گھر کی عزت پارٹ 14
اب مجھ میں اور امی میں کوئ پردہ نہیں رہا تھا ہماری روز کی روٹین میں شامل تھا کپڑے نہ پہننا کپڑے ہم صرف تب ہی پہنتی تھی جب میرے بہن بھائ گھر پہ ہوتے باقی ٹائم میں خود بھی ننگی رہتی تھی اور اپنی امی کو بھی ننگی رکھتی تھی عمران اور فاطمہ کا تجسس بھی دن بدن بڑھتا جارہا تھا میں کپڑے بھی گھر میں ٹائیٹ جینز اور اور ٹی شرٹ پہنتی تھی ایک دو دفعہ تو میں نے امی کو بھی پینٹ پہنائ امی اس میں بہت ہی سیکسی لگتی تھی اب ہمارے گھر کا ماحول بہت تبدیل ہوچکا تھا زنا کاری اب ہم ماں بیٹی کی شوق سے زیادہ ضرورت بن چکی تھی امی کو پیشاب پلانا لن چوسوانا بہت چھوٹے کام ہوچکے تھے میں امی کو اپنی نوکرانی کی طرح ٹریٹ کرتی تھی امی بھی اس رویہ سے بہت خوش تھی
مجھ پہ اب جو تھوڑی بہت قید تھی مطلب جس وقت عمران اور فاطمہ گھر پہ ہوتے بہت بے چینی رہتی تھی اور وہ دونوں کی وجہ سے کپڑے پہننے پڑتے تو ان پہ بہت غصہ آتا تھا میں یہی سوچ رہی تھی کہ کیسے ان دونوں کو اس ماحول میں شامل کیا جاے اور میں مکمل آزادی سے گھر پہ 24 گھنٹے ننگی رہ سکوں بچوں کہ سکول جانے کہ بعد امی کچن میں برتن سمیٹنے گئ اور قاری صاحب بھی کچھ کام سے باہر گئے تھے میں ناشتہ کہ ٹیبل سے اٹھی اور سیدھا امی کہ پاس چلی گئ میں نے جاتے ہی امی کی گانڈ پہ تھپڑ مارا اور بولی شاہدہ گشتی ابھی تک کپڑے نہیں اتارے امی میری طرف مسکرا کہ دیکھا اور اتارنے ہی لگی تھی میری بچی اور برتن نیچے رکھ کہ اپنی شلوار گھٹنوں تک کردی میں نے امی کی قمیض ہٹا کہ ان کی گانڈ میں ایک انگلی ڈال کہ بولی ماں کتنا مزہ ہے نہ اپنے جسم کو ننگا رکھنے میں امی میری طرف گھومی اور بولی تیرے منہ سے ماں سن کہ کتنا عجیب لگ رہا اور ہنس دی امی کی بات سے مجھے بھی ہنسی اگئ اور بولی پوری کنجری ہے تو عزت تو راس ہی نہیں تجھے لیکن میں بول رہی تھی کہ اگر ہم 24 گھنٹے ننگی رہتی تو کتنا مزہ آتا جب ہمارے یار کا دل کرتا ہمارے سوراخ سامنے ہوتے ان کہ امی کا تھوڑا سا منہ بنا اور بولی بیٹی بات تو سہی ہے تیری جب سے میں نے اپنے اندر کی رنڈی کو جگایا ہے میری تو زندگی بدل گئ ہے مجھے لگتا میں پھر سے جوان ہورہی ہوں سیکس میں ہر گندے سے گندہ کام مجھے مزا دیتا لیکن ہم اس سے زیادہ نہیں کر سکتے ہمارا معاشرہ اور گھر کا ماحول اس سے زیادہ نہیں جا سکتا مجھے تو ڈر رہتا کہیں کسی کو کچھ پتا چل گیا تو ہمارا کیا ہوگا عمران اور فاطمہ کا شک بھی دن بدن بڑھتا جا رہا میں نے امی کی بات کاٹ دی اور بولی وہی تو میں کہہ رہی کہ ان کا کچھ کیا جاے امی میری بات کو سمجھتے ہوے بولی نہیں میری بچی یہ مناسب نہیں ہے میں نے غصے سے امی کہ منہ پہ طمانچہ مار دیا ساتھ ہی اس کی گال کو سہلاتے ہوے بولی دیکھو ماں اس کہ علاوہ ہمارے پاس کوئ آپشن نہیں ہے