Hello dear world this is P A K I S T A N ❣️🇵🇰
seen from United States
seen from Romania

seen from United States
seen from United States
seen from Russia
seen from China

seen from Türkiye
seen from China
seen from China

seen from Türkiye
seen from China

seen from China

seen from United States
seen from China

seen from Netherlands
seen from China
seen from China
seen from United Kingdom

seen from Portugal
seen from Germany
Hello dear world this is P A K I S T A N ❣️🇵🇰
پاکستانی فضائیہ موٹر وے پر مشقیں کیوں کرتی ہے؟
پاکستان ائر فورس نے اسلام آباد لاہور موٹروے پر مشقیں کی ہیں جسے ’روڈ رنوے آپریشنز‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسا ہر سال کیا جاتا ہے اور یہ کرنے کا بنیادی مقصد فضائیہ کے پاس موجود باقاعدہ رن ویز کے علاوہ مناسب ہموار قطعاتِ زمین پر کسی بھی ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں طیاروں کو اتارنے، فضا میں واپس بلند کرنے، دوبارہ مسلح اور ایندھن بھرنے کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔ گذشتہ برس مارچ میں پاکستان کی مرکزی شاہراہ موٹر وے کو لگ بھگ چھ گھنٹوں کے لیے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فضائیہ کے جنگی طیاروں نے موٹر وے کے کچھ حصوں کو ایمرجنسی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے استعمال کرنے کی مشق کی تھی اور ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔
لڑاکا طیاروں کی لینڈنگ اور پرواز کے لیے درکار جگہیں لڑاکا طیاروں کو لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے کس طرح کی جگہیں درکار ہوتی ہیں یہ جاننے کے لیے ہم نے ایئر مارشل (ریٹائرڈ) مسعود اختر سے بات کی۔ سابقہ ایئر مارشل مسعود اختر کا کہنا تھا ہر قسم کے طیاروں بشمول جنگی جہازوں میں 'لوڈ کلاسیفیکیشن نمبرز' ہوتے ہیں اور باقاعدہ رن ویز کے علاوہ جنگی طیارے کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے کسی سطح کے انتخاب سے قبل ان نمبرز کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ’ایک مکمل طور پر لوڈڈ (مسلح) جنگی جہاز کا وزن تیس سے پچاس ہزار پاؤنڈ تک ہو سکتا ہے جبکہ ایئر بس کا وزن کم و بیش ایک لاکھ پاؤنڈ تک ہوتا ہے۔ طیارے کے لوڈ کلاسیفیکیشن نمبر کے حساب سے لینڈنگ اور ٹیک آف کی سطح کو اتنا ہی مضبوط، لمبا اور چوڑا ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے بتایا کہ عمومی طور پر طیارے کو لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے نو سے 10 ہزار فٹ (یا کم و بیش تین کلو میٹر) لمبی جبکہ 150 فٹ چوڑی سطح درکار ہوتی ہے۔
موٹر وے پر مشقیں کیوں؟ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ رن ویز کے علاوہ پاکستان کی فضائیہ کے پاس موٹر وے ہی ایسی جگہ ہے جہاں یہ کام ہو سکتا ہے اور پاکستانی فضائیہ تقریباً گذشتہ 10 برسوں سے موٹر ویز کو اس قسم کی مشقوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ موٹر وے کی تعمیر سے پہلے فضائیہ اس نوعیت کی مشقیں کدھر کرتی تھی؟ تو ان کا جواب تھا کہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ رن ویز اور ایئر فیلڈز استعمال کی جاتیں تھیں ہائی ویز یا موٹر ویز نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہر سال یہ مشق کی جاتی ہے اور اس کا بنیادی مقصد ہمارے ہوا بازوں اور عملے کے اراکین کی ہنگامی صورتحال کے بارے میں تیاری ہے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ضرورت کے وقت ہنگامی لینڈنگ اور ٹیک آف کس طرح مکمن ہو گا اور دشمن کے لیے بھی تاکہ ان کو معلوم ہو کہ ہمارا انحصار صرف باقاعدہ رن ویز پر نہیں ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فضائیہ موٹر وے پر کس کس جگہ طیارے اتارنے اور فضا میں بلند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کا علم صرف فضائیہ کو ہی ہوتا ہے اور اس طرح کی تفصیلات کو عام نہیں کیا جاتا۔
