طرحی غزل
ناکردہ بے وفائی نبھانا عجیب تھا
ہم کو ملا وفا میں جو طعنہ عجیب تھا
اس دورِ ناگریز سے جانا عجیب تھا
جانا تو خیر! جا کے پھر آنا عجیب تھا
کھو دینا آج کل تو بڑی عام بات ہے
کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈ کے لانا عجیب تھا
خوشیوں کو آس پاس بھی رہنے نہیں دیا
اک غم کا میرے دل میں ٹھکانہ عجیب تھا
گلزارِ عشق یاد ہے؟ اے طائرِ خیال!
وہ بال و پر وہ آب وہ دانہ عجیب تھا
اک روز مسکراتے ہوئے ہم بچھڑ گئے
اس کج روی پہ ہنسنا ہنسانا عجیب تھا
سہتے رہے تو زندگی بس عام سی لگی
کہنے لگے تو اس کا فسانہ عجیب تھا
ہم تلخیوں پہ ضبط کے عادی رہے سدا
چھلکے تھے جس پہ اشک ، بہانہ عجیب تھا
ہم چاہ کر بھی اس کے موافق نہ ہو سکے
'ہم ہی عجیب تھے کہ زمانہ عجیب تھا'
عنبرین_خان