تم ان کو نیند کی گولیاں دیتی اس سے تو بہتر ہے اور جو مزا ہم لے رہے ہماری بہن کا بھی حق اس مزے کا ایک دفعہ اس کو لن کا چسکا لگ گیا پھر وہ بھی خوش اور ہم بھی امی کچھ سوچ کہ لیکن بیٹی یہ ہوگا کیسے میں امی کہ ماننے پہ خوش ہوئ اور اس کو گلے سے لگا کہ بولی فاطمہ کو مناے گے اس پہ اگر نہ مانی تو ایک دفعہ زبردستی کرنی پڑے گئ اور ویسے بھی عورت کو زبردستی لن ایک دفعہ مل جاے پھر تو وہ لن کہ لیے ہم سے لڑا کرے گئ امی تھوڑا پریشان تھی لیکن میرے اس نرم رویے کہ آگے بیچاری کچھ نہ بول سکی اور میری گانڈ پہ ہاتھ پھیرنے لگی اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئ ہم دونوں کہ چہرے پہ خوشی آگئ امی نہ کہا لو آگئے ہمارے ٹھوکو میں پیار سے امی کی گانڈ پہ ہاتھ مارا اور بولی چل پھر ننگی ہوجا آج اور ایک دفعہ گانڈ مروا لے پھر وہی لن تیری دوسری بیٹی کی سیل بھی کھولے گا امی نے کہا اور عمران میں بولی عمران کہ پاس تو لن ہے اور اس کہ لیے جب اس کی بڑی بہن ننگی ہوگی تو وہ کیسے منع کر سکتا امی ہنس دی اور ںولی پوری کنجری ہے اتنے میں ہم دونوں ننگی ہوگئ اور امی نے دروازہ کھولا سامنے قاری صاحب کو دیکھ کہ مسکرا دی قاری صاحب مجھ سے بولے کیا بات ہے آج میری رنڈیاں بہت خوش لگ رہی میں تب بولی جناب آج آپ کو اپنی نئ کنواری بیٹی جو پیش کرنی ہے میری رنڈی ماں نے قاری صاحب کی آنکھوں میں چمک آگئ اور بولے سچ امی نے محسوس کیا فاطمہ کی نام سے قاری صاحب کا لن ایک دم کھڑا ہوگیا امی دیکھ کہ ہنس دی اور بولی جی جناب لیکن اس سے پہلے اس کی ماں آپ کی سواری کرے گئ قاری صاحب میرے سامنے میری ننگی ماں کو گود میں اٹھا کہ صحن میں لے آے اور پاگلوں کی طرح ٹوٹ پڑے آج قاری صاحب بہت جوش میں لگ رہے تھے امی کو 20 منٹ تک پورے زور سے چودا اور اپنا پانی ہم دونوں کو پلایا آج میں نے بچوں کہ آنے سے پہلے ماں کو ایک پینٹ شرٹ دی اور ایک خود پہنی اور تیار ہو کہ بیٹھ گئ
امی ابھی بھی قاری صاحب کی گود میں بیٹھی تھی میں سوچنے میں مصروف تھی کہ کیسے شروع کرو جو بھی تھا لیکن پھر بھی وہ میری بہن تھی اس کہ ساتھ برا ہو تو مجھے بھی تکلیف ہوگی اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئ جس سے میں نے امی کی طرف دیکھا تو ان کہ چہرے کا رنگ بھی اڑھ چکا تھا میں نے امی کو اشارے سے دروازہ کھولنے کا کہا امی چپ چاپ دروازے کی طرف چل دی ڈر تو امی کو بھی حوس میں اندھی ہو کہ ماں نے فاطمہ کو چدوانے کا کہہ تو دیا تھا لیکن امی کو بھی کوئ سمجھ نہیں تھی کہ اس معاملے کو کیسے نمٹایا جاے لیکن میں ٹھان چکی تھی کہ کل پرسو وہ ہمیں پکڑے اس سے بہتر ہے ہم اس کو اپنے کھیل میں شامل کرلیں
