روایات میں موجود ہے کہ حضرت سید ابوصالحؒ موسیٰ جنگی تقویٰ و طہارت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ عنفوانِ شباب میں راہ چلتے دریا کے کنارے پڑا ایک سیب کھالیا۔ بعد میں خیال آیا کہ پتہ نہیں یہ کس کا سیب تھا۔ مالک کی تلاش میں نکلے اور تھوڑا دور سیبوں کا باغ نظر آیا۔ اس کے مالک حضرت عبداللہ صومعیؒ سے معافی کے خواستگار ہوئے۔ انہوں نے کچھ عرصہ باغ کی رکھوالی کی شرط عائد کی جو کہ آپ ؒنے قبول فرمائی۔ معینہ مدت کی تکمیل پر آپؒ نے پھر معافی چاہی تو انہوں نے فرمایا کہ اب آخری شرط باقی ہے۔ میری ایک بیٹی ہے جو آنکھوں سے اندھی، کانوں سے بہری، ہاتھوں سے لنجی اور پاؤں سے لنگڑی ہے۔ اس کے ساتھ نکاح کر لو، تمہاری خطا معاف کر دوں گا۔ حضرت ابوصالحؒ نے یہ شرط بھی قبول فرما لی۔