دانش حسین بشکریہ بی بی سی اردو
میرے وطن یہ عقیدتیں اور
پیار تجھ پہ نثار کر دوں
محبتوں کے یہ سلسلے
بےشمار تجھ پہ نثار کر دوں
میرے وطن میرے بس میں ہو تو
تیری حفاظت کروں میں ایسے
خزاں سے تجھ کو بچا کے رکهوں
بہار تجھ پہ نثار کر دوں
تیری محبت میں موت آئے
تو اس سے بڑھ کر نہیں ہے خواہش
یہ ایک جان کیا، ہزار ہوں تو
ہزار تجھ پہ نثار کر دوں
میرے وطن یہ عقیدتیں اور
پیار تجھ پہ نثار کر دوں
پاکستان کی فوج نے روسی کوہ پیما کو بچا لیا
پاکستان کی فوج نے ملک کے شمال میں ایک پہاڑ پر کئی دنوں سے پھنسے روسی کوہ پیما کو بچا لیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سطح سمندر سے بیس ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر ریسکیو آپریشن کیا گیا ہے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق روسی کوہ پیما الیگزنڈر گوکوو کو لاتوک ون نامی پہاڑ سے ریسکیو کیا گیا۔ اس کوہ پیما کا ساتھی پہلے ہی ہلاک ہو چکا تھا ۔ کئی مرتبہ پاکستان فوج کی جانب سے کوششوں کے بعد بالآخر آج روسی کوہ پیما کو بچا لیا گیا۔ الیگزنڈر اور ان کے ساتھی کوہ پیما سرگئی گلازاوناو پہاڑ کو سر کرنے کے بعد نیچے کی طرف رواں تھے جب سرگئی اپنی جان کھو بیٹھے۔
پاکستان الپائن کلب کے سکریٹری قرار حیدری کا کہنا ہے، ’’ الیگزانڈر نے ایک ’ایس او ایس‘ پیغام بھیجا تھا اور اسے ریسکیو کیے جانے کی امید دلائی گئی اور اسے کہا گیا کہ وہ انتظار کرے۔ اس نے اپنے گرد برف کی ایک ڈھال تعمیر کر لی تھی اور اس نے سیٹیلائٹ کے ذریعے رابطہ قائم رکھا۔‘‘ اس روسی کوہ پیما کو منگل کی صبح ہیلی کاپٹر کی مدد سے بچا لیا گیا اور اسکردو کے ایک ہسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے۔ حیدری کا کہنا ہے کہ الیگزنڈر کی حالت اچھی ہے حالانکہ اس نے تین روز سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باعث وہ اسے پہلے ریسکیو نہیں کر پا رہے تھے۔ ان دو روسی کوہ پیماؤں نے 12 جولائی کو کوہ پیمائی کا آغاز کیا لیکن وہ بلندی تک پہنچنے میں ناکام رہے اور انہوں نے نیچائی کی طرف سفر کا آغاز کر دیا۔ پاکستان کو کوہ پیماؤں کی جنت کہا جاتا ہے لیکن یہاں انتہائی سخت اور خطرناک پہاڑوں پر کئی کوہ پیما اپنی جان بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ ماضی میں بھی کئی مرتبہ پاکستان کی فوج نے ریسکیو آپریشن کر کے کوہ پیماؤں کی جان بچائی ہے۔
ب ج/ ع ت (روئٹرز)
پاکستان کے دشمن ہوشیار رہیں، ایٹمی دوڑ میں اس کا نام کہاں ہے ؟
جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کی صف میں پاکستان سب سے آخر میں شامل ہوا لیکن اس بات میں کسی کو بھی شبہ نہیں کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اس کلب کے دیگر ارکان کی نسبت ناصرف کم نہیں ہے بلکہ اکثر سے بہتر بھی ہے۔ اس بات سے ہمسایہ ملک بھارت پہلے ہی پریشان رہتا ہے اور کیا کیجئے ان ماہرین اور تجزیہ کاروں کا جو آئے دن اپنے تجزیات سے اسے اور پریشان کر دیتے ہیں۔ عسکری تاریخ اور عالمی امور کے ماہر جوزف مکالف نے ایک اور ایسا ہی تجزیہ پیش کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان صرف ایٹمی ہتھیاروں کے معیار کے لحاظ سے ہی نمایاں مقام نہیں رکھتا بلکہ عنقریب ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کے لحاظ سے بھی دنیا میں تیسرے نمبر پر آجائے گا۔
جوزف مکالف نے ویب سائٹ Militry.com پر اپنے تازہ ترین مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستان نے موجودہ رفتار سے ایٹمی ہتھیار بنانا جاری رکھے تو عنقریب یہ ہتھیاروں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی طاقت ہو گا۔ اس ضمن میں انہوں نے کچھ تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور خصوصاً 5 سے 10 کلو ٹن کے چھوٹے ہتھیاروں کی تیاری جنوبی ایشیاءکے خطے میں عسکری توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بھارت اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی جبکہ دوسری جانب بھارت اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تناو خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔
تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پاکستان 1971ء سے ایٹمی میدان میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے اور پلوٹونیم اور افزودہ یورینیم پر مبنی ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کے پاس پلوٹونیم افزود کے چار ری ایکٹر جبکہ پلوٹونیم کی تیاری کے تین پلانٹ ہے۔ پاکستان اعلیٰ ترین افزودہ یورینیم پیدا کر رہا ہے جبکہ اس کی افزودگی کے لئے گیس سنٹری فیوج استعمال کی جارہی ہے۔ اسپیشل ڈیزائن کی یہ سنٹری فیوج مشینیں یورینیم ہیکسا فلورائیڈ گیس کو انتہائی تیز رفتار پر گھماتی ہیں جس کے نتیجے میں یورینیم 235 آئسوٹوپ کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے۔“
یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کا ڈیزائن اور ایٹمی ہتھیار کی تیاری القاعدہ، داعش، یا کسی بھی جہادی گروپ کی پہنچ سے باہر ہے. پاکستان کے پاس اس وقت 140 سے 150 ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس تین ہزار سے چار ہزار کلوگرام ہتھیار بنانے کے لئے تیار HEU اور 200 سے 300 کلوگرام پلوٹونیم موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ذخیرے سے 200 سے 250 ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں۔ اگر چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنائے جائیں تو ان کی تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم اتنی مقدار میں پیدا کر رہا ہے کہ ہر سال 10 سے 20 ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بشکریہ RT اردو
پاکستان کا بابر کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
پاکستان نے بابر کروز میزائل کے جدید ماڈل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئرز نے بابر کروز میزائل کے جدید ماڈل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، اسٹیلتھ فیچر کا حامل یہ میزائل 700 کلومیٹر دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے بابر ویپن سسٹم ون (بی) میں ایڈوانسڈ ایروڈائنامک اور ایوی یونک فنکشنز شامل ہیں جس کی بنا پر یہ میزائل پانی اور خشکی دونوں پر اپنے ہدف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ بابر کروز میزائل نچلی پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہرقسم کا وار ہیڈ اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے اس میزائل کی بدولت پاکستانی دفاع مزید مضبوط ہو گا۔ یاد رہے کہ پاکستان نے 29 مارچ کو سب میرین لانچ کروز میزائل بابر کا تجربہ کیا تھا جس کے ذریعے پانی کے اندر سے فائر کیے گئے اس کروز میزائل نے تمام پیرا میٹرز کے مطابق کامیابی کے ساتھ خشکی پر موجود اپنے ہدف کو نشانہ بنایا تھا۔
Kids Learning Holy Quran in a village of Pakistan ❤️❤️
کاروبارِ اُلفت میں____، نقد تھا ھر اِک سودا ھم جو خالی ھاتھ آئے، اپنی جاں ھی وار آئے