اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا
No title available
ojovivo
macklin celebrini has autism

No title available
Misplaced Lens Cap
Aqua Utopia|海の底で記憶を紡ぐ
tumblr dot com
RMH
will byers stan first human second
YOU ARE THE REASON
Fai_Ryy
hello vonnie
almost home
Lint Roller? I Barely Know Her

bliss lane

JVL
wallacepolsom
2025 on Tumblr: Trends That Defined the Year
Sade Olutola

Kiana Khansmith
seen from United States

seen from United States
seen from Vietnam

seen from United States
seen from Albania
seen from Nepal

seen from Nepal
seen from Albania
seen from Türkiye
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States
seen from United States
@poeticsoulblog
اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
(فیض احمد فیض)
تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
(ساحر لدھیانوی)
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا
Munir Niazi
آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور
خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا
(مصطفٰی زیدی)
ہم نے ماضی کا ہر ورق پلٹا
ہم کو ہر بات پر ملال ہوا
(منیش شکلا)
مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر
(گوپال متل)
اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہے
مدت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے اک دن
(ساقی فاروقی)
چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار
میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے
(جمال احسانی)
اب اُس نے وقت نکالا ہے حال سُننے کو
بیان کرنے کو جب کوئی داستاں بھی نہیں
زمین پیروں سے نکلی تو یہ ہوا معلوم
ہمارے سر پہ کئی دن سے آسماں بھی نہیں
(جمال احسانی)
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
(مصطفٰی زیدی)
منزل کا پتا ہے نہ کسی راہ گزر کا
بس ایک تھکن ہے کہ جو حاصل ہے سفر کا
(سلیم احمد)
آج پھر دل نے اک تمنا کی
آج پھر دل کو ہم نے سمجھایا
خود پر ہنسنے والوں میں ہم خود بھی شامل تھے
ہم نے بھی جی بھر کر اپنی دل آزاری کی
(انجم سلیمی)
دل کی حویلی پر مدت سے
خاموشی کا قفل پڑا ہے
(ناصر کاظمی)
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
Faiz Ahmed Faiz
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
Faiz Ahmed Faiz