
titsay
No title available

ellievsbear
Sade Olutola
wallacepolsom
Sweet Seals For You, Always
RMH
Alisa U Zemlji Chuda
Misplaced Lens Cap
sheepfilms
dirt enthusiast
trying on a metaphor

tannertan36
Show & Tell

Andulka
he wasn't even looking at me and he found me
No title available

Product Placement
almost home
NASA
seen from Germany

seen from United Kingdom
seen from United States
seen from United States

seen from Malaysia

seen from China

seen from United States

seen from United States

seen from United States
seen from United States

seen from Brunei

seen from United States

seen from Brazil

seen from Türkiye
seen from Malaysia

seen from Malaysia
seen from United Kingdom
seen from Malaysia
seen from United States

seen from Canada
@sensitive-world
جنود الاحتلال ينشرون مقطع لعشرات المواطنين العزل الذين اعتقلهم من مدارس الايواء في قطاع غزة خانيونس وتم تجريدهم من الملابس..
حسبنا الله ونعم الوكيل الله ينتقم منهم 💔💔
حسبنا الله ونعم الوكيل فيهم 💔💔💔
كم عزيزًا استشهد في النفق وهو يحفر؟ وكم مهندسًا استشهد حين انفجرت فيه التجربة؟ وكم مهاجمًا استشهد يوم خانته حديدته ولم تنطلق قذيفته؟ وكم منفقًا اشترى الجنة بكل ما ملك في الدنيا ثمنًا لتصنيع تلك الرأس؟ وكم شابًّا ترك الدنيا واختار آخرته في باطن الأرض يصهر المستحيل؟ وكم مفارقًا لأهله وولده وبيته وعمله صبر ليوم كهذا؟ وكم فتى حشرج من ضيق النفس صدره حتى لقي الله؟ وكم ليلةً استعدَّ ذلك الفارس النبيل المغوار وكم عامًا انتظر حتى يُمنح ذلك الاصطفاء؟ تلك الوثبة هي وثبة هؤلاء جميعًا معًا، كأنه يطير ليطيب أرواح الشهداء!
She took her last breath! 💔💔
ایک حاجی نے میدان عرفات میں حاجیوں کو دعا و گریہ میں مصروف دیکھا تو کہنے لگا۔!
اگر میں ان حاجیوں میں شامل نہ ہوتا تو یقینا اللہ تعالی تمام حاجیوں کی مغفرت کر دیتا۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا
کہ ایک سچے مومن کا حال اسی طرح ہونا چاہیے
کہ وہ خود کو کم تر اور حقیر جانے!
(سیر اعلام النبلا ۱۹۵/)
Tujhe roz dekhu'n qareeb se
Mere shauq bhi hain ajeeb se
Meri sab duaon ki dawa ho tum
Mile kya sukoon phir tabeeb se
In english we say :
They're so lucky to have you
But in urdu we say :
Tum jisko dastyab ho lazim hai uspe ke
Har roz apne bakht ka sadka diya kare
نہ ملا زُہد سے کچھ بھی ہمیں نخوت کے سوا
شُغل بے کار ہیں سب تیری محبت کے سوا
اپنے باطن کے چمن زار کو رجعت کر جا
دیکھ اب بھی روشِ دہر سے وحشت کر جا
اپنا چلتا ہوا بت چھوڑ زمانے کے لیے
اور خود عرصہء ایام سے ہجرت کر جا
جاں سے آگے بھی بہت روشنیاں ہیں خورشید
اک ذرا جاں سے گزر جانے کی ہمت کر جا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"جب ایک شرابی نے نعت رسول مقبول پڑھی"
اجمیر شریف میں نعتیہ مشاعرہ تھا،
فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر مرادآبادی صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ،
وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کا نام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔
دراصل جگرؔ کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔
بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔
شریعت کے سختی سے پابند علماء حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔
عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود علماء حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔
آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔ کو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عزت کا اس سے بڑا اعتراف نہیں ہوسکتا تھا۔
جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔
’’میں گنہگار، رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔
اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ان کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔
نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔
سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔ دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے،
لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ،اگر شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے،
شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شاید اللّه کو مجھ پر ترس آجائے!
