#GoodMorning #Monday #mondayquotes #InstaDaily #InstaFollow #InstaLike https://www.instagram.com/p/BsmhBAUg1AN/?utm_source=ig_tumblr_share&igshid=1fyxz2y3gh7pi
Claire Keane
cherry valley forever

ellievsbear

JVL
untitled
TVSTRANGERTHINGS
RMH
ojovivo
Show & Tell

blake kathryn
Noah Kahan
wallacepolsom

#extradirty

Kiana Khansmith
macklin celebrini has autism

shark vs the universe
Three Goblin Art

Kaledo Art
Lint Roller? I Barely Know Her
art blog(derogatory)

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from Belarus
seen from Mexico
seen from Germany
seen from United States
seen from Cambodia
seen from Cambodia

seen from Cambodia

seen from United States
@syedtahsinchishty
#GoodMorning #Monday #mondayquotes #InstaDaily #InstaFollow #InstaLike https://www.instagram.com/p/BsmhBAUg1AN/?utm_source=ig_tumblr_share&igshid=1fyxz2y3gh7pi
*کون تھے اصلی ’ٹھگ آف ہندوستان‘، تاریخ کیا کہتی ہے؟*
حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ کی فلم ’ٹھگز آف ہندوستان‘ کو جہاں فلمی ناقدین نے پسند نہیں کیا وہیں باکس آفس پر اس فلم نے ریکارڈ کامیابی حاصل کی ہے۔ بی بی سی ہندی کے ڈیجیٹل ایڈیٹر راجیش پریادرشی نے اس مضمون میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان کے اصل ٹھگ کون تھے۔ ٹھگ لفظ سنتے ہی لوگوں کے دماغ میں ایک چالاک اور مکار آدمی کی تصویر ابھرتی ہے جو جھانسا دے کر کچھ قیمتی سامان ٹھگ لیتا ہے لیکن انڈیا میں 19ویں صدی میں جن ٹھگوں سے انگریزوں کاپالا پڑا تھا، وہ اتنے معمولی لوگ نہیں تھے۔ ٹھگوں کے بارے میں سب سے دلچسپ معلومات سنہ 1839 میں شائع ہونے والی کتاب ’کنفیشنز آف اے ٹھگ‘ سے ملتی ہیں۔ کتاب کے مصنف پولیس سپریٹنڈنٹ فلپ میڈوز ٹیلر تھے لیکن کتاب میں انھوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے ’اسے صرف قلم بند کیا ہے۔‘ دراصل، ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب ٹھگوں کے ایک سردار عامر علی خاں کا ’کنفیشن‘ یعنی اعترافی بیان ہے۔ فلپ میڈوز ٹیلر نے عامر علی خان سے جیل میں کئی دنوں تک بات کی اور سب کچھ لکھتے گئے۔ ٹیلر کے مطابق ’ٹھگوں کے سردار نے جو کچھ بتایا، اسے میں تقریباً لفظ بہ لفظ لکھتا گیا، یہاں تک کہ اسے ٹوکنے یا پوچھنے کی ضرورت بھی کم ہی پڑتی تھی۔‘ عامر علی خان کا بیان اتنا تفصیلی اور دلچسپ ہے کہ وہ ایک ناول بن گیا اور چھپتے ہی اس نے دھوم مچا دی۔ رڈیارد کپلنگز کے مشہور ناول ’کم‘ (اشاعت:1901) سے تقریباً 60 سال پہلے شائع ہونے والی اس کتاب کی ایک اور خاصیت تھی کہ یہ کسی انگریز کا نظریہ نہیں لیکن ایک ہندوستانی ٹھگ کا ’فرسٹ پرسن اکاؤنٹ‘ یعنی اس کی اپنی کہانی ہے جو اس نے خود سنائی۔ ٹیلر کا کہنا ہے کہ عامر علی خاں جیسے سینکڑوں سردار تھے جن کی سرپرستی میں ٹھگی کا دھندا چل رہا تھا۔ عامر علی خان سے جب ٹیلر نے پوچھا کہ تم نے کتنے لوگوں کو مارا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’اور صاحب، وہ تو میں پکڑا گیا، نہیں تو ہزار پار کر لیتا۔ آپ لوگوں نے 719 پر ہی روک دیا۔‘ ٹھگی کا عالم تھا کہ انگریزوں کو ان سے نمٹنے کے لیے ایک الگ محکمہ بنانا پڑا تھا، وہی محکمہ بعد میں انٹیلی جنس بیورو یا آئی بی کے نام سے جانا گیا۔ ٹیلر نے لکھا تھا کہ ’اودھ سے لے کر دکن تک ٹھگوں کا جال پھیلا ہوا تھا، انھیں پکڑنا بہت مشکل تھا کیونکہ وہ بہت خفیہ طریقے سے کام کرتے تھے۔ انھیں عام لوگوں سے الگ کرنے کا کوئی طریقہ ہی سمجھ نہیں آتا تھا۔ وہ اپنا کام منصوبہ بندی اور بے حد چالاکی سے کرتے تھے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔‘ ٹھگوں سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ڈپارٹمنٹ کے سپریٹنڈنٹ کپٹن رینولڈز نے سنہ 1831 سے 1837 کے درمیان ٹھگوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا 1838 میں تفصیلات بیان کی تھیں۔ اس بیورو کے مطابق پکڑے گئے جن 1059 لوگوں کا جرم پوری طرح ثابت نہیں ہو سکا تھا انھیں دور ملائشیا کے پاس پیناگ جزیرے پر لے جا کر چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ دوبارہ واردات نہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ 412 کو پھانسی دی گئی اور 87 کو عمر قید کی سزائے ہوئی۔ *ٹھگوں کی پراسرار زندگی* ٹھگوں کے لیے انگریزوں نے ’سیکرٹ کلٹ‘، ’ہائی وے روبرز‘ اور ’ماس مرڈرر‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ ’کلٹ‘ کہلائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے رسم و رواج، اقدار، روایات، اصول اور طور طریقے تھے جن کا وہ بہت پابندی سے مذہب کی طرح احترام کرتے تھے۔ ان کی اپنی ایک الگ خفیہ زبان تھی جس میں وہ آپس میں بات کرتے تھے۔ اس زبان کو رماسی کہا جاتا تھا۔ انڈیا میں ٹھگوں کی کمر توڑنے کا سہرا میجر جنرل ولیم ہینری سلیمن کو دیا جاتا ہے جنھیں انگریز حکومت نے ’سر‘ کے خطاب سے نوازا تھا۔ سلیمن نے لکھا ہے کہ ’ٹھگوں کے گروہ میں ہندو اور مسلمان دونوں ہیں۔ ٹھگی کی شروعات کیسے ہوئی یہ بتانا ناممکن ہے، لیکن اونچے رتبے والے شیخ سے لے کر خانہ بدوش مسلمان اور ہر ذات کے ہندو اس میں شامل تھے۔‘ *مہورت سے ہوتا تھا ہر کام* چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، ٹھگ شبھ مہورت دیکھ کر، پوجا پاٹھ کر کے اپنے کام پر نکلتے تھے، جسے ’جتائی پر جانا‘ کہا جاتا تھا۔ ٹھگی کا موسم عام طور پر درگا پوجا سے لے کر ہولی کے درمیان ہوتا تھا۔ تیز گرمی اور بارش میں رستوں پر مسافر بھی کم ملتے تھے اور کام کرنا مشکل ہوتا تھا۔ الگ الگ گروہ اپنے عقیدے کے حساب سے مندروں میں درشن کرنے جاتے تھے۔ زیادہ تر ٹھگ گروہ کالی ماتا کی پوجا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ہر اگلے قدم سے پہلے شگن اور اپشگن کا وچار کرتے تھے۔ الو کے بولنے، کوے کے اڑنے، مور کے چلانے، لومڑی کے دکھائی دینے جیسی ہر چیز کا وہ اپنے حساب سے مطلب نکالتے تھے۔ جتائی پر جانے سے سات دن پہلے سے 'ساتا'، شروع جاتا تھا۔ اس دوران ٹھگ ان کے خاندان کے ارکان کھانے پینے، سونے اٹھنے اور نہانے حجامت بنانے وغیرہ کے معاملے میں کڑے اصولوں کا خیال رکھا کرتے تھے۔ ساتا کے دوران باہر کے لوگوں سے میل جول، کسی اور کو بلانا یا اس کے گھر جانا نہیں ہوتا تھا۔ اس دوران کوئی دان نہیں دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ کتے بلی جیسے جانوروں کو بھی کھانا نہیں دیا جاتا تھا۔ جتائی سے فارغ ہو کر لوٹنے کے بعد پوجا اور خیرات جیسے کام ہوتے تھے۔ اسی طرح ’اٹب‘ کے اصولوں کا احترام ہوتا تھا۔ ٹھگوں کا ماننا تھا کہ کام پر نکلنے سے پہلے پوری طرح ہونا بہت ضروری ہوتا تھا۔ گروہ کے کسی ٹھگ کے گھر میں کوئی جنم یا موت ہونے پر دس دنوں کے لیے، پالتو جانوروں کی موت ہونے پر تین دن کے لیے، اور اسی طرح جنم ہونے پر سات دن کے لیے یا تو پورا گروہ رک جاتا تھا یا وہ ٹھگ کام پر نہیں جاتا تھا، جس کے خاندان میں جنم یا موت ہوئی ہو۔ *’کسی‘ کی اہمیت* مارے جانے والے لوگوں کی قبر جس کدال سے کھودی جاتی تھی، اسے ’کسی‘ کہا جاتا تھا۔ کسی سب سے زیادہ اہمیت کی چیز تھی۔ تحقیق کے بعد اردو اور ہندی میں لکھے گئے ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ میں شمس الرحمان فاروقی نے کسی کی پوجا کا طریقہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔ ’ایک صاف ستھری جگہ پر تھالی میں پانی سے کدالی کو دھو دیا جاتا ہے۔ پھر پوجا کا طریقہ کار جاننے والا ٹھگ بیچ میں بیٹھتا ہے، باقی ٹھگ نہا دھو کر اس کے چاروں طرف بیٹھتے ہیں، کدالی کو پہلے گڑ کے شربت، پھر دہی کے شربت اور آخر میں شراب سے نہلایا جاتا ہے۔ پھر تل، اور پھول سے اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ کدالی کی نوک پر سندور سے سات ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ اس کدالی سے ایک ناریل پھوڑا جاتا ہے۔ ناریل پھوٹنے پر سبھی ٹھگ، چاہے ہندو ہوں یا مسلمان 'جے دیوی مائی کی' بولتے ہیں۔‘ ٹھگوں کے درمیان ایسی کہانیاں مشہور تھیں کہ ان پر کدال دیوی کا مہربانی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور خاص بات یہ تھی کہ ٹھگ مانتے تھے کہ اگر وہ اصولوں کا احترام کرتے ہوئے اپنا کام کریں گے تو دیوی ماں کی ان پر مہربانی رہے گی۔ پہلا اصول یہ تھا کہ قتل میں ایک بوند بھی خون نہیں بہنا چاہیے، دوسرا کسی خاتون یا بچے کو کسی حال میں نہیں مارا جانا چاہیے، تیسرا جب تک مال ملنے کی امید نہ ہو، قتل بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ ٹیلر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ عامر علی خاں کو اپنے کیے پر ذرا بھی پچھتاوا نہیں تھا۔ دوسرا سبھی ٹھگوں کے بارے میں بھی میجر جنرل سلیمن نے لکھا ہے کہ ’وہ مانتے ہی نہیں تھے کہ وہ کچھ غلط کر رہے ہیں، جن کی نظر میں یہ مختلف پیشوں کی طرح کا ایک پیشہ تھا اور ان کے من میں ذرا بھی پچھاوا یا دکھ نہیں تھا کہ کس طرح معصوم لوگوں کو مار کر وہ غائب کر دیتے ہیں۔‘ *کیسے ہوتی تھی راستوں پر ٹھگی؟* جتائی پر نکلنے والے ٹھگوں کا گروہ 20 سے 50 تک کا ہوتا تھا۔ وہ عام طور پر تین دستوں میں چلتے تھے، ایک پیچھے، ایک درمیان میں اور ایک آگے۔ ان تینوں دستوں کے درمیان تال میل کے لیے ہر ٹولی میں ایک دو لوگ تھے جو ایک کڑی کا کام کرتے تھے۔ وہ اپنی چال تیز یا دھیمی کرکے آگے ہوتے یا ساتھ آسکتے تھے۔ زیادہ تر ٹھگ، کئی زبانیں، گانا بجانا، بھجن کیرتن، نعت، قوالی اور ہندو مسلمان دونوں مذاہب کے طور طریقے اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ ضرورت کے مطابق یاتری، باراتی، مزار کے زائرین یا نقلی جنازہ نکالنے والے بن جاتے تھے۔ ایک راستے میں وہ کئی بار اپنا روپ بدل لیتے تھے۔ ظاہر ہے، وہ بھیس بدلنے میں بھی خاصے ماہر تھے۔ وہ بہت اطمینان سے کام کرتے تھے، اپنے شکار کو ذرا بھی بھنک نہیں لگنے دیتے تھے۔ کئی بار تو لوگ ٹھگوں کے ڈر سے ہی اصلی ٹھگوں کو شریف سمجھ کر ان کی گرفت میں آجاتے تھے۔ ٹھگوں کے سردار عام طور پر پڑھے لکھے عزت دار آدمی کی طرح دکھائی دینے والے لوگ ہوتے تھے اور باقی اس کے طرح طرح کے کارندے۔ فلپ میڈوز ٹیلر کی کتاب ’کنفیشنز آف اے ٹھگ‘ میں عامر علی خاں نے تفصیل سے بتایا ہے کہ کیسے وہ بڑے سیٹھوں اور مالدار لوگوں سے ضرورت کے حساب سے کبھی کسی نواب کے سپاہ سالار کی طرح ملتا تھا، کبھی مولوی کی طرح تو کبھی یاتری کا روپ دھار کر پنڈت کی طرح۔ عامر علی خاں نے بتایا کہ ٹھگوں کے کام بٹے ہوئے تھے۔ ’سوٹھا‘ گروہ کے سب سے سمجھدار رکن، لوگوں کو باتوں میں پھنسانے والے لوگ تھے جو شکار کی تاک میں سرائوں کے آس پاس منڈلاتے تھے۔ وہ آنے جانے والوں کی ٹوہ لیتے تھے، پھر ان کے مال اسباب اور حیثیت کا اندازہ لگا کر اسے اپنے چنگل میں پھنساتے تھے۔ عامر علی خاں کے گروہ کا سوٹھا گوپال تھا جو 'بہت ہوشیاری سے اپنا کام کرتا تھا۔‘ شکار کی پہچان کرنے کے بعد کچھ لوگ اس کے پیچھے، کچھ آگے اور کچھ سب سے آگے چلتے۔ راستے بھر دھیرے دھیرے کر کے ٹھگوں کی تعداد بڑھتی جاتی لیکن وہ ایسا ظاہر کرتے جیسے ایک دوسرے کو بالکل بھی نہیں جانتے اپنے ہی لوگوں کو جتھے میں شامل ہونے روکنے کا ناٹک کرتے تھے تاکہ شک نہ ہو۔ یہ بہت صبر کا کام تھا، ہربڑی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ عامر علی خاں نے ٹیلر کو بتایا تھا کہ کئی بار تو ہفتہ دس دن تک صحیح موقعے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ اگر کسی گربڑ کا اندیشہ ہو تو واردات ٹال دی جاتی تھی۔ *کمال کا اتفاق* سب سے آگے چلنے والے دستے میں ’بول‘ یعنی قبر تیار کرنے والے لوگ ہوتے تھے۔ انھیں درمیان والے دستے میں سے کڑی کا کام کرنے والا بتا دیتا تھا کہ کتنے لوگوں کے لیے قبر بنانی ہے۔ پیچھے والا دستہ نظر رکھتا تھا کہ کوئی خطرہ ان کی طرف تو نہیں آ رہا۔ آخر میں تینوں بہت پاس پاس آ جاتے لیکن اس کی خبر شکار کو نہیں ہوتی تھی۔ کئی دن گزر جانے کے بعد جب شکار چوکنا نہیں ہوتا تھا اور جگہ معقول ہوتی تھی تب گروہ کو کارروائی شروع کرنے کے لیے پہلے سے طے شدہ اک اشارہ دیا جاتا تھا جو ایک فرضی نام ہوتا تھا۔ عامر علی خاں نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس کے لیے 'سرمست خاں'، 'لدن خاں'، 'سربلند خاں'، 'ہری رام' یا 'جے گوپال' جیسے ناموں کا استعمال ہوتا تھا۔ یہ پہلا اشارہ تھا کہ اب کارروائی ہونے والی ہے۔ اس کے بعد ٹھگوں میں سب سے 'عزت دار' لوگوں کی باری آتی تھی جنھیں 'بھتوٹ' یا 'بھتوٹی' کہا جاتا تھا۔ ان کا کام بنا خون بہائے رومال میں سکہ باندھ کر بنائی گئی گانٹھ سے شکار کا گلا گھونٹنا ہوتا تھا۔ ہر ایک شکار کے پیچھے ایک بھتوٹ ہوتا تھا، پورا کام ایک ساتھ دو تین منٹ میں ہوتا تھا۔ اس کے لیے مستعد ٹھگ اپنے سرغنہ کی 'جھرنی' کا انتظار کرتے تھے۔ *جھرنی کیا تھی؟* جھرنی آخری اشارہ ہوتا تھا کہ اپنے آگے کھڑے یا بیٹھے شکار کے گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا جائے۔ عامر علی خاں نے ایک جھٹکے میں 12 سے 15 تندرست مردوں کا کام تمام کرنے کا عمل بے حد آسانی سے کیا ہے۔ اس نے ٹیلر کو بتایا کہ 'اشارہ یا جھرنی عام طور پر تمباکو کھا لو، حقہ پلاؤ یاگانا سناؤ جیسا چھوٹا واقعہ ہوتا تھا۔ پھر پلک جھپکتے ہی بھتوٹ شکار کے گلے میں پھندا ڈال دیتے تھے اور دو تین منٹ میں آدمی تڑپ کر ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔' اس کے بعد لاشوں سے قیمتی سامان ہٹاکر انھیں پہلے سے کھودی ہوئی قبروں میں 'ایک کے سر کی طرف دوسرے کا پیر' والی ترکیب سے ڈال دیا جاتا تھا تاکہ کم سے کم جگہ میں زیادہ لاشیں آ سکیں۔ اس کے بعد جگہ کو ہموار کر کے اس کے اوپر کانٹے دار جھاڑیاں جو پہلے سے تیار رکھی ہوتی تھیں، لگا دی جاتیں تھیں تاکہ جنگلی جانور قبر کو کھودنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح پورا قافلہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتا تھا اور ٹھگ بھی۔ *ٹھگ ایک الگ طرح کی مخلوق تھی* عامر علی خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ آج کے اترپردیش کے ضلع جالون میں وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ زیادہ تر لوگ اسے مسلمان زمیندار یا سوداگر سمجھتے تھے۔ سال کے سات آٹھ مہینے وہ گھر پر ایک عزت دار مسلمان کی طرح رہتا اور صحیح وقت پر پوجا کرنے چار مہینے کے لیے ’جتائی‘ پر نکل جاتا تھا۔ بہت کم لوگ جانتے تھے کہ کون ٹھگ ہے، لیکن ایک پورا نیٹ ورک تھا۔ عامر علی خاں کے مطابق کئی چھوٹے بڑے زمیندار اور نواب ٹھگوں سے نذرانہ وصول کرتے تھے اور مصیبت کے وقت انھیں پناہ بھی دیتے تھے لیکن انگریزوں کو اس کی بھنک نہیں لگنے دیتے تھے۔ اسی طرح، کئی زمینداروں نے ٹھگوں کو اپنی غیرزرعی زمین استعمال کرنے کی چھوٹ دے رکھی تھی جن میں وہ اجتماعی قبریں کھودتے تھے۔ اس کے بدلے میں انھیں ٹھگوں سے حصہ ملتا تھا۔ اسی طرح ہر جگہ ٹھگوں کے مخبر اور ان کے مددگار موجود تھے۔ مدد کرنے والے ان لوگوں کو تو کئی بار پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ کس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کون ٹھگ تھا اور کون نہیں، انگریز اس پہیلی سے لگاتار جوجھ رہے تھے۔ فلپ میڈوز ٹیلر نے اپنی کتاب کے آغاز میں 1825-26 کا ایک دلچسپ قصہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 'میری تعیناتی ہنگولی میں تھی وہاں ہری سنگھ نام کا ایک بیوپاری تھا۔ ہم اس سے لین دین کرتے تھے۔ ایک دن اس نے بمبئی سے کچھ کپڑا لانے کا پرمٹ مانگا، جو اسے دے دیا گیا۔ وہ کپڑا لے آیا اور اس نے ملٹری کینٹونمنٹ میں کپڑا بیچا۔ دراصل، وہ کپڑا کسی اور بیوپاری کا تھا۔ ہری سنگھ نے اسے اور اس کے کارندوں کو مار کر کپڑا لوٹ لیا تھا۔ ہری سنگھ دراصل ٹھگ تھا۔' انگریزوں کو ہری سنگھ کے ٹھگ ہونے کا پتا کئی سال بعد چلا جب اس نے پکڑے جانے کے بعد انگریزوں کا مذاق اڑایا اور بتایا کہ 'کیسے کپڑے کا پرمٹ لے کر اس نے 'گورے صاحب کو الو بنایا تھا۔' سنہ 1835 کے بعد کے سالوں میں جب ٹھگ پکڑے جانے لگے اور ان کے پول کھلنے لگے تو پتا چلا کہ ٹھگی کتنے بڑے پیمانے پر جاری تھی۔ فلپ میڈوز ٹیلز نے لکھا ہے کہ 'میں مندسور میں سپریٹنڈنٹ تھا۔ جب ہم نے وعدہ معاف سرکاری گواہ بنے ایک ٹھگ کی نشاندہی پر زمین کھودنا شروع کی تو اتنی اجتماعی قبریں ملیں کہ ہم نے پریشان ہو کر کھدائی کرنا ہی بند کر دی۔' *ٹھگوں پر بھاری افریقی غلام* شمس الرحمان فاروقی کے ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ میں 1843-44 میں رامپور کے نواب کے خاص درباری مرزا تراب علی کے ٹھگوں کے ہاتھوں مارے جانے کا قصہ ملتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست بہار کے شہر سونپور میں میلے سے ہاتھی گھوڑے خریدنے کے لیے جانے والے نواب کے سپہ سالار اور ان کے چھ ساتھیوں کو ٹھگوں نے مار ڈالا۔ مرزا تراب علی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے بارے میں جو تفصیل ملی، اس کے مطابق ٹھگوں نے ایک مسلمان راہگیر کی نماز جنازہ پڑھانے کے بہانے اسلحے سے لیس تراب علی اور ان کے ساتھیوں کو گھوڑوں سے نیچے اتارا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ رہے تھے، تبھی 'تمباکو کھلاؤ' کی آواز آئی اور سات لوگ رومال سے گلا گھونٹ کر مار ڈالے گئے۔ جب تراب علی رامپور لوٹ کر نہیں آئے تو نواب کو شک ہوا کہ کہیں ٹھگوں کے شکار تو نہیں بن گئے۔ انھوں نے افریقہ سے غلام بنا کر گجرات کےساحل پر لائے گئے افریقیوں کی کہانیاں سن رکھی تھیں، جنھیں 'شیدی' کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اس کام کے لیے شیدی اکرام اور شیدی منیم کی مدد لی۔ شیدیوں کے بارے میں فاروقی لکھتے ہیں کہ انہیں: ’نسل کے لحاظ سے شیدی اور کام لحاظ سے کھوجیا کہا جاتا تھا۔ ان کے ہنر کی بات دور دور تک پھل چکی تھی۔ انھیں گجرات سے اودھ تک بلایا جانے لگا تھا۔ قدموں کے نشان، لاپتہ لوگوں کا پتا لگانا اور مفرور لوگوں کے سراغ ڈھونڈنے میں وہ ماہر تھے۔ آپس میں وہ سواہلی میں جبکہ دوسرے لوگوں سے ہندی میں بات کرتے تھے۔‘ رامپور کے نواب نے اپنے وفادار مرزا تراب علی اور ان کے ساتھیوں کا پتا لگانے کے لیے شیدیوں کو بھیجا۔ شیدی سارے راستے ہر چیز کی باریک پڑتال کرتے چلتے رہے۔ شمس الرحمان فاروقی لکھتے ہیں کہ ’وہ ایک بڑے چکور میدان میں پہنچے جہاں انھوں نے لکڑی سے لکیریں کھینچ کر بڑے بڑے چوکور خانے بنائے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک ایک کر کے ان خانوں کو سونگھنا اور ان کی مٹی کو کریدنا شروع کیا۔ وہ کسی کھوجی کتے سے بھی زیادہ توجہ سے اپنا کام کر رہے تھے۔‘ انھوں نے ایک جگہ پہنچ کر اواز لگائی ’جمعدار جی، وہ مارا، یہاں کھدائی کرواؤ۔‘ جب وہاں کھدائی کی گئی تو مرزا تراب علی سمیت نواب کے سبھی کارندوں کی لاشیں مل گئی۔ شیدی آج بھی گجرات ریاست کے کچھ علاقوں میں بسے ہوئے ہیں لیکن ٹھگوں کا صفایا ہو چکا ہے۔ ٹھگ عامر علی خاں کے بارے میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسے اس ٹھگ نے بہت پیار سے اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا، جس نے اس کے باپ کو ایک واردات کے دوران مار ڈالا تھا۔ عامر کو گود لینے والے ٹھگ باپ سے ٹھگی کا سبق ملا تھا، اسی وجہ سے ٹھگی کو وہ ایک نیک کام سمجھتا تھا۔ بی بی سی - اردو
Dear All!
