Update
کچھ عرصے سے میرے ارد گرد کی تمام چیزوں نے مجھے تھکا دیا ہے، چاہے میں کتنی ہی چائے پی لوں یا جتنا بھی سو جاؤں یا پھر گھنٹوں بستر پر لیٹا رہوں، اُس کے باوجود میرے اندر کا انسان تھک چکا ہے۔
میری روح تھک چکی ہے۔
cherry valley forever

祝日 / Permanent Vacation
"I'm Dorothy Gale from Kansas"
wallacepolsom

roma★

Kiana Khansmith
Not today Justin
No title available
Sweet Seals For You, Always
🪼
RMH
he wasn't even looking at me and he found me
Claire Keane
2025 on Tumblr: Trends That Defined the Year

blake kathryn
Monterey Bay Aquarium

if i look back, i am lost
Keni
ojovivo
hello vonnie

seen from United States

seen from France

seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from Canada
seen from Vietnam
seen from United States

seen from Germany

seen from United Kingdom
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from Hong Kong SAR China
seen from United States

seen from United States

seen from Italy
seen from United States
@ahsenhaider
Update
کچھ عرصے سے میرے ارد گرد کی تمام چیزوں نے مجھے تھکا دیا ہے، چاہے میں کتنی ہی چائے پی لوں یا جتنا بھی سو جاؤں یا پھر گھنٹوں بستر پر لیٹا رہوں، اُس کے باوجود میرے اندر کا انسان تھک چکا ہے۔
میری روح تھک چکی ہے۔
کبھی کبھی شرمندگی سی ہوتی ہے، جب چاہت عیاں ہو جاتی ہے۔ جب یہ محسوس ہوتا ہے کہ بس کسی کے ہاتھ میری ہتھیلیوں پر رکھے ہوں۔ کاش کوئی نرم سی آواز مجھے نیند سے جگائے، کوئی ایسا ہو جس کے ساتھ سورج کے طلوع ہونے تک کافی پی جا سکے۔
میں تنہا رہنے میں کمال رکھتا ہوں، مگر جیسے ہی یاد آتا ہے کہ چاہے جانے کا احساس کیسا ہوتا ہے، تو دل پھر سے تڑپ اٹھتا ہے۔ پھر دل چاہتا ہے کہ دن کے بیچ تمہیں فون کر کے کچھ ناممکن سا مانگ لوں۔ کیا تم نہیں آ سکتے؟
کیا تم ایک دن کے لیے ہی یہ دکھاوا نہیں کر سکتے کہ میں زیادہ نہیں ہوں، بس معمولی سا ہوں؟ بس اس ایک دوپہر کے لیے۔
میں جب تھک جاتا ہوں
آسمان کو تکتا رہتا ہوں
کہ زمین والے تو۔۔
خاموشیوں کے معاملات نہیں سمجھے
Situationship
میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب آہستہ آہستہ تھکنے لگے ہیں — اپنی روح کے ٹکڑے اُن لوگوں کے لیے قربان کرتے کرتے، جنہوں نے کبھی ہمارے وجود کو ہماری جسمانی خوبصورتی سے آگے دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ نہیں، اُنہیں تو بس ایک رات کا تعلق چاہیے تھا، ایک عام سا “سچوئیشن شپ”۔ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ محبت پر یقین رکھو، کہ ایک دن وہ خود تمہیں ڈھونڈ لے گی۔ لیکن میں اُس مدھم، بکھری ہوئی محبت کو نہیں چاہتا جو اس نسل نے “محبت” کا نام دیا ہے۔ مجھے چاہیئے وابستگی، شدت، اور وہ صحت مند اپنائیت — جیسے کہ ہاں، میں تمہارا ہوں اور تم میری ہو۔
اور میں نہیں چاہتا کہ کسی طوفانی رات، جب میں اُن کی آنکھوں میں دیکھوں، تو مجھے اُن میں محبت کی جگہ شک نظر آئے۔ یہ شک کہ آیا وہ رُکیں گے یا نہیں، کہ “ہمیشہ” صرف ایک ایسا لفظ تھا جو کسی نظم میں خوبصورتی سے ملتا تھا — اور وہ نظم شاید میری تھی ہی نہیں۔ جب میں قریب آنے، اُن کے زخموں کو چوم کر مٹانے کا سوچتا ہوں، تو وہ دُور جانے کا سوچتے ہیں۔ اور میرا کوئی حصہ اب ٹوٹ چکا ہے، بکھر چکا ہے — اور میں اب ویسی محبت نہیں کر سکتا جو سطحی ہو، یا جو چھپی ہوئی ہو۔
نہیں۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔
اسی لیے، میں نے محبت کو چھوٹی چیزوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا ہے —پھولوں میں، بارش کے بعد کی اُس خاموش اور چمکتی ہوئی دنیا میں۔مگر کبھی کبھار، جب رات کے تین بجے تنہائی حد سے بڑھ جائے اور بستر بارش کی سردی سے کچھ زیادہ ہی ٹھنڈا محسوس ہو، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ نہ پھول مجھے گلے لگا سکتے ہیں، نہ بارش مجھے گرمی دے سکتی ہے۔ یہ سب بس ایک لمحاتی مسکراہٹ دے جاتے ہیں۔ اور وہ لمحہ، جیسے ٹرین کی ٹکر ہو — مجھے یہ سمجھا جاتا ہے کہ میں ایک ایسی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا جس میں محبت نہ ہو۔ اور شاید… یہی میری اصل بددعا ہے، ہمیشہ کے لیے
Eid, brings back memories and loneliness
یہ کیسا المیہ ہے کہ کبھی کبھی وہ لوگ یاد آتے ہیں جو میری زندگی کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ دل چاہتا ہے کہ انہیں لکھوں، کہوں، "جانتا ہوں کہ اب ہماری بات نہیں ہوتی، مگر جب بھی تمہارا پسندیدہ کھانا کھاتا ہوں، تم یاد آتے ہو۔" یہ کوئی التجا نہیں کہ وہ لوٹ آئیں، بلکہ بس ایک اعتراف ہے کہ ان کے ساتھ بتائے لمحے میری زندگی میں کچھ نئے رنگ چھوڑ گئے ہیں، اور میں اس کا شکر گزار ہوں۔
مگر پھر، جیسے ہی دل میں ان کی کمی کا احساس جاگتا ہے، یاد آتا ہے کہ انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا تھا۔ وہ راتیں جب میں تنہا روتے روتے سو جاتا تھا، وہ بے یقینی جب کسی پر بھروسہ کرنا محال ہو گیا تھا۔ میرے اندر جیسے کوئی زخم ہے جو بھرنے کا نام نہیں لیتا، اور نہ ہی میرے پاس کوئی راہ ہے جہاں اس درد کو بہا سکوں۔
میں آج بھی سب کچھ یاد رکھتا ہوں— ان کا پسندیدہ رنگ، ان کی ہنسی، ان کی خوشبو، سب کچھ۔ مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ یہ حقیقت ہے کہ جس طرح میں ان کے ہر نقش کو سنبھالے بیٹھا ہوں، وہ شاید ایک لمحے کے لیے بھی میرا خیال نہیں کرتے۔
کاش میں خود سے وہ حصہ مٹا سکتا جو تمہیں سوچتا ہے، تمہیں یاد کرتا ہے۔ کاش میں سب کچھ بھول سکتا، تمہاری باتیں، تمہاری موجودگی، بس وہ تکلیف یاد رہتی جو تم نے مجھے دی، وہ دھوکہ جو میرے اندر دفن کر گئے، وہ زخم جو آج بھی تازہ ہیں۔
تم جانتے ہو کہ تم غلط تھے، مگر پھر بھی ایسے پیش آتے ہو جیسے سارا قصور میرا تھا۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ تمہارے سامنے چیخ کر سب کچھ کہہ دوں، وہ سب درد جو میں سہتا رہا، وہ سب آنسو جو تمہاری وجہ سے بہے۔ مگر پھر سوچتا ہوں، تم سے دوبارہ سامنا نہ ہو تو بہتر ہے— کیونکہ میں دوبارہ وہ اذیت نہیں جھیلنا چاہتا۔
Textback 7
میں امید کرتا ہوں کہ تم اب بھی یقین رکھتے ہو کہ تم اپنی زندگی کو خوبصورت بنا سکتے ہو، چاہے اس کے کئی سال غم، اندھیرے، یا کسی ایسے زخم کی نذر ہو گئے ہوں جو بھرنے کا نام نہیں لیتا تھا
A Unsent Letter
ان دنوں متوقع غم کے بارے میں بہت کچھ سوچ رہا ہوں۔ میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمہیں کھونا مجھے تباہ کر دے گا۔ میں نے ابھی تمہیں نہیں کھویا، لیکن میں پہلے ہی تمہیں یاد کر رہا ہوں۔ ہمارے پاس ابھی وقت ہے، لیکن یہ کبھی بھی کافی نہیں ہوگا۔
میں سوچتا ہوں کہ تمہاری آخری رسومات پر کیا کہوں گا، اور وہ باتیں ابھی تم سے کہہ دوں، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں معلوم ہو کہ تم کتنے محبوب ہو، اس سے پہلے کہ تم جاؤ۔ تم وہاں جاؤ گے جہاں میں نہیں جا سکتا، لیکن تم کبھی بھی حقیقت میں مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے۔ یہ درد کو کم نہیں کرے گا، لیکن کسی نہ کسی طرح یہ شفا یابی کا ایک حصہ ہے۔
Nasir Kazmi
Long time?¿
ضابطے محبت کے طے ہوئے تھے یوں جانا
روٹھنا منانا پر چھوڑ کر نہیں جانا
پھر یہ ہجر کیسا ہے پھر/ یہ کیسی دوری ہے
رابطہ نہ رکھو پر / واسطہ ضروری ہے
رابطے محبت کے / توڑ کر نہ جاؤ تم
مجھ کو یوں اکیلا پھر / چھوڑ کر نہ جاؤ تم