ایک دن گزرا، دو دن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔
پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔
انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔
اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔ وہ کئی دن پہلے اجمیر شریف پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گے۔
جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے؎
کہاں پھر یہ مستی، کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں
آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔
اسٹیج سے آواز ابھری’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی!‘‘ ۔۔۔۔۔۔
اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا… اور محبت بھرے لہجے میں گویاں ہوئے۔۔
’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔
شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے…
اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ♥️
جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔
نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔
’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی.نعت یہ تھی..
اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ♥️
دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ♥️
اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ♥️
اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ♥️
اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ♥️
کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت
دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ♥️
ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی
یہ عالم سطوتِ سلطان مدینہ♥️
اس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ♥️
کچھ ہم کو نہیں کام جگر اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ♥️
اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے
ایک نفرت ہے جو چند لمحوں میں محسوس کرلی جاتی ہے
اور ایک محبت ہے جس کا یقین دلاتے دلاتے
ساری عمر گزر جاتی ہے۔
تم حیا و شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو
ہم نے ننگے جسموں کو ملبوس حیا دیکھا ہے
ہم نے دیکھے ہیں احرام میں لپٹے کئی ابلیس
ہم نے کئی بار مہ خانے میں خدا دیکھا ہے
(علامہ محمد اقبال)
میں کیسے نہ اس سے محبت کرو، محبت کا لفظ بنا ہی میرے رب کے لئے ہے
میرے تہجد کے ہر سجدے میں دلاسا دیا میرے رب نے، غم نہ کر میں ہوں ناں
جس کی ایک غلطی پر لوگ رشتہ توڑ گئے اس کے گناہوں پر بہے ایک اشک سے راضی ہو گیا وہ رب،
غلطی ہو جائے پھر آ جانا میں پھر معاف کر دوں گا
جس کی بات کو دو دفعہ نہیں سن سکا اس دنیا میں کوئی ، اس کی ایک بات کو شہ راگ سے قریب سے جاننے کے بعد بھی ہزار دفعہ سنی اس رب نے
میری ایک پکار پر مجھے دس دفعہ پکارا اس رب نے ، میں ایک قدم اس کی طرف گئی وہ دس قدم میری طرف آئے
ہاں میرے بندے، جی میرے بندے ، جو مجھے منانے آتا ہے میں خود اس کی طرف بڑھ کر اس کا استقبال کرتا ہوں
میں سجدے میں بات کرتی ہوں، وہ قران میں جواب دے دیتا ہے
ایسی محبت کون کرتا ہے کسی سے جس طرح میرا رب کرتا ہے مجھ سے
سلطانی
کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روح قرآنی
خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی
یہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عیار
اسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانی
یہ جبر و قہر نہیں ہے ، یہ عشق و مستی ہے
کہ جبر و قہر سے ممکن نہیں جہاں بانی
کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجود
خرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی
ہوا حریف مہ و آفتاب تو جس سے
رہی نہ تیرے ستاروں میں وہ درخشانی
حضرت علامہ محمد اقبال
لڑاتے ہیں نظر ان سے جو ہوتے ہیں نظر والے
محبت کرتے ہیں دنیا میں دل والے ، جگر والے
ہمیں ذوقِ نظر نے کر دیا اس راز سے واقف
اشاروں میں پرکھتے ہیں زمانے کو نظر والے
کوئی تم سا نہ دیکھا ، یوں تو دیکھا ہم نے دنیا میں
بہت جادو نظر والے ، بہت جادو اثر والے
تمہاری انجمن میں اور کس کو حوصلہ یہ ہے
وہی دل پیش کرتے ہیں جو ہوتے ہیں جگر والے
سب اپنے اپنے زندانِ ہوس کے مستقل قیدی
زمیں والے، یہ زر والے ، یہ در والے ، یہ گھر والے
ہُنر مندانِ الفت ہیں بہت کم اس زمانے میں
جہاں میں یوں تو ہم نے لالکھوں دیکھے ہیں ہُنر والے
نصیر ان کی طرف سے یہ ہمیں تاکید ہوتی ہے
"سنبھل کر بیٹھیئے محفل میں بیٹھے ہیں ، نظر والے
پیرسید نصیر الدین نصیرؔ گیلانی شاہ صاحب رحمہ اللہ