Situationship
میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب آہستہ آہستہ تھکنے لگے ہیں — اپنی روح کے ٹکڑے اُن لوگوں کے لیے قربان کرتے کرتے، جنہوں نے کبھی ہمارے وجود کو ہماری جسمانی خوبصورتی سے آگے دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ نہیں، اُنہیں تو بس ایک رات کا تعلق چاہیے تھا، ایک عام سا “سچوئیشن شپ”۔ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ محبت پر یقین رکھو، کہ ایک دن وہ خود تمہیں ڈھونڈ لے گی۔ لیکن میں اُس مدھم، بکھری ہوئی محبت کو نہیں چاہتا جو اس نسل نے “محبت” کا نام دیا ہے۔ مجھے چاہیئے وابستگی، شدت، اور وہ صحت مند اپنائیت — جیسے کہ ہاں، میں تمہارا ہوں اور تم میری ہو۔
اور میں نہیں چاہتا کہ کسی طوفانی رات، جب میں اُن کی آنکھوں میں دیکھوں، تو مجھے اُن میں محبت کی جگہ شک نظر آئے۔ یہ شک کہ آیا وہ رُکیں گے یا نہیں، کہ “ہمیشہ” صرف ایک ایسا لفظ تھا جو کسی نظم میں خوبصورتی سے ملتا تھا — اور وہ نظم شاید میری تھی ہی نہیں۔ جب میں قریب آنے، اُن کے زخموں کو چوم کر مٹانے کا سوچتا ہوں، تو وہ دُور جانے کا سوچتے ہیں۔ اور میرا کوئی حصہ اب ٹوٹ چکا ہے، بکھر چکا ہے — اور میں اب ویسی محبت نہیں کر سکتا جو سطحی ہو، یا جو چھپی ہوئی ہو۔
نہیں۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔
اسی لیے، میں نے محبت کو چھوٹی چیزوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا ہے —پھولوں میں، بارش کے بعد کی اُس خاموش اور چمکتی ہوئی دنیا میں۔مگر کبھی کبھار، جب رات کے تین بجے تنہائی حد سے بڑھ جائے اور بستر بارش کی سردی سے کچھ زیادہ ہی ٹھنڈا محسوس ہو، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ نہ پھول مجھے گلے لگا سکتے ہیں، نہ بارش مجھے گرمی دے سکتی ہے۔ یہ سب بس ایک لمحاتی مسکراہٹ دے جاتے ہیں۔ اور وہ لمحہ، جیسے ٹرین کی ٹکر ہو — مجھے یہ سمجھا جاتا ہے کہ میں ایک ایسی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا جس میں محبت نہ ہو۔ اور شاید… یہی میری اصل بددعا ہے، ہمیشہ کے لیے













