یوں ہی بیٹھی بیٹھی
اکثر سوچتی ہوں
وہ بچپن
وہ یادیں
وہ بیتی باتیں
کس طرح گزری تھی وہ زندگی سوہانی
لگتا ہے وہ اِک اِک پل
کوئی پرانی سی کہانی
وہ مل کر بارش میں بھیگنا
کاغذ کی کشتیاں بنانا
کبھی لڈو کھیلنا تو
کبھی ٹی وی شو دیکھنا
کبھی آنکھوں یہ پٹی باندھ کر
ایک دوسرے کو ڈھونڈنا
بابا کے کندھوں پہ بیٹھ کر
یہ حسین دنیا دیکھنا
زد میں آ کر اپنی ہر بات منوانا
وہ مل کر دیر رات تک باتیں کرنا
کوئی غم و دکھ نا قریب تھے
ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی
کس کس بات کو یاد کریں ہم
ہر بات ہی تھی نرالی
کس طرح وہ دور گزر گیا
بس رہی یہ یادیں پرانی⚠️
● سائرہ انجم ♡
















