کچھ شوق تھا یار فقیری کا
کچھ عشق نے در در بھٹکایا
- منیر نیازی
Kuch shok tha yaar faqeeri ka
Kuch ishq ne dar dar bhatkaya
- Munir Niazi
seen from United States
seen from United States
seen from Thailand
seen from South Africa
seen from United States

seen from Malaysia

seen from United States
seen from Thailand
seen from United States

seen from United Kingdom
seen from China
seen from United States

seen from Malaysia
seen from China

seen from Türkiye

seen from United Kingdom
seen from United States
seen from China
seen from China
seen from China
کچھ شوق تھا یار فقیری کا
کچھ عشق نے در در بھٹکایا
- منیر نیازی
Kuch shok tha yaar faqeeri ka
Kuch ishq ne dar dar bhatkaya
- Munir Niazi
Long gone ....
ہم سب کی زندگی میں کوئی ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو ہم سے میلوں کی دوری پر رہتا ہے، ایسا کہوں کہ ان کا ہم سے تقریباً گھنٹوں اور دنوں کی دوری جتنا سفر ہوتا ہے پھر بھی اگر ان سے ہمارا دل لگ جائے تو پھر فاصلوں کی دوریاں کوئی ویلیو نہیں رکھتیں کیونکہ دلوں کی دوریاں تو نہیں ہوتی ہیں ناں ان سے ،پھر ان کا انتظار رہتا ہے کہ کب وہ ہمیں ٹیکسٹ میسج کرتے ہیں پھر میسج پر ان سے ڈھیروں باتیں ہوتی ہیں پھر وہ دوستی محبت میں بدل جاتی ہے اور زندگی اچانک سے خوبصورت لگنے لگتی ہے، ہماری زندگی کی ہر ایک گھڑی میں وہ شخص حصے دار ہو جاتا ہے ۔ ہر ایک لمحہ اسے سوچنے میں اور اسے یاد کرنے میں اور اسے اپنے پاس محسوس کرنے میں گزر جاتا ہے ۔ وہ ایک شخص کائنات میں ہمارے لیے سب سے اہم ہوتا ہے اور اہم ہونا بھی چاہیے کیونکہ اُس سے پہلے ہماری زندگی کے موجود کسی بھی فرد نے ہمیں وہ سب خوشیاں اور روح کو سکون تک نہیں بخشا ہوتا جو ہم ڈزروو کرتے ہیں یا شاید ہمارے لیے کوٸی اور انسان اتنی اہمیت نہیں رکھتا ہوتا کہ اس سے کوٸی بھی منسلک چیز ہمیں سکون یا خوشی دے۔ جبکہ ایک شخص کی آمد سے ہماری زندگی روشن چراغ ہوجاتی ہیں پھر کیوں نہ اُس ایک شخص کو آنکھوں میں سمایا جائے سانسوں میں بسایا جائے، دل میں چھپایا جائے، وہ اتنی دور رہنے والا شخص، ٹکرایا بھی تو سیدھا جاکر دل میں بس گیا.
جس نے کہکشاں چنی تھی میرے بدل
ڈھونڈتا ہے اب اسی کہکشاں میں مجھے..
-
Jisne kehkshaan chuni ti mere baddal,
dhoondhta hai ab usi kehmkhshaan mai mujhe...
نتاشا -natasha
Kuch kehne ko dil chahraha tha par alfaz na mile.
Khayal bhi ghoom gaya par khwahish reh si gayi..
m.m.i.a
Puto Ki Tarha Mujh Ko Bekhrta Tah Zamana Ek Shaks Ne Yakga Kya Or Aag Laga Di
Mehnat itni khaamoshi se karo ke kamiyaabi apne aap shor machaaye.
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساھو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال مہینے لوگو
پر سود بیاج کے دن لوگو
ہاں اپنی جان کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب نام ادھار کا آیا ہے
کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں بھی نپٹانے ہیں
جنھیں جاننے والے جانیں ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے دھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون تمہارا نام ہے کیا
کچھ ہم سے تم کو کام ہے کیا
کیوں اس مجمعے میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو کچھ لائی ہو
یا کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لئے
سب عمر کی نقدی ختم کئے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیا سنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں کچھ رات گریں
یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانیں ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب نے ہم کو بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں ہم
تم سے نہ ملاقات کریں
کیا بانجھ برس کیا اپنی عمر کے پانچ برس
تم جان کی تھیلی لائی ہو کیا پاگل ہو
جب عمر کا آخر آتا ہے ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی نرالی ہے ، ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا
کیا سود بیاج کا لالچ ہے کسی اور اخراج کا لالچ ہے
تم سوہنی ہو من موہنی ہو تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس یہ چار برس چِھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے تھے جتنے ساھو کار گئے
بس یہ اک ناری بیٹھی ہے یہ کون ہے کیا ہے کیسی ہے
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں گستاخ انکھیاں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہارا لوٹا دیں گے کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعتِ ماہ و سال نہیں وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
جو اپنے جی میں اتار لیا لو ہم نے تم سے ادھار لیا
( ابنِ انشاء )
Shattered and Lost ...
کیا ہوتا ہے جب تکلیف حد سے گزر جائے جب بولنے کو لفظ بےتحاشہ ہوں مگر بول پانے کی ہمت نہ ہو رہی ہو، جب سمجھ نا آئے کہ درد بانٹنے کا آغاز کہا سے کیا جائے، جب آپ خود کو تسلی دے کر کھڑا کریں اور قدم زمین پر جمنے سے پہلے ہی اکھڑنے لگیں ، آنسوں آنکھوں کے کناروں کو بھگونے لگیں__ مگر ضبط کا پیمانہ مسکرانے پر مجبور کرتا ہو، کیا دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی اذیت ہو گی ؟