seen from Spain
seen from Türkiye

seen from United States
seen from Poland

seen from United Kingdom

seen from United Kingdom
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from Yemen

seen from United Kingdom
seen from United Kingdom
seen from Türkiye

seen from United States
seen from United States

seen from Slovenia
seen from France
seen from United States
seen from United States
seen from China
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
تقدیر کے مفتی نے ازل کے دن سے فتویٰ دے رکھا ہے، کمزوری کے جرم کی سزا ناگہانی موت کے سوا کچھ نہیں، یعنی جو کمزور اور بے قوت ہیں وہ اسی طرح دوسروں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔جس طرح تیتر شکار ہو گیا۔ اگر وہ اپنے اندر شاہین کی قوت پیدا کر کے بلندیوں پر اڑتا رہتا تو کسی شکاری کا تیر اس تک نہ پہنچ سکتا۔ دنیا میں طاقتور قوم زندہ اور آزاد رہ کر حکومت کرتی ہے اور کمزور قوم مر مٹ جاتی ہے۔
اس شعر میں علامہ اقبالؒ نے قوموں کی زندگی، ان کے عروج و زوال اور قوت و کمزوری کے اصول پر روشنی ڈالی ہے۔ "تقدیر کے قاضی" سے مراد وہ آفاقی قانون یا الٰہی نظام ہے جو کائنات پر حکم فرما ہے۔ اقبال یہاں تقدیر کو ایک قاضی (جج) سے تشبیہ دیتے ہیں، جو عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔"یہ فتویٰ ہے ازل سے" یعنی یہ فیصلہ یا اصول ازل سے طے شدہ ہے، یعنی ازل سے اٹل اور غیر متبدل قانون ہے کہ جو قوم یا فرد کمزوری، بزدلی، یا بے عملی اختیار کرتا ہے، وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔"جرمِ ضعیفی" سے مراد صرف جسمانی کمزوری نہیں بلکہ کرداری، فکری، اخلاقی اور ایمانی کمزوری ہے۔ اقبال کے نزدیک اگر کوئی قوم اپنی خودی، غیرت، حریت فکر اور قوتِ عمل کھو دے، تو وہ کمزور ہو جاتی ہے۔ "مرگِ مفاجات" یعنی اچانک موت۔ یہ ایک ایسی موت ہے جو غفلت، بے خبری یا تیاری کے بغیر آ جائے۔
اقبال اس شعر کے ذریعے خبردار کرتے ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم اگر کمزور ہو جائے، فکری، عملی یا روحانی طور پر ،تو اس کی سزا یقینی اور فوری تباہی ہے۔یہ کائنات میں ایک ناگزیر اور اٹل قانون ہے جسے "تقدیر کا فیصلہ" کہا جا سکتا ہے۔یہ شعر امتِ مسلمہ، بالخصوص نوجوانوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اگر وہ سستی، کم ہمتی، غلامی اور مایوسی جیسے جذبات کو اپنائیں گے، تو ان کے مقدر میں ذلت اور نابودی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
اقبال کا پیغام یہ ہے کہ قوت، خودی، اور عمل کے بغیر بقا ممکن نہیں!
نظم: ابو العلا معرّیؔ
کتاب: بالِ جبریل
ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔
حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔
"انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے —
یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے،
جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔
1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔
آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔
لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں —
تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔
2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔
اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔
لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔
عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔
3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔
آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔
اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے —
جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔
4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے
اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی —
تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا
اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر —
یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔
5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے —
جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔
ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے
اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔
یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔
ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ —
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔
یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔
اور یہی عدل ہے۔
📖
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"
"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورہ النحل، آیت 90)
بہار رُت میں اجاڑ راستے
تکا کرو گے تو رو پڑو گے
کسی سے ملنے کو جب بھی محسن
سجا کرو گے تو رو پڑو گے
تمھارے وعدوں نے یار مجھ کو
تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے
کہ زندگی میں جو پھر کسی سے
دغا کرو گے تو رو پڑو گے
میں جانتا ہوں میری محبت
اجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسی
کہ چاند راتوں میں اب کسی سے
ملا کرو گے تو رو پڑو گے
برستی بارش میں یاد رکھنا !
تمہیں ستائیں گی میری آنکھیں
کسی ولی کے مزار پر جب
دعا کرو گے تو رو پڑو گئے … ! ! !
محسن نقوی
دنیا میں فحاشی کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک کی غالب مذہب
1. تھائی لینڈ – (بدھ مت)
2. ڈنمارک – (عیسائیت)
3. اٹلی – (عیسائیت)
4. جرمنی – (عیسائیت)
5. فرانس – (عیسائیت)
6. ناروے – (عیسائیت)
7. بیلجیم – (عیسائیت)
8. اسپین – (عیسائیت)
9. برطانیہ – (عیسائیت)
10. فن لینڈ – (عیسائیت)
دنیا میں چوری کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست دس ممالک اور ان کی غالب مذہب:
1. ڈنمارک اور فن لینڈ – (عیسائیت)
2. زمبابوے – (عیسائیت)
3. آسٹریلیا – (عیسائیت)
4. کینیڈا – (عیسائیت)
5. نیوزی لینڈ – (عیسائیت)
6. بھارت – (ہندومت)
7. انگلینڈ اور ویلز – (عیسائیت)
8. امریکا – (عیسائیت)
9. سویڈن – (عیسائیت)
10. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)
دنیا میں شراب نوشی کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست ممالک اور ان کی غالب مذہب:
1. مالڈووا – (عیسائیت)
2. بیلاروس – (عیسائیت)
3. لیتھوینیا – (عیسائیت)
4. روس – (عیسائیت)
5. چیک ریپبلک – (عیسائیت)
6. یوکرین – (عیسائیت)
7. انڈورا – (عیسائیت)
8. رومانیہ – (عیسائیت)
9. سربیا – (عیسائیت)
10. آسٹریلیا – (عیسائیت)
دنیا میں قتل کی بلند شرح والے ممالک اور ان کی غالب مذہب:
1. ہونڈوراس – (عیسائیت)
2. وینزویلا – (عیسائیت)
3. بیلیز – (عیسائیت)
4. ایل سلواڈور – (عیسائیت)
5. گوئٹے مالا – (عیسائیت)
6. جنوبی افریقہ – (عیسائیت)
7. سینٹ کٹس – (عیسائیت)
8. بہاماس – (عیسائیت)
9. لیسوتھو – (عیسائیت)
10. جمیکا – (عیسائیت)
دنیا کی چھ خطرناک ترین گینگوں کی مذہبی شناخت:
1. یاکوزا – جاپان (لا مذہبی)
