Successfully domesticated Erastil
With his wife Jaidi
In the second picture you can see the taming of the wild god
seen from Canada
seen from China
seen from Netherlands

seen from China
seen from United States
seen from Netherlands

seen from United Kingdom

seen from Singapore

seen from Malaysia
seen from Argentina
seen from Russia
seen from China
seen from United States
seen from Egypt
seen from China
seen from Qatar
seen from United States
seen from China
seen from United States

seen from India
Successfully domesticated Erastil
With his wife Jaidi
In the second picture you can see the taming of the wild god
’ ’اطہر شاہ خان ‘‘ : ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی آنکھ میں موتیا اُتر آیا
اطہر شاہ خان سے میری پہلی ملاقات 1966 کے وسط میں ہوئی۔ میں پنجاب یونیورسٹی کے ادبی مجّلے ’’محور‘‘کا نیا نیا چیف ایڈیٹر منتخب ہوا تھا ۔ سید علی ثنا شاکر بخاری جو ایم اے اُردو میں میرے کلاس فیلو بھی تھے اور بعد میں سول جج ہو کر ریٹائر ہوئے اور نرگس پروین جو آرٹ کونسل کی ملازمت کے بعد پیپلز پارٹی کے اُس وقت کے وفاقی وزیر مختار اعوان کی بیگم بنیں، عملہ ادارت میں میرے ساتھی مقرر ہوئے ۔ ہم تینوں اُس وقت کے زیر تعمیر نیو کیمپس کی کینٹین کے اوپر واقع اپنے دفتر میں بیٹھے آیندہ پرچے کے مندرجات کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے کہ ایک دوست کے ہمراہ اطہر شاہ خان اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے وہ اُس وقت جرنلزم کے شعبے میں زیر تعلیم تھے لیکن اُن کا زیادہ بھاری تعارف یہ تھا کہ وہ اُس وقت بھی ریڈیو پاکستان لاہور اور پی ٹی وی لاہور کے لیے نہ صرف باقاعدگی سے لکھ رہے تھے بلکہ اُن کی تحریریں بہت پسند بھی کی جارہی تھیں اور دراصل اُن سے یہ ملاقات ہی آگے چل کر میرے ٹی وی رائٹر بننے کی بنیاد اور وجہ بنی۔ میں اپنے تقریباً ہر انٹرویو میں اس بات کا اقرار اور اظہار کرتا ہوں کہ مجھے ٹی وی کی راہ دکھانے اور حوصلہ افزائی کرنے والا پہلا بندہ اطہر شاہ خان ہی تھا، یہ اور بات ہے کہ اس ملاقات اور میری پہلی نثری تحریر کے ٹیلی کاسٹ ہونے کے درمیان تقریباً چھ برس کا وقفہ ہے جو یقیناً بہت مایوس اور فراسٹریٹ کرنے والا زمانہ تھا کہ ایک طرف تو اُس زمانے کی ایک بہت مقبول مزاحیہ سیریز ’’لاکھوں میں تین‘‘ کا مصنف اطہر شاہ خان مجھے مسلسل یہ یقین دلا رہا تھا کہ میں ڈرامہ لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہوں اور دوسری طرف ٹی وی کے متعلقہ افسران کسی صورت اس خیال کی تائید کرتے نظر نہیں آرہے تھے۔ اس پُر آشوب دور میں میرے دل کے علاوہ صرف اطہر شاہ خان ہی وہ شخص تھا جو مجھے مسلسل حوصلہ دیتا رہا اور اُس کا یہ احسان ایسا ہے جو میں مرتے دم تک یاد رکھوں گا آگے چل کر ’’وارث‘‘ وغیرہ کے بعد مجھے بطور ڈرامہ نگار بے شمار ایوارڈ ملے مگر میرے نزدیک ان سب پر اطہر شاہ خان کا یہ جملہ بھاری تھا کہ ’’دیکھو میں نہ کہتا تھا‘‘ گزشتہ دنوں کراچی میں قیام کے دوران میں نے اُس سے ملاقات کی بہت کوشش کی مگر مجھے بتایا گیا کہ وہ ان دنوں اپنے بیٹے کے پاس دبئی میں ہیں اور یہ کہ فالج کے حملے کے بعد وہ کہیں باہر آنے جانے سے معذور ہے یہ جان کر کچھ تسلی سی ہوئی کہ اُس کے بچے اُس کا بہت خیال رکھ رہے ہیں۔
