Tarbela Lake in Haripur, one of the largest lakes in Pakistan, is a reservoir fed by the waters of the Indus River. It is located 3 km south of Haripur district, Khyber Pakhtunkhwa.
Oriane Zerah

seen from Russia

seen from United Kingdom
seen from United States
seen from United States

seen from Malaysia
seen from United States

seen from United States
seen from Russia
seen from France
seen from China

seen from Austria

seen from United States
seen from Türkiye
seen from Vietnam
seen from China
seen from United States
seen from Australia

seen from Australia
seen from United States

seen from India
Tarbela Lake in Haripur, one of the largest lakes in Pakistan, is a reservoir fed by the waters of the Indus River. It is located 3 km south of Haripur district, Khyber Pakhtunkhwa.
Oriane Zerah
Wheat with Spikes by asif saeed
Source: Wheat with Spikes | asif saeed | Flickr
The World Largest Dam Tarbela Dam KPK Part 1
Tarbela Dam Google Map view | Atomic Reality
“You can’t go back and change the beginning, but you can start where you are and change the ending.” - C. S. Lewis #ZAG #Photography #Pakistan #Tarbela #Tarbelalake #Haripur #zahaghlarous #tribunepk #dawnnews #tourism #sunset #lake #instadaily #photooftheday #instatravel #travelgram #canon #800D (at Tarbela Lake Haripur) https://www.instagram.com/p/CBD6gbDDjFA/?igshid=5wojcjcg10gh
تربیلا جھیل میں کشتی الٹ گئی، 50 سے زائد افراد ڈوب گئے ہری پور کی تربیلا جھیل میں کشتی الٹنے سے پچاس سے زائد افراد ڈوب گئے۔ خواتین سمیت آٹھ افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ تیرہ افراد کو بچالیا گیا۔ تربیلا جھیل کی بے رحم لہروں نے کشتی ڈبو دی، تورغر سے ہری پور جانے والی کشتی اوورلوڈنگ کی وجہ سے توازن برقرار نہ رکھ سکی، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں کیں، پاک فوج اور دیگر ریسکیو ادارے بھی موقع پر پہنچے، غوطہ خوروں نے ڈوبنے والوں کو تلاش کیا، اطلاع ملی تو ڈوبنے والوں کے لواحقین بھی جھیل کنارے پہنچ گئے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کا نوٹس لے کر متعلقہ اداروں کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی، ڈوبنے والوں کی معلومات کے لیے ڈیسک بھی قائم کردیا گیا۔
تربیلا ڈیم: پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں 40 فیصد کمی
وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے سینیٹ کو بتایا کہ ہائیڈرو گرافک سروے سنہ 2017 کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 40.58 فیصد کمی ہو گئی ہے۔ سینیٹر ثمینہ سعید کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہائیڈرو گرافک سروے سنہ 2017 کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے صلاحیت میں 37.42 فیصد سے لے کر 40.58 تک کمی ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تربیلا ڈیم میں ریت اور مٹی کے بہاؤ کو روکنے کا بہتریں طریقہ ہے کہ دریا پر تربیلا سے اوپر دریا سندھ پر مزید ڈیم تعمیر کیے جائیں۔
بابر اعوان کے مطابق ڈیموں میں ریت اور مٹی بہہ کر آنا ایک قدرتی عمل ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا ہے۔ ڈیموں میں جو مٹی اور ریت دریا کے پانی کے ساتھ بہہ کر آتی ہے وہ ڈیم کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہے جس سے ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہو جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تربیلا ڈیم کی اونچائی میں مزید اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ریت اور مٹی کو ڈیم میں بہہ کر آنا ایک قدرتی عمل جس کو روکا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان دیامیر بھاشہ ڈیم تعمیر کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے جس سے تربیلا میں پانی کے ساتھ ریت اور مٹی بہہ کر آنے کے عمل کو کم کیا جا سکتا ہے۔
مشیر برائے پارلیمانی امور کے مطابق واپڈا نے تربیلا ڈیم کے ممکنہ ذخائر کا جائزہ لینے کے لیے سنہ 1991، 1997، 1998، 1999، 2007، 2013 اور 2014 میں تحقیق کی تھی جس میں ڈیم سے مٹی اور ریت کو نکالنے کے بارے میں بھی غور کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈی سلٹنگ یا مٹی اور ریت کو نکلنا تکینکی طور پر خطرناک اور مہنگا عمل ہے جس کا نہ صرف ڈیم کے اوپر منفی اثر پڑ سکتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے تربیلا سے نیچے دریا پر واقع بیراجوں اور نہری نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ بابر ایوان نے بتایا کہ ڈی سلٹنگ کرنے سے تربیلا اور غازی بروتھا کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
بشکریہ بی بی سی اردو
ملک کے سب سے بڑے ڈیم تربیلا میں پانی کا قابل استعمال ذخیرہ ختم #tarbeladam #watercrisis #dams #drieddams #pakistan #aajkalpk ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 122 فٹ ہے ٗرپورٹ اسلام آباد: ملک میں پانی کی کمی مزید شدت اختیار کرگئی اور سب سے بڑے ڈیم تربیلا میں پانی کا قابل استعمال ذخیرہ ختم ہونے کے بعد پانی کی سطح ڈیڈ لیول ایک ہزار 386 فٹ پر آگئی ہے۔ فلڈ فار کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح ڈیڈ لیول کی جانب بڑھ رہی ہے اور ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 122 فٹ ہے۔کم بارشوں اور گلیشیرز کے نہ پگھلنے سے ملک میں آبی ذخائر جولائی میں بھی بہتر نہ ہوسکے جبکہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے مطابق آئندہ چند روز میں بارشیں نہ ہوئیں تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔فلڈ فار کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا میں پانی کی آمد ایک لاکھ ایک ہزار، اخراج 95 ہزار 500 کیوسک ہے جبکہ منگلا میں پانی کی آمد 39 ہزار اور اخراج 69 ہزار 127 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ڈیموں میں پانی کی کمی کے باعث صوبوں کو ملنے والے پانی کی مقدار میں بھی کمی آئے گی، صرف سندھ کے گدو، سکھر اور کوٹری بیراج میں پانی کی قلت چالیس سے پچاس فیصد تک پہنچ جائے گی جس کے بعد چاول سمیت مختلف فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