2. اگبیرس – نائجیریا (عیسائیت)
3. واہ سینگ وُو – ہانگ کانگ / چین (بدھ مت)
4. جمیکا بوس – جمیکا (عیسائیت)
5. پی سی سی – برازیل (عیسائیت)
6. آرین برادرہڈ – امریکا (انتہا پسند سفید فام عیسائیت)
دنیا کے سب سے بڑے منشیات فروشوں کی قومیت اور مذہب:
1. پابلو ایسکوبار – کولمبیا (عیسائی)
2. آمادو کاریو – میکسیکو (عیسائی)
3. کارلوس لیدر – کولمبیا (عیسائی)
4. گریسیلڈا بلانکو – کولمبیا (عیسائی)
5. خواکین گوزمان (ال چاپو) – میکسیکو (عیسائی)
6. رافائیل کارو – میکسیکو (عیسائی)
پھر بھی ہمیں کہا جاتا ہے کہ اسلام دنیا میں دہشت گردی اور تشدد کا سبب ہے، اور ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اس پر یقین کریں؟
مسلمانوں نے پہلی عالمی جنگ شروع نہیں کی، بلکہ یہ مغربی سیکولر عیسائیوں کی پیدا کردہ تھی
مسلمانوں نے دوسری عالمی جنگ بھی شروع نہیں کی، وہ بھی مغرب ہی نے بھڑکائی
آسٹریلیا کے بیس ملین مقامی باشندوں کا قتل مسلمانوں نے نہیں کیا، بلکہ وہ لوگ تھے جو "محبت کے دین" کے پیروکار تھے۔
جاپان کے دو شہروں (ہیروشیما اور ناگاساکی) پر ایٹمی بم گرانے والے بھی مسلمان نہیں تھے
جنوبی امریکا میں ایک کروڑ سے زائد ریڈ انڈینز کے قاتل بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ "امن کا پیغام" لے کر آئے ہوئے عیسائی مبلغ تھے۔
شمالی امریکا میں پانچ کروڑ ریڈ انڈینز کا قتل بھی مسلمانوں نے نہیں کیا
افریقہ سے 18 کروڑ افراد کو غلام بنا کر لے جانے والے بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ وہی تھے جو آزادی اور لبرل ازم کے نعرے لگاتے ہیں
مسلمان دہشت گرد نہیں
بلکہ دہشت گردی کی تعریف ہی مغرب کی طرف سے امتیازی اور جانبدار ہے۔
اگر کوئی غیر مسلم حملہ کرے تو وہ ایک "انفرادی جرم" کہلاتا ہے
لیکن اگر کوئی مسلمان کسی حملے میں ملوث ہو، تو اُسے فوراً دہشت گردی قرار دے دیا جاتا ہے
چاہے وہ اپنے دین اور امت کے دفاع میں ہی کیوں نہ ہو
ایف بی آئی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق
1980 سے 2005 کے درمیان امریکا میں ہونے والے حملوں میں
صرف 6 فیصد حملے مسلمانوں سے منسوب تھے
جبکہ یہودیوں سے 7 فیصد
لیکن ان پر میڈیا نے کبھی توجہ نہیں دی
لہٰذا ہمیں دوہرے معیارات چھوڑنے ہوں گے
تبھی ہم اسلام کی اخلاقی بلندی اور عدل کو دنیا کے سامنے درست انداز میں پیش کر سکیں گے
اس پیغام کو خود تک محدود نہ رکھیں
اس سچائی کو دوسروں تک بھی پہنچائیں،
کیونکہ میڈیا کی طاقت دولت اور مفاد پرستی نے
اسلام کی تصویر کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ
ہماری ہی قوم کے کچھ منافق اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں
یہ دراصل اسلام کے خلاف ایک جنگ ہے
اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو اس حقیقت سے خبردار کریں
جتنے ممکن ہوں اور جتنے وسائل ہمارے پاس ہوں
اور آخر میں فخر سے کہیں
میں مسلمان ہوں اپنے دین پر فخر ہے اور اپنی امت اور اس کی جدوجہد پر مجھے ناز ہے
اور اللہ کے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا نہ بھولیں۔
تقسیم نہ ہو جائے یہ گھر چار دھڑوں میں
رنجش ہے کئی دن سے کوئی گھر کے بَڑوں میں
اس پیڑ کی چھاؤں میں بدن نیلا پڑا ہے
تم زہر اُلٹ آئے تھے کل جس کی جَڑوں میں
ہم لوگ ابھی عشق میں سچے نہیں اتنے
ہم تیر نہیں پائیں گے مٹی کے گھڑوں میں
اک رُونقِ بازار تھی جو کھا گئی وحشت
یارانے ہوئے دفن دکانوں کے تھڑوں میں
اِک بار کوئی ہاتھ انہیں چھو کے گیا تھا
وہ لمس کھنکتا ہے کلائی کے کَڑوں میں
انتخاب: فہیم خان شیروانی