“jab har cheez ko chorh hi jaana hai, tou haasil kya, mehroomi kya, jeet kya aur haar kya?”
seen from China
seen from China
seen from United States
seen from United States
seen from China
seen from Singapore

seen from Malaysia
seen from United Kingdom
seen from China
seen from United States
seen from United States
seen from China
seen from United States
seen from China
seen from China

seen from United States

seen from United States
seen from China
seen from United States

seen from Malaysia
“jab har cheez ko chorh hi jaana hai, tou haasil kya, mehroomi kya, jeet kya aur haar kya?”
Main umr bhar bhatakta raha tujhe paane mein,
Har raah teri yaadon mein khoya raha afsaanon mein.
Kaash ek zindagi tujhe paane ke liye bhi naseeb ho Jannat mein,
Yeh waali to guzar gayi bas intezaaron mein.
~refat
puurā dukh aur aadhā chāñd
hijr kī shab aur aisā chāñd
din meñ vahshat bahal ga.ī
raat huī aur niklā chāñd
kis maqtal se guzrā hogā
itnā sahmā sahmā chāñd
yādoñ kī ābād galī meñ
ghuum rahā hai tanhā chāñd
merī karvaT par jaag uTThe
niiñd kā kitnā kachchā chāñd
mere muñh ko kis hairat se
dekh rahā hai bholā chāñd
itne ghane bādal ke pīchhe
kitnā tanhā hogā chāñd
aañsū roke nuur nahā.e
dil dariyā tan sahrā chāñd
itne raushan chehre par bhī
sūraj kā hai saayā chāñd
jab paanī meñ chehra dekhā
tū ne kis ko sochā chāñd
bargad kī ik shāḳh haTā kar
jaane kis ko jhāñkā chāñd
bādal ke resham jhūle meñ
bhor samay tak soyā chāñd
raat ke shāne par sar rakkhe
dekh rahā hai sapnā chāñd
sūkhe pattoñ ke jhurmuT par
shabnam thī yā nanhā chāñd
haath hilā kar ruḳhsat hogā
us kī sūrat hijr kā chāñd
sahrā sahrā bhaTak rahā hai
apne ishq meñ sachchā chāñd
raat ke shāyad ek baje haiñ
sotāā hogā merā chāñd
- Parveen Shakir
پورا دکھ اور آدھا چاند
ہجر کی شب اور ایسا چاند
دن میں وحشت بہل گئی
رات ہوئی اور نکلا چاند
کس مقتل سے گزرا ہوگا
اتنا سہما سہما چاند
یادوں کی آباد گلی میں
گھوم رہا ہے تنہا چاند
میری کروٹ پر جاگ اٹھے
نیند کا کتنا کچا چاند
میرے منہ کو کس حیرت سے
دیکھ رہا ہے بھولا چاند
اتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنہا ہوگا چاند
آنسو روکے نور نہائے
دل دریا تن صحرا چاند
اتنے روشن چہرے پر بھی
سورج کا ہے سایا چاند
جب پانی میں چہرہ دیکھا
تو نے کس کو سوچا چاند
برگد کی اک شاخ ہٹا کر
جانے کس کو جھانکا چاند
بادل کے ریشم جھولے میں
بھور سمے تک سویا چاند
رات کے شانے پر سر رکھے
دیکھ رہا ہے سپنا چاند
سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
شبنم تھی یا ننھا چاند
ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
اس کی صورت ہجر کا چاند
صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
اپنے عشق میں سچا چاند
رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہوگا میرا چاند
- پروین شاکر
One-sided lovers love unconditionally, but they do not get the respect and status they deserve, we should appreciate people who love us unconditionally, if If anyone loves you unconditionally, then you must watch this video.
एक तरफा प्यार करने वाले लोग, बिना शर्त प्यार करता है, लेकिन उन्हें वह सम्मान और दर्जा नहीं मिलता है जिसके वे हकदार हैं, हमें उन लोगों की सराहना करनी चाहिए जो हमसे बिना शर्त प्यार करते हैं, अगर कोई भी आपको बिना शर्त प्यार करता है, तो आपको यह वीडियो ज़रूर देखना चाहिए
یک طرفا پیار کرنے والے لوگ بنا شرطوں کے پیار کرتے ہیں ، لیکن ان کو وہ عزت اور مقام نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں ، ہمیں ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے جو ہم سے بے پناہ بنا کسی شرطوں کے پیار کرتے ہیں ،اگر آپ سے بھی کوئی بنا شرطوں کے پیار کرتا ہے ہے تو یہ ویڈیو آپ کو ضرور دیکھنی چاہیے
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
تقدیر کے مفتی نے ازل کے دن سے فتویٰ دے رکھا ہے، کمزوری کے جرم کی سزا ناگہانی موت کے سوا کچھ نہیں، یعنی جو کمزور اور بے قوت ہیں وہ اسی طرح دوسروں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔جس طرح تیتر شکار ہو گیا۔ اگر وہ اپنے اندر شاہین کی قوت پیدا کر کے بلندیوں پر اڑتا رہتا تو کسی شکاری کا تیر اس تک نہ پہنچ سکتا۔ دنیا میں طاقتور قوم زندہ اور آزاد رہ کر حکومت کرتی ہے اور کمزور قوم مر مٹ جاتی ہے۔
اس شعر میں علامہ اقبالؒ نے قوموں کی زندگی، ان کے عروج و زوال اور قوت و کمزوری کے اصول پر روشنی ڈالی ہے۔ "تقدیر کے قاضی" سے مراد وہ آفاقی قانون یا الٰہی نظام ہے جو کائنات پر حکم فرما ہے۔ اقبال یہاں تقدیر کو ایک قاضی (جج) سے تشبیہ دیتے ہیں، جو عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔"یہ فتویٰ ہے ازل سے" یعنی یہ فیصلہ یا اصول ازل سے طے شدہ ہے، یعنی ازل سے اٹل اور غیر متبدل قانون ہے کہ جو قوم یا فرد کمزوری، بزدلی، یا بے عملی اختیار کرتا ہے، وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔"جرمِ ضعیفی" سے مراد صرف جسمانی کمزوری نہیں بلکہ کرداری، فکری، اخلاقی اور ایمانی کمزوری ہے۔ اقبال کے نزدیک اگر کوئی قوم اپنی خودی، غیرت، حریت فکر اور قوتِ عمل کھو دے، تو وہ کمزور ہو جاتی ہے۔ "مرگِ مفاجات" یعنی اچانک موت۔ یہ ایک ایسی موت ہے جو غفلت، بے خبری یا تیاری کے بغیر آ جائے۔
اقبال اس شعر کے ذریعے خبردار کرتے ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم اگر کمزور ہو جائے، فکری، عملی یا روحانی طور پر ،تو اس کی سزا یقینی اور فوری تباہی ہے۔یہ کائنات میں ایک ناگزیر اور اٹل قانون ہے جسے "تقدیر کا فیصلہ" کہا جا سکتا ہے۔یہ شعر امتِ مسلمہ، بالخصوص نوجوانوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اگر وہ سستی، کم ہمتی، غلامی اور مایوسی جیسے جذبات کو اپنائیں گے، تو ان کے مقدر میں ذلت اور نابودی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
اقبال کا پیغام یہ ہے کہ قوت، خودی، اور عمل کے بغیر بقا ممکن نہیں!
نظم: ابو العلا معرّیؔ
کتاب: بالِ جبریل