A man cleans peanuts outside a shop in Peshawar
A man cleans peanuts for sale outside a shop in Peshawar, Pakistan.
taylor price
trying on a metaphor
Mike Driver
Game of Thrones Daily
Sade Olutola
almost home

pixel skylines

#extradirty
AnasAbdin
🪼
dirt enthusiast

oozey mess

blake kathryn
noise dept.

Love Begins

izzy's playlists!

shark vs the universe
PUT YOUR BEARD IN MY MOUTH
No title available
KIROKAZE

seen from Canada

seen from Türkiye

seen from Malaysia
seen from Poland

seen from Kazakhstan
seen from Saudi Arabia
seen from Azerbaijan
seen from Italy

seen from United States
seen from United Kingdom
seen from Italy
seen from Switzerland

seen from United States
seen from Jordan
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
@historicalpeshawar
A man cleans peanuts outside a shop in Peshawar
A man cleans peanuts for sale outside a shop in Peshawar, Pakistan.
A man arranges food plates for Iftar at a mosque in Peshawar
A man arranges food plates for breaking fast at a mosque in Peshawar, Pakistan.
نیشنل جیوگرافک چینل پشاور بس پروجیکٹ کی فلمبندی کریگا
نیشنل جیوگرافک چینل بس ریپڈ ٹرانسیٹ پروجیکٹ کی فلمبندی کے لیے آئندہ ماہ اپنے عملے کو خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور بھیجے گا۔ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اسرارالحق نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بس پروجیکٹ خیبرپختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کی لاگت 49 اعشاریہ 346 ارب ہے جو تیز رفتاری سے تکمیل کی جانب گامزن ہے، جس کی وجہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس نے اپنی جانب مرکوز کر لی ہے۔
فاٹا : نوجوان بے روز گاری اور مواقع کی کمی سے دوچار
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سلامتی کی صورتحال ميں بہتری کے سبب مقامی افراد کی ان کے گھروں کی جانب واپسی کے بعد يہ لوگ اب بے روز گاری سے پریشان ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں قبائلی نوجوان بے روزگار ہيں تاہم حکومت کے پاس انہیں روزگار فراہم کرنے کے ليے کوئی ٹھوس منصوبہ نہيں۔ ان علاقوں میں صنعتوں اور معاشی سرگرميوں کے فقدان کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے ليے حکومت کی جانب دیکھتے ہیں لیکن قبائلی علاقوں میں پے در پے عسکری آپریشن اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے فاٹا کا بنيادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حالات نے جہاں بنيادی سہولیات کی فراہمی والے اداروں کو تباہ کیا وہاں سرکاری اداروں کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ فاٹا سیکريٹيریٹ کے ایک اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت فاٹا کے مختلف محکموں میں دس ہزار سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی کمی کی وجہ سے ان اسامیوں پر بھرتی کے ليے مطلوبہ فنڈز ميسر نہيں۔ پاکستانی وزارت خزانہ نے فاٹا کے ليے سینٹ کی کمیٹی کو قبائلی علاقوں میں بائیس سو ملازمتيں پر کرنے کے ليے فنڈز فراہم کرنے کا عندیہ ديا ہے تاہم اس کے ساتھ يہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ ان فنڈز سے صرف تعلیم کے شعبے میں بھرتیاں کی جائيں۔ فاٹا سیکريٹيریٹ کے اعلیٰ عہدیدار حزب اللہ خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’فاٹا کے ٹرانزیشن پلان پر تیزی سے کام جاری ہے جس سے نہ صرف عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی بلکہ اس سے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا میں میگا پراجیکٹس اور دس سالہ منصوبہ جات کے ذریعے مقامی نوجوانوں کو بہتر مواقع مل سکتے ہیں۔ اس وقت مواصلات، لائیو اسٹاک، تعلیم اور صحت کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، جن سے یقیناً عوام کو سہولیات اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ دو دہائیوں سے دہشت گردی اور اس کے خلاف آپریشن کی وجہ سے فاٹا کے عوام متعدد مسائل سے دو چار ہیں۔ ایسے میں زیادہ تر نوجوان روزگار کے ليے مڈل ایسٹ اور یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار کے ليے پشاور اور اسلام اباد سمیت دیگر شہری علاقوں میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس رجحان کو دیکھتے ہوئے فاٹا ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ان نوجوانوں کو مختلف ہُنر سکھانا شروع کیا ہے اور ایف ڈی اے کے مطابق اب تک چھبیس ہزار مرد و خواتین کو مختلف ہنر سکھائے جا چکے ہيں۔ اس دوران انہیں دس ہزار روپے ماہانہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ وہ دل لگا کر ہُنر سیکھيں اور اپنا روزگار شروع کر سکیں۔ ان نوجوانوں کو مارکیٹ ميں مانگ کو مد نظر رکھتے ہوئے تربیت دی جاتی ہے تاکہ بعد ازاں انہیں آسانی سے روزگار مل سکے۔ جب اس سلسلے میں فاٹا یوتھ جرگے کے چیئرمین عدنان شنواری سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا، ’’فاٹا کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے یہ نوجوانوں انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں قبائلی نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں روزگار کی فراہمی کے ليے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔‘‘ قبائلی علاقوں کے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ لگی سرحد پر کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کی تجارت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ باہمی تجارت میں اربوں روپے کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے فاٹا یوتھ ارگنائزیشن کے صدر شوکت عزیز کا کہنا تھا، ’’قبائلی علاقوں میں بحالی کے کاموں میں مصروف غیر سرکاری تنظیموں میں فاٹا کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیے جائیں۔ یہ نوجوان نہ صرف علاقے کے رسم و رواج سے واقف ہیں بلکہ انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ کہاں کس منصوبے کی ضرورت ہے۔ یوں یہ نوجوانوں تعمیر و بحالی کے کاموں میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔‘‘ بشکریہ DW اردو
A worker ties steel bars at a construction site in Peshawar
A worker ties steel bars at a construction site for a road in Peshawar, Pakistan.
The oldest library of Khyber Pakhtunkhwa province
The Church Mission Society (CMS) with the assistance of Sir Herbert Edwardes, the British commissioner of Peshawar, established Edwardes College in 1900 in the most beautiful part of the Peshawar Cantonment. The college started its educational services in 1900 in the province, and today it is one of the top educational institutes. One of the main assets of Edwardes College is its library. This is the oldest library in the Khyber Pakhtunkhwa province of Pakistan and subscribes a good number of magazines, journals, newspapers for its users. It is centrally located in the main Arts Block accessible from all sides. Library Clipping provides newspaper clips related to important events mostly happened at Edwardes College. This library has some Manuscripts which are handwritten and dates back 100 years. SABA REHMAN
A farm worker stacks cauliflower on a truck outside Peshawar
A farm worker stacks cauliflower on a truck outside Peshawar, Pakistan.
Labour Life in Peshawar
Peshawar, Pakistan A labourer rests, almost camouflaged, over a pile of recyclables at a yard in the city.
Eid al-Adha in Peshawar
Handlers of a decorated bull wait for customers at the animal market ahead of the Eid al-Adha festival in Peshawar, Pakistan. Men lead a recently-purchased camel by a car, ahead of the Eid al-Adha festival in Peshawar, Pakistan.
A man cleans peanuts outside a shop in Peshawar
A man cleans peanuts for sale outside a shop in Peshawar, Pakistan.
A man arranges food plates for Iftar at a mosque in Peshawar
A man arranges food plates for breaking fast at a mosque in Peshawar, Pakistan.
نیشنل جیوگرافک چینل پشاور بس پروجیکٹ کی فلمبندی کریگا
نیشنل جیوگرافک چینل بس ریپڈ ٹرانسیٹ پروجیکٹ کی فلمبندی کے لیے آئندہ ماہ اپنے عملے کو خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور بھیجے گا۔ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اسرارالحق نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بس پروجیکٹ خیبرپختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کی لاگت 49 اعشاریہ 346 ارب ہے جو تیز رفتاری سے تکمیل کی جانب گامزن ہے، جس کی وجہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس نے اپنی جانب مرکوز کر لی ہے۔
فاٹا : نوجوان بے روز گاری اور مواقع کی کمی سے دوچار
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سلامتی کی صورتحال ميں بہتری کے سبب مقامی افراد کی ان کے گھروں کی جانب واپسی کے بعد يہ لوگ اب بے روز گاری سے پریشان ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں قبائلی نوجوان بے روزگار ہيں تاہم حکومت کے پاس انہیں روزگار فراہم کرنے کے ليے کوئی ٹھوس منصوبہ نہيں۔ ان علاقوں میں صنعتوں اور معاشی سرگرميوں کے فقدان کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے ليے حکومت کی جانب دیکھتے ہیں لیکن قبائلی علاقوں میں پے در پے عسکری آپریشن اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے فاٹا کا بنيادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حالات نے جہاں بنيادی سہولیات کی فراہمی والے اداروں کو تباہ کیا وہاں سرکاری اداروں کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
فاٹا سیکريٹيریٹ کے ایک اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت فاٹا کے مختلف محکموں میں دس ہزار سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی کمی کی وجہ سے ان اسامیوں پر بھرتی کے ليے مطلوبہ فنڈز ميسر نہيں۔ پاکستانی وزارت خزانہ نے فاٹا کے ليے سینٹ کی کمیٹی کو قبائلی علاقوں میں بائیس سو ملازمتيں پر کرنے کے ليے فنڈز فراہم کرنے کا عندیہ ديا ہے تاہم اس کے ساتھ يہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ ان فنڈز سے صرف تعلیم کے شعبے میں بھرتیاں کی جائيں۔
فاٹا سیکريٹيریٹ کے اعلیٰ عہدیدار حزب اللہ خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’فاٹا کے ٹرانزیشن پلان پر تیزی سے کام جاری ہے جس سے نہ صرف عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی بلکہ اس سے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا میں میگا پراجیکٹس اور دس سالہ منصوبہ جات کے ذریعے مقامی نوجوانوں کو بہتر مواقع مل سکتے ہیں۔ اس وقت مواصلات، لائیو اسٹاک، تعلیم اور صحت کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، جن سے یقیناً عوام کو سہولیات اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ دو دہائیوں سے دہشت گردی اور اس کے خلاف آپریشن کی وجہ سے فاٹا کے عوام متعدد مسائل سے دو چار ہیں۔ ایسے میں زیادہ تر نوجوان روزگار کے ليے مڈل ایسٹ اور یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار کے ليے پشاور اور اسلام اباد سمیت دیگر شہری علاقوں میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس رجحان کو دیکھتے ہوئے فاٹا ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ان نوجوانوں کو مختلف ہُنر سکھانا شروع کیا ہے اور ایف ڈی اے کے مطابق اب تک چھبیس ہزار مرد و خواتین کو مختلف ہنر سکھائے جا چکے ہيں۔ اس دوران انہیں دس ہزار روپے ماہانہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ وہ دل لگا کر ہُنر سیکھيں اور اپنا روزگار شروع کر سکیں۔ ان نوجوانوں کو مارکیٹ ميں مانگ کو مد نظر رکھتے ہوئے تربیت دی جاتی ہے تاکہ بعد ازاں انہیں آسانی سے روزگار مل سکے۔ جب اس سلسلے میں فاٹا یوتھ جرگے کے چیئرمین عدنان شنواری سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا، ’’فاٹا کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے یہ نوجوانوں انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں۔
ہزاروں کی تعداد میں قبائلی نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں روزگار کی فراہمی کے ليے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔‘‘ قبائلی علاقوں کے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ لگی سرحد پر کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کی تجارت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ باہمی تجارت میں اربوں روپے کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے فاٹا یوتھ ارگنائزیشن کے صدر شوکت عزیز کا کہنا تھا، ’’قبائلی علاقوں میں بحالی کے کاموں میں مصروف غیر سرکاری تنظیموں میں فاٹا کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیے جائیں۔ یہ نوجوان نہ صرف علاقے کے رسم و رواج سے واقف ہیں بلکہ انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ کہاں کس منصوبے کی ضرورت ہے۔ یوں یہ نوجوانوں تعمیر و بحالی کے کاموں میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔‘‘
بشکریہ DW اردو
A worker ties steel bars at a construction site in Peshawar
A worker ties steel bars at a construction site for a road in Peshawar, Pakistan.
فاٹا اصلاحات کا مسئلہ سیاسی نہیں نفسیاتی ہے
ان دنوں کوئی بھی ہما شما مسلم لیگ نون کی حکومت میں جہاں بہت سی برائیاں گنوا سکتا ہے۔ وہیں خوبیاں بھی کچھ کم نہیں۔ سناٹے یا معمول کی زندگی میں لیگی حکومت کا دل نہیں لگتا۔ اگر آسمان بالکل صاف ہو اور دور دور تک بحرانی بادل کا ٹکڑا تک نہ ہو تو لیگی حکومت کا دل بیٹھنے لگتا ہے۔ پھر وہ اچانک کہیں سے کوئی کلہاڑی نکالتی ہے اور اپنے یا دوسرے کے پاؤں پر دے مارتی ہے۔ ہر طرف ہاؤ ہو کا تلاطم برپا ہو جاتا ہے، سناٹا ٹوٹ جاتا ہے اور پھر دل بستگی کا کوئی سامان سج جاتا ہے۔
اگر پاناما پیپرز پر پارلیمانی جماعتوں کی سفارش پر کوئی کمیٹی بن جاتی اور عدالت کو زحمت نہ دی جاتی تو مسئلہ تو حل ہو جاتا مگر زندگی کا لطف جاتا رہتا۔ چنانچہ ٹال مٹول کے ذریعے ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ ان سے وہ حالات پیدا ہو گئے کہ جن سے نون لیگ کی قیادت ان دنوں جرعہ جرعہ شراب ِاذیت کشید کر کے اپنے خشک ہونٹ گیلے کر رہی ہے اور سب کی توجہ کا مرکز ہے۔ نواز شریف کی وزارتِ عظمی چلی گئی مگر خود اذیتی کا نشہ اپنی جگہ برقرار۔ خود ستمی کا تازہ ثبوت فاٹا اصلاحات کا معاملہ ہے۔
دو ہزار چودہ میں اگر فاٹا اصلاحات پر سرتاج عزیز کمیٹی نہ بھی بنتی تو کسی نے نون لیگ کا گریبان نہیں پکڑنا تھا۔ مگر نہیں صاحب کمیٹی بنی اور اس نے زبردست سفارشات پیش کیں۔ سو برس سے بھی پرانے ایف سی آر (فرنٹئر کرائمز ریگولیشنز) کو رواج ایکٹ سے بدلنے کی تجویز پیش کی گئی (حالانکہ رواج ایکٹ اور ایف سی آر میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کوک اور پیپسی کے ذائقے میں ہے۔ پھر بھی کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا غنیمت ہے)۔
یہ تجویز پیش کی گئی کہ یا تو فاٹا ایجنسیوں میں اصلاحات لائی جائیں مگر انھیں وفاق کے زیرِ انتظام ہی رکھا جائے یا ایجنسیوں پر مشتمل نیا صوبہ بنا دیا جائے یا فاٹا کو باضابطہ طور پر خیبر پختون خوا میں ضم کر دیا جائے۔ آخری تجویز نے بظاہر قبولیتِ عامہ پائی کیونکہ عملاً فاٹا کی معیشت اور سماجی ناطہ بہت عرصے سے خیبر پختون خوا سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔ دو کے علاوہ تمام متعلقہ قابلِ ذکر سیاسی جماعتوں (بشمول مسلم لیگ ن) نے فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنے، صوبائی اسمبلی میں نمایندگی دینے، پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں فاٹا کو لا کر ایف سی آر کے تحت وکیل، دلیل اور اپیل کا غصب شدہ بنیادی انسانی و انصافی حق بحال کرنے، این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کا تین فیصد حصہ مختص کرنے سمیت متعدد اصلاحات کی حمایت کی۔ فاٹا کے پارلیمانی ارکان کی اکثریت نے بھی علاقہ غیر کو پاکستان کے دیگر حصوں کے ہم پلہ لانے کے منصوبے کا پرزور خیر مقدم کیا۔
سرتاج عزیز کمیشن کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد کی مدت پانچ برس رکھی گئی۔ مگر خیبر پختون خوا حکومت، اسمبلی اور فاٹا کے امور سے دلچسپی رکھنے والے متعدد صاحب الرائے تجربہ کاروں کا خیال تھا کہ چونکہ فاٹا کا سماج پہلے ہی سے بہت حد تک صوبے کے بندوبستی علاقے سے جڑا ہوا ہے لہذا پانچ برس کے بجائے یہی کام باآسانی ایک برس کی مدت میں بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تجویز بھی اہم تھی کہ فاٹا میں اندرونی نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے بیس ہزار جوانوں پر مشتمل لیویز فورس تشکیل دی جائے۔ اس بابت خیبر پختون خوا کی دلیل یہ رہی ہے کہ اگر قبائلی علاقے کو بالاخر صوبے میں ہی ضم ہونا ہے تو پھر الگ سے لیویز کھڑی کرنے کے بجائے صوبائی پولیس میں ہی بیس ہزار قبائلیوں کو بھرتی کر لیا جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوج بھی ان اصلاحات کی پرزور حمائیتی ہے تاکہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد اسے ’’پوسٹ آپریٹو کئیر‘‘ کا جو اضافی کام کرنا پڑ رہا ہے اس کام بوجھ بانٹا جا سکے۔ مگر فارمولا بھلے کتنا ہی سیدھا سہج ہو اور اسے بھلے کتنی بھی وسیع تر حمایت حاصل ہو اگر بلا کسی اڑچن کے اس پر عمل درآمد ہو جائے تو پھر جینے کا کیا مزہ۔ چنانچہ جب حکومت کے اپنے ہی بنائے ہوئے کمیشن کی سفارشات اس برس کے شروع میں نواز شریف کابینہ میں پیش ہوئیں تو فاٹا اصلاحات کی ہنڈیا کے نیچے آنچ تیز ہونی شروع ہو گئی۔ ٹوٹ بٹوٹ (میاں صاحب) نے کھیر چڑھائی، خالہ (مولانا فضل الرحمان) اس کی لکڑی لائی، پھوپھی (محمود اچکزئی) لائی دیا سلائی، امی جان (فاٹا بیوروکریسی) نے آگ جلائی۔ یوں کھیر پیندے سے لگ گئی۔ جب تشفی بخش گالیاں پڑ گئیں تب کہیں جا کر کابینہ نے فاٹا اصلاحات کی منظوری دی مگر ساتھ میں ’’مین اسٹریمنگ‘‘ کی دمچی بھی باندھ دی۔
ڈکشنری کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مین اسٹریمنگ کا مطلب ہے ’’مرکزی دھارے میں لانا‘‘۔ مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام بنیادی حقوق اور بنیادی آئینی اداروں میں اس خطے کو شامل کیا جائے جسے مرکزی دھارے میں لانا مقصود ہے۔ مگر نون لیگ کے دو سیاسی اتحادیوں نے فرمائش کی کہ پہلے فاٹا کو مرکزی دھارے میں لایا جائے پھر آئینی اداروں اور حقوق کے دائرے میں لایا جائے۔ یعنی گھوڑے کو گاڑی میں جوتنے سے پہلے گاڑی کو گھوڑے میں جوتا جائے۔
یوں انوکھے لاڈلوں کی چاند سے کھیلن کی فرمائش کے طفیل فاٹا اصلاحاتی بل وفاقی کابینہ نے تو جیسے کیسے دودھ میں مینگیناں ڈال کر منظور کر لیا۔ اب مرحلہ اسے پارلیمنٹ سے منظور کروا کے ایکٹ بنوانے کا تھا۔ اس سے پہلے کہ حکومت اور اس کے حواری کوئی اور ٹالم ٹالی سبیل نکالتے کرنا خدا کا یوں ہوا کہ پاناما پیپرز نازل ہو گئے۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا اور یہ جواز ہاتھ آ گیا کہ تجھے فاٹا کی سوجھی ہے ہم بیزار بیٹھے ہیں، پہلے پاناما سے نمٹوں کہ فاٹا دیکھوں۔ اور پھر بلی ہی چھینکے میں پھنس گئی۔
میاں صاحب فراغت پا گئے اور ان کی جگہ خلافتِ عباسیہ آ گئی۔ وزیرِ اعظم تبدیل ہونے کے باوجود آ بیل مجھے مار کی خوئے خود اذیتی جوں کی توں رہی۔ چنانچہ گزشتہ سے پیوستہ ہفتے میں وفاقی وزیرِ قبائلیات عبدالقادر بلوچ نے جانے کس پینک میں اعلان کر دیا کہ آنے والے سوموار کو حکومت فاٹا اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرے گی تا کہ ظالم ایف سی آر سے جان چھوٹ جائے۔ یہ سننا تھا کہ سب کی ایک بار پھر امید بندھ گئی اور سب نے کہا کہ یہ عقلمندانہ فیصلہ ہے (سوائے ان دو سیاسی حلیفوں کے جو مسلسل چلمن سے لگے بیٹھے ہیں)۔
جب سب مطمئن ہو گئے تو پیر کی صبح جو ایجنڈا سامنے آیا اس میں سے فاٹا کا بل غائب تھا۔ ظاہر ہے دشنام طرازی اور مسلم لیگ ن پر کیچڑ اچھالی شروع ہو گئی۔ یوں نونی حکومت نے ایک ہی بل سے دوسری بار خود اذیتی کا آنند لے لیا۔ اب حکومت حزبِ اختلاف سے کہہ رہی ہے کہ گاجریں تو ختم ہو گئیں ٹنڈہ لے لو، کھیرا لے لو، مولی لے لو۔ مگر حزبِ اختلاف کے پاس برسانے کے لیے خود نون لیگ کا پہلے سے مہیا کردہ اسٹاک ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
جو جماعت نواز شریف کے عدالتی نااہلی کا شکار بننے کے باوجود الیکشن ایکٹ دو ہزار سترہ میں خرگوش کی رفتار سے ترمیم کر کے قیادتی راستہ سیدھا کر سکتی ہے اسی جماعت نے فاٹا اصلاحات کے معاملے کو پچھلے تین برس سے کچھوے کی پیٹھ پر لاد رکھا ہے۔ معاملہ نہ سیاسی ہے نہ قانونی۔ ن لیگ کے لیے یہ معاملہ نفسیاتی ہے۔ شائستگی اجازت نہیں دیتی کہ میں سو جوتے سو پیاز والا محاورہ استعمال کروں البتہ یہ تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ……
ہے تقاضا میری طبیعت کا ہر کسی کو چراغ پا کیجے
رنگ ہر رنگ میں ہے داد طلب خون تھوکوں تو واہ واہ کیجے (جون ایلیا)
وسعت اللہ خان
The oldest library of Khyber Pakhtunkhwa province
The Church Mission Society (CMS) with the assistance of Sir Herbert Edwardes, the British commissioner of Peshawar, established Edwardes College in 1900 in the most beautiful part of the Peshawar Cantonment. The college started its educational services in 1900 in the province, and today it is one of the top educational institutes. One of the main assets of Edwardes College is its library. This is the oldest library in the Khyber Pakhtunkhwa province of Pakistan and subscribes a good number of magazines, journals, newspapers for its users. It is centrally located in the main Arts Block accessible from all sides. Library Clipping provides newspaper clips related to important events mostly happened at Edwardes College. This library has some Manuscripts which are handwritten and dates back 100 years.
SABA REHMAN
A farm worker stacks cauliflower on a truck outside Peshawar
A farm worker stacks cauliflower on a truck outside Peshawar, Pakistan.