ضابطے محبت کے / طے ہوئے تھے یوں جاناں
ہم کو سب نبھانے ہیں / امتحاں محبت کے
لازوال ہوتے ہیں / سلسلے محبت کے
وہ قسم جو کھائی تھی / توڑ کر نہیں جانا
طے ہوا تھا یہ جاناں / روٹھنا منانا ، پر
چھوڑ کر نہیں جانا
"I wrote a poem about it, and then threw it away, because that's the last thing I need right now: More words dedicated to people who will never dedicate a single thing to me."
- I need more time to heal. Brb.
is it true¿?
ہر چیز سے دِلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے
فون ہاتھ میں پکڑے گھنٹوں سوچتا رہتا ہوں کہ کیا کروں؟
پیج کھول لُوں تو سمجھ نہیں آتا آج کیا پوسٹ کروں؟
جیسے زِندگی کہیں گُم ہو گئی ہے
مُکمل کِنارہ کرنے کو جِی چاہتا ہے
اور جب سہنے کی لت لگ جائے ، تو کُچھ کہنے کی چاہ نہیں رہتی
PAPER PLANES
میں اپنی ہر ادھوری خواہش ہر نا مکمل خواب کو تحریر کی شکل میں کہیں نہ کہیں اُتار لیتا ہوں اور وہ افسردگی ، اُداسی بن کے ہمیشہ مجھے یاد رہتا ہے -
میں تمہارے لیے بھی کُچھ نہ کُچھ لکھتے رہنا چاہتا ہوں مگر جب بھی کُچھ لکھنے بیٹھوں الفاظ احتجاجاً ذہن سے مٹنے لگتے ہیں اور صفحے ہمیشہ کی طرح خالی اور تحریریں آدھی ادھوی پڑی رہتی ہیں
یہ خسارہ میری تحریروں کے بس کا نہیں ...
Farewell
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں مرے ہم راہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
- Khubsurat Mod, Sahir Ludhianvi ... Dedicated this to someone i let go
Long gone ....
ہم سب کی زندگی میں کوئی ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو ہم سے میلوں کی دوری پر رہتا ہے، ایسا کہوں کہ ان کا ہم سے تقریباً گھنٹوں اور دنوں کی دوری جتنا سفر ہوتا ہے پھر بھی اگر ان سے ہمارا دل لگ جائے تو پھر فاصلوں کی دوریاں کوئی ویلیو نہیں رکھتیں کیونکہ دلوں کی دوریاں تو نہیں ہوتی ہیں ناں ان سے ،پھر ان کا انتظار رہتا ہے کہ کب وہ ہمیں ٹیکسٹ میسج کرتے ہیں پھر میسج پر ان سے ڈھیروں باتیں ہوتی ہیں پھر وہ دوستی محبت میں بدل جاتی ہے اور زندگی اچانک سے خوبصورت لگنے لگتی ہے، ہماری زندگی کی ہر ایک گھڑی میں وہ شخص حصے دار ہو جاتا ہے ۔ ہر ایک لمحہ اسے سوچنے میں اور اسے یاد کرنے میں اور اسے اپنے پاس محسوس کرنے میں گزر جاتا ہے ۔ وہ ایک شخص کائنات میں ہمارے لیے سب سے اہم ہوتا ہے اور اہم ہونا بھی چاہیے کیونکہ اُس سے پہلے ہماری زندگی کے موجود کسی بھی فرد نے ہمیں وہ سب خوشیاں اور روح کو سکون تک نہیں بخشا ہوتا جو ہم ڈزروو کرتے ہیں یا شاید ہمارے لیے کوٸی اور انسان اتنی اہمیت نہیں رکھتا ہوتا کہ اس سے کوٸی بھی منسلک چیز ہمیں سکون یا خوشی دے۔ جبکہ ایک شخص کی آمد سے ہماری زندگی روشن چراغ ہوجاتی ہیں پھر کیوں نہ اُس ایک شخص کو آنکھوں میں سمایا جائے سانسوں میں بسایا جائے، دل میں چھپایا جائے، وہ اتنی دور رہنے والا شخص، ٹکرایا بھی تو سیدھا جاکر دل میں بس گیا.
تمہیں بتانے کے لئے بہت سی چیزیں ہوتی ہیں
لیکن میری زُبان صرف چند ایک ہی بیاں کر پاتی ہے،
تمہیں میری آنکھیں پڑھنا سیکھنا چاہیے جس وقت میں تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہوں
کبھی کبھی انسان ایک نامعلوم سی
کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے
سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کس چیز سے ناخوش ہے
اپنی زندگی سے - حالات سے - لوگوں سے
یا اپنے آپ سے؟
مگر میں اب کسی بھی نئے خواب کی پرورش نہیں کرنا چاہتا ہوں میرے پہلے خوابوں نے مجھے اتنا تھکا دیا ہے کہ میں سونے سے ڈرتا ہوں مجھ پر اب نیند کی دوائیاں اثر نہیں کرتی ہیں میں اِس دنیا میں کسی پرانی صدی کے بھٹکے ہوئے مسافر جیسا ہوگیا ہوں