اتنے میں دونوں بچے صحن تک آگے عمران اور فاطمہ نے مجھے اور قاری صاحب کو سلام کیا میں نے محسوس کیا قاری صاحب فاطمہ کو آج بہت گندی نظر سے دیکھ رہیں ہیں فاطمہ کپڑے بدلنے گئ تو میں بھی اٹھ کہ اس کہ پیچھے آگئ فاطمہ نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا میں اس سے بولی فاطمہ کیسی چل رہی تمہاری پڑھائ جس پہ فاطمہ تھوڑا منہ بنا کہ بولی آپ کو کوئ غرض ہے میری پڑھائ سے مجھے ایک پل کہ لیے بہت غصہ آیا جب سے میں امی کو ذلیل کرنا شروع کیا تھا مجھے کسی کی چھوٹی سی بات بھی جھبتی تھی خیر میں نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے کوئ ری ایکشن نہیں دیا اور بولی کیوں نہیں میری بہن تمہاری بڑی فکر ہے مجھے فاطمہ تھوڑا اور بولنے والی تھی میں نے اسے ٹوک دیا اور ایک اور سوال اس سے کیا فاطمہ تمہیں کوئ لڑکا پسند ہے سکول میں یا محلے میں فاطمہ اس بار انکھیں پھاڑ کی میری طرف دیکھنے لگی اور بولی کیا مطلب میں بولی اب تم بڑی ہو رہی ہو اور بہنوں میں کوئ پردہ نہیں ہونا چاہیے اگر تمہیں کوئ لڑکا پسند ہے تو تم مجھ سے بات کر سکتی اس بار فاطمہ پھر سے میری توقع کہ الٹ بولی نہیں باجی میں آپ کی طرح نہیں مجھے اپنی عزت بہت عزیز ہے اب مجھے بھی غصہ آگیا اور بولی کیا مطلب ہے تمہارا اس پہ فاطمہ بولی آپ کو بھی پتا میرا کیا مطلب ہے میں اب اس کہ قریب آئ اور بولی دیکھو تم میرے پہنواے کو لے تھوڑا پریشان ہو میں جانتی ہوں لیکن بیٹا یہ ہماری زندگی ہے ہمیں اپنی زندگی میں وہ سب کرنا چاہیے جس میں سکون ملے اور یہ لباس میں دیکھو میں اچھی بھی لگتی فاطمہ بولی ٹھیک ہے باجی آپ بڑی ہے جو چاہے کر سکتی ہو مجھ سے کیا چاہتی میں تو اب آپ پہ کوئ اعتراض بھی نہیں کیا تب میں اس کہ قریب ہوئ اور بولی میں چاہتی جو مزا سکون مجھے نصیب ہوا میں چاہتی وہ میری بہن بھی تجربہ کرے اس پہ فاطمہ بولی نہیں باجی ہر بندے کی اپنی زندگی ہے آپ اپنے بے حیائ والے تجربے مجھ پہ مت لاگو کرو مجھے نہیں کرنا ایسا کچھ
میری برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا لیکن میں کوئ جذباتی فیصلہ کر کہ نیا تماشہ نہیں لگانا چاہتی تھی ایک اور کوشش کی اور بولی تم اب جوان ہو رہی فاطمہ اس عمر میں لڑکی کو کسی کا ساتھ چاہیے ہوتا تم یقین کرو تمہیں اچھا لگے گا جب کوئ تمہارے جسم کو دیکھ کہ تعریف کرے ہر کوئ تمہیں اپنانا چاہے اس پہ فاطمہ نے بولا بس کریں باجی میں بہت برداشت کر رہی آپ کریں جو آپ نے قاری صاحب کہ ساتھ کرنا مجھے شریف ہی رہنے دیں اس پہ میرا ماتھا ٹھنکا کہ لگتا اس کو پتا ہمارے تعلق کا میں اب پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی مجھے ہر صورت اسے قابو میں کرنا تھا میں نے اس کہا کیا مطلب کیا کرنا قاری صاحب سے کیا کہنا چاہتی فاطمہ بولی اس دن جب آپ قاری صاحب کی گود سے اٹھی تھی آپ کی پینٹ پیچھے سے نیچے کیوں تھی