ابھی اختیار ہے تو یہ عالم ہے
محبت فرض ہوتی تو کیا ہوتا؟
--
Abhi ikhtiyar hai to ye aalam hai
Mohabbat farz hoti to kia hota ?
___
اللہ ہم سب کو سچی محبت کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
seen from China

seen from United States
seen from China
seen from United States
seen from China
seen from Hong Kong SAR China
seen from China

seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from China

seen from Malaysia
seen from Russia
seen from China
seen from Czechia
seen from Hong Kong SAR China

seen from Philippines
seen from Netherlands
seen from China
seen from Pakistan
ابھی اختیار ہے تو یہ عالم ہے
محبت فرض ہوتی تو کیا ہوتا؟
--
Abhi ikhtiyar hai to ye aalam hai
Mohabbat farz hoti to kia hota ?
___
اللہ ہم سب کو سچی محبت کرنے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
ـ سنا تھا کہ جب کسی سے عشق ہوتا ہے تو اس سے جڑی ہر چیز سے محبّت اور عقیدت ہو جاتی ہے
اُس کی باتیں
اُس کی کتابیں
اُس کا گھر
گھر کے در و دیوار سے
یہاں تک کہ
اُس کے گھر میں لگے فانوس سے بھی عقیدت ہو جاتی ہے
-
یا اللہ اپنے آپ کو تیرا عاشق کہنے کے قابل تو نہیں سمجھتا کہ عشق تو دور محبت کا حق بھی نہیں ادا کیا ۔ لیکن یااللہ یہ سچ ہے کہ تیرے اور تیرے حبیب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر سے ، اس کے در و دیوار سے ، اس کی زمین سے ، اس کی گرد سے ، اس کی ہواوں سے فضاوں سے ، یہاں تک کہ اس کے فانوسوں سے بھی عقیدت و محبت اپنے دِل میں محسوس کی ہے ۔ یا اللہ اِس بات کے بہانے اپنے اور اپنے حبیب صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عاشقوں میں ابد تک کے لیئے میرا نام لکھ دے ۔ آمین
#Allah #Muhammad Salalahu Alehe Wasallam #ishq #mohabbat #MasjidAlHaraam #Masjid #Umrah #Hajj #Islam #Urdu #Dua #UmrahDiaries #AliAdnanUmrahDiaries (at المسجد الحرام مكة المكرمة)
الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
سراپا فقر ہوں عجزوندامت ساتھ لایاہوں
بھکاری وہ کہ جس کے پاس جھولی ہے نہ پیالہ ہے
بھکاری وہ جسے حرص و ہوس نے مارڈالاہے
متاع دین و دانش نفس کے ہاتھوں سے لٹوا کر سکونِ قلب کی دولت ہوس کی بھینٹ چڑھوا کر
لٹا کر ساری پونجی غفلت و نسیاں کی دلدل میں سہارا لینے آیا ہوں ترے کعبے کے آنچل میں
گناہوں کی لپٹ سے کائناتِ قلب افسردہ ارادے مضمحل،ہمت شکستہ،حوصلے مردہ
کہاں سے لاؤں طاقت دل کی سچی ترجمانی کی کہ کس جھنجھال میں گزری ہیں گھڑیاں زندگانی کی
خلاصہ یہ کہ بس جل بُھن کے اپنی روسیاہی سے سراپا فقر بن کر اپنی حالت کی تباہی سے
ترے دربار میں لایا ہوں اب اپنی زبوں حالی تری چوکھٹ کے لائق ہر عمل سے ہاتھ ہیں خالی
یہ تیرا گھر ہے تیرے مہر کا دربار ہے مولا سراپا نور ہے اک مَہبطِ انوار ہے مولا
تری چوکھٹ کے جو آداب ہیں میں ان سے خالی ہوں نہیں جس کو سلیقہ مانگنے کا وہ سوالی ہوں
زباں غرقِ ندامت دل کی ناقص ترجمانی پر خدایا رحم میرے اس زبانِ بے زبانی پر
یہ آنکھیں خشک ہیں یارب انہیں رونا نہیں آتا سلگتے داغ ہیں دل میں جنہیں دھونا نہیں آتا
الٰہی تیری چوکھت پر بھکاری بن کے آیا ہوں سراپا فقر ہوں عجزوندامت ساتھ لایاہوں