Afsana (1951) | dir. B. R. Chopra
[ Veena and Ashok Kumar ]

seen from Malaysia

seen from Canada
seen from Malaysia
seen from United Kingdom

seen from United States
seen from Canada
seen from Germany

seen from Malaysia

seen from United Kingdom
seen from Malaysia
seen from Yemen
seen from United States

seen from Romania
seen from Malaysia
seen from United States
seen from United States
seen from Spain

seen from Netherlands

seen from India
seen from Netherlands
Afsana (1951) | dir. B. R. Chopra
[ Veena and Ashok Kumar ]
That story, completing which is not possible
Leaving it at a beautiful twist would be the best
- Sahir Ludhianvi
a continuation of this scene
“a: it's nice to have some sense of normalcy
s: sure, but you know this isn't normal to most people. sleeping outside, spending time in the woods
a: oh….really? i didn't realize that
s: [kisses her cheek] that's why i like you
a: i like you too”
obv we didn’t rp the makeout scene, but the first two parts were in-game 👍👍 if i’d drawn the backgrounds, they would’ve fit the first two prompts lol (stars and blanket)
مہمان کا رزق
ایک گاؤں میں ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ کچھ اَن بن ہو گئی۔ ابھی جھگڑا ختم نہیں ہوا تھا کہ اسی اثناء میں ان کا مہمان آ گیا، خاوند نے اسے بیٹھک میں بٹھا دیا اور بیوی سے کہا کہ فلاں رشتہ دار مہمان آیا ہے اس کے لیے کھانا بناؤ۔ وہ غصّے میں تھی کہنے لگی تمہارے لئے کھانا ہے نہ تمہارے مہمان کے لئے۔
وہ بڑا پریشان ہوا کہ لڑائی تو ہماری اپنی ہے، اگر رشتہ دار کو پتہ چل گیا تو خواہ مخواہ کی باتیں ہو گی۔ لہٰذا خاموشی سے آ کر مہمان کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں اسے خیال آیا کہ چلو بیوی اگر روٹی نہیں پکاتی
تو سامنے والے ہمارے ہمسائے بہت اچھے ہیں، خاندان والی بات ہے، میں انہیں ایک مہمان کا کھانا پکانے کے لیے کہہ دیتا ہوں چنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی کی طبیعت خراب ہے لہٰذا آپ ہمارے مہمان کے لیے کھانا بنا دیجئے۔
انہوں نے کہا بہت اچھا، جتنے آدمیوں کا کہیں کھانا بنا دیتے ہیں، وہ مطمئن ہو کر مہمان کے پاس آ کر بیٹھ گیا کہ مہمان کو کم از کم کھانا تو مل جائے گا جس سے عزت بھی بچ جائے گی۔تھوڑی دیر کے بعد مہمان نے کہا، ذرا ٹھنڈا پانی تو لا دیجئے۔ وہ اٹھا کہ گھڑے کا ٹھنڈا پانی لاتا ہوں۔ اندر گیا تو دیکھا کہ بیوی صاحبہ تو زار و قطار رو رہی ہے۔ وہ بڑا حیران ہواکہ یہ شیرنی اور اس کے آنسو،کہنے لگا کیا بات ہے؟ اس نے پہلے سے بھی زیادہ رونا شروع کر دیا۔کہنے لگی، بس مجھے معاف کر دیں۔
وہ بھی سمجھ گیا کہ کوئی وجہ ضرور بنی ہے۔ اس کے خاوند نے کہا کہ بتاؤ آخر تمہارے رونے کی وجہ کیاہے تم ایسے کیوں رو رہی ہو؟ بیوی نے کہا کہ پہلے مجھے معاف کر دیں پھر میں آپ کو بات سناؤں گی۔ خیر اس نے کہہ دیا کہ جو لڑائی جھگڑا ہوا ہے میں نے وہ دل سے نکال دیا ہے اور تمہیں معاف کر دیا ہے۔ کہنے لگی کہ جب آپ نے آ کر مہمان کے بارے میں بتایا اور میں نے کہہ دیا کہ نہ تمہارے لئے کچھ پکے گا اور نہ مہمان کے لئے، چلو چھٹی کرو تو آپ چلے گئے، مگر میں نے دل میں سوچا کہ لڑائی تو میری اور آپ کی ہے اور یہ مہمان رشتہ دار ہے،
ہمیں اس کے سامنے یہ پول نہیں کھولنا چاہئے چنانچہ میں اُٹھی کہ کھانا بناتی ہوں جب میں باروچی خانہ میں گئی تو میں نے دیکھا کہ جس بوری میں ہمارا آٹا پڑا ہوتا ہے، ایک سفید ریش آدمی اس بوری میں سے آٹا نکال رہا ہے، میں یہ منظر دیکھ کر سہم گئی۔ وہ مجھے کہنے لگا، اے خاتون! پریشان نہ ہو یہ تمہارے مہمان کا حصّہ تھا جو تمہارے آٹے میں شامل تھا، اب چونکہ یہ ہمسائے کے گھر میں پکنا ہے، اس لئے وہی آٹا لینے کے لئے آیا ہوں۔ اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مہمان بعد میں آتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس کا رزق پہلے بھیج دیتے ہیں۔
افسانہ
کیا غمِ دل کی حقیقت کو بھی افسانہ کہیں ....
Afsana (1951) | dir. B. R. Chopra
Afsana (1951) | dir. B. R. Chopra
[ Veena and Ashok Kumar ]
Afsana (1951) // dir. B. R. Chopra // film poster