مجھے شرم آئ میں اندر نہیں آئ لیکن آپ بالکل بے شرم ہوگئ ہیں اگر امی کو پتا چلتا تو کتنا دکھ ہوتا انہیں میں سمجھ گئ کی اس کو ساری بات کا نہیں پتا میں فاطمہ کہ پاس آئ اور بولی فاطمہ دیکھو میں تم سے کچھ نہیں چھپاوں گئ میں قاری صاحب کہ ساتھ پوری ننگی بھی رہی ہوں اور اس میں بہت مزا ہے تم چاہو تو پیار سے یہ مزا تم بھی لے سکتی فاطمہ تھوڑے غصے میں بولی شرم کرو باجی کیا بول رہی آپ کو اندازہ نہیں اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئ میں نے پوچھا کون ادھر سے قاری صاحب کی آواز آئ میں میں نے دروازہ کھولا تو قاری صاحب اندر آ کہ بولے کیا بات چیت ہو رہی بچو میں جان بوجھ کی قاری صاحب سے لپٹ گئ اور ان کہ ہونٹوں کو بوسہ دیا اور بولی جان آپ کہ لیے فاطمہ کو راضی کر رہی لیکن یہ مان ہی نہیں رہی فاطمہ میرا یہ روپ دیکھ کہ حیران تھی میں بے شرم ہوگئ تھی فاطمہ کو اس کا پتا تھا لیکن اس قدر ہوگئ ہوں یہ اس کہ فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا قاری صاحب مجھ سے الگ ہوے اور فاطمہ کی طرف بڑھے فاطمہ تھوڑا سہم کہ اگے کو ہوگئ قاری صاحب بولے کیا بات ہے بیٹی کیوں پریشان اب فاطمہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی جس استاد کو وہ بہت عزت دیتی تھی آج وہی اس کی عزت لینے کی غرض سے آرہا تھا فاطمہ نے میری طرف دیکھا اور کہا باجی یہ کیا ہو رہا پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو میں اگے بڑی اور اس کہ منہ پہ ایک تھپڑ مارا جس سے فاطمہ اور سہم گئ اور رونے والے منہ سے قاری صاحب کی طرف دیکھا کیوں کہ وہ فاطمہ کو کچھ نہیں کہنے دیتے تھے اس قاری صاحب اس کہ استاد کہ روپ میں نہیں بلکہ ایک جنسی درندہ کہ روپ میں کھڑا تھا قاری صاحب بولے فاطمہ بیٹا بڑی بہن کی بات سمجھ میں نہیں آئ یہ بات سن کہ تو فاطمہ اور ہل گئ اس نے تھوڑا زور سے چلایا امی۔۔۔۔۔۔! اس پہ مجھے ہنسی آگئ فاطمہ کو لگا شائد میں نے امی کو کہیں بھیج دیا جس پہ میں کوئ نہ ہونے کا فائدہ اٹھا رہی اتنے میں دروازے پہ امی آگئ امی نے آتے ہی کہا عمران کو کھانا لینے بھیج دیا جس کا مطلب تھا گھر پہ اب راستہ صاف ہے فاطمہ امی کو دیکھ کہ تھوڑا سکون کا سانس لیا اور امی کی طرف لپکی اور امی کی باہوں میں جا کہ بولی امی باجی بہت گندی ہے میں نے آپ کو کچھ بتانا ہے آپ مجھے یہاں سے لے جاو اس پہ امی بولی کیا ہوا فاطمہ سب ٹھیک ہے تو فاطمہ بولی امی باجی اور قاری صاحب ۔۔۔۔۔۔ امی نے پھر پوچھا کیا ہوا فاطمہ سہمے ہوے انداز سے بولی امی باجی اور قاری صاحب ننگے ہو کہ گندے کام کرتے امی کو اپنی بچی کی جتنی بھی فکر لاحق تھی اس بات سے تھوڑی سی ہنسی نکل گئ اتنے میں میں امی کو بولا شاہدہ اسے ادھر لے کہ آ فاطمہ ایک دم سے امی کا نام میرے منہ سے سن کہ چونک گئ امی بھی نا چاہتے ہوے بھی فاطمہ کو میرے طرف لانے لگی فاطمہ امی کی طرف دیکھ کہ بولی امی یہ سب کیا چل رہا امی بولی بیٹی مجھے معاف کردینا اتنا سننا تھا فاطمہ اور تجسس سے امی کو دیکھنے لگی اور بولی کیا مطلب ہیں امی آپ کیا کہنا چاہتی شائد اس کی سمجھ میں کچھ نہیں ارہا تھا اتنے میں میں نے فاطمہ کو بازو سے پکڑ کہ اپنے سامنے کر لیا اور 2 تھپڑ اس کہ منہ پہ مارے اور بولی جتنی جلدی اس حقیقت کو سمجھ جاو گئ اتنا اچھا ہوگا اس پہ امی کو اپنی بیٹی کا خیال آیا اور مجھ سے بولی بیٹی معصوم ہے نہ مارو پلیز مجھے امی کی بات بہت چبھی میں فاطمہ کو ایک سائیڈ پہ کیا اور امی کی طرف لپکی اور ایک زور دار تپھڑ اس کہ منہ پہ مارا اور بولی تیری اتنی اوقات ہے جو تو میرے سامنے بول سکے یہ سارا ڈرامہ قاری صاحب چپ چاپ دیکھ رہے تھے میں اپنی ہر حد سے پار جا رہی تھی فاطمہ کہ سامنے ماں کو ایسے بولنے میں اور بھی مزا آرہا تھا امی کو بھی شائد مزا آیا ان کہ منہ سے اہ تو نکلی لیکن وہ اپنے جذبات پئ اتنے میں قاری صاحب اگے بڑے اور فاطمہ کو اٹھایا اور بولے بیٹی یہاں کوئ بھی تمہارے خلاف نہیں ہے تم اپنی ماں کو دیکھو اپنی بہن کو دیکھو تمہیں یہ سب عجیب لگ رہا ہوگا لیکن اس میں کیا لذت ہے تم اس میں اترو گی تو جانو گی اب فاطمہ تھوڑی نرم پڑ گئ تھی لیکن ابھی بھی وہ اس سب کہ لیے تیار نہیں تھی اس نے کہا باجی آپ امی قاری صاحب کیا کرتے ہیں مجھے کوئ غرض نہیں لیکن
پلیز مجھے اس سب سے دور رکھیں یہ بات مناسب تو تھی لیکن اب اس پہ عمل نہیں کیا جاسکتا تھا میں نے فاطمہ کو کہا چلیں دیکھتے ہیں تم اپنے کپڑے اتارو اس پہ فاطمہ کا رونا نکل آیا اور امی آگے بڑھنے لگی تو میں نے اس کہ بالوں سے اسے پکڑ لیا اور ایک ہاتھ سے اس کی گانڈ پہ تھپڑ مارنے لگی اور بولی صبح اس کی چوت کہ نام پہ بڑا اچھل اچھل کہ لن لے رہی اب مزید تجھے برداشت کرنا مشکل ہے تیری سزا ہے کہ تو اسے ننگا کر اور اگر 2 منٹ میں ننگا نہ کر پائ تو ایسی سزا دو گی کہ تیری ماں نے بھی سوچی نہیں ہوگی امی بیچاری ڈر کہ فاطمہ کہ پاس گئ اور بولی بیٹی اپنی ماں کو سزا سے بچا لے ہوجا ننگی فاطمہ نے انکار کرنا چاہا جس پہ امی نے بھی ایک تھپڑ مار دیا اسے اس پہ فاطمہ تھوڑا رونے لگی اور جسم ڈھیلا کردیا جس کا فائدہ امی نے اٹھایا اور اس کی پہلے قمیض اتاری پھر شلوار اندر سے فاطمہ پوری ننگی تھی وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا جسم چھپانے کی کوشش کر رہی اور ساتھ وہ رو رہی میں اب سکون میں تھی اور انجواے کرنے کہ موڈ میں تھی میں اس کو دیکھا اور اس کہ قریب جا کہ اس کہ جسم پہ ہاتھ پھیرنے لگی افف فاطمہ تم تو پوری تیار ہو رونا تو بند کرو ابھی اندر جاے گا تو پھر رو لینا میں نے اس کہ نرم چتڑ کو کھول کہ اس کی گانڈ کا سوراخ چیک کیا پھر اس کی شرمگاہ کو دیکھا اور بولی فاطمہ مزا کرو یہ پل پھر کبھی نہیں ائیں گے اور قاری صاحب کو اشارے سے بلایا اور بولی دیکھیں نہ میری چھوٹی بہن اس کو استعمال تو آپ نے ہی کرنا ہے قاری صاحب اگے بڑے اور آ کہ فاطمہ کہ جسم پہ ہاتھ رکھا ہاتھ لگتے ہی فاطمہ کا جسم ایک پل کہ لیے کانپ گیا فاطمہ نے قاری صاحب سے کہا پلیز مجھے چھوڑ دیں میں آپ کی طالبعلم ہوں آپ میرے ساتھ کیسے کر سکتے تب قاری بولا بیٹی اس وقت تو تم میرے لیے ایک ننگا جسم ہو مجھے سے رحم کی کوئ امید نہ رکھنا میں جانتا ہوں تم میری بچی کی طرح ہو لیکن میرا یہ لن یہ تمہاری ماں اور بہن نے بیگاڑ دیا ہے فاطمہ کو بچنے کا کوئ راستہ نظر نہیں ارہا تھا اتنے میں میں نے فاطمہ کا ہاتھ قاری صاحب کہ لن پہ رکھ دیا فاطمہ کو جھٹکا لگا اس نے جھٹکے سے ہاتھ پیچے کیا میں بولی پاگل اسے منہ میں لینے کہ لیے امی مجھ سے جوتیاں تک کھاتی اور تم ہاتھ ہٹا رہی پکڑو اسے یہی زندگی کا سکھ ہے فاطمہ کہ لیے سب نیا تھا فاطمہ نے امی کی طرف دیکھا امی نے بھی اشارہ ہاں میں کیا اب ہم تینوں میں فاطمہ اکیلی ننگی تھی
فاطمہ لن کو پکڑنے سے انکار کر رہی تھی مجھے بہت غصہ آیا میں نے اسے اپنی طرف کر کہ چار پانچ تپھڑ دے مارے جس سے وہ رونے لگی لیکن میں حوس میں بے رحم اور اندھی ہوچکی تھی امی نے اگے بڑھ کہ مجھے روکنے کی کوشش کی تو 2 4 تھپڑ امی کو بھی مار دیے میں چلا کہ بولی چپ کر کتی کی بچی تیرے رونے سے کچھ نہیں ہوگا اب تو تیری گانڈ پھٹے گی ہی پٹھے گی قاری صاحب تھوڑا آگے بڑھے اور فاطمہ کہ پستان پہ پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے فاطمہ اب رو نہیں رہی تھی لیکن اس کی حالت بہت خراب تھی قاری صاحب نے ایک ہاتھ فاطمہ کی ننگی گانڈ پہ رکھا اور بولے بیٹی یہ سب کچھ تمہیں مزا دینے کہ لیے کیا جا رہا تمہاری ماں اور بڑی باجی اس مزے سے آشنا ہوے ان سے پوچھ سکتی کہ زنا میں کیا لذت ہے فاطمہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اس کہ ساتھ کیا ہو رہا وہ قاری صاحب سے بولی پلیز مجھے چھوڑ دیں مجھے کوئ مزا نہیں کرنا قاری صاحب اگے بڑھے اور اس کہ ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ملا دیا فاطمہ نے دور ہٹنے کی کوشش کی لیکن قاری صاحب کی گرفت اتنی مظبوط تھی کہ بیچاری ہل بھی نہ پائ قاری صاحب اس کو چومنے لگے اس کی گرمی کو جگانے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ ڈری تھی اس لیے بہت کوشش کہ باوجود بھی اس کا ڈر ختم نہ کر پائے مرد کو زنا میں عورت کا ساتھ مزا دوبالا کر دیتا اور وہ وہی چاہتے تھے قاری صاحب نے امی کی طرف دیکھا جو اپنی معصوم کلی کو ایک بھیڑیے کہ سپرد کر رہی تھی قاری صاحب امی سے مخاطب ہوے اور بولے