5 فروری یوم کشمیر
یہ دن قومی تعطیل ہے اور اس کی حقیقت اور اہمیت کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی، ان کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت اور بھارتی قبضے کے خلاف آواز اٹھانے میں ہے
تاریخی پس منظر اور حقیقت
یہ دن 1990ء سے باقاعدگی سے منایا جا رہا ہے۔ اس کی ابتدا جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے کی، جنہوں نے 1990 میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی مسلح تحریک کے تناظر میں ایک مخصوص دن کا مطالبہ کیا۔ اس کی حمایت پنجاب کے وزیراعلیٰ وقت میاں نواز شریف اور پھر وفاقی سطح پر وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے کی، جس کے نتیجے میں 5 فروری 1990 کو پہلی بار سرکاری سطح پر یہ دن منایا گیا۔ اس کے بعد سے یہ تسلسل برقرار ہے۔ اس سے پہلے 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کا اعلان کیا تھا، لیکن 5 فروری کو باقاعدہ دن بنانے کا سلسلہ 1990 سے شروع ہوا۔
یوم کشمیر کی اہمیت؟
کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار — یہ دن پاکستان بھر میں (اور دنیا بھر میں پاکستانیوں اور کشمیریوں کی طرف سے) منایا جاتا ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
بھارتی مظالم کی نشاندہی — 1947 کی تقسیم سے پیدا ہونے والا یہ تنازع اب تک حل نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت (رائے شماری) کا حق ہے، لیکن بھارت نے اسے مسلسل نظر انداز کیا۔ خاص طور پر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35-A ختم کرنے کے بعد مظالم میں اضافہ ہوا، جس میں کرفیو، گرفتاریاں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، جبری گمشدگیاں اور آبادیاتی تبدیلی شامل ہیں۔
قومی عزم کی تجدید — پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ (قائداعظم کا قول) سمجھتا ہے۔ یہ دن کشمیری شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے، ان کی قربانیوں کو یاد کرنے اور عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی طرف توجہ دلانے کا موقع ہے۔
تقاریب — انسانی ہاتھوں کی زنجیر (خاص طور پر کوہالہ پل اور مظفرآباد میں)، ریلیاں، جلسے، سیمینارز، دعائیں، ایک منٹ کی خاموشی، اور میڈیا پر خصوصی پروگرامز ہوتے ہیں۔
یہ دن محض ایک تقریب نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کی علامت ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اخلاقی، سیاسی اور سفارتی طور پر کھڑا رہے گا جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انہیں ان کا حق نہیں مل جاتا۔ان شاء اللہ، کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کی وادیوں میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔





