May the Almighty grant ease to the children of #Ghouta. Alleviate their suffering and keep them safe from the massacre going on in the area. Aameen. #SaveGhouta
Mufti Ismail Menk
seen from Netherlands
seen from United States
seen from China

seen from Australia
seen from United States
seen from Ecuador

seen from Germany

seen from United Kingdom
seen from Türkiye

seen from United States
seen from United States

seen from Russia

seen from United States

seen from Saudi Arabia
seen from Germany

seen from Canada
seen from United States

seen from Saudi Arabia
seen from China
seen from Canada
May the Almighty grant ease to the children of #Ghouta. Alleviate their suffering and keep them safe from the massacre going on in the area. Aameen. #SaveGhouta
Mufti Ismail Menk
Has the UN failed the people of Syria? This mini #documentary reveals the tragic reality. Click http://bit.ly/2FAPjRq to vote and have your say - no sign-up required!
#News #World #People #Syria #SaveGhouta #UN #SevenBillionToday #NewsPoll #vote
Narrated Abu al-Darda':
The Prophet (ﷺ) said: The place of assembly of the Muslims at the time of the war will be in al-Ghutah near a city called Damascus, one of the best cities in Syria.
Sahih (Albani)
شام میں جاری لڑائی : محصور علاقوں میں امدادی سامان نہ پہنچ سکا
اقوام متحدہ کے تحت حقوقِ اطفال کے ادارے یونیسف کے ترجمان کرسٹوفی بولائیرک نے کہا ہے کہ شام میں جاری لڑائی میں اس سال اب تک کم سے کم ایک ہزار بچے مارے جا چکے ہیں۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی فوج کے محاصرے کا شکار مشرقی الغوطہ میں لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے زیر زمین پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں اور یہ اس محصور علاقے کے مکینوں کی ایک طرح سے روایت بن چکی ہے۔ شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع مشرقی الغوطہ میں اس وقت کم سے کم چار لاکھ افراد مقیم ہیں اور وہ نان جویں کو ترس رہے ہیں لیکن شامی حکومت ان تک امدادی سامان پہنچانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے اور اس کی فوج نے مختلف علاقوں پر گولہ باری اور فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دریں اثناء اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مشرقی الغوطہ میں ایک اور امدادی قافلہ بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔عالمی ادارے نے سوموار کو مشرقی الغوطہ میں واقع بڑے شہر دوما اور دوسرے قصبوں میں سامان سے لدے 46 ٹرک بھیجے تھے لیکن علاقے میں شدید گولہ باری کی وجہ سے ان میں سے 14 ٹرکوں سے تمام سامان اتارا نہیں جا سکا تھا۔ اقوام متحدہ کے رابطہ کار دفتر برائے انسانی امور کے ترجمان جینز لائرکی نے کہا ہے کہ ’’ یہ امدادی قافلہ نو گھنٹے تک وہاں رکا رہا تھا اور جب وہاں سامان اتارنا ممکن نہیں ہو سکا تو پھر وہاں سے سکیورٹی وجوہ کی بنا پر نکل جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ برسرزمین موجود انسانی امدادی ٹیموں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور انھیں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
Informative reminders for practicing and non-practicing Muslims as well as non-Muslims
Eastern Ghouta Syria : The neighbourhoods below the bombs
A man walks with his bicycle at a damaged site in the besieged town of Douma, Eastern Ghouta, in Damascus, Syria.
Eastern Ghouta evacuations : Thousands to be bused to Idlib
The Syrian government moves closer to ending rebel resistance in eastern Ghouta as civilians stream out of the besieged enclave.
ایک پاکستانی نے مشرقی غوطہ میں کیا دیکھا ؟
مشرقی غوطہ شدید بمباری سے دوچار ہے اور ایسے میں وہاں پاکستانی شہری محمد فضل اکرم ان افراد میں شامل تھے، جو سب سے پہلے اس علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ محمد فضل اکرم مشرقی غوطہ کی یادیں بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے وہاں ایک ہسپتال میں اعضاء کھو چکی بچی کو دیکھا۔ شامی فورسز نے ایک طویل عرصے سے اس علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں لوگ خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کے متلاشی ہیں، جب کہ آسمان سے آگ برس رہی ہے۔ اکرم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’’ہم یہ تک نہیں جان پا رہے تھے کہ ہمیں کون قتل کر رہا ہے اور کون قاتل نہیں ہے۔‘‘
اکرم، جو اب پاکستان پہنچ چکے ہیں، نے کہا، ’’ہمیں صرف ایک چیز کا علم تھا اور وہ یہ کہ ہمارا شہر برباد ہو رہا ہے۔‘‘ مشرقی غوطہ میں طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم سیرئین سول ڈیفنس نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اسد کی حامی فورسز نے بمباری کے دوران کلورین گیس کا استعمال کیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں بچے ہلاک ہو رہے ہیں اور متاثرہ افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ محمد فضل اکرم سن 1974 میں مشرقی غوطہ منتقل ہوئے تھے۔ ان کی دو بیویاں ہیں، جن میں سے ایک کا تعلق غوطہ ہی سے ہے جب کہ دوسری ان کی پاکستانی کزن ہیں۔ اکرم کے مطابق پھر شہر میں بیرونی عسکریت پسند آ گئے، اس کے دو بیٹوں کو عسکریت پسند گروہ میں بھرتی کر لیا گیا جب کہ تیسرا بیٹا سن 2013ء میں تشدد کی نذر ہو گیا۔
اکرم نے بتایا کہ گلی کوچے میں پھیل جانے والے پرتشدد واقعات کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ شام ڈھلنے پر اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظام کرتے رہے، مگر اسے ایک ایمبولنس گھر لائی اور وہ بھی مردہ حالت میں۔ اپنی شامی بیوی ربع جرد کا نیلا پاسپورٹ لہراتے ہوئے اکرم نے بتایا، ’’وہ یہ دکھ برداشت نہ کر سکی اور اسے دل کا دورہ پڑ گیا۔‘‘ سن 2015ء میں اکرم نے اپنے خاندان کے ساتھ مشرقی غوطہ سے نکلنے کی کوشش کی تھی، ’’مسلح گروپوں نے پہلے تو ہم پر گولی چلائی، پھر حکومتی فورسز نے۔ ہم شہر سے نکل نہ پائے۔‘‘
اس زیرمحاصر شہر کے باسی نے بتایا کہ اس علاقے کی تمام آبادی رفتہ رفتہ مٹتی چلی گئی، کچھ علاقے سے نکل گئے کچھ مارے گئے۔ اکرم نے بتایا کہ اس نے پورے علاقے میں ہر طرف بری طرح زخمی لوگ دیکھے اور کئی مقامات پر ملبے تلے انسانی لاشیں گلتی سڑتی نظر آئیں۔ اکرم کے مطابق وہ ہسپتال میں بازوؤں اور ٹانگوں کے بغیر پڑی اس بچی کی یاد اپنے دماغ سے محو نہیں کر پایا، ’’میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ وہ کسی کو یہ مناظر کبھی نہ دکھائے۔‘‘
بشکریہ DW اردو