھاوا بھی اب نہیں ہوتا
خوب ہنستا ہے تھک کے دیوانہ
رونا دھونا ہی اب نہیں ہوتا
اس نے آنے کی شرط رکھی ہے
اور میں جاں بہ لب نہیں ہوتا
سرد راتیں ، وہ نیند، خواب ترے
ہم سے اب یہ بھی سب نہیں ہوتا
ہم پہ ہوتے ہیں فیصلے نافذ
اب یہ مجرم طلب نہیں ہوتا
سب ہیں عالی جناب، قد آور
اک ہمارا نسب نہیں ہوتا
جو دکھاتا تھا راہ منزل کی
وہ ستارا بھی اب نہیں ہوتا
لفظ تقدیر ، علم ہے رب کا
کچھ یہاں بے سبب نہیں ہوتا
جس کے ملنے کا ہو یقین ۔ ابرک
اس کا کھونا عجب نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔ اتباف ابرک
غریب عورت راشن کا ڈبہ لے کر گھر پہنچی
نقاب اتارا ۔
اور کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگی ۔
بچے خاموشی سے دیکھ رہے تھے ۔
بیٹی نے پوچھا :
" ماں ۔۔۔۔ یہ راشن کہاں سے ملا ۔۔۔۔۔؟"
" ایک بڑے آدمی نے دیا ہے ۔۔۔۔؟"
" بڑا آدمی ۔۔۔۔؟" بیٹی نے چونک کر پوچھا ۔
" ہاں ۔۔۔۔ بہت بڑا آدمی ۔۔۔۔ فوج ، سپاہی ،ادارے ، سب اس کے ماتحت ہیں ۔۔۔۔"
بیٹی حیرانی سے بولی ۔
" اتنے بڑے آدمی نے اتنا چھوٹا سا پیکٹ دیا ۔۔۔۔؟"
ماں نے اثبات میں سر ہلایا ۔
" ہاں ۔۔۔۔ بیٹا ۔۔۔۔۔ صرف عہدہ بڑا تھا اس کا ۔۔۔۔ "
بیٹی چپ ہوگئی ۔ سوچتی رہی ۔ پھربولی ۔
" کسی کو پتا تو نہیں چلا اماں ۔۔۔ کہ تم یہ خیرات کا راشن لائی ہو ۔۔۔۔؟ "
ماں نے انکار میں سر ہلایا ۔
" نہیں ۔۔۔۔۔ میں نے نقاب لگایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ تصویر کھنچی تو میرے عبایا نے میرا چہرہ چھپالیا ۔۔۔۔"
بیٹی تڑپ گئی ۔
" اماں ۔۔۔۔۔ تمہیں شرم نہیں آئی ۔۔۔۔ خیرات لیتے وقت تصویر کھنچواتے ہوئے ۔۔۔۔۔"
ماں نے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا ۔
" نہیں بیٹا ۔۔۔۔۔۔ اُسے بھی نہیں آئی ۔۔۔۔ میں تو نقاب میں تھی ۔۔۔۔ وہ بے نقاب ہو گیا ۔۔۔۔ " 🙏
ابھی کچھ دن لگیں گے
دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
جہانِ رنگ کے سارے خس و خاشاک
سب سرو و صنوبر پھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر
کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر
بنتے بنتے رہ گیا ہے
وہ اک گھر بھولنے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں
بس اک دن دل کی لوح منتظر پر
اچانک
رات اترے گی
میری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے
ہر خواب کی تکمیل کر دے گی
مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی
اک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا
اک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک
کوئی روشن دن نہیں تھا
ابھی کچھ دن لگیں گے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔!
افتخار عارف
Sehar
ﻭﺻﺎﻝ ُﺭﺕ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﯽ ﺳﺮﺯﻧﺶ ﺗﮭﯽ
ﮐﮧ ﮨﺠﺮ ﻣﻮﺳﻢ ﻧﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ کر دیا ھے
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﺎﻟﻤﺲ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﻨﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ
ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﻟﻮ کہ
ﺭﻓﺎﻗﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻨﮩﺮﺍ ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﮐﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ
ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻧﮧ ﮔﺰﺭ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﻼﺏ ﺭﺳﺘﮯ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺎﻡ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺗﻢ ﻟﮕﮯ ﭘﺮﺍﺋﮯ
ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ
کہ ﺷﺎﻡ ﺑﮯ ﺑﺲ ﺗﮭﯽ ﺷﺐ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۔۔۔۔۔
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮاﮨﺶ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﯿﺎﮞ ﺑﮯ دھیاﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮭﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ ﺟﮕﻨﻮﺅﮞ ﻧﮯ
ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﻤﺲ ﺗﺎﺯﮦ ﮐﯽ ﺧﻮاﮨﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮍﮮ ﮔﮭﻨﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﮐﺎﭨﮯ
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺧﺪﺷﮯ ، ﯾﮧ ﻭﺳﻮﺳﮯ ﺗﻮ ﺗﮑﻠﻔﺎََ ﮨﯿﮟ
ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﺠﻤﺪﺭﺍﺋﯿﮕﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﯾﮧ ﺳﻮﭺ لیں ﮔﮯ
ﮐﮧ ﮨﺠﺮ ﻣﻮﺳﻢ ﺗﻮ ﻭﺻﻞ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﮨﯽ
ﺳﻔﺮ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ
ﻧﻮﺷﯽ ﮔﯿﻼﻧﯽ
عجیب شام تھی جب لوٹ کر میں گھر آیا
کوئی چراغ لیے منتظر نظر آیا
دعا کو ہاتھ اٹھائے ہی تھے بہ وقتِ سحر
کہ اک ستارا مرے ہاتھ پر اتر آیا
تمام عمر ترے غم کی آبیاری کی
تو شاخِ جاں میں گلِ تازہ کا ثمر آیا
پھر ایک شام درِ دل پہ دستکیں جاگیں
اور ایک خواب کے ہم راہ نامہ بر آیا
گلے سے لگ کے مرے پوچھنے لگا دریا
کیوں اپنی پیاس کو صحرا میں چھوڑ کر آیا
یہ کس دیار کے قصے سنا رہے ہو نویدؔ
یہ کس حسین کا آنکھوں میں خواب در آیا