باباجی کہتے ہیں کہ
ایک ہومیو ڈاکٹر کے پاس جانا ہوا جہاں مجھ سے پہلے ایک خاتون بیٹھی تھیں ڈاکٹر نے ان سے صرف یہ پوچھا جی بی بی فرمائیں؟؟ خاتون نے بولنا اسٹارٹ کیا فرمانا کیا ہے، دو دن سے ہلکا سا بخار محسوس ہورہا ہے، بائیں بازو میں درد رہتا ہے، گردن کے پٹھے کھنچے رہتے ہیں، ہاتھ اور پیر جلتے رہتے ہیں، گلے میں کانوں کے نیچے گلٹیاں سی بنی ہیں، میں نے تو کل ہی آنا تھا آپ کے پاس، مگر چھوٹی بیٹی کو بیٹا ہوا ہے، وہ کل سے گھر آئی ہوئی ہے، مہمان آجارہے ہیں، کل رات اس کا شوہر بھی آگیا، گھر میں تو ساگ پکا تھا مگر اس کے لئے دیسی مرغ کی کڑاہی بنوائی، میں نے بھی دو چار بوٹیاں چکھ لیں، بس اس وقت سے سینے میں جلن ہورہی ہے، ڈکار بھی کھٹے کھٹے آرہے ہیں، اور صبح سے کچھ کھانے کو بھی دل نہیں کررہا تھا، صرف ایک آلو والا پراٹھا ہی دہی کیساتھ کھایا ہے، لڑکی کو پہلا بچہ ہوا ہے، کتنا خرچہ ہوجاتا ہے آپ کو تو پتہ ہی ہوگا، لیکن کوئی مسئلہ نہیں، اللہ نے کرم کیا تھا، کمیٹی نکل آئی ہے، اسی دن کے لئے ڈالی تھی، ڈاکٹر صاحب وہ جو آپ نے گولیاں دی تھیں پچھلی بار وہ ختم ہوگئی ہیں، شربت پڑا ہے، ابھی بیٹھ کر اٹھتی ہوں تو اچانک آنکھوں کے آگے اندھیرا آجاتا ہے، چکر آنے لگتے ہیں، پھر میں بیٹھی ہی رہتی ہوں پھر بیٹھے بیٹھے سوچتی ہوں کہ اسی طرح بیٹھی رہی تو وزن بڑھنا نہ شروع ہوجائے، وہ ہماری ہمسائی ہے ناں رشیدہ، بے چاری اتنی موٹی ہوگئی ہے کہ اب تو اس سے ہلا بھی نہیں جاتا۔۔میں نے اسے کہا بھی تھا کہ آپ کے پاس آجائے، دوائی لینے۔۔کہتی ہے کہ اسلم کو بھیجوں گی، لے آئے گا خود ہی، اس کے گھر والے کا نام اسلم ہے۔۔ ڈاکٹر صاحب میری دائیں ٹانگ میں بھی کبھی کبھی درد رہتا ہے۔ اس کی بھی دوائی دے دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باباجی کہتے ہیں کہ پہلے تو ڈاکٹر گم سم اسے دیکھتا رہا پھر وہ اٹھ کر دوائیوں والے کاؤنٹر کے عقب میں گیا مجھے ایسا لگا کہ کاؤنٹر کے پیچھے جاکر ڈاکٹر صاحب نے سب سے پہلے جلدی سے دو ڈسپرین کھائی ہوں گی۔۔











