ایک فقیر نے آواز لگائی
بہن روٹی دے دو بابا بھوکا ھے
اندر سے آواز آئی
تیری بہن میکے گئی ھوئی ھے
آج تیرا بہنوئی بھی بھوکا ھے
seen from Malaysia
seen from Chile
seen from Singapore

seen from Bangladesh
seen from United Arab Emirates
seen from United States
seen from Russia
seen from United States
seen from Chile
seen from United States
seen from China
seen from United States
seen from United States
seen from China
seen from Canada
seen from United States
seen from United States

seen from United Kingdom
seen from United States
seen from United States
ایک فقیر نے آواز لگائی
بہن روٹی دے دو بابا بھوکا ھے
اندر سے آواز آئی
تیری بہن میکے گئی ھوئی ھے
آج تیرا بہنوئی بھی بھوکا ھے
میں تو جب بھی گلزار کی آواز میں گلزار کی یہ نظم سنتا ھُوں تو میرے رونگٹے کھڑے ھو جاتے ھیں۔ سوچ میں پڑ جاتا ھُوں کہ دونوں ملکوں نے اکہتر بہتر سال ایک دوسری کی نفرت میں کیوں اور کیسے گزار دیے ؟؟
"خواب کی دستک"
صُبح صُبح اِک خواب کی دستک پر
دروازہ کھولا ، دیکھا
سرحد کے اُس پار کچھ مہمان آئے ھیں
آنکھوں سے مانوس تھے سارے
چہرے سارے سُنے سنائے
پاؤں دھوئے ، ھاتھ دُھلائے
آنگن میں آسن لگوائے
اور تنور پہ مکی کے
کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے
پوٹلی میں مہمان میرے
پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے
آنکھ کھلی تو دیکھا
گھر میں کوئی نہیں تھا
ھاتھ لگا کر دیکھا تو
تنور ابھی تک بُجھا نہیں تھا
اور ھونٹوں پر میٹھے گڑ کا ذائقہ
اب تک چپک رھا تھا
خواب تھا شاید ، خواب ھی ھو گا
سرحد پر کل رات سُنا ھے چلی تھی گولی
سرحد پر کل رات ، سُنا ھے
کچھ خوابوں کا خون ھُوا تھا
"گلزار"
میری اِفطاری میں تُمہارے ہاتھ کے سموسے نہ تھے 🙄
Meri Eftari main tumhary hath ke smosy na thy 😐
کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہے
کہیں آنکھیں، کہیں چہرا نہیں ہے
یہاں سے کیوں کوئی بیگانہ گزرے
یہ میرے خواب ہیں رستہ نہیں ہے
جہاں پر تھے تری پلکوں کے سائے
وہاں اب کوئی بھی سایا نہیں ہے
Dual Change :D
Achi Tasveer..