تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا
وہ مجھے ہر شب نئے گھر کا پتہ دیتا رہا
.
میں اسے ڈھونڈا کیا جسموں کی جنت میں مگر
وہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا
.
کب اسے رکنے کی فرصت تھی غرورِ حُسن میں
میں تعاقب میں رواں تھا میں صدا دیتا رہا
.
جل رہا تھا خود ہی بے مائیگی کی آگ میں
میں اسی دامن سے شعلوں کو ہوا دیتا رہا
.
گرچہ مہلک تھا ، مگر انصاف کی امید پر
مدتوں اک زخم قاتل کو صدا دیتا رہا
.
میں تو اس کی جستجو میں تھا گزر آیا مگر
دشتِ ماضی دیر تک بُوئے وفا دیتا رہا
.
سب سے پیچھے رہ گیا ہوں عرش یوں اس دشت میں
میں سفر میں ہر کسی کو راستہ دیتا رہا
عرش صدیقی