Due to precautionary measures and safety of students, tomorrow all Beacon and The Educators schools will remain closed.
Respect...!
Respect is the most important element of our personality, It is like an investment. Whatever we give to others It will return to us with Profit.!
دور جدید کا عبد اللہ بن ابی
مولانا فضل الرحمن نے 2002ء میں انڈیا کا دورہ کیا جس میں اس نے انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات میں کشمیر کو " علاقائی تنازع " قرار دے دیا۔ جبکہ پاکستان پہلے دن سے دو قومی نظریہ ( مسلم قومیت ) کی بنیاد پر کشمیر کو انڈیا سے الگ سمجھتا ہے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ کشمیر کو " اسلام " کی بنیاد پر انڈیا سے الگ سمجھتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ فضل الرحمن نے اسکو مذہبی تنازعے کے بجائے " علاقائی تنازع " قرار دے کر پاکستان کے برسوں پرانے موقف کو زبردست دھچکا دیا۔
اسی دورے میں اس نے مسلمان دشمن انڈین تنظیم آر ایس ایس کے لیڈر سے خفیہ ملاقات کی اور اس ملاقات میں انڈیا کو پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے پر زور دیا۔ یہ عین انڈین موقف ہے۔ وہ ہمیشہ سے اسی پر زور دیتے ہیں کہ کشمیر پر بات کرنے کے بجائے ہمیں باہمی تجارت کو فروغ دینا چاہئے جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ جب تک کشمیر کا تنازع حل نہیں ہوتا باہمی تجارت وغیرہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس ملاقات میں مولانا نے آر ایس ایس کی مسلمان دشمن پالیسیوں پر سوال تک نہیں کیا۔
دورے سے واپسی کے دوران اس نے اپنا متنازع ترین بیان دیا کہ کشمیری مجاہدین عوام اور ریاست پر دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں۔ یہ بیان کشمیری مجاہدین کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے جیسا تھا۔ مولانا کا یہ مہلک بیان انڈیا سمیت بین لاقوامی میڈیا پر چھایا رہا۔
جیسے ہی جمہوری دور آیا مولانا فضل الرحمن نے کشمیر کمیٹی کا چیرمین بننے کا مطالبہ کیا جس کو پورا کیا گیا۔ یاد رہے کہ کشمیری کمیٹی پاکستان کی سب سے مہنگی کمیٹی ہے جسکا کام کشمیر ایشو کو پاکستان کےا ندر اور عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔
مولانا نے اس ایشو کے لیے کتنا کام کیا اس کا اندازہ اپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ مولانا کے چیرمین بننے کے کچھ عرصے بعد اقوام متحدہ نے کشمیر کو اپنے متنازعہ ایشوز کی فہرست سے ہی نکال دیا اور مولانا اس پر خاموش رہے۔
پاکستانی میڈیا سے یہ ایشو تقریباً غائب کر دیا گیا اور مولانا اس پر خاموش رہے۔
انڈین علمائے دیوبند نے کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دیتے ہوئے وہاں جہاد کو حرام قرار دیا اس پر بھی مولانا خاموش رہے حالانکہ مولانا خود بھی دیوبند مسلک کے بہت بڑے حصے کی ترجمانی کرتے ہیں۔
اور سب سے خوفناک بات کہ پچھلے چند سال سے کشمیر میں انڈیا بہت تیزی سے ہندوؤں کی آبادکاری کر رہا ہے جس کے بعد لداخ اور جموں میں کشمیری مسلمان اقلیت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ مولانا نے بطور چیرمین کشمیر کمیٹی اس پر ابھی تک ایک لفظ نہیں کہا۔ اس کے نیتجے میں اگر آج انڈیا پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے وہاں انتخاب کروا دے تو غالب ہندو اکثریت کی بدولت جیت جائیگا۔
انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں دھڑا دھڑ ڈیم بنائے مولانا ان پر بھی خاموش رہے جبکہ انڈیا پاکستان کے گلگت بلتستان کے علاقوں میں تعمیرات پر اعتراضات کر رہا ہے۔
پچھلے چند سالوں کے دوران کشمیریوں کو اتنا مارا گیا کہ شکار کرنے والی پیلٹ گنوں سے ان کا شکار کیا گیا مولانا نے اس پر بھی عالمی برادری کے سامنے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔
چند دن پہلے ایک صحافی نے سوال کیا کہ جناب آپ نے کشمیری پر اتنے سالوں کے دوران کمیٹی کے صرف 8 اجلاس طلب کیے ہیں جو ڈھٹائی سے ہنس پڑے اور اس سوال کو قومی یکجہتی پر حملہ قرار دیا۔
2015ء میں ایک سے زائد کشمیری لیڈروں نے مولانا کو کشمیر کمیٹی سے فارغ کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کو نواز شریف نے مسترد کر دیا۔
سچائی یہ ہے کہ مولانا کی سیاسی سرگرمیاں اور تمام تر تگ و دو صرف اور صرف لبرل قوتوں کو بچانے تک ہی محدود ہے مثلاً ختم نبوت والی ترمیم میں معاؤنت، اللہ اور رسولﷺ کے اعلانیہ دشمن، پاکستان کو لبرل بنانے کا اعلان کرنے والے اور گستاخان رسول کے پشت پناہ نواز شریف کی معاؤنت، پاکستان لوٹ کرکھا جانے والے اور سندھ میں قبول اسلام پر پابندی لگانے والے آصف زرداری اور نواز شریف کو متحد کرنے کی تگ و دو۔ پاکستان میں الحاد کے لیے کام کرنے والے اسفند یار ولی کو اپنا قدرتی اتحادی قرار دینا۔
آپ نوٹ کیجیے گا کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف جو لائن مشہور زمانہ گستاخان رسول اور ملحدین کی ہوتی ہے من و عن وہی چند دن بعد مولانا کی زبان پر ہوتی ہے۔
مولانا کی ایک عجیب و غریب صفت یہ بھی ہے کہ آج تک کبھی درست سمت میں کھڑے نظر نہیں آئے، مثلا ناموس رسالت ﷺ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، افغانیوں کے انخلاء، فاٹا کے انضمام اور پاک افغان سرحد پر باڑ پر اور کالاباغ ڈیم پر۔ آج تک ان کی زبان سے کسی نے کوئی کلمہ خیر تک نہیں سنا، بلکہ آج کسی نے ان کی زبان سے "پاکستان زندہ باد" کا نعرہ تک نہیں سنا۔
آج مولانا فضل الرحمن اپنے بیٹے کو سپیکر لگوانا چاہتے ہیں، پندرہ سال سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں، لیکن جب انتخاب میں عوام سے جوتے پڑے تو پاکستان کو غیر اسلامی اور غلام ریاست قرار دے کر یوم آزادی نہ منانے کا اعلان کیا۔
مولانا فضل الرحمن کو پاکستانی سیاست کا بدترین کردار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
When a short person waves at you, it may be called a MicroWave 😂
Being both SOFT & STRONG is a combination very few have mastered.
Pizza Fries 🍟+🍕 #foodie #delicious #healthy #instafood #yummy #foodgasm #healthyfood #eatclean #breakfast #lunch #food #foodstagram #yum #eat #foodpic #dessert #hungry #foods #vegan #fruit #chocolate #meal #eating #desserts #gourmet #cooking
#qaziwajid #RIP
#SuperMoon #Moon #Photography #MyPhotography
King...!
There can be no failure to a man who has not lost his courage, his character, his self respect or his self confidence. He is still a KING.
مطلب۔۔۔حد ہے یار۔ #funny #funnyshit #instafunny
Makeup Masters. 111 likes. Improve your beauty.
Pakistani youngsters these days are so much involved in online shopping. This scenario opens challenge for those who are serious in this business. Fraud is still a huge concern for those who are shopping online.
Here comes a youngster whom i believe is doing a great job. Its Huba Sheikh, an energetic, enthusiastic & full of passion girl. I remember what ever started, did that with her full force. I believe her business is going to cover market very soon.
Like her page...before its too late ;)
The Beautiful 99 Names of Allah ♥ 1 Allah (الله) The Greatest Name 2 Ar-Rahman (الرحمن) The All-Compassionate 3 Ar-Rahim (الرحيم) The All-Merciful 4 Al-Malik (الملك) The Absolute Ruler 5 Al-Quddus (القدوس) The Pure One 6 As-Salam (السلام) The Source of Peace 7 Al-Mu’min (المؤمن) The Inspirer of Faith 8 Al-Muhaymin (المهيمن) The Guardian 9 Al-Aziz (العزيز) The Victorious 10 Al-Jabbar (الجبار) The Compeller 11 Al-Mutakabbir (المتكبر) The Greatest 12 Al-Khaliq (الخالق) The Creator 13 Al-Bari’ (البارئ) The Maker of Order 14 Al-Musawwir (المصور) The Shaper of Beauty 15 Al-Ghaffar (الغفار) The Forgiving 16 Al-Qahhar (القهار) The Subduer 17 Al-Wahhab (الوهاب) The Giver of All 18 Ar-Razzaq (الرزاق) The Sustainer 19 Al-Fattah (الفتاح) The Opener 20 Al-`Alim (العليم) The Knower of All 21 Al-Qabid (القابض) The Constrictor 22 Al-Basit (الباسط) The Reliever 23 Al-Khafid (الخافض) The Abaser 24 Ar-Rafi (الرافع) The Exalter 25 Al-Mu’izz (المعز) The Bestower of Honors 26 Al-Mudhill (المذل) The Humiliator 27 As-Sami (السميع) The Hearer of All 28 Al-Basir (البصير) The Seer of All 29 Al-Hakam (الحكم) The Judge One 30 Al-`Adl (العدل) The Just 31 Al-Latif (اللطيف) The Subtle One 32 Al-Khabir (الخبير) The All-Aware 33 Al-Halim (الحليم) The Forbearing 34 Al-Azim (العظيم) The Magnificent 35 Al-Ghafur (الغفور) The Forgiver and Hider of Faults 36 Ash-Shakur (الشكور) The Rewarder of Thankfulness 37 Al-Ali (العلى) The Highest 38 Al-Kabir (الكبير) The Greatest 39 Al-Hafiz (الحفيظ) The Preserver 40 Al-Muqit (المقيت) The Nourisher 41 Al-Hasib (الحسيب) The Accounter 42 Al-Jalil (الجليل) The Mighty 43 Al-Karim (الكريم) The Generous 44 Ar-Raqib (الرقيب) The Watchful One 45 Al-Mujib (المجيب) The Responder to Prayer 46 Al-Wasi (الواسع) The All-Comprehending 47 Al-Hakim (الحكيم) The Perfectly Wise 48 Al-Wadud (الودود) The Loving One 49 Al-Majid (المجيد) The Majestic One 50 Al-Ba’ith (الباعث) The Resurrector 51 Ash-Shahid (الشهيد) The Witness 52 Al-Haqq (الحق) The Truth 53 Al-Wakil (الوكيل) The Trustee 54 Al-Qawiyy (القوى) The Possessor of All Strength 55 Al-Matin (المتين) The Forceful One 56 Al-Waliyy (الولى) The Governor 57 Al-Hamid (الحميد) The Praised One 58 Al-Muhsi (المحصى) The Appraiser 59 Al-Mubdi’ (المبدئ) The Originator 60 Al-Mu’id (المعيد) The Restorer 61 Al-Muhyi (المحيى) The Giver of Life 62 Al-Mumit (المميت) The Taker of Life 63 Al-Hayy (الحي) The Ever Living One 64 Al-Qayyum (القيوم) The Self-Existing One 65 Al-Wajid (الواجد) The Finder 66 Al-Majid (الماجد) The Glorious 67 Al-Wahid (الواحد) The One, the All Inclusive, The Indivisible 68 As-Samad (الصمد) The Satisfier of All Needs 69 Al-Qadir (القادر) The All Powerful 70 Al-Muqtadir (المقتدر) The Creator of All Power 71 Al-Muqaddim (المقدم) The Expediter 72 Al-Mu’akhkhir (المؤخر) The Delayer 73 Al-Awwal (الأول) The First 74 Al-Akhir (الأخر) The Last 75 Az-Zahir (الظاهر) The Manifest One 76 Al-Batin (الباطن) The Hidden One 77 Al-Wali (الوالي) The Protecting Friend 78 Al-Muta’ali (المتعالي) The Supreme One 79 Al-Barr (البر) The Doer of Good 80 At-Tawwab (التواب) The Guide to Repentance 81 Al-Muntaqim (المنتقم) The Avenger 82 Al-‘Afuww (العفو) The Forgiver 83 Ar-Ra’uf (الرؤوف) The Clement 84 Malik-al-Mulk (مالك الملك) The Owner of All 85 Dhu-al-Jalal wa-al-Ikram (ذو الجلال و الإكرام) The Lord of Majesty and Bounty 86 Al-Muqsit (المقسط) The Equitable One 87 Al-Jami’ (الجامع) The Gatherer 88 Al-Ghani (الغنى) The Rich One 89 Al-Mughni (المغنى) The Enricher 90 Al-Mani’(المانع) The Preventer of Harm 91 Ad-Darr (الضار) The Creator of The Harmful 92 An-Nafi’ (النافع) The Creator of Good 93 An-Nur (النور) The Light 94 Al-Hadi (الهادي) The Guide 95 Al-Badi (البديع) The Originator 96 Al-Baqi (الباقي) The Everlasting One 97 Al-Warith (الوارث) The Inheritor of All 98 Ar-Rashid (الرشيد) The Righteous Teacher 99 As-Sabur (الصبور) The Patient One
The Quran :)