Stratcom Steps on Sensitive Toes with Deleted Readiness Tweet
Stratcom Steps on Sensitive Toes with Deleted Readiness Tweet
Someone at Stratcom (Strategic Command) sent out a tweet about their ability to drop more than a ball. Many someones didn’t appreciate the humor. Others thought it was hilarious. Leave it to wussies to turn a New Year’s statement of readiness into a sideshow.
And remember this: if the guys and gals in the military- especially the nuclear forces- stop having a sense of humor, we’re all in a world…
The U.S. Strategic Command has deleted a New Year’s tweet that revealed its true values, as Caitlin Johnstone explains.
U.S. Strategic Command (or “Stratcom” if you’re trying to make a nuclear-capable arm of the U.S. Defense Department sound cool) has issued an apology for a poorly received New Year’s Eve tweet which has since been deleted.
“#TimesSquare tradition rings in the #NewYear by dropping the big ball…if ever needed, we are #ready to drop something much, much bigger,” the offending tweet read, with an attached video featuring B-2 stealth bombers flying all stealth bombery and causing gigantic explosions with bunker buster bombs while words like “STEALTH”, “READY”, and “LETHAL” flashed across the screen. The tweet concluded with the ostensibly unironic hashtag “#PeaceIsOurProfession”.
“Our previous NYE tweet was in poor taste & does not reflect our values,” Strategic Command tweeted. “We apologize. We are dedicated to the security of America & allies.”
This statement is, obviously, a lie. The part about “security” of course, because dominating the globe with nonstop military violence and aggression has nothing to do with security, but also the “does not reflect our values” part. The U.S. military deleted the post and apologized for it because it received an angry backlash from hundreds of commenters and was circulated virally on Twitter for its jarringly creepy message, not because it did not reflect their values. It reflected their values perfectly.
امریکی فوج کی سالِ نو سے متعلق متنازع ٹوئٹ پر شدید تنقید
امریکی فوج کے جوہری ہتھیار کے نگراں ادارے امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کی جانب سے سالِ نو کے موقع پر کی گئی متنازع ٹوئٹ پر شدید تنقید کی گئی، جس کے بعد ادارے نے معافی مانگ لی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ نے سالِ نو کےموقع پر کی گئی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ’ ٹائمز اسکوائر کی روایت کے مطابق نئے سال کا آغاز بال گرا کر کیا جاتا ہے، اگر کبھی ضرورت پڑی تو ہم اس سے زیادہ بڑی بال گرانے کے لیے تیار ہیں‘۔ ٹوئٹ میں ایک ویڈیو بھی شامل تھی جس میں بی 2 بمبار طیارے کو ہتھیار پھینکتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ یہ متنازع ٹوئٹ نیویارک میں سالِ نو کے موقع پر بال ڈراپ سے چند گھنٹے قبل کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ نیویارک میں قائم ون ٹائمز اسکوائر کی عمارت پر 43 میٹر کے فلیگ پول سے چمکتی ہوئی بال گرانے کی روایت کا آغاز 1907 میں کیا گیا تھا ، یہ بال ہر برس کے آخری 60 سیکنڈز میں گرائی جاتی ہے اور نیا سال شروع ہونے پر روک دی جاتی ہے۔ بعد ازاں اسٹریٹیجک کمانڈ نے یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کرتے ہوئے اس پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’سالِ نوکے موقع پر ہمارا گزشتہ ٹوئٹ ہماری اقدار کی عکاسی نہیں کرتا ، جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں ، ہم امریکا اور اس کے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہیں‘۔ اس حوالے سے اسٹریٹیجک کمانڈ کے ترجمان بروک ڈیوالٹ نے کہا کہ ٹوئٹ ’ ہماری کمانڈ کی ترجیحات کے اعادے کے حصہ ہے‘، جس میں امریکا کے عوام کو ایک مرتبہ پھر اس بات کا یقین دلایا گیا کہ امریکی فوج ہمہ وقت تیار ہے یہاں تک کہ سالِ نو کے موقع پر بھی۔
تاہم ناقدین کی جانب سے سالِ نو کے آغاز پر امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کے بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار اور مذمت کی گئی۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اخلاقی امور سے متعلق سرکاری ادارے کے سابق سربراہ والٹر شواب جونیئر نے ٹوئٹ کی کہ ’ کس طرح کے خبطی اس ملک کو چلا رہے ہیں‘۔ نیوکلیئر نائٹ میئرز، سیکیورنگ دی ورلڈ بیفور اِٹ اِز ٹو لیٹ ‘ نامی کتاب کے مصنف کا کہنا تھا کہ ’پہلے مجھے یقین نہیں آیا کہ ایسا حقیقت میں ہو سکتا ہے، ایک صنعتی اشتہار کو ہمارے اسٹریٹیجک کمانڈ کی جانب سے لطیفے کی طرح پیش کیا جا رہا ہے، یہ انتہائی شرمناک ہے‘۔ خیال رہے کہ امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ امریکی شعبہ دفاع کے 10 منفرد کمانڈز میں سے ایک ہے جو نیبراسکا آفیٹ ایئرفورس بیس میں مقیم ہے۔ اسٹریٹیجک کمانڈ کا نعرہ ہے ’ امن ہمارا پیشہ ہے‘ ( Peace is Our Profession) جسے متنازع ٹوئٹ میں ہیش ٹیگ استعمال کیا گیا تھا۔