روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان کو کیا نقصان ہو گا ؟
ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان میں فروخت ہونی والی درآمدی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ڈالر کی قدر بڑھنے سے سب سے زیادہ اثر پیٹرولیم مصنوعات پر پڑتا ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کی زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے اور روپے کی قدر کم ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں اور ملک میں تیار ہونے والی عام استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ڈالر کی قدر بڑھنے سے پاکستان پر واجب الادا غیر ملکی قرضوں کو حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔
روپے کی قدر کیسے مستحکم ہو؟ اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر کا دارو مدار ملک کی معاشی صورتِ حال پر ہے۔ روپے کی قدر مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی میں غیر ملکی کرنسی زیادہ ہو۔ اگر پاکستان کی برآمدات زیادہ ہوں اور تجارتی خسارہ کم ہو تو روپے کی قدر مستحکم رہ سکتی ہے۔ پاکستان کی برآمدات کے مقابلے میں درآمدت زیادہ ہیں اور تجارتی خسارے کے سبب غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی سے روپے کی قدر بھی کم ہوتی ہے۔
سارہ حسن
بشکریہ وائس آف امریکہ










