مُدّت سے میری آنکھ سے آنسو نہیں گِرے
مُدّت سے میرے رَنج کو رَستہ نہیں مِلا
اتنی گُھٹن ہو جس میں سَہُولت سےمَر سَکُوں
مُجھ کو مرے مِزاج کا پِنجرہ نہیں مِلا
seen from China
seen from United States
seen from China
seen from Russia
seen from China
seen from Australia

seen from Slovenia
seen from Slovenia

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States

seen from Russia
seen from United States
seen from India
seen from United Kingdom
مُدّت سے میری آنکھ سے آنسو نہیں گِرے
مُدّت سے میرے رَنج کو رَستہ نہیں مِلا
اتنی گُھٹن ہو جس میں سَہُولت سےمَر سَکُوں
مُجھ کو مرے مِزاج کا پِنجرہ نہیں مِلا
آپ کے ذہن میں کوئی ایسی دلیل آ جائے جو بہت طاقتور ہو. اور اس سے اندیشہ ہو کہ اگر میں یہ دلیل دونگا تو یہ بندہ شرمندہ ہو جائے گا کیونکہ اس آدمی کے پاس اس دلیل کی کوئی کاٹ نہیں ہو گی. شطرنج کی ایسی چال میرے پاس آ گئی ہے کہ یہ اس کا جواب نہیں دے سکے گا.
اس موقعے پر بزرگ کہتے ہیں کہ اپنی دلیل روک لو. بندہ بچا لو. اسے ذبح نہ ہونے دو. کیونکہ وہ زیادہ قیمتی ہے.
اشفاق احمد
کیا کعبہ و بُت خانہ، کیا مسجد و میخانہ
یہ مستی و ہُشیاری افسانہ ہے، افسانہ
انکار ہے پھر دل کو زنداں سے نکلنے میں
دیوانے کو کیا کہیے؟ دیوانہ تو دیوانہ
پھر کوچۂ جاناں میں عالم ہے تموّج کا
پھر چھیڑ پہ مائل ہے وہ نکہتِ مستانہ
وہ شوخ کسی صورت اپنا بھی نہیں ہوتا
اور یہ بھی نہیں ممکن سمجھیں اُسے بیگانہ
سنتے ہیں ازل سے ہی تنگ اہلِ جنوں پر ہے
گُلشن ہو کہ صحرا ہو، بستی ہو کہ ویرانہ
آئینہ ہے ہر محفل نیرنگِ محبّت کا
عکسِ دلِ سوزاں ہے، ہو شمع کہ پروانہ
پھر چاک گریباں ہے دنیائے سِیہ کاری
اک شعلۂ عریاں ہے پھر جلوۂ جانانہ
سنتے ہیں نہیں ٹوٹا عالم کا جمود اب تک
لے ہم بھی لگاتے ہیں اک نعرۂ مستانہ
پھر مٹنے مٹانے پر آیا دلِ دیوانہ
انجام سے بے پروا، آغاز سے بیگانہ
کیا ہوں گی فراقؔ اُس کی بیباک نگاہیں بھی؟
ہے کم نگہی جس کی افسانہ در افسانہ
- فراق گورکھپوری
اک دید کہ زمین و فلک چھانتی ہوئی
اک تم کہ کسی سَمت سے بھی آ نہیں رہے
-
Teri deed ke zameen-o-falak chanti hoyi
ik tum ke kisi simt se bhi aa nahi rahe
مِلے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہو گا
بس اِتنی بات ہے جِس کے لیے محشر بپا ہو گا
رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہو گا
کسی نے کُچھ لِکھا ہو گا کسی نے کُچھ لِکھا ہو گا
بروزِ حشر حاکم قادر مُطلَق خُدا ہو گا
فرشتوں کے لِکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہو گا
تری دُنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی
تری دُنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہو گا
سکون مستقل دِل بے تمنا شیخ کی صحبت
یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہو گا
مرے اشعار پر خاموش ہے جزبز نہیں ہوتا
یہ واعظ واعظوں میں کُچھ حقیقت آشنا ہو گا
بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اُس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خُدا نکلا تو کیا ہو گا
ہری چند اختر
دل میں تو قید ہے اب تجھ کو رہا کیا کرنا
جسم سے روح کو دانستہ جدا کیا کرنا
میں نے جب یاد کیا یاد وہ آیا مجھ کو
اب زیادہ اسے مجبورِ وفا کیا کرنا
کچھ ملے یا نہ ملے ، کوچہ جاناں ہے بہت
ہم فقیروں کو کہیں اور صدا کیا کرنا
مجھ کو جب ترکِ محبت کا کچھ احساس نہ ہو
تجھ سے پھر ترکِ محبت کا گلہ کیا کرنا
یاد کرنے پہ جو ناراض ہے مجھ سے خاور
بھول کر اس کو بھلا اور خفا کیا کرنا
- رحمٰن خاور
جب تیری خبر آوے تب کیسے صبر آوے
دل آہ کر اُٹھتا ہے تُو جب بھی نظر آوے
اچّھائی کوئی ہو ولے بے سُود ہی کرتے ہیں
وے فکر نہیں ہمکو کہ کوئی ثمر آوے
زاہد کی طبیعت سے اِس طور پرے رہنا
اُس راہ سے پِھر جانا جس راہ وے خر آوے
- عبداللہ