What is the national language of Switzerland? I thought it was French but I don’t know.
You surely mean Swiss national languageS right? That be German, French, Italian and Rumantsch.
...ah, and there's also Pingu
seen from Russia
seen from United States
seen from Singapore
seen from China
seen from Egypt

seen from Panama

seen from United Kingdom
seen from Hong Kong SAR China

seen from United States
seen from China
seen from Russia

seen from United States
seen from United States
seen from Türkiye
seen from United States
seen from China
seen from Türkiye

seen from Panama

seen from Russia

seen from Nepal
What is the national language of Switzerland? I thought it was French but I don’t know.
You surely mean Swiss national languageS right? That be German, French, Italian and Rumantsch.
...ah, and there's also Pingu
She's pretty sharp when provoked.
National Language [Explained]
Another instance of language-based discrimination and how we can stop it
What we need to do:
Stop calling our native languages regional languages. Many of these languages that the Indian government considers 'regional' are spoken or/and are official in countries outside India, thus making them 'international' (Bengali, Tamil, Punjabi etc)
Hindi is a 'regional' language too. It's from the Hindi belt. The Hindi belt is a region. Hindi is regional.
Boycott the term 'Hindustani'. It's misleading. We Bengalis, prior to national movement and even during the national movement, never called ourselves Hindustani. It was a term reserved for the North Indian (Hindi speaking) people. Even writers like Tagore and Sarat Chandra used the term that way, did they not consider themselves Indian?
We are Indians, Bharatiya (Bharotiyo), not Hindustani. Hind is not Hindustan. Bharat is not Hindustan. We don't need to love Hindi to be Indian. What's the point of independence and democracy if I need to lose my culture and language to another, just to call myself Indian. Wake up people... It's high time.
জয় বাংলা, জয় হিন্দ। 🇮🇳
Choose your India:
اردو زبان کا نفاذ، ضرورت و اہمیت
اردو ہماری قومی زبان ہے جو بہت میٹھی اور خوبصورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اچھی اور روانی کے ساتھ اردو بولتا ہو اس کی بات سنتے ہوئے لطف آتا ہے۔ اردو زبان کو ہندوستان کی اصل زبان قرار دیا جاتا ہے جس کی پیدائش ہندوستان میں ہی ہوئی۔ باقی زبانیں تو باہر سے آئی ہوئی ہیں۔ ہندی زبان آریا لے کر آئے، فارسی مغلوں کے ساتھ آئی جبکہ عربی زبان عربوں نے درآمد کی، لیکن اردو زبان نے یہیں جنم لیا اور یہیں پھلی پھولی۔ متحدہ ہندوستان میں اسے مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے یہاں کئی بار اردو ہندی تنازعات کھڑے ہوئے، جن کا مقصد ہندی یا اردو میں سے کسی ایک کو ہندوستان میں نافذ کرانا تھا۔ ہندوؤں کا خیال یہ تھا کہ ہندی قدیم زبان ہے جبکہ اردو بعد میں مسلمانوں کے ذریعے آئی۔ حالانکہ چند حقیقت پسند مصنفین کا یہ دعویٰ ہے کہ ہندی زبان ہی دراصل اردو سے نکلی ہے اور انگریزوں کی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا کامیاب تسلسل ہے۔
انہوں نے اردو زبان سے عربی کے الفاظ نکال کر سنسکرت زبان کے چند الفاظ شامل کر کے اسے ہندی زبان کا نام دے دیا، جس کی وجہ سے ہندی اردو تنازعات نے جنم لیا۔ جبکہ اس سے قبل سب اردو زبان ہی بولتے تھے اور ہندوؤں کی اصل زبان سنسکرت تقریباً معدوم ہو چکی تھی۔ کئی صدیاں اکٹھے رہنے کے بعد مسلمانوں نے جب ہندوؤں کے تیور بدلے ہوئے دیکھے تو انہوں نے اپنے مذہب، اپنی ثقافت، اپنی زبان کو ترقی دینے کے لیے الگ وطن حاصل کیا، جو آج ایک عظیم ملک پاکستان کی صورت میں نعمت خداوندی کے طور پر ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم نے یہاں اپنے مذہب و ثقافت کے ساتھ جو حال کیا اس سے کہیں برا حال اپنی قومی زبان اردو کے ساتھ کیا۔ ہم نے ملک میں اردو کے بجائے انگریزی زبان نافذ کر دی اور گزشتہ تہتر سال سے یہی زبان نافذ ہے۔ سرکاری و پرائیویٹ دفاتر، تعلیمی ادارے اور عوامی مقامات انگریزی زبان سے ہی بھرپور ہیں۔ اردو زبان ہر بچہ معاشرے سے سیکھ لیتا ہے، اس کے بعد اسے انگریزی سیکھنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔
اگر اس کے سیکھنے میں کچھ کمی رہ جائے یا نہ سیکھ پائے تو اس کے لیے جینا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ملک میں تو ہر جگہ انگریزی کا راج ہے اردو زبان کو پوچھتا ہی کون ہے؟ وہ جیسی کیسی بھی بول یا سمجھ لی تو کام چل جاتا ہے لیکن انگریزی میں کسی قسم کی کمی پائی گئی تو کتنا ہی محب وطن کیوں نہ ہو راندہ درگاہ ہو جاتا ہے۔ اس کی کہیں جگہ نہیں رہتی۔ دفاتر میں جائے تو وہاں انگریزی میں خطوط پکڑا دیے جاتے ہیں جنہیں پڑھنے اور سمجھانے کے لیے انگریزی دان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عوامی مقامات پر انگریزی اشارات پر مشتمل بورڈ لگے ہوتے ہیں جنہیں ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ شخص کے لیے پڑھنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ اسکول و کالج میں انگریزی کی کتب کی بھرمار ہے۔ ایک مضمون جسے انگریزی کا نام دیا جاتا ہے وہ تو لازمی ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی جس کتاب پر نظر دوڑائی جائے سبھی انگریزی مضمون کی ہی دکھائی دیتی ہیں اور طلبا بھی انہیں انگریزی مضمون ہی تصور کرتے ہیں اور رٹے لگا کر امتحانات میں کامیابی بلکہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
باقی انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اصل میں یہ کتا ب کہہ کیا رہی ہے؟ یعنی اصل علم و فن پر توجہ دینے کے بجائے پوری توجہ انگریزی زبان پر صرف کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حاملین اسناد (ڈگری ہولڈرز) تو بہت ہیں لیکن ماہرین فن نہیں ہیں۔ ترقی کسی زبان کے سیکھنے سے نہیں ہوتی بلکہ ترقی کےلیے علوم و فنون میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اردو بھی تو ایک زبان ہے لیکن اس کے ماہرین کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ اردو کے بجائے انگریزی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی میں ماسڑز کی ڈگری کی بہت اہمیت ہے۔ ہمارے تمام امتحانات انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ کوئی طالب علم کسی علم و فن میں مہارت حاصل کر لے یا کسی دوسری زبان بالخصوص اردو میں ماسٹرز کر لے بلکہ حقیقی معنوں میں ’’ماسٹر‘‘ ہو جائے، لیکن اسے ہر قیمت پر انگریزی زبان میں ماہر ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ انگریزی میں ماہر نہیں تو کوئی امتحان بالخصوص سی ایس ایس وغیرہ جیسے اہم ترین امتحانات پاس کرنا ناممکن ہے۔
پھر انگریزی زبان کا ایسا رعب ہمارے اذہان پر چھایا ہوا ہے کہ ہمیں اردو میں دو چار الفاظ انگریزی کے ملائے بغیر سکون ہی نہیں ملتا۔ بلکہ دوران گفتگو اردو میں انگریزی کے دو چار الفاظ نہ بولنے والے کو پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یعنی تمام علوم و فنون میں ماہرین کو خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لیے اردو زبان کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔ اگر صرف انگریزی ہی اعلیٰ تعلیم کا معیار ہوتی تو یورپ و امریکا میں ریڑھی بان بھی روانی کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں لیکن انہیں تو تعلیم یافتہ خیال نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے معاشرے میں علم کا معیار ہی کچھ اور ہے۔ ہمارے کچھ مفکرین کا خیال ہے کہ اردو زبان میں لچک ہے اور وہ دوسری زبانوں کے الفاظ قبول کرتی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم خود ہی زبردستی انگریزی کو اس میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ خیال کہ اردو زبان میں لچک ہے، یہ بھی انگریزی کو اردو میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔
اگر اسی طرح اردو میں لچک باقی رہی تو پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اردو کی شکل یہ ہو گی کہ تمام الفاظ انگریزی زبان کے ہوں گے اور چند ایک الفاظ اردو کے رہ جائیں گے اور اس اردو ملی انگریزی کو اردو زبان کہا جائے گا۔ انہی غلط خیالات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ترقی پذیر ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہم یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہوں نے اپنی قومی زبان کو ہی اپنایا، اسی میں تعلیم دی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاں ماہرین فن پیدا ہوئے، جنہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر ہم بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دیگر اہم اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت بڑا قدم ہے کہ ہم انگریزی زبان کو اپنے نظام سے نکال باہر کریں اور زیادہ سے زیادہ اردو زبان کی اشاعت و ترویج کریں۔
انگریزی زبان ایک بین الاقوامی زبان ہونے کے ناتے اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے اس حد تک استعمال کرنے لگیں کہ اپنی زبان کی تباہی کی بھی پرواہ نہ رہے۔ اس لیے انگریزی کی اہمیت کے پیش نظر اسے صرف ایک مضمون کے طور پر چند ابتدائی درجات میں پڑھایا جائے۔ باقی اگر کسی کو انگریزی سیکھنے کا شوق یا ضرورت ہو تو اس کےلیے الگ سے کورسز کا اہتمام کیا جائے، پوری قوم پر اس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ تمام نصابی کتب کا سلیس اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے اور اسی کو لازمی قرار دیا جائے۔ دفاتر سے بھی انگریزی کو نکال کر اردو کا نفاذ کیا جائے اور تمام سرکاری کارروائیاں اردو میں ہی انجام پذیر ہونی چاہئیں۔ اسی طرح انگریزی زبان کے الفاظ کو من و عن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ کیا جائے اور اسے قدامت پسندی خیال کرنے کے بجائے حقیقت پسندی سے ترقی یافتہ ممالک کے ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے جو انہوں نے اپنی قومی زبان کی ترقی و ترویج کےلیے اٹھائے۔ قومی زبان ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔
ضیا الرحمٰن ضیا
بشکریہ ایکسپریس نیوز
قومی زبان کی حالت زار… ذمے دار کون ہے؟
میرے ایک صاحب علم و فکر دوست چند روز پہلے مجھے سے ایک تحریر پر تبصرہ چاہ رہے تھے۔ یہ تحریر اتنی چشم کشا ہے کہ میں اسے قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تحریر ہماری قومی زبان اردو سے کیے جانے والے سلوک کی بولتی تصویر ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر انیس سو ساٹھ کی دہائی تک ہماری معاشرت میں انگریزی زبان کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے، ہم نے مدرسے کو اسکول کہنا شروع کر دیا تھا لیکن پڑھائی کے دوران انگریزی زبان کی اصطلاحات کم ہی استعمال ہوتی تھیں مثلا ہیڈ ماسٹر، فیس، فیل، پاس وغیرہ وغیرہ۔ گنتی ابھی کانٹنگ counting میں تبدیل نہیں ہوئی تھی اور پہاڑے بھی ’’ٹیبل‘‘ نہیں کہلاتے تھے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں چھوٹے بچوں کو ﷲ حافظ کی جگہ ’’ٹاٹا‘‘ سکھایا جانے لگا اور مہمانوں کو الوداع کہتے ہوئے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے’’ٹاٹا‘‘ کہلوایا جاتا۔
زمانہ آگے بڑھا، مزاج تبدیل ہونے لگے۔ عیسائی مشنری اسکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی اسکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی۔ سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی اسکولوں میں ’’پیپر‘‘ جب کہ سرکاری اسکول میں ’’پرچے‘‘ ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں استاد کو ’’سر‘‘ کہا جانے لگا اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ ٹیچرز بن گئے۔ پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے۔ اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت، کلاس میں تبدیل ہو گئی اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلوز بن گئے۔ ہمیں بخوبی یاد ہے کہ 50 اور 60 کی دھائی میں اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم اور دہم، جماعتیں ہوا کرتی تھیں اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔ پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔
تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔ گرمیوں کی چھٹیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی جگہ سمر ویکیشن اور وِنٹر ویکیشن آگئیں۔ چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہولیڈے پریکٹس ورک ہو گیا۔ پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔ امتحانات کی جگہ ’’ایگزامز‘‘ ہونے لگے۔ ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ مڈٹرم اور فائنل ایگزامز کی اصطلاحات آگئیں۔ اب طلبا امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ اسٹوڈنٹس ایگزام کے لیے ایگزامینیشن سینٹر جاتے ہیں۔ قلم، دوات، سیاہی، تختی اور سلیٹ جیسی اشیا گویا میوزیم میں رکھ دی گئیں، ان کی جگہ لیڈ پنسل، جیل پین اور بال پین آگئے۔ کاپیوں پر نوٹ بکس کا لیبل ہو گیا۔ نصاب کو کورس کہا جانے لگا اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیگ میں رکھ دی گئیں۔
ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔ اسلامیات اسلامک اسٹڈی بن گئی۔ انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی۔ اسی طرح طبیعیات، فزکس میں اور معاشیات، اکنامکس میں، سماجی علوم، سوشل سائنس میں تبدیل ہو گئے۔ پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس اسٹڈی کرنے لگے۔ پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔ اساتذہ کے لیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔ زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔’’ابو جی‘‘ یا ’’ابا جان‘‘ جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا اور ہر طرف ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپا، پاپے کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے (رس) صرف کھانے کے لیے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں۔ اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ ’’امی‘‘ یا امی جان ’’ممی‘‘ اور مام میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔ چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ ’’انکل اور آنٹی‘‘ میں تبدیل ہو گئے۔ بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے۔ ساری عورتیں آنٹیاں، چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب کزنز میں تبدیل ہو گئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔ نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا… گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے نوکرانیاں کہلاتی تھیں، اب ممی ڈیڈی اور برگر فیملیز انھیں ماسی کہہ کر پکارتی ہیں۔ گھر اور اسکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے، آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے خریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔ سڑکیں روڈز بن گئیں۔ کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنا دیا گیا۔ کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا، نائی نے باربر بن کر حمام بند کر دیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔ ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔ پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں۔ بابو کلرک اور چپراسی بن گئے ۔ پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے، اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا۔
سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ رقاصایں آرٹسٹ بن گئیں اور محبت کو ’’لو‘‘ کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔ صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ نیوز سننے لگے۔ کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔ اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمے دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے۔ اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔ وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔
وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟ دوسروں کا کیا رونا روئیں، ہم خود ہی اس کے ذمے دار ہیں۔ دوسرا کوئی نہیں۔ بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں۔ اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔ قومیں اپنی مادری زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ موجودہ زمانے کا یہی سکہ بند اصول ہے۔ جاپان اور چین اس کی زندہ مثال ہیں۔
سرور منیر راؤ
بشکریہ ایکسپریس نیوز
Dear Indians, if you are wounded by a knife, you aren't supposed to stab yourself a second time to heal the first gash. You should be treating the wound not hurting yourself more.
Just because you have been colonised by the British in the past and have been anglicised, doesn't mean you should let yourself get culturally colonised for a second time by the Hindustanis (and by that I mean north India, especially the Hindi-belt). Let Hindi remain where it belongs, let the North Indians take pride in it. Stick to your native tongue and traditions, even the wounds of the first attack will be healed. But if you keep wounding your culture with non-indigenous influences, you will be crippled beyond rescue. Only God can save you then.
We might be free politically but our minds are still those of colonised people. If we are to be truly independent, truly free, we must take pride in our native identities. We need a new freedom struggle, freedom from the shackles of our own inferiority complexes.
জয় বাংলা, জয় হিন্দ!
- a fellow Indian 🇮🇳
the funniest thing about my countrys national language is that we don't have a word for imitating the sound of gulping, so i whenever i talk in my national language, i have to write "gyuuloowkk"