یونیورسٹی کے بعد اُس سے زیادہ تر ملاقاتیں ریڈیو پاکستان کی کینٹین یا جمیل ملک اور عتیق اللہ شیخ کے کمروں میں ہوئیں کہ یہ دو دفتر اُس وقت کے ریڈیو پاکستان لاہور کے سب سے آباد اور معروف دفتر تھے ۔ اطہر شاہ خان بے حد زود نویس تھا۔ ریڈیو کی کینٹین میں جہاں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی اور بھانت بھانت کے لوگ مسلسل آتے جاتے رہتے تھے۔ اطہر شاہ خان نہ صرف چائے پینے کے دوران سامنے والے لوگوں سے مسلسل ہنسی مذاق کی باتیں کرتا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کسی ڈرامے یا ریڈیو پروگرام کا اسکرپٹ بھی ایسے لکھتا جاتا تھا کہ آپ کو اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہیں آتا تھا اور مزے کی بات ہے کہ ان تحریروں میں کسی موضوع کی پابندی نہیں تھی ریڈیو کے اس تجربے کی وجہ سے اُس کی ٹائمنگ کی صلاحیت حیرت ناک حد تک پرفیکٹ ہو گئی تھی کہ اُس کا لکھا ہوا اسکرپٹ عین اس پروگرام کے دیے گئے وقت کے مطابق ہوتا تھا اور کم و بیش یہی معاملہ اُس کے ٹیلی اسکرپٹس کے ساتھ بھی تھا حالانکہ مزاحیہ کھیلوں میں کرداروں کے ایکشن اور ری ایکشن کی بے ترتیبی اور اچانک پن کے باعث ایسا حساب رکھنا کہ کم و بیش نا ممکن ہوتا ہے غالباً ستر کی دہائی کے وسط میں وہ کراچی شفٹ ہو گیا اسی دوران میں اُس نے اپنے بڑے بھائی ہارون پاشا کی وساطت سے (جو پہلے سے فلم انڈسٹری سے منسلک تھے) کچھ فلموں کے لیے لکھا اور ’’آس پاس‘‘ نامی ایک فلم ڈائریکٹ بھی کی مگر یہ دنیا انھیں راس نہ آ سکی کہ وہ ایک سیدھا ، سچا اور مخلص تخلیقی فنکار تھا جب کہ انڈسٹری میں چلنے والی کرنسی کچھ اور تھی ۔
کراچی ٹی وی سے یوں تو اس نے یکے بعد دیگرے بہت سے کامیاب اور مقبول سیریل لکھے تھے لیکن اُس کا لکھا ہوا کردار جیدی جسے وہ ایکٹ بھی خود ہی کرتا تھا سب پر بازی لے گیا اور ٹی وی کے ساتھ ساتھ اس کی گونج مختلف ریڈیو پروگراموں میں بھی سنائی دیتی رہی، اس کے مزاح کا اصل جوہر زبانوں کے امتزاج اور لہجے کی کارگاہوں میں کھلتا تھا Absurd یعنی مہمل اور بظاہر بے معنی مزاح میں وہ جس باریکی اور خوش اسلوبی سے معنی پیدا کرتا تھا، وہ اُسی کا حصہ تھا ریڈیو کے لیے اسکرپٹ نگاری سے لے کر ٹی وی ڈرامہ ، صدا کاری، اداکاری اور ہدایت کاری تک ہر میدان میں اُس کے جو ہر کھلتے چلے گئے اور وہ اَن تھک انداز میں مزاح تخلیق کرتا چلا گیا اس کا شعری ذوق بہت اچھا تھا لیکن کئی برس تک کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ سنجیدہ اور مزاحیہ ہر دو میدانوں میں بہت اچھے شعر کہنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے کسی چیز کو عام انداز سے ہٹ کر کسی انوکھے زاویے سے دیکھنا اور پھر بڑے موثرانداز میں بیان کرنا ایک ایسا کمال تھا جس پر اُس جیسی گرفت میں نے اپنے بہت کم ہم عصروں میں
دیکھی ہے مثال کے طور پر اُس کا یہ شعر
ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی آنکھ میں موتیا اُتر آیا
تو ایسا ہے کہ آپ جب بھی سنیں ایک نیا مزا دیتا ہے ۔ بیماری سے کچھ عرصہ پہلے تک اس نے باقاعدہ مشاعروں میں نہ صرف شرکت شروع کر دی تھی بلکہ سید ضمیر جعفری ، دلاور فگار اور انور مسعود کے بعد وہ چوتھا ایسا شاعر بن کر اُبھرا جو اخلاقی دور میں رہتے ہوئے سیچوئیشن یعنی صُورتِ حال اور لفظوں کے اُلٹ پھیر سے ایسا مزاح پیدا کرتا تھا کہ جس کو سارے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر خوشدلی سے سنا جا سکتا ہو۔ وہ جتنا باکمال اور گُنی مزاح نگار تھا اتنا ہی اچھا انسان اور دوست بھی تھا اور فی زمانہ یہ باتیں ایسے خوب صورت توازن کے ساتھ بہت ہی کم دیکھنے میں آئی ہیں پی ٹی وی پر جن لوگوں نے مزاح کو عزت اور وقار سے بہرہ ور کیا ہے ان میں اطہر شاہ خان کا نام ہمیشہ سنہرے حرفوں میں لکھا اور لیا جائے گا ۔ رب کریم اُس کی روح پر اپنا کرم فرمائے کہ وہ اُس کے بندوں کو خوش رکھتا تھا اور یہ سعادت ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی کہ اطہر شاہ خان جیسے بندے روز روز پیدا نہیں ہوتے۔
امجد اسلام امجد
بشکریہ ایکسپریس نیوز
Cause I can’t Help falling in love with you
Jaidi Aesthetic bored for @stcrmclcud / @ukulelesolosandfoiledplans
Athar Shah Khan - Jaidi | Best Comedy | Biscope City
سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والے اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان یکم جنوری 1943ء میں ہندوستان کی ریاست رام پور میں پیدا ہوئے خاندانی لحاظ سے اخون خیل پٹھان تھے۔ چوتھی جماعت میں تھے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا۔ والد محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔ کچھ عرصہ بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ والدین کے بعد ان کے بڑے بھائی سلیم شاہ خان نے خاندان کی کفالت کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ بچپن سے انہیں کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ تیسری جماعت میں والدہ نے انہیں علامہ اقبال کی کتاب بانگ درا انعام میں دی۔ لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پشاور سے سیکنڈری تک تعلیم حاصل کی اور پھر کراچی میں اردو سائنس کالج سے گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے صحافت کے شعبے میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ اس کے علاوہ سینٹرل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج سے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی سند بھی حاصل کی۔
پیشہ ورانہ زندگی کا مختصر جائزہ اطہر شاہ خان نے ٹیلی وژن اور اسٹیج پر بطور ڈراما نگار اپنے تخلیقی کام کا آغاز کیا۔ ان کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈراموں نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ جیدی کے نام سے مشہور اطہر شاہ خان نے ریڈیو پاکستان سے کیریئر شروع کیا اور میڈیا انڈسٹری میں ایک ممتاز شخصیت بن گئے۔ انہوں نے سب سے زیادہ مشہور ڈرامے ’’جیدی کے سنگ‘‘ سمیت 700 سے زائد پلے لکھے۔ علاوہ ازیں ’’انتظار فرمائیے‘‘ میں اطہر شاہ خان کی عمدہ کارکردگی کو بہت سے لوگ بھلا نہیں سکتے۔ ان کا ایک ڈرامہ ’’باادب باملاحظہ ہوشیار‘‘ آج بھی حالات حاضرہ کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اس ڈرامے میں انہوں نے حاکم وقت کا کردار بھی ادا کیا تھا۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ اپنے ہی ایک ڈرامے کے ایک اداکار کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ سواری میں کوئی نقص پیدا ہو گیا، جب اسے ٹھیک کرنے کے لیے رکے تو لوگوں نے اداکار کو پہچان لیا لیکن مصنف (یعنی اطہر شاہ خان) کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ بقول اطہر شاہ خان کے اس واقعہ نے انہیں اداکاری پر مائل کیا جس کے نتیجہ میں جیدی کا کردار تخلیق ہوا۔ جیدی کے کردار پر مرکوز پاکستان ٹیلی وژن کا آخری ڈراما ’’ہائے جیدی‘‘ 1997ء میں پیش کیا گیا۔ ان کے بہترین ڈراموں میں ’انتظار فرمائیے‘، ’جانے دو‘، ’برگر فیملی‘، ’آشیانہ‘، ’ہیلو ہیلو‘، ’ ہائے جیدی‘ سمیت ’با اَدب با ملاحظہ ہوشیار‘ اور دیگر شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے اطہر شاہ خان کو 2001ء میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی سلور جوبلی کے موقع پر انھیں گولڈ میڈل عطا کیا تھا۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز
جیدی کے نام سے معروف مصنف و مزاح نگار اطہر شاہ خان
اطہر شاہ خان جیدی نے لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پشاور سے سیکنڈری تک پڑھا اور پھر کراچی میں اُردو سائنس کالج سے گریجویشن کیا، بعد ازاں انہوں نے پنجاب یونی ورسٹی سے صحافت کے شعبے میں ماسٹرز کیا۔ ان کا شمار ٹیلی ویژن کے ابتدائی ڈرامہ نگاروں اور فن کاروں میں کیا جاتا ہے۔ اطہر شاہ خان کی سپرہٹ ڈرامہ سیریلز میں انتظار فرمائیے، ہیلو ہیلو، جانے دو، برگر فیملی، آشیانہ، آپ جناب، جیدی اِن ٹربل، پرابلم ہائوس، ہائے جیدی، کیسے کیسے خواب، بااَدب با ملاحظہ ہوشیار اور دیگر ڈرامے شامل ہیں۔ انتظار فرمائیے، وہ سیریل تھی جس نے اطہر شاہ خان کو ’جیدی‘ بنا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ 2001ء میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا، پاکستان ٹیلی ویژن نے جب اپنی سلور جوبلی منائی تو اطہر شاہ خان جیدی کو گولڈ میڈل عطا کیا۔
اختر علی اختر
بشکریہ روزنامہ جنگ
پاکستان کے نامور ڈرامہ نگار،فلم ساز اورمعروف اداکار کا انتقال
لاہور(جی سی این رپورٹ)اردو دنیا کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، فلم ساز اور ٹیلی ویژن کے کردار جیدی سے شہرت حاصل کرنے والے نامور اداکار اطہر شاہ خان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔اداکار اطہر شاہ خان جیدی طویل عرصے سے شگر اور گردے کے عارضے میں مبتلا تھے اور وہ رضائے الہی سے آج انتقال کر گئے۔اطہر شاہ خان مرحوم نے سوگوارن میں اہلیہ اور چار بیٹے چھوڑے ہیں۔مرحوم اطہر شاہ خان بھارت کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے اور انتقال کے وقت ان کی عمر 77 برس سے زائد تھی۔ آپ 1947 میں خاندان کے ساتھ لاہور اور 1957 میں کراچی منتقل ہوئے۔
اطہر شاہ خان جیدی نے لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پشاور سے سیکنڈری تک پڑھا اور پھر کراچی میں اُردو سائنس کالج سے گریجویشن کیا، بعدازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے صحافت کے شعبے میں ماسٹرز بھی کیا۔ان کا شمار ٹیلی ویژن کے ابتدائی ڈرامہ نگاروں اور فن کاروں میں کیا جاتا ہے۔اطہر شاہ خان کی سپرہٹ ڈرامہ سیریلز میں انتظار فرمائیے، ہیلو ہیلو، جانے دو، برگر فیملی، آشیانہ، آپ جناب، جیدی اِن ٹربل، پرابلم ہاؤس، ہائے جیدی، کیسے کیسے خواب، با اَدب با ملاحظہ ہوشیار اور دیگر شامل ہیں۔ https://twitter.com/i/status/1259374141678944261 انتظار فرمائیے، وہ سیریل تھی جس نے اطہر شاہ خان کو ’جیدی‘ بنا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔2001ء میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا اور پاکستان ٹیلی ویژن نے جب اپنی سلور جوبلی منائی تو اطہر شاہ خان جیدی کو گولڈ میڈل عطا کیا۔ Read the full article
Marokkaanse ambassade in de VS betrokken bij mensenhandel
De Amerikaanse krant Lohud heeft gemeld dat een vrouw en haar broer aangeklaagd zijn voor onder meer visumfraude en vervalsing van documenten. De vrouw heet Maria Luisa Estrella Jaidi en is de echtgenote van Abdeslam Jaidi die de functie van ambassadeur bekleedde tussen 1980 en 2016.
De Marokkaanse nieuwssite Achkayen, die dichtbij het regime en de inlichtingendiensten staat, meldt dat ook de…
View On WordPress