جان زرا میری بچی کی گانڈ تو چاٹو جب تک اسے مزا نہیں آے گا یہ مجھے مزا کیسے دے گی قاری صاحب کی بات سن کہ امی تھوڑا گھبرا گئ فاطمہ پہ تو پہاڑ کہ پہاڑ ٹوٹ رہے تھے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اسں کی ماں جو ہر وقت پردے میں رہتی تھی اب ایہ نا محرم کہ حکم سے اس کی گانڈ تک چاٹے گی مجھے سن کہ ہی مزا آگیا امی ابھی کچھ سوچ ہی رہی تھی کہ میں نے امی کو بالوں سے پکڑا اور بولی سنا نہیں تیرا ٹھوکو کیا حکم دے رہا اپنی اس حرامزادی بیٹی کی گانڈ چاٹ اور سن تونے کپڑے کیوں پہنے ننگی ہو کہ چاٹنا میرے یار کو اچھا لگے گا امی بے چاری نیچے منہ کر کہ اپنی پینٹ شرٹ اتارنے لگی اور نیچے بیٹھ گئ اور فاطمہ کے چوتڑوں پہ ایک کس کیا اگے سے قاری صاحب فاطمہ کہ پستان کو دھیرے دھیرے سہلا رہے تھے فاطمہ نے امی کہ ہونٹ اپنی ننگی گانڈ پہ محسوس کیے تو کانپ گئ میں نے امی سے کہا سالی شرما کیوں رہی ہے اس کا سوراخ چاٹ جیسے میرا سوراخ چاٹتی ہے امی نے فاطمہ کہ چوتڑ کھولے اور اپنی جیب فاطمہ کہ سوراخ پہ رکھی ہی تھی کہ فاطمہ کہ منہ سے آہ نکل گئ جسے سن کہ ہم دونوں کہ منہ پہ شیطانی مسکراہٹ آگئ اب فاطمہ گرم ہونے کی سیڑھیوں پہ چڑھ گئ تھی آگے سے قاری صاحب اپنا ننگا لن فاطمہ کی معصوم شرمگاہ سے رگڑ رہے تھے اوپر سے فاطمہ کو چاٹ رہے تھے کبھی اس کا منہ کبھی گردن کبھی پستان ایسے کرتے کرتے فاطمہ پوری گرم ہرگئ اب وہ رونے کی بجاے آہیں بھر رہی تھی اور خود اپنا جسم قاری صاحب کہ قریب لانے کی کوشش کر رہی شائد یہ اس کہ اختیار میں نہیں رہا تھا اب امی خود آگے آگئ اور بولی بیٹی تمہاری شرمگاہ چاٹ لوں اس پہ فاطمہ منہ سے کچھ نہیں بولی لیکن ہاں میں سر ہلا دیا
امی فاطمہ کہ اشارے سے خوش ہوئ اور جوش سے اس کی ننھی پھدی چاٹنے لگی اب قاری صاحب نے فاطمہ کو کہا بیٹی نیچے بیٹھ جاو فاطمہ نے ارام سے بات مانی اب قاری صاحب اپنا لن ہاتھ سے پکڑ کہ بولے لو اسے چاٹو اس پہ فاطمہ نے منہ بنایا اور بولی یہ گندہ ہے قاری صاحب یہاں سے آپ پیشاب کرتے اس پہ قاری صاحب بولے بیٹی یہی گندی چیز ہی مزے کی ہوتی روکو میں تمہیں کچھ دکھاتا ہوں قاری صاحب بولے مجھے پیشاب آرہا ہے اس پہ امی جھٹ سے آگے ہوئ اور ساری شرم بلا کہ بولی پلیز میں پئوں گئ اس پہ فاطمہ امی کی طرف دیکھا انکھیں پھاڑ کہ اس اور امی سے بولی امی آپ کیا بول رہی امی نے جواب میں کہا بیٹی تمہیں نہیں پتا اس میں کیا مزا ہے
میں پاس کھڑے مسکرا رہی تھی اور بولی سارا نہ پینا کتی مجھے بھی دینا اور میں بھی ساتھ بیٹھ گی قاری صاحب نے آدھا آدھا پیشاب ہم ماں بیٹی کو پلایا یہ نظارہ دیکھ کہ فاطمہ کو پتا نہیں کیا ہوا اس کا ہاتھ اپنے آپ اس کی شرمگاہ پہ چلا گیا
مجھے یہ دیکھ کہ اپنی جیت یقینی نظر آنے لگی اب فاطمہ تقریباً تیار تھی قاری صاحب نے لن کو فاطمہ کہ منہ کی طرف کردیا اور بولے بیٹی دیکھو جس چیز کی وجہ سے تم نہ کر رہی تھی وہ تو تمہاری ماں اور بہن شوق سے پیتی اب اچھی بچی کی طرح اسے منہ میں لو فاطمہ کچھ سوچنے لگی اتنے میں قاری صاحب نے اپنا ہتھیار فاطمہ کہ نرم رسیلے ہونٹوں پہ رکھ دیا جس کو منہ کہ اندر جانے سے زیادہ دیر تک فاطمہ روک نہیں پائ اور بالآخر فاطمہ کہ منہ میں اس کہ استاد کا لن چلا ہی گیا اس کو ٹھیک سے چوسنا نہیں آتا تھا لیکن پھر بھی وہ اپنا بہتر دے رہی تھی میں نے امی کو اشارے سے اس کہ پاس بھیجا امی نے جاتے ہی اس کا جسم چاٹنا ہاتھ پھیرنا شروع کردیا جس سے فاطمہ کا جوش اور بڑھ گیا اب فاطمہ پوری گرم تھی اس کا ڈر حوس میں بدل گیا تھا فاطمہ کی شرمگاہ مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس دلدل میں دھنسے جارہی قاری کا لن قریب اس نے آدھا گھنٹہ چوسا اب قاری صاحب اپنی منزل کہ قریب تھے تو انہوں نے پیار سے فاطمہ کہ سر پہ ہاتھ پھیرا اور بولے بیٹی اپنی محنت ضائع نہ کرنا اب میرا عضو تمہاری چسوائ سے خوش ہو کہ اپنا پانی انعام دینا چاہتا اسے دل سے پینا فاطمہ انجان تھی کہ کس چیز کا ذکر ہو رہا وہ سمجھی شائد اب بھی قاری صاحب اس کو پیشاب پلائیں گیں لیکن یہ تو بہت اعلیٰ چیز ہے اتنے میں قاری صاحب نے ایک جھٹکا منہ میں دیا جس سے لن فاطمہ کہ منہ پہ دبا دیا اور اپنا گرم گاڑھا مادہ معصوم فاطمہ کہ گلے میں اتار دیا قاری صاحب نے چند سیکنڈ کہ لیے لن کو منہ میں رکھا پھر بولے بیٹی پہلے منہ والا انعام کھالو پھر جو اس پہ چپکا اس پہ بھی تمہارا حق ہے میں اگے ںڑی اور فاطمہ کہ گال پہ پیار کر کہ بولی بہت نصیب والی ہو جو تمہیں بڑوں کہ زیر سایا یہ انعام نصیب ہو رہا فاطمہ کو ٹیسٹ بہت عجیب لگ رہا تھا لیکن اسے اس پیار میں کسی بھی چیز پہ اعتراض کرنا بالکل بھی مناسب نہیں لگا اور وہ سارا مال گھٹک گئ اس کہ بعد امی نے کہا بیٹی مزا آیا اس پہ فاطمہ شرما گئ اور جی امی
امی اس پہ مسکرا دی اور بولی بیٹی یہ تو ٹریلر تھا اصل فلم تو رات کو بیڈ پہ دیکھو گی ابھی کپڑے پہن لو تمہارا بھائ بھی آنے والا ہے فاطمہ اٹھی اور کپڑے پہننے لگی اس کی شرمگاہ اس قدر گلیلی تھی جیسے اس نے پیشاب کر دیا ہو وہ اسے صاف کرنے لگی تو میں نے منع کر دیا اور بولی فاطمہ اس کا مزا لو اسے صاف نہ کرو اس پہ ہم تینوں ہنسنے لگے اتنے میں دروازے پہ دستک ہوگئ اور امی نے فٹا فٹ کپڑے پہننے لگی اس پہ میں بولی امی آج تیری یہ پریشانی بھی ختم ہوجاے گی دروازے کھٹکنے پہ کپڑے پہننے کی امی ہنس دی
لیٹ لکھنے پہ معذرت آپ کی پسندیدگی کی بے حد مشکور ہوں میرا دل آگے لکھنے کو نہیں تھا بس آپ کہ پیار کہ لیے لکھ رہی اپنی راے سے آگاہ کیجیۓ گا بہت شکریہ آپ کی صبا






















