"Kuch iss tarhan hakeeqat se saamna hua ke phir, hum bach bhi gaye magar khaab saare marr gye."
- Unknown
seen from United States

seen from France
seen from United Kingdom

seen from United States
seen from United Kingdom

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from Taiwan

seen from Italy
seen from China

seen from United States
seen from United States
seen from China
seen from South Korea
seen from United States
seen from United Kingdom
seen from South Korea
"Kuch iss tarhan hakeeqat se saamna hua ke phir, hum bach bhi gaye magar khaab saare marr gye."
- Unknown
موت خاموشی ہے، چپ رہنے سے چپ لگ جائے گی
زندگی آواز ہے۔۔۔ باتیں کرو، باتیں کرو
جو نہیں سنتے ہیں اُن کو بھی سناؤ اپنی بات
جو نہیں ملتے ہیں اُن سے بھی ملاقاتیں کرو
احمد مشتاق
اس کی محبت نے مجھے بتایا کہ میں کیا ہوں،میری اوقات کیا ہے،برداشت کتنی ہے مجھ میں،کتنا ظرف ہے میرا،کتنی رحمدل ہوں میں،کتنا غصہ ہے مجھ میں،درد کسے کہتے ہیں،احساس کیا ہے،مانگنا،گڑگڑانا،جھکنا کیا ہوتا ہے!
یہ تو کہئے اس خطا کی سزا کیا ہے
میں جو کہہ دوں آپ پر مرتا ہوں میں
داغ دہلوی
تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
نہ میں کہہ سکا نہ تو سن سکا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیا
تیرا بات بات پہ ٹوکنا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
ترے شہر میں مرے ہم سفر، وہ دکھوں کا جم غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
وہ جو خواب تھے مرے سامنے ، جو سراب تھے مرے سامنے
میں انہی میں ایسے الجھ گیا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
عجب ایک چپ سی لگی مجھے ، اسی ایک پل کے حصار میں
ہوا جس گھڑی ترا سامنا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
کہیں بے کنار تھیں خواہشیں ، کہیں بے شمار تھیں الجھنیں
کہیں آنسوؤں کا ہجوم تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
تھا جو شور میری صداؤں کا ، مری نیم شب کی دعاؤں کا
ہوا ملتفت جو مرا خدا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
مری زندگی میں جو لوگ تھے ، مرے آس پاس سے اٹھ گئے
میں تو رہ گیا انہیں روکتا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
تری بے رخی کے حصار میں ، غم زندگی کے فشار میں
مرا سارا وقت نکل گیا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
مجھے وہم تھا ترے سامنے ، نہیں کھل سکے گی زباں مری
سو حقیقتا بھی وہی ہوا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
امجد اسلام امجد
محبت کرنے والے کبھی چاہنا نہیں چھوڑتے ، کبھی پرواہ کرنا نہیں چھوڑتے ، اگر وہ بدلتے بھی ہیں تو بس اتنا کہ آپ سے اپنے حق کہ لیے لڑنا چھوڑ دیتے ہیں
کھلے اور بند راستوں کی حقیقت شاید تمہیں ابھی سمجھ نہ آۓمگر ایک دن ایسا بھی آۓ گا جب سارے راز تم پر کھل جائیں گے اور تم جان جاؤ گے کہ جہاں تم آج ہو وہاں پہنچنے کے لیے اس تکلیف سے گزرنا کتنا ضروری تھا جسے تم سزا سمجھا کرتے تھے کیونکہ بے سکونی کے بعد اللّه ایسا سکون دے دیتا ہے کہ بے چینی کبھی روح کا حصہ نہیں بن پاتی🌸♥
آسمانوں میں مقبولیت اور قبولیت کے ضابطے الگ ہوتے ہیں اکثر زمین والوں کے دھتکارے ہوئے بندے آسمان والے کے لاڈلے ہوتے ہیں