مری زندگی کے تیور مرے ہاتھ کی لکیریں
انہــیں تــم اگر بدلتے تو کچھ اور بات ہوتی
میں تمہـارا آئینہ تھا میں تمہارا آئینہ ھـوں
مجھے دیکھ کر سنورتے تو کچھ اور بات ھوتی
ابھی آنکھ ھی لڑی تھی کہ گرا دیا نظر سے
ذرا فاصلے سمٹتے تو کچـھ اور بات ھـوتی
یہ کھلی کھلی سی زلفیں انہیں لاکھ تم سنوارو
میرے ہاتھ سے سنورتیں تو کچھ اور بات ھـوتی
مجھے اپنی زندگی کا کوئی غـم نہیں ھے لیکن
تیرے در پہ جاں نکلتی تو کچھ اور بات